سیدنا امیر معاویہؓ کا شراب پینا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کا شراب پینا
بعض شیعہ سیدنا امیر معاویہؓ پر الزام لگاتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ شراب پیا کرتے تھے اس پر شیعہ ایک روایت پیش کرتے ہیں جو کچھ یوں ہے۔
سند:
حدثنا زيد بن الحباب حدثنی حسين حدثنا عبد اللّٰه بن بريدةؓ قال۔
متن: سیدنا عبداللہ بن بریدہؓ کہتے ہیں ایک مرتبہ میں اور میرے والد سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس گئے انہوں نے ہمیں بستر پر بٹھایا پھر کھانا پیش کیا جسے ہم نے کھایا (ثم اتينا بالشراب ) پھر پینے کے لئے مشروب لایا گیا جسے پہلے سیدنا امیر معاویہؓ نے پیا پھر میرے والد کی طرف برتن بڑھایا تو انہوں نے کہا (ما شربته منذ حرمہ رسول اللّٰهﷺ) جب سے رسول اللّٰہﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے میں نے اسے نہیں پیا پھر سیدنا امیر معاویہؓ نے فرمایا کہ میں قریش کا خوبصورت ترین نوجوان تھا اور سب سے عمدہ دانتوں والا تھا مجھے دودھ یا اچھی باتیں کرنے والے شخص کے علاؤہ اس سے بڑھ کر کسی چیز میں لذت محسوس نہیں ہوتی تھی۔
(مسند احمد (اردو) جلد 10 حدیث (23329)۔
یہ روایت ما شربته منذ حرمہ رسول اللّٰہﷺ کے الفاظ کے ساتھ منکر ہے اور اس روایت میں شراب کا ذکر بھی نہیں ہے بلکہ لفظ ہے بالشراب اور عربی میں یہ مشروب/پینے کو کہتے ہیں خواہ وہ پانی ہو شہد ہو یا دودھ ہو (اس پر بھی ہم ذیل بھی دلائل دیں گے) اور شراب کو عربی میں خمر کہتے ہیں۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی زید بن حباب صدوق ہے پر یہ روایت میں غلطیاں کرتا ہے۔
امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں یہ صدوق ہے لیکن بکثرت غلطیاں کرتا ہے۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 3 صحفہ (152)۔
امام ابو داؤدؒ فرماتے ہیں:
میں نے امام احمدؒ کو کہتے ہوئے سنا زید بن حباب صدوق ہے معاویہ بن صالح کی حدیث میں مضبوط ہے اور دیگر سے روایت کرنے میں کثیر غلطیاں کرتا ہے۔
(سوالات ابی داؤد لامام احمد (عربی) صحفہ 319)۔
عبد اللہ اپنے والد امام احمدؒ سے نقل کرتے ہیں کہ۔
(امام احمدؒ کہتے ہیں) زید بن حباب صالح شخص ہے لیکن یہ حدیث میں بہت زیادہ غلطیاں کرتا ہے۔
(العلل و معرفة الرجال الاحمد رواية ابنه عبدالله (عربی) جلد 2 صحفہ 96)۔
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ زید بن حباب کی روایت میں بہت زیادہ غلطیاں پائی جاتی ہیں اور یہاں بھی اس سے خطاء ہوئی ہے کیونکہ دوسری جگہ یہی روایت اس سند کے ساتھ منقول ہے جس میں یہ الفاظ نہیں ہیں وہ بھی ہم ذیل میں بیان کریں گے۔
دوسری علت: اس روایت کے راوی حسین بن واقد سے منکر روایات منقول ہیں اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ ثقہ ہے امام احمدؒ نے اس کی بعض روایات کو منکر قرار دیا ہے اور اس کے تذکرہ پر اپنے سر کو حرکت دی گویا کہ وہ اس سے راضی نہ تھے۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 2 صحفه 358)۔
امام احمدؒ فرماتے ہیں:
اس سے مناکیر منقول ہیں اور عقیلیؒ فرماتے ہیں امام احمدؒ نے اس کی حدیث کو منکر قرار دیا ہے۔
(موسوعة اقوال الامام احمد فی رجال الحدیث و عللہ (عربی) جلد 1 صحفہ 273 272)۔
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ متن منکر ہے اور اس میں راوی سے خطاء ہوئی ہے کیونکہ یہی روایت اسی سند سے مصنف ابنِ ابی شیبہ میں ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ۔
سیدنا عبد اللہ بن بریدہؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس گئے انہوں نے میرے والد کو اپنے ساتھ (تخت پر بٹھا لیا پھر کھانا لایا گیا ہم نے کھایا (واتی بشراب فشرب) پھر مشروب لایا گیا ہم نے پی لیا سیدنا امیر معاویہؓ نے فرمایا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو جوانی میں مجھے لذیذ لگتی تھی اور اب میں اس کو لیتا ہوں سوائے دودھ اور اچھی بات کے کہ میں اب بھی انہیں لیتا ہوں۔
(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 9 روایت 31201)۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عبداللّٰہ بن بریدہؓ اور ان کے والد نے وہ مشروب پی لیا تھا اور وہ دودھ تھا نہ کہ شراب اور ساتھ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسند احمد کی روایت میں راوی سے خطاء ہوئی ہے اور وہ متن منکر ہے جس میں اس مشروب کو حرام کہا گیا ہے۔
اب ملاحظہ فرمائیں کہ عربی میں الشراب مشروب/پینے کو کہتے ہیں جس میں دودھ پانی شہید وغیرہ شامل ہیں۔
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں:
میں نے اپنے اس پیالے سے رسول اللّٰہﷺ کو (الشراب كله العسل والنبيذ والماء واللبن) ہر قسم کا مشروب پلایا ہے شہد نبیذ پانی اور دودھ۔
(صحیح مسلم (اردو) جلد 4 حدیث 5237)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی میں الشراب یعنی مشروب ہر پینے والی چیز جیسے دودھ پانی شہید کو کہتے ہیں اگر سیدنا امیر معاویہؓ والی حدیث میں الشراب سے شراب مراد لی جائے تو کیا کوئی صحیح مسلم کی اس حدیث میں الشراب کلہ کا ترجمہ تمام قسم کی شرابیں کرنے کی ہمت کر سکتا ہے؟۔
ایک اور روایت میں یوں ہے کہ۔
سیدنا جریرؒ کہتے ہیں سیدنا ابنِ شبرمہؒ (لا يشرب الا الماء واللبن) پانی اور دودھ کے علاؤہ کوئی مشروب نہیں پیتے تھے ۔
(سنن نسائی (اردو) جلد 7 روایت 5761)۔
اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یشرب کا معنی مشروب پینا ہے اور یہ شراب کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے شراب نہیں پی بلکہ انہوں نے دودھ پیا تھا اس لئے یہ کہنا کہ وہ شراب پیتے تھے جہالت و تعصب کے سوا کچھ نہیں۔