Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

غم حسین اور امت

  حامد محمد خلیفہ عمان

ہم اپنے معزز قارئین پر یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ کو دس محرم کے دن میدان کربلا میں غدار و مکار کوفی سبائیوں نے شہید کر دیا تھا۔ قتل حسین نے امت مسلمہ کے دلوں میں گہرا زخم لگا دیا ہے۔ اس بے پناہ تلخ مصیبت اور غم کے باوجود ہمارا عقیدہ ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سعید ہیں، سعادت شہادت سے سرفراز ہیں، نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔ محبانِ حسین رضی اللہ عنہ کے لیے بشارت ہے کہ ان کے اعلیٰ علیین میں بلند درجات ہیں، ہم ان کی شفاعت کی آرزو رکھتے ہیں اور ان کے لیے دعاگو ہیں۔

جبکہ دوسری طرف اعدائے صحابہ نے انہیں تیغ ستم کا نشانہ بنایا اور بعد میں انہی کے دین و عقیدہ کو تباہ کرنے کے لیے ان کی محبت کو آڑ بنایا اور کتاب و سنت کے خلاف سازشیں کرنے کے لیے مظلومیت کے عقیدہ کو ایجاد کیا، جس کا کچا چٹھہ گزشتہ میں ہم نے انہی کی کتابوں سے واضح کر دیا ہے۔ اعدائے صحابہ نے نصرت آل بیت کے نام پر مجوسیانہ رسوم و عادات کو متعارف کروا کر امت مسلمہ میں ان کو رائج کیا، تاکہ قتل حسین کے گھناؤ نے جرم کے اصل مجرم پس پردہ رہیں۔ یہ لوگ دوسروں کو دھوکا دینے کے لیے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، تاکہ کسی کو ان پر قاتل ہونے کا گمان تک نہ ہو۔ چنانچہ خود قتل کیا اور خود جنازہ میں بھی شریک ہوئے۔

پھر اسی پر بس نہ کیا، بلکہ مقتل حسین کے ذکر میں بے پناہ مبالغہ کیا تاکہ امت مسلمہ کے عقائد میں تحریف کی راہ نکالی جا سکے۔ ان کا پہلا ہدف کتاب و سنت کو برباد کرنا ہے، دوسرا ہدف امت کے اکابر کے کرداروں کو مشکوک بنانا ہے۔ یوں یہ لوگ ہر سال بار بار حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرتے ہیں اور ان کے مذہب و عقیدہ پر وار کر کے امت مسلمہ کے غم اور مصیبت میں اور اضافہ کرتے ہیں۔

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

’’قتل حسین کا غم ہر مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے سردار تھے، علمائے صحابہ میں شمار ہوتے تھے، بنت رسول کے لخت جگر تھے، جو نبی کریمﷺ کی سب سے افضل دختر تھیں، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ازحد عابد و زاہد، سخی و کریم، حلیم و شفیق تھے۔ البتہ ان کی شہادت پر وہ جزع فزع کرنا جائز نہیں، جس کا لوگوں نے وطیرہ بنا لیا ہے۔ جو زیادہ تر ریاکاری اور بناوٹ ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے والد ان سے افضل تھے، وہ بھی قتل ہوئے تھے مگر لوگوں نے ان کے قتل پر ان باتوں کو شعار نہ بنایا تھا۔ قتل حسین کی طرح ایک دن ماتم کے لیے مقرر نہ کیا تھا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ بروز جمعہ نماز سے خارج 17 رمضان 4 ہجری میں شہید ہوئے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے، یہ اہل سنت و الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں محصور کر کے ذی الحجہ کے ایام تشریق میں 36 ہجری میں شہید کر دیا گیا۔ لیکن لوگوں نے ان کے قتل کے دن کو ماتم نہیں بنایا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان دونوں خلفاء سے افضل تھے، وہ عین محراب میں بحالت نماز فجر قرآن پڑھتے ہوئے شہید کر دئیے گئے۔ لوگوں نے ان کی شہادت کے دن کو بھی ماتم نہ بنایا۔

اسی طرح حضرت صدیق اکبر بالاتفاق ان تینوں بزرگوں سے افضل تھے۔ لوگوں نے ان کے یومِ وفات کو بھی ماتم نہ بنایا۔

پھر سید المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ بالاتفاق دنیا و آخرت میں تمام اولادِ آدم کے سردار ہیں۔ رب تعالیٰ نے انہیں بھی پہلے پیغمبروں کی طرح موت دی۔ کسی نے آپﷺ کے یوم وفات کو بھی ماتم نہ بنایا۔

پھر کسی روایت میں یہ باتیں مذکور نہیں ملتیں کہ ان میں سے کسی کے مرنے کے دن سورج کو گرہن لگ گیا یا آسمان کا افق سرخ ہو گیا، جیسا کہ یہ شیعہ حضرات سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن کی بابت بعض خارقِ عادت امور کو ذکر کرتے ہیں، جو سراسر اباطیل و اکاذیب ہیں۔ جن کو اعدائے صحابہ نے لوگوں کو سنت سے بے راہ کرنے کے لیے پھیلا رکھا ہے۔

امت مسلمہ کے دلوں میں آل بیت کی ایک خاص محبت ہے کیونکہ نبی کریمﷺ نے ان کے بارے میں وصیت فرمائی ہے:

’’میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں اللہ یاد دلاتا ہوں ‘‘ اور یہ تین بار ارشاد فرمایا۔‘‘ (صحیح مسلم: 2408)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں:

’’یہ وصیت اور یہ عظیم تاکید اس بات کو مقتضی ہے کہ اہل بیت کا احترام، ان کی تعظیم و توقیر اور محبت واجب ہے جس سے تخلف کی کسی کو اجازت نہیں۔‘‘ (فتح القدیر للمناوی: جلد، 3 صفحہ 14)

اہل بیت کے بارے میں اس وصیت کو سمجھنے کا حق سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ادا کیا۔ چنانچہ وہ آل بیت کا بے حد احترام کرتے تھے اور دوسروں کو بھی ان کے اکرام و احترام کی تاکید کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت صدیق کا قول ہے کہ

’’محمدﷺ کو ان کے اہل بیت میں ڈھونڈو۔‘‘ (صحیح البخاری: 713)

یہ نبوی وصیت اس بات کے باطل ہونے کی دلیل ہے اور اشارہ ہے کہ خلافت کا حق آل بیت کے سوا کسی کو نہیں۔ جیسا کہ وصیت اور وصی کے قصہ تراشنے والوں نے گھڑ رکھا ہے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ جانتے تھے کہ خلافت دوسروں کے پاس جائے گی اس لیے آپﷺ نے مسلمانوں کو اہل بیت کے بارے میں وصیت فرمائی تھی۔ اگر آپﷺ کو علم ہوتا کہ خلافت اہل بیت کو ملنی ہے، تو انہیں اس بات کی وصیت فرماتے کہ وہ امت کا خیال رکھیں۔ بلاشبہ یہ بے حد باریک پہلو ہے، جو اعدائے صحابہ کے اس گمراہانہ پروپیگنڈا کا بھیجا اڑا دیتا ہے، جو انہوں نے خلافت کے بارے میں اڑا رکھا ہے۔ بے شک قتل حسین رضی اللہ عنہ امت کے لیے بے حد غم و اندوہ کی بات ہے، لیکن مسلمان ہر مصیبت کے وقت وہی کرتے ہیں، جس کا رب تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَo الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَo اُولٰٓئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَ رَحْمَۃٌ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ(سورۃالبقرۃ: آیۃ 155-157)  

’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔ وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے، توکہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ لوگ ہیں، جن پر ان کے رب کی طرف سے کئی مہربانیاں اور بڑی رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں۔‘‘

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’جب کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ یہ دعا پڑھتا ہے: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اے اللہ! مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما تو رب تعالیٰ اسے اس مصیبت میں اجر بھی عطا فرماتے ہیں اور اس کا بہتر بدل بھی عنایت فرماتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد: 16388)

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’وہ ہم میں سے نہیں جس نے گال پیٹے، گریبان چاک کیا اور جاہلیت کی طرف بلایا۔‘‘ (صحیح البخاری: 1233)

افسوس کہ یہی وہ افعال ہیں، جن کو عاشوراء کے دن بڑے شوق سے ادا کیا جاتا ہے۔ اب ایک طرف تو یہ روافض سنت کے مخالف ہیں، لیکن جب اس کے ساتھ ان کے وہ ظلم بھی ملا لیے جائیں، جو یہ امت مسلمہ پر ڈھاتے ہیں، تو ان کا جرم اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ جن میں سرفہرست حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حضرات تابعین عظام رحمہم اللہ پر لعن طعن کرنا اور ان پر سب شتم کرنا ہے۔ جیسا کہ یہ لوگ قتل حسین کی یاد کی آڑ میں کیا کرتے ہیں۔

اس سب پر مستزاد یہ کہ یہ اعدائے صحابہ ہمیشہ سے دشمنانِ اسلام یہود و ہنود اور کفار و نصاری کے دست راست اور کارپرداز رہے ہیں، جن کی زندگیوں کا مقصد ہی اسلام اور مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنا ہے، یہ رافضی ان کا آلہ کار بن کر جیتے ہیں۔ غرض امت کتاب و سنت کے خلاف ان کے جرائم اور گناہوں کی فہرست بے حد طویل ہے اور یہ سب کچھ وہ علی الاعلان زبانِ طعن دراز کر کے کرتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قاتلان حسین رضی اللہ عنہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالیاں دینے والوں کا کردار کسی تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا۔ آج یہ لوگ کتاب و سنت کو ختم کرنے کی علامت بن چکے ہیں۔ آج جو بھی، جس سطح پر بھی ان کے کام آئے گا، بلاشبہ وہ انہی میں سے ہے اور وہ کتاب و سنت کو مٹانے میں ان قاتلانِ حسین کا مددگار ہے!

اے اللہ! تو ہمیں اپنا مخلص بندہ بنا لے اور جو بھی اس کتاب کو پڑھے اسے کتاب و سنت کا اور آل رسولﷺ کا اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا سچا خادم بنا لے، اسے ان لوگوں میں سے کر دے، جو اعدائے صحابہ سے بری ہیں اور ہمیں روزِ قیامت اپنے پیغمبر کی شفاعت و معیت نصیب فرما، بے شک تو اس پر قادر ہے اور تو ہی دعا قبول کرنے کے زیادہ لائق ہے۔