سیدنا امیر معاویہؓ کے دور میں مسلم خواتین کو لونڈیاں بنایا گیا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کے دور میں مسلم خواتین کو لونڈیاں بنایا گیا
شیعہ سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے دور میں ان کے مقرر کردہ گورنر نے مسلمان عورتوں کو قید کر کے ان کو لونڈیاں بنا کر بازار میں فروخت کیا اس اعتراض پر جو دلیل دی جاتی ہے ملاحظہ فرمائیں۔
سند:
'حدثنا زيد بن الحباب قال اخبرنا موسى بن عبيدة قال اخبرنی زيد بن عبد الرحمن بن ابی سلامة ابو سلامة عن ابی الرباب و صاحب له انهما سمعا اباذرؓ۔
متن: ابو الرباب اور اس کا ایک ساتھی کہتا ہے کہ ہم نے سیدنا ابوذرؓ کو دعا مانگتے ہوئے سنا تو ہم نے ان سے کہا آپؓ نے اس شہر میں نماز پڑھی ہم نے اس سے زیادہ قیام رکوع اور سجدے کے اعتبار سے لمبی نماز نہیں دیکھی جب آپؓ فارغ ہوئے تو آپؓ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگی اور یوم البلاء اور یوم العورة سے پناہ مانگی اس کی کیا وجہ ہے ؟تو سیدنا ابوذرؓ نے فرمایا جو چیز تمہارے لیے اجنبی ہے میں تمہیں اس کی خبر دیتا ہوں یوم البلاء (مصیبت کا دن) تو اس دن مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے اور یوم العورة (ستر کھولنے کا دن) سے مراد یہ ہے کہ بلاشبہ مسلمان عورتیں قید کی جائیں گی اور ان کی پنڈلیوں کو کھولا جائے گا اور ان میں سے جو موٹی پنڈلی والی ہوگی اس کو موٹی پنڈلی کی وجہ سے خرید لیا جائے گا میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ میں وہ زمانہ نہ پاؤں اور تم دونوں وہ زمانہ پاؤ گے راوی (ابو رباب) کہتا ہے سیدنا عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا اور سیدنا امیر معاویہؓ نے سیرین بن ابی ارطاة کو یمن بھیجا اس نے مسلمان عورتوں کو قید کر کے بازار میں (فروخت کرنے کے لیے ) کھڑا کیا۔
(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 11 روایت 38771)
یہ روایت امام ابنِ عبدالبرؓ نے بھی استیعاب فی معرفۃ الاصحاب (عربی) جلد 1 صفحہ 161 پر اسی سند سے نقل کی ہے۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت کی سند میں چار علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی زید بن حباب جو کہ صدوق ہے البتہ اس کی روایات میں غلطیاں پائی جاتی ہیں اور جب یہ مجہول و ضعیف راویوں سے روایت کرے تو وہ روایت منکر ہوتی ہے۔
امام ذہبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
یہ عبادت گزار ثقہ و صدوق ہے امام احمدؒ فرماتے ہیں یہ ثقہ ہے لیکن بکثرت غلطیاں کرتا ہے۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 3 صفحہ 152)۔
امام ابنِ حبانؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
یہ خطاء کرتا ہے جب یہ مشاہیر سے روایت نقل کریں تو اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا اور جب یہ مجہول راویوں سے روایت کرئے تو وہ روایت منکر ہوگی۔
(الثقات لابنِ حبان (عربی) جلد 8 صفحہ 250)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زید بن حباب جب ضعیف راوی سے روایت کرے تو اس کی روایت منکر ہوتی ہے اور یہاں بھی یہ ضعیف راوی سے ہی روایت کر رہا ہے دوسری علت میں ملاحظہ فرمائیں۔
دوسری علت:
اس روایت کا دوسرا راوی موسی بن عبیدۃ سخت ضعیف و منکر الحدیث ہے اس کی حدیث سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
امام احمدؒ فرماتے ہیں اس کی حدیث کو تحریر نہیں کیا جائے گا امام نسائیؒ اور دیگر حضرات کہتے ہیں یہ ضعیف ہے ابنِ عدیؒ کہتے ہیں اس کی روایات کا ضعیف ہونا واضح ہے یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں ہے ایک مقام پر فرمایا اس کی حدیث سے استدلال نہیں کیا جائے گا یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں یہ انتہائی ضعیف الحدیث ہے۔
(میزان الاعتدال(اردو) جلد 6 صفحہ 518)۔
امام ذہبیؒ خود اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
موسی بن عبیدہ کا ضعیف ہونا مشہور ہے۔
(المغنی فی الضعفاء (عربی) جلد 2 صفحہ 335)۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
چھٹے طبقہ کا ضعیف راوی ہے۔
(تقریب التہذیب (اردو)جلد 2 صفحہ 223)۔
امام ابنِ جوزیؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا اور فرماتے ہیں:
امام احمدؒ کہتے ہیں کہ موسیٰ بن عبیدہ کی حدیث کو لکھا نہیں جائے گا امام یحییٰؒ کہتے ہیں اس کی حدیث سے احتجاج نہیں کیا جائے گا (مزید کہتےہیں) یہ کذاب نہیں ہے لیکن اس کی احادیث منکر ہیں امام ابوحاتمؒ ؒکہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے اور علی بن جنید کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے امام نسائیؒ اور دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے۔
(کتاب الضعفاء والمتروکین (عربی)جلد 3 صفحہ 147)
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ موسیٰ بن عبیدہ سخت ضعیف و منکر الحدیث راوی ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
تیسری علت: اس روایت کا راوی زید بن عبد الرحمن بن ابی سلامة مجہول الحال ہے اس کا ترجمہ کسی کتاب اسماء و رجال میں موجود نہیں۔
چوتھی علت: اس روایت کا مرکزی راوی ابی الرباب اور اس کا ساتھی صاحب لہ دونوں مجہول ہیں ان کا تعین بھی نہیں ہوسکا کہ یہ کون ہے کیسے ہیں ثقہ ہے یا ضعیف آیا سیدنا ابوذر غفاریؓ سے سماع کیا ہے یا نہیں۔
یہ ابو الرباب مطرف بن مالک القشیری بھی نہیں ہے کیونکہ مطرف سیدنا معقل بن یسارؓ اور ابنِ ابی اوفیٰ اور محمد بن سیرینؒ وغیرہ سے روایت کرتا ہے سیدنا ابوذرؓ سے روایت نہیں کرتا۔
ان تمام وجوہات کی بنا پر روایت منکر و باطل ہے اور اس سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے دور میں مسلمان عورتوں کو باندی بنا کر فروخت کیا جاتا رہا کسی صورت جائز نہیں۔