Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مطلقہ کی توریث بشرطیکہ عدت ختم نہ ہوئی ہو

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مطلقہ کی عدت ختم ہونے سے پہلے زوجین میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تو زوجین میں جو زندہ ہو میّت کا وارث ہو گا۔

(3موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 28) 

طولِ عدت توریث سے مانع نہ ہو گا بایں طور کہ ایک دو حیض آئے اور پھر حیض کا آنا رک جائے چنانچہ سیدنا حبان بن منقذ نے اپنی بیوی کو صحت کی حالت میں طلاق دے دی اس وقت وہ بیٹی کو دودھ پلا رہی تھی اس کو سترہ ماہ تک حیض نہ آیا کیوں کہ رضاعت حیض سے مانع ہوا کرتی ہے پھر حبان بیمار پڑے جب کہ طلاق پر سات یا آٹھ ماہ گزر چکے تھے ان سے کہا گیا کہ تمہاری مطلقہ بیوی تمہاری وارث ہو گی انہوں نے کہا: مجھے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس لے چلو ان کو سیدنا عثمان بن عفانؓ کے پاس اٹھا کے لایا گیا انہوں نے حضرت عثمان بن عفانؓ سے اپنی مطلقہ بیوی سے متعلق دریافت کیا اس وقت آپؓ کے پاس سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما موجود تھے۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا آپ دونوں کا کیا خیال ہے؟ ان دونوں نے کہا: اگر اس کی وفات ہو جائے تو اس کی بیوی وراثت میں حق دار ہو گی اور اگر وہ فوت ہو جائے تو یہ وراثت میں حق دار ہو گا کیوں کہ یہ خاتون حیض سے مایوس نہیں ہے اور نہ کنواری ہے کہ حیض نہ آتا ہو اور پھر یہ حیض کی عدت میں ہے تھوڑا ہو یا زیادہ۔ یہ سن کر حضرت حبان گھر آئے اور اپنی بیٹی کو اس سے لے لیا جب رضاعت ختم ہو گئی تو اس کو ایک حیض آیا پھر دوسرا حیض آیا، تیسرا حیض آنے سے قبل ہی سیدنا حبان کا انتقال ہو گیا تو اس نے عدتِ وفات گزاری اور وہ اپنے شوہر سیدنا حبان بن منقذ کی وارث بنی۔

(سنن البیہقی: جلد، 7 صفحہ، 419 موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 29)