سيدنا امير معاویہؓ کہ گھر میں حرام کام ہونا اور سیدنا حسنؓ کی موت کو مصیبت نہ سمجھنا
محمد ذوالقرنينسيدنا امير معاویہؓ کہ گھر میں حرام کام ہونا اور سیدنا حسنؓ کی موت کو مصیبت نہ سمجھنا
بعض شیعہ سیدنا امیر معاویہؓ پر اعتراض کرتے ہیں کہ وہ سیدنا حسنؓ کی موت مصیبت نہیں سمجھتے تھے اور ان کے گھر میں ایسے حرام کام ہوتے تھے جن سے نبی کریمﷺ نے منع فرمایا تھا اس پر شیعہ جو دلیل پیش کرتے وہ ملاحظہ فرمائیں۔
یہ روایت دو اسناد سے دو مختلف طرح کے الفاظ سے مروی ہے۔
پہلی سند:
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد الحمصى حدثنا بقيه بن وليد عن بحير عن خالد قال۔
متن:
خالد بن معدان سے روایت ہے کہ سیدنا مقدامؓ عمرو بن اسود اور قبیلہ بنو اسد کا ایک آدمی جو اہلِ قنسرین میں سے تھا سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس آئے سیدنا امیر معاویہؓ نےسیدنا مقدامؓ سے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ سیدنا حسن بن علیؓ وفات پاگئے ہیں؟ تو سیدنا مقدامؓ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا (فقال لہ فلان) تو ایک شخص نے کہا کیا تم اس کو مصیبت سمجھتے ہو؟ تو سیدنا مقدامؓ نے کہا میں ان کی وفات کو مصیبت کیوں نہ سمجھوں؟جبکہ رسول اللہﷺ نے ان کو اپنی گود میں بٹھایا تھا اور کہا تھا (سیدنا حسنؓ) مجھ سے ہے اور سیدنا حسینؓ سیدنا علیؓ سے ہیں۔
(فقال الاسدی) قبیلہ بنو اسد کے آدمی نے کہا (سیدنا حسنؓ) دہکتا کوئلہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا سیدنا مقدامؓ نے کہا میں آج تمہیں غصہ دلا کر رہوں گا اور وہ کچھ سناؤں گا جو تم کو برا لگے گا پھر کہا اے سیدنا امیر معاویہؓ اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگر غلط کہوں تو میری تردید کرنا سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا میں ایسا ہی کروں گا تو سیدنا مقدامؓ نے کہا میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ (سیدنا امیر معاویہؓ نے )کہا ہاں سیدنا مقدامؓ نے پھر کہا میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو رسول اللہﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے؟ (سیدنا امیر معاویہؓ نے) کہا ہاں سیدنا مقدامؓ نے کہا میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ نے درندوں کی کھالیں پہننے اور ان پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ (سیدنا امیر معاویہؓ نے) کہا ہاں سیدنا مقدامؓ نے کہا اے سیدنا امیر معاویہؓ اللہ کی قسم میں یہ سب کچھ تمہارے گھر میں دیکھ رہا ہوں اس پر سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا اے مقدامؓ مجھے معلوم تھا میں تم سے ہرگز نہیں بچ سکوں گا۔
(سننِ ابو داؤد (اردو) جلد 4 روایت 4131)
اس روایت کو بیان کر کے شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ کہ گھر میں ایسے حرام کام ہوتے تھے جن سے رسول اللہﷺ نے منع فرمایا تھا ایک بات یہاں ذہن نشین رکھیں کہ اس روایت میں الفاظ یہ ہیں فقال له فلان اتعدها مصيبة یعنی کسی شخص نے کہا کہ کیا آپ سیدنا حسنؓ کی وفات کو مصیبت سمجھتے ہیں نہ کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت کا راوی بقیہ بن ولید مدلس ہے اور یہ تدلیس تسویہ کرتا ہے اور یہاں بھی یہ تدلیس تسویہ کر رہا ہے لہٰذا جب تک یہ پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرے اس کی روایت مطلقاً رد ہوگی اس کی تدلیس تسویہ پر دلائل ملاحظہ فرمائیں۔
امام ابنِ حجرؒ اس کو مدلسین کے چوتھے طبقہ میں شامل کر کے کہتے ہیں:
بقیہ بن ولید یہ ضعفاء اور مجہولین سے بہت زیادہ تدلیس کرتا ہے۔
(تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس (عربی) صفحہ 49)
اور چوتھے طبقہ کے مدلسین کی معنن کے بارے میں امام ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں۔
یہ وہ ہیں جن ( کی معنن) کے بارے میں اتفاق ہے کہ ان کی حدیث سے ہرگز احتجاج نہیں کیا جاسکتا جب تک یہ سماع کی تصریح نہ کریں یہ کثرت سے ضعفاء اور مجہولین سے تدلیس کرتے ہیں (پھر خاص طور پر فرماتے ہیں) جیسے بقیہ بن ولید۔
(تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس (عربی) صفحہ 14)۔
اور امام ابنِ حجرؒ بقیہ کی ایک روایت کے بارے میں کہتے ہیں۔
ابنِ جریج کہتے ہیں اس میں بقیہ نے تدلیس تسویہ کی ہے۔
(تلخیص الحبیر(عربی) جلد 3 صفحہ 309)۔
امام ابنِ حجرؒ بقیہ کی ایسی ہی ایک سند بقيه عن مسلم عن عبيد الله کے بارے میں فرماتے ہیں بقیہ صدوق ہے پر تدلیس تسویہ کرتا ہے اور یہ روایت اس نے اپنے شیخ اور شیخ کے شیخ سے معنن(یعنی عن کے ساتھ) بیان کی ہے۔
(موافقة الخبر الخبر فی تخریج احادیث (عربی) جلد 1 صفحہ 276)
حافظ ابوصیریؒ ایک روایت جس میں بقیہ تدلیس کر رہا ہے کا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں اور بقیہ بن ولید جو کہ مدلس ہے اور تدلیس تسویہ کرتا ہے۔
(مصباح الزجاجة (عربی) جلد 1 صفحہ 701)۔
امام احمد بن عبدالرحیم العراقیؒ بقیہ کے بارے میں کہتے ہیں:
بقیہ بن ولید تدلیس کرنے میں مشہور ہے یہ اکثر ضعفاء سے تدلیس کرتا ہے یعنی تدلیس تسویہ کرتا ہے جو کہ تدلیس کی فحش ترین قسم ہے۔
(کتاب المدلسین (عربی) صفحہ 37)۔
حافظ صلاح الدین العلائیؒ بقیہ کے بارے میں کہتے ہیں
بقیہ بن ولید اس (تدلیس) میں مشہور ہے اور یہ ضعفاء سے (تدلیس) کرتا ہے یعنی (تدلیس) تسویہ کرتا ہے۔
(جامع التحصیل فی احکام المراسیل(عربی) صفحہ 105)۔
سبط ابنِ عجمی الشافعیؒ بقیہ کے بارے میں کہتے ہیں:
یہ ضعفاء سے تدلیس کرنے میں مشہور ہے اس کا مطلب یہ کہ یہ تدلیس تسویہ کرتا ہے۔
(التبیین لاسماءالمدلیسن (عربی) صفحہ 16)
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کرتا ہے اور اس کی روایت تب تک قابلِ حجت نہیں جب تک پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرئے اور ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بقیہ کی تدلیس کی وجہ سے باطل ہے اور اس سے استدلال جائز نہیں۔
دوسری سند:
حدثنا حيوة بن شريح الحمصی حدثنا بقيه بن وليد حدثنا بحير بن سعد عن خالد بن معدان قال۔
متن: خالد بن معدان سے روایت ہے کہ سیدنا مقدامؓ اور عمر بن اسود سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس آئے سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا مقدامؓ سے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ سیدنا حسن بن علیؓ وفات پاگئے ہیں؟ تو سیدنا مقدامؓ نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا تو سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا کیا آپؓ اس کو مصیبت سمجھتے ہیں؟ تو سیدنا مقدامؓ نے کہا میں ان کی وفات کو مصیبت کیوں نہ سمجھوں؟جبکہ رسول اللہﷺ نے ان کو اپنی گود میں بٹھایا تھا اور کہا تھا یہ(سیدنا حسنؓ) مجھ سے ہے اور سیدنا حسینؓ سیدنا علیؓ سے ہیں۔
(مسند احمد (اردو) جلد 7 حدیث 17321)۔
اس روایت کو پیش کر کے شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس میں یہ صراحت ہے کہ سیدنا حسنؓ کی وفات کو مصیبت نہ سمجھنے کے الفاظ سیدنا امیر معاویہؓ کے ہیں اور اس میں۔بقیہ بن ولید نے سماع کی تصریح بھی کر دی ہے لیکن یہ روایت پھر بھی باطل ہے ملاحظہ فرمائیں۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: ہم نے اوپر بیان کیا تھا کہ تدلیس تسویہ کرنے والا راوی جب تک پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرے تب تک اس کی تدلیس رفع نہیں ہوتی اور اس پر ابنِ حجرؒ کا ایک روایت کے بارے میں حکم بھی بیان کیا تھا کہ اس روایت کے ضعف کے بارے میں ابنِ حجرؒ کہتے ہیں بقیہ نے یہ روایت اپنے شیخ اور شیخ کے شیخ سے عن کے ساتھ بیان کی ہے جبکہ اس سند میں بقیہ نے اپنے شیخ سے سماع کی تصریح تو کر دی لیکن شیخ کے شیخ سے سماع کی تصریح نہیں کی بقيه حدثنا بخير بن عن خالد اس لیے یہ روایت بھی باطل ہے جب تک بقیہ پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرے تب تک اس کی روایت باطل ہی ہوگی ذیل میں اس پر دلائل ملاحظہ فرمائیں۔
امام ابنِ الملقنؒ بقیہ کی ایک روایت جس میں اس نے صرف شعبہ سے سماع کی تصریح کی ہے کے بارے میں فرماتے ہیں۔
یہاں بقیہ نے ناشعبہ کہہ کر سماع کی تصریح کی ہے یہ چیز اس کو فائدہ نہیں دے گی کیونکہ یہ تدلیس تسویہ کرنے کے بارے میں مشہور ہے۔
(البدر المنیر فی تخریج الاحادیث (عربی) جلد 5 صفحہ 102)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابنِ الملقنؒ کے مطابق بھی بقیہ تدلیس تسویہ کرتا ہے اور جس روایت کے بارے میں امام ابنِ الملقنؒ نے یہ فرمایا ہے اس کی باقی سند کچھ یوں ہے بقیہ نا شعبہ ان المغیرۃ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بقیہ پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرے تب تک اس کی روایت قابلِ قبول نہیں۔
اسی طرح امام ابنِ حجرؒ ایک سند بقیہ حدثنی یونس عن الزھری کے بارے میں فرماتے ہیں۔
اس میں بقیہ نے تدلیس تسویہ کی ہے کیونکہ اس نے اپنے شیخ آگے عن سے روایت بیان کی ہے۔
(تلخیص الحبیر (عربی) جلد 2 صفحہ 86)۔
اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بقیہ بن ولید پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرے گا تب تک اس کی روایت قابلِ قبول نہیں۔
مسند احمد کی اسی روایت کی سند کے جیسی ہی ایک سند جو کچھ یوں ہے بقیہ ثنا خیر بن سعد ان خالد بن معدان کے بارے میں امام ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں۔
بقیہ نے اس سند میں سماع کی تصریح کر دی ہے (بقیہ ثنا بحیر) لیکن بحیر عن خالد کی طرف دیکھا جائے کیونکہ بقیہ تدلیس تسویہ کرتا ہے۔
(اتحاف الملرة بالفوائد المبتکرة (عربی) جلد 13 صفحہ 233'234)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابنِ حجرؒ نے اس سند پر اس وجہ سے اعتماد نہیں کیا کیونکہ بقیہ نے اپنے شیخ سے شیخ خالد بن معدان سے سماع کی تصریح نہیں کی اور یہاں بقیہ نے تدلیس تسویہ کی ہے جیسا کہ امام ابنِ حجرؒ کے قول سے معلوم ہو رہا ہے۔
اور امام ابنِ حجرؒ کی ایک روایت جس کی پوری سند میں اس نے سماع کی تصریح کی ہے (بقيه ثنا مسلم بن زياد قال سمعت انس بن مالكؓ) کے بارے میں فرماتے ہیں۔
بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کرتا ہے (لیکن اس سند میں) اس نے اپنے شیخ اور شیخ کے شیخ سے سماع کی صراحت کر رکھی ہے لہٰذا تدلیس کا شک رفع ہوا۔
(نتائج الافکار فی تخریج احادیث الاذکار (عربی) جلد 2 صفحہ 377)۔
اس سے ثابت ہوا کہ بقیہ کی تدلیس کا شبہ تب ہی دور ہوگا جب وہ پوری سند میں سماع کی تصریح کرے ورنہ نہیں یعنی اگر مسند احمد کی روایت کی سند یوں ہوتی بقیہ حدثنا بحیر حدثنا خالد تو یہ روایت صحیح کہلاتی۔
دوسرى علت: اس روایت کی دوسری علت اس میں بقیہ کا حمصی راوی سے روایت کرنا ہے حدثنا حيوة بن شريح الحمصي حدثنا بقيه بن وليد اور حمصی راوی عدم سماع کو صیغہ سماع سے بیان کر دیتے ہیں یعنی عن کے صیغہ کی جگہ حدثنا کہہ دیتے تھے جیسا کہ امام ابو زرعہؒ اس حدیث ابو تقی الحمصی قال حدثنی بقیہ قال حدثنی عبدالعزیز عن نافع کے بارے میں فرماتے ہیں۔
بقیہ نے یہ حدیث عبدالعزیز سے نہیں سنی یہ روایت اہلِ حمص سے ہے ( ابوتقی الحمصی قال حدثنا بقیہ) اور اہلِ حمص اس میں تمیز نہیں کرتے (یعنی عن کو حدثنا/حدثنی/سمعت/قال کے صیغہ سے نقل کر دیتے ہیں)۔
(کتاب العلل لابنِ ابی حاتم (عربی) جلد 6 صفحہ 271)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حمصی راوی عن کے صیغہ کو حدثنا وغیرہ سے نقل کر دیتے ہیں یعنی اصل میں یہ سند یوں ہی ہے حدثنا حيوة بنت شريح الحمصي حدثنا بقيه بن وليد عن بحير بن سعد عن خالد بن معدان لیکن حمصی راوی نے عدم سماع کے صیغہ عن کو صیغہ سماع حدثنی سے نقل کر دیا اور ہم یہ پہلے ہی ثابت کرچکے ہیں کہ جب تک بقیہ پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرے اس کی معنن مطلقاً رد اور روایت بے اصل ہوگی۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت کہ سیدنا امیر معاویہؓ یہ گھر میں حرام کام ہوتے تھے یا وہ سیدنا حسنؓ کی وفات کو مصیبت نہیں سمجھتے تھے باطل و بے اصل ہیں اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔