سيدنا امير معاویہ رضی اللہ عنہ کہ گھر میں حرام کام ہونا اور…

سيدنا امير معاویہ رضی اللہ عنہ کہ گھر میں حرام کام ہونا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی موت کو مصیبت نہ سمجھنا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 2 از 2

متن: خالد بن معدان سے روایت ہے کہ سیدنا مقدامؓ اور عمر بن اسود سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس آئے سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا مقدامؓ سے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ سیدنا حسن بن علیؓ وفات پاگئے ہیں؟ تو سیدنا مقدامؓ نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا تو سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا کیا آپؓ اس کو مصیبت سمجھتے ہیں؟ تو سیدنا مقدامؓ نے کہا میں ان کی وفات کو مصیبت کیوں نہ سمجھوں؟جبکہ رسول اللہﷺ نے ان کو اپنی گود میں بٹھایا تھا اور کہا تھا یہ(سیدنا حسنؓ) مجھ سے ہے اور سیدنا حسینؓ سیدنا علیؓ سے ہیں۔

(مسند احمد (اردو) جلد 7 حدیث 17321)۔

اس روایت کو پیش کر کے شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس میں یہ صراحت ہے کہ سیدنا حسنؓ کی وفات کو مصیبت نہ سمجھنے کے الفاظ سیدنا امیر معاویہؓ کے ہیں اور اس میں۔بقیہ بن ولید نے سماع کی تصریح بھی کر دی ہے لیکن یہ روایت پھر بھی باطل ہے ملاحظہ فرمائیں۔

اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: ہم نے اوپر بیان کیا تھا کہ تدلیس تسویہ کرنے والا راوی جب تک پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرے تب تک اس کی تدلیس رفع نہیں ہوتی اور اس پر ابنِ حجرؒ کا ایک روایت کے بارے میں حکم بھی بیان کیا تھا کہ اس روایت کے ضعف کے بارے میں ابنِ حجرؒ کہتے ہیں بقیہ نے یہ روایت اپنے شیخ اور شیخ کے شیخ سے عن کے ساتھ بیان کی ہے جبکہ اس سند میں بقیہ نے اپنے شیخ سے سماع کی تصریح تو کر دی لیکن شیخ کے شیخ سے سماع کی تصریح نہیں کی بقيه حدثنا بخير بن عن خالد اس لیے یہ روایت بھی باطل ہے جب تک بقیہ پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرے تب تک اس کی روایت باطل ہی ہوگی ذیل میں اس پر دلائل ملاحظہ فرمائیں۔

امام ابنِ الملقنؒ بقیہ کی ایک روایت جس میں اس نے صرف شعبہ سے سماع کی تصریح کی ہے کے بارے میں فرماتے ہیں۔ 

یہاں بقیہ نے ناشعبہ کہہ کر سماع کی تصریح کی ہے یہ چیز اس کو فائدہ نہیں دے گی کیونکہ یہ تدلیس تسویہ کرنے کے بارے میں مشہور ہے۔

(البدر المنیر فی تخریج الاحادیث (عربی) جلد 5 صفحہ 102)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابنِ الملقنؒ کے مطابق بھی بقیہ تدلیس تسویہ کرتا ہے اور جس روایت کے بارے میں امام ابنِ الملقنؒ نے یہ فرمایا ہے اس کی باقی سند کچھ یوں ہے بقیہ نا شعبہ ان المغیرۃ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بقیہ پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرے تب تک اس کی روایت قابلِ قبول نہیں۔

اسی طرح امام ابنِ حجرؒ ایک سند بقیہ حدثنی یونس عن الزھری کے بارے میں فرماتے ہیں۔

اس میں بقیہ نے تدلیس تسویہ کی ہے کیونکہ اس نے اپنے شیخ آگے عن سے روایت بیان کی ہے۔

(تلخیص الحبیر (عربی) جلد 2 صفحہ 86)۔

اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بقیہ بن ولید پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرے گا تب تک اس کی روایت قابلِ قبول نہیں۔

مسند احمد کی اسی روایت کی سند کے جیسی ہی ایک سند جو کچھ یوں ہے بقیہ ثنا خیر بن سعد ان خالد بن معدان کے بارے میں امام ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں۔

بقیہ نے اس سند میں سماع کی تصریح کر دی ہے (بقیہ ثنا بحیر) لیکن بحیر عن خالد کی طرف دیکھا جائے کیونکہ بقیہ تدلیس تسویہ کرتا ہے۔

(اتحاف الملرة بالفوائد المبتکرة (عربی) جلد 13 صفحہ 233'234)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابنِ حجرؒ نے اس سند پر اس وجہ سے اعتماد نہیں کیا کیونکہ بقیہ نے اپنے شیخ سے شیخ خالد بن معدان سے سماع کی تصریح نہیں کی اور یہاں بقیہ نے تدلیس تسویہ کی ہے جیسا کہ امام ابنِ حجرؒ کے قول سے معلوم ہو رہا ہے۔

اور امام ابنِ حجرؒ کی ایک روایت جس کی پوری سند میں اس نے سماع کی تصریح کی ہے (بقيه ثنا مسلم بن زياد قال سمعت انس بن مالكؓ) کے بارے میں فرماتے ہیں۔

بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کرتا ہے (لیکن اس سند میں) اس نے اپنے شیخ اور شیخ کے شیخ سے سماع کی صراحت کر رکھی ہے لہٰذا تدلیس کا شک رفع ہوا۔

(نتائج الافکار فی تخریج احادیث الاذکار (عربی) جلد 2 صفحہ 377)۔

اس سے ثابت ہوا کہ بقیہ کی تدلیس کا شبہ تب ہی دور ہوگا جب وہ پوری سند میں سماع کی تصریح کرے ورنہ نہیں یعنی اگر مسند احمد کی روایت کی سند یوں ہوتی بقیہ حدثنا بحیر حدثنا خالد تو یہ روایت صحیح کہلاتی۔

دوسرى علت: اس روایت کی دوسری علت اس میں بقیہ کا حمصی راوی سے روایت کرنا ہے حدثنا حيوة بن شريح الحمصي حدثنا بقيه بن وليد اور حمصی راوی عدم سماع کو صیغہ سماع سے بیان کر دیتے ہیں یعنی عن کے صیغہ کی جگہ حدثنا کہہ دیتے تھے جیسا کہ امام ابو زرعہؒ اس حدیث ابو تقی الحمصی قال حدثنی بقیہ قال حدثنی عبدالعزیز عن نافع کے بارے میں فرماتے ہیں۔

بقیہ نے یہ حدیث عبدالعزیز سے نہیں سنی یہ روایت اہلِ حمص سے ہے ( ابوتقی الحمصی قال حدثنا بقیہ) اور اہلِ حمص اس میں تمیز نہیں کرتے (یعنی عن کو حدثنا/حدثنی/سمعت/قال کے صیغہ سے نقل کر دیتے ہیں)۔

(کتاب العلل لابنِ ابی حاتم (عربی) جلد 6 صفحہ 271)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حمصی راوی عن کے صیغہ کو حدثنا وغیرہ سے نقل کر دیتے ہیں یعنی اصل میں یہ سند یوں ہی ہے حدثنا حيوة بنت شريح الحمصي حدثنا بقيه بن وليد عن بحير بن سعد عن خالد بن معدان لیکن حمصی راوی نے عدم سماع کے صیغہ عن کو صیغہ سماع حدثنی سے نقل کر دیا اور ہم یہ پہلے ہی ثابت کرچکے ہیں کہ جب تک بقیہ پوری سند میں سماع کی تصریح نہ کرے اس کی معنن مطلقاً رد اور روایت بے اصل ہوگی۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت کہ سیدنا امیر معاویہؓ یہ گھر میں حرام کام ہوتے تھے یا وہ سیدنا حسنؓ کی وفات کو مصیبت نہیں سمجھتے تھے باطل و بے اصل ہیں اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔


صفحہ 2 از 2