تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبنام و نسب
محمد بن اسمٰعیل بن ابراہیم بن المغیرہ بن بروز بہ (قولہ ”بردز بہ“ بفتح الباء الموحدة، وسكون الراء المهمله، وكسر الدال المهمله، وسكون الزای المعجمة، وفتح الباء الموحدة، بعدها هاء، هدی الساری، صفحہ نمبر 477)
بن بزذ بہ الجعفی البخاری عام طور پر تاریخ کی کتابوں میں امام صاحب کا نسب بردز بہ تک مذکور ہے، البتہ علامہ تاج الدین سبکی رحمةاللہ نے ”طبقات کبریٰ“ میں بذذبہ کا اِضافہ فرمایا ہے۔
(قولہ بذذ بہ، بباء موحدة، ثم ذال معجمة مكسورة، ثم ذال ثانية معجمة ساكنة، ثم باء موحدة مكسورة، ثم هاء، دیکھیے طبقات الشافعیۃ الکبریٰ: جلد 2، صفحہ 2)
بذذبہ اور بردزبہ کے احوال سے تاریخ خاموش ہے، حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ ”بردز بہ“ فارسی کا لفظ ہے اور اہلِ بخارا یہ لفظ کاشتکار کے لیے استعمال کرتے ہیں، بردز بہ فارسی تھا اور اپنی قوم کے دین پر تھا، گویا یہ آتش پرست تھا۔(ھدی الساری صفحہ نمبر 477)
امام بخاریؒ کے پردادا مغیرہ بخارا کے حاکم یمان بن اخنس جعفی کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ (حوالہ بالا)
یمان عربی النسل تھے، قبیلہ جعفی سے ان کا تعلق تھا اور جعفی بن سعد العشیرة قبیلہ مذحج کی شاخ ہے۔
( عمدة القارى: جلد 1، صفحہ 124، کتاب الایمان، باب امور الایمان)
یمان بن اخنس، عبداللہ محمد مُسنَدی استاذِ بخاری کے دادا کے دادا ہیں
(چنانچہ ان کا نسب نامہ ہے: عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن جعفر بن الیمان بن اخنس بن خنیس الجعفی البخاری۔
(عمدة القاری: جلد نمبر 1، صفحہ نمبر 123، کتاب الایمان، باب امور الایمان)
دستور کے مطابق ولاء اسلام کے پیشِ نظر مغیرہ فارس کو جعفی کہا جانے لگا کیونکہ وہ یمانِ جعفی کے ہاتھ پر اسلام لائے تھے، امام بخاری رحمۃاللہ کو بھی اس لیے جعفی کہا جاتا ہے امام بخاریؒ کے دادا ابراہیم کے حالات سے بھی تاریخ خاموش ہے چنانچہ حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں: "واما ولده ابراهيم بن المغيره فلم نقف على شیٔ من اخباره"
(ھدی الساری: صفحہ 477)
امام بخاریؒ کے والد ابو الحسن اسمٰعیل بن ابراہیم علمائے محدثین میں سے ہیں، ابنِ حبان رحمۃاللہ نے کتاب الثقات میں ان کا ذکر کیا ہے۔ (الثقات لابن حبان: جلد 8، صفحہ 98)
یہ حماد بن زید اور امام مالک رحمہمااللہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے عراق کے حضرات نے روایتِ حدیث کی ہے۔
(ھدی الساری: صفحہ نمبر 477)
حضرت عبداللہ بن مبارکؒ سے انہوں نے ملاقات کی ہے، امام بخاریؒ فرماتے ہیں: "صافَح ابن المبارک بکلتا یدیہ"
(تاریخِ کبیر بخاری: جلد 1، صفحہ 343، رقم 1084)
علامہ ذھبیؒ فرماتے ہیں: کان ابو البخاری من العلماء الورعین
(مقدمہ شرح قسطلانی: جلد 1، صفحہ 31)
تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ انتقال کے وقت کثیر مال ترکہ میں چھوڑا، لیکن فرماتے تھے کہ اسمیں ایک درہم بھی حرام یا مشتبہ نہیں
(ھدی الساری: صفحہ 477 ومقدمہ شرح قسطلانی: جلد 1، صفحہ 31)
یہی حلال طیب مال امام بخاریؒ کی پرورش میں استعمال ہوا۔
ولادت و وفات
بعض حضرات کا خیال ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ کی ولادت 12 شوال 194ھ کو ہوئی، جبکہ راجح قول کے مطابق آپ کی ولادت 13 شوال 194ھ بعد نمازِ جمعہ ہوئی۔
(قال الحافظؒ فی ”ھد الساری“ صفحه 477
قال المستنیر بن عتیق: ”اخرج لی ذلك محمد بن اسماعيل بخط ابيه، وجاء ذلك عنه من طرق“
12 شوال کا قول ابویعلیٰ خلیلی نے ”الارشاد“ میں نقل کیا ہے۔
مقدمہ لامع الدراری: صفحہ 28)
اللہ تعالیٰ نے شوال کا مہینہ عطا فرمایا جو اشہرِ حج میں پہلا مہینہ اور رمضان المبارک و ذوالقعدہ شہرِ حرام کے درمیان واقع ہے، پھر جمعہ کا دن ولادت کے لیے مقرر فرمایا جو سید الایام ہے۔
وفات 256ھ میں ہفتہ کی رات میں ہوئی جو عیدالفطر کی شب تھی، اس طرح کل عمر 13 دن کم 62 سال ہوئی، عید الفطر کے دن یکم شوال 256ھ بعد نمازِ ظہر مقام خرتنگ میں مدفون ہوئے، کسی نے مختصر طور پر ولادت و وفات اور عمر کا یوں ذکر کیا ہے: كان البخارى حافظا و محدثا جمع الصحيح مكمل التحرير ميلاده صدق 194 ومدة عمره فيها 62 حميد وانقضی 256 فی نور
(مقدمہ صحیح بخاری از حضرت مولانا احمد علی سہارنپوریؒ، صفحہ 3)
مختصر حالات اور تعلیم
امام بخاری رحمۃاللہ کا ابھی بچپن ہی تھا کہ ان کے والد اسماعیل بن ابراہیم کا انتقال ہو گیا اور تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آ گئی، ادھر اسی بچپن کے زمانہ میں امام بخاریؒ کی بینائی زائل ہو گئی جس سے والدہ کو بہت صدمہ ہوا، وہ بڑی عبادت گزار اور خدا رسیدہ خاتون تھیں، الحاح و زاری کے ساتھ انہوں نے دعائیں کیں، ایک مرتبہ رات کو خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہوئی تو انہوں نے بشارت سنائی کہ تمہاری دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے بیٹے کی بینائی لوٹا دی ہے۔ (ھدی الساری: صفحہ 478)
علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ نے لکھا ہے کہ گرمی اور دھوپ میں طلبِ علم کے لیے سفر سے پھر دوبارہ بینائی جاتی رہی، خراسان پہنچے، کسی نے سر کے بال صاف کرانے اور گلِ ختمی کے ضماد کا مشورہ دیا، اس سے بینائی پھر واپس لوٹ آئی۔
(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ: جلد 2، صفحہ 4)
ایک دن امام داخلی رحمۃاللہ نے ایک سند بیان کی "سفیان عن ابی الزبیر عن ابراہیم" امام بخاریؒ نے جو ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے عرض کیا "ابو الزبیر لم یرو ابراہیم" استاد نے طفل نو آموز سمجھ کر توجہ نہیں دی بلکہ جھڑک دیا تو امام بخاریؒ نے سنجیدگی سے عرض کیا کہ آپ کے پاس اصل ہو تو مراجعت فرما لیں، بات معقول تھی، محدث داخلیؒ اندر گھر میں گئے اور اصل کو ملاحظہ فرمایا تو امام بخاریؒ کی بات درست نکلی، واپس آئے تو پوچھا: لڑکے! اصل سند کیا ہے؟ امام بخاری رحمۃاللہ نے فرمایا "ھو الزبیر و ھو ابن عدی عن ابراہیم" محدث داخلی رحمۃاللہ نے قلم لے کر اصلاح کرتے ہوئے فرمایا "صدقت" کسی نے پوچھا کہ اس وقت آپ کی عمر کیا تھی ؟ فرمایا 11 برس۔ (حوالہ بالا)
علامہ بیکندی رحمۃاللہ فرماتے تھے کہ محمد بن اسماعیل جب درس میں آ جاتے ہیں تو مجھ پر تحیر کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور میں حدیث بیان کرتے ہوئے ڈرتا۔ (ھدی الساری: صفحہ 483)
بے مثال حافظہ
حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے مقدمہ فتح الباری میں لکھا ہے کہ حاشد بن اسماعیل کا بیان ہے کہ ہم امام بخاری رحمۃاللہ کے ساتھ بصرہ کے مشائخ کے پاس جایا کرتے تھے، ہم لوگ لکھا کرتے تھے اور بخاری نہیں لکھتے تھے، بطورِ طعن رفقاءِ درس امام بخاری سے کہا کرتے تھے کہ آپ خواہ مخواہ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں، احادیث لکھتے نہیں!! زیادہ چھیڑ چھاڑ جب ہوئی تو امام بخاریؒ کو غصہ آ گیا اور فرمایا اپنی لکھی ہوئی حدیثیں لاؤ، اس وقت تک 15 ہزار احادیث لکھی جا چکی تھیں، امام بخاریؒ نے ان احادیث کو سنانا شروع کر دیا تو سب حیران رہ گئے، پھر تو حدیثیں لکھنے والے حضرات اپنے نوشتوں کی تصحیح کے لیے امام بخاری کے حفظ پر اعتماد کرنے لگے۔
(ھدی الساری: صفحہ 478)
اسی طرح ایک مرتبہ جب امام بخاریؒ بغداد تشریف لائے، وہاں کے محدثین نے امام بخاریؒ کے امتحان کا ارادہ کیا اور 10 آدمی مقرر کیے، ہر ایک کو 10، 10 احادیث سپرد کیں جن کے متون و اسانید میں تبدیلی کر دی گئی تھی، جب امام صاحبؒ تشریف لائے تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے وہ حدیثیں پیش کیں جن میں تبدیلی کر دی گئی تھی، امام ہر ایک کے جواب میں "لا اعرفه" کہتے رہے، عوام تو یہ سمجھنے لگی کہ اس شخص کو کچھ نہیں آتا لیکن ان میں جو علماء تھے وہ سمجھ گئے کہ امام بخاریؒ ان کی چال سمجھ گئے ہیں، اس طرح 10 آدمیوں نے سو حدیثیں پیش کر دیں جن کی سندوں اور متنوں میں تبدیلی کی گئی تھی اور امام صاحبؒ نے ہر ایک کے جواب میں "لا اعرفه" فرمایا، اس کے بعد امام بخاری رحمۃاللہ نمبر وار ایک ایک کی طرف متوجہ ہوتے گئے اور بتاتے گئے کہ تم نے پہلی روایت اس طرح پڑھی تھی جو غلط ہے اور صحیح اس طرح ہے، اسی طرح ترتیب وار تمام 10 افراد کی اصلاح فرمائی، ان سب پر واضح ہو گیا کہ یہ کتنے ماہر فن ہیں۔
حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ "تعجب اس پر نہیں کہ انہوں نے غلطی پہچان لی اور اس کی اصلاح کر دی، کیونکہ وہ حافظِ حدیث تھے ان کا تو کام ہی یہ ہے، لیکن تعجب درحقیقت اس بات پر ہے کہ غلط احادیث کو ایک ہی مرتبہ سن کر ترتیب وار محفوظ رکھا اور پھر ترتیب کے ساتھ ان کو بیان کر کے اصلاح کی"۔
(ھدی الساری: صفحہ 486)
امام صاحب کے علمی اسفار
امام صاحبؒ نے پہلے تمام کتبِ متداولہ اور مشائخِ بخارا کی کتابوں کو محفوظ کیا، پھر 16 برس کی عمر میں حجاز کا قصد کیا
(کیونکہ امام صاحب خود فرماتے ہیں "فلما طعنت فی ست عشرۃ سنة حفظت کتب ابن المبارک و وکیع وعرفت کلام ھؤلاء یعنی اصحاب الرای قال: ثم خرجت مع امی و اخی الی الحج۔ قلت: القائل ھو الحافظ ابن حجر۔ فکان اول رحلته علی ھذا سنة عشر و مائتین" (ھدی الساری صفحہ 478)
والدہ اور بھائی احمد بن اسماعیل ساتھ تھے،
والدہ اور بھائی حج سے فراغت کے بعد وطن واپس آ گئے اور امام بخاری رحمۃاللہ طلبِ علم کے لیے مکہ مکرمہ میں ٹھہر گئے۔
مکہ مکرمہ کے آپ کے اساتذہ ابو الولید احمد بن محمد ازرقی، امام حمیدی، حسان بن حسان بصری، خلاد بن یحییٰ اور ابو عبدالرحمن مقری رحمہم اللہ تھے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 395
و مقدمہ شرح قسطلانی: صفحہ 32)
پھر 18 سال کی عمر میں مدینہ منورہ کا سفر کیا اور وہاں کے مشہور محدثین عبدالعزیز اویسی، ایوب بن سلیمان بن بلال اور اسماعیل بن ابی اویس رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ سے استفادہ کیا۔ 18 برس کی عمر میں "قضا یا الصحابہ و التابعین" لکھی، اسی سفر میں مدینہ طیبہ میں چاندنی راتوں میں "التاریخ الکبیر" کا مسودہ لکھا، یہ امام بخاری رحمۃاللہ کی دوسری تصنیف ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 395
و ھدی الساری: صفحہ 478)
پھر امام صاحب رحمۃاللہ بصرہ تشریف لے گئے وہاں ابو العاصم النبیل، محمد بن عبداللہ انصاری، بدل بن المحبر، عبدالرحمن بن حماد الشعیثی، محمد بن عرعرہ، حجاج بن منہال، عبداللہ بن رجاء غدانی اور عمر بن عاصم کلابی رحمہم اللہ وغیرہ سے احادیث کا سماع کیا.
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 394
و مقدمہ شرح قسطلانی: صفحہ 32)
امام صاحبؒ حجاز میں چھ سال رہے، بصرہ کا چار دفعہ سفر کیا اور کوفہ و بغداد کے متعلق تو خود امام صاحب فرماتے ہیں "ولا احصى كم دخلت الى الكوفة وبغداد مع المحدثين" (ھدی الساری: صفحہ 478)
کوفہ کے مشائخ جن پر امام بخاری رحمۃاللہ نے اعتماد کیا ہے وہ یہ ہیں: عبید اللہ بن موسیٰ، ابونعیم احمد بن یعقوب، اسماعیل بن ابان، الحسن بن ربیع، خالد بن مخلد، سعید بن حفص، طلق بن غنام، عمرو بن حفص، عروہ، قبیصہ بن عقبہ، ابوغسان اور خالد بن یزید مقری رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 394
و تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 72)
بغداد کے مشائخ میں امام احمد بن حنبل، محمد بن سابق، محمد بن عیسیٰ بن الطباع اور سریج بن النعمان رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
(تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 72
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 394)
شام کے مشائخ میں محمد بن یوسف فریابی، ابو نصر اسحاق بن ابراہیم، آدم بن ابی ایاس، ابو الیمان الحکم بن نافع، حیوۃ بن شریح، علی بن عباس اور بشر بن شعیب رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 395
و تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 71)
مصر کے مشائخ میں عثمان بن صالح، سعید بن ابی مریم، عبداللہ بن صالح، احمد بن صالح، احمد بن شعیب، اصبغ بن الفرج، سعید بن عیسیٰ، سعید بن کثیر، یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر، احمد بن اشکاب اور عبداللہ بن یوسف وغیرہ ہیں۔ (حوالاجات بالا)
جبکہ الجزیرہ کے مشائخ میں احمد بن عبدالملک حرانی، احمد بن یزید الحرانی، عمرو بن خلف اور اسماعیل بن عبداللہ الرقی قابلِ ذکر ہیں۔
(تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 72)
مرو میں علی بن الحسن بن شقیق، عبدان اور محمد بن مقاتل رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ سے سماع کیا۔ (حوالا بالا)
بلخ میں مکی بن ابراہیم، یحییٰ بن بشر، محمد بن ابان، یحییٰ بن موسیٰ اور قتیبہ وغیرہ سے احادیث کا سماع کیا۔ (حوالا بالا)
ہرات میں احمد بن ابی الولید حنفیؒ سے احادیث کا سماع کیا۔
نیشاپور میں یحییٰ بن یحییٰ، بشر بن الحکم، اسحاق بن راہویہ، محمد بن رافع، محمد بن یحییٰ ذہلی رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ سے حدیثیں سنیں۔ الغرض امام بخاریؒ نے تقریبا تمام ممالکِ اسلامیہ کا سفر کیا اور ایک ہزار 80 مشائخ سے حدیثیں سنیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 395
و مقدمہ فتح الباری: صفحہ 479)
تنبیہ
علامہ سبکی رحمۃاللہ نے امام بخاریؒ کے سفر الجزیرہ کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ امام صاحبؒ الجزیرہ میں داخل نہیں ہوئے۔
(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ: جلد 2، صفحہ 3)
لیکن امام نووی اور حافظ ابنِ حجر رحمہمااللہ اس سفر کے قائل ہیں۔
(چنانچہ حافظؒ فرماتے ہیں: و قال سهل بن السری: قال البخاری: دخلت ألى الشام ومصر والجزيرۃ مرتين، هدی الساری: صفحه 478 اور امام نووی رحمۃالله الجزیرہ سمیت اور بہت سارے ملکوں اور وہاں کے مشائخ کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "قد رحل البخاریؒ الی ھذہ البلاد المذکورۃ فی طلب العلم"و اقام فی كل مدينه منها على مشائخها. تهذيب الاسماء: جلد 1، صفحہ 72)
ان رحلات میں امام صاحب کی تنگدستی
امام بخاری رحمۃاللہ نے طلبِ علم کے دوران فاقے بھی کیے اور پتے اور گھاس کھا کر گزارا کیا، بعض اوقات اپنا لباس تک فروخت کر دینے کی نوبت بھی آئی، زندگی کے ایک بڑے حصے میں سالن استعمال نہیں کیا، ایک مرتبہ بیمار ہوئے، اطباء نے ان کا قارورہ دیکھ کر کہا کہ یہ قارورہ ایسے پادری کا معلوم ہوتا ہے جو سالن استعمال نہیں کرتا۔ امام بخاریؒ نے فرمایا کہ میں نے 40 سال سے سالن استعمال نہیں کیا، ان کا علاج سالن تجویز کیا تو امام صاحب نے انکار فرما دیا اور جب علماء و مشائخ نے بہت اصرار کیا تو یہ منظور فرمایا کہ روٹی کے ساتھ شکر استعمال کر لوں گا۔
(هدى السارى: صفحہ 481،
و تهذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 68)
واقعی سچ ہے "لایستطاع العلم براحة الجسم"
(قاله الإمام يحيىٰ بن أبي كثير، كما رواه مسلم في صحيحه: جلد 1، صفحہ 223
کتاب الصلاة، باب أوقات الصلوات الخمس)
یہی وجہ ہے کہ امام بخاریؒ اس عظیم مرتبے پر پہنچے کہ بڑے اور چھوٹے سب ان کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتے ہیں۔
چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ فرماتے ہیں: "ما اخرجت خراسان مثل محمد بن اسماعیل"
(هدی الساری: صفحہ 482، 483
و سیر اعلام النبلاء: جلد 2، صفحہ 421
و تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 21
و تهذيب الأسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 68)
امام مسلم رحمۃاللہ فرماتے ہیں: "اشھد انہ لیس فی الدنیا مثلک"
(هدی الساری: صفحہ 485
و تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 29)
امام حاکم رحمۃاللہ سے امام بیہقی رحمۃاللہ نے نقل کیا ہے کہ امام مسلمؒ ایک مرتبہ امام بخاریؒ کے پاس آئے اور پیشانی پر بوسہ دے کر فرمایا: "دعنی اقبل رجلیک یا استاذ الاساتذین و سید المحدثین و طبیب الحدیث فی عللہ۔
(ھدی الساری: صفحہ 488،
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 432
و تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 70
و طبقات الشافعیۃ للسبکی: جلد 2، صفحہ 223)
امام بخاری رحمۃاللہ کا فضل و شرف
امام بخاری رحمۃاللہ اہلِ فارس میں سے ہیں اور حضورﷺ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا "لو کان الدین عند الثریا لذھب بہ رجل من فارس أو قال من أبناء فارس"
(صحیح مسلم: جلد 2، صفحہ 312
کتاب الفضائل باب فضل الفارس)
حضرات محدثین کا ارشاد ہے کہ اس کے اولین مصداق امام ابو حنیفہؒ ہیں اور پھر امام بخاریؒ ہیں۔ اسی طرح قران کریم میں ارشاد ہے وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ
سورۃالجمعہ آیت: 3
جب صحابہ کرامؓ نے اس آیت کے متعلق آپﷺ سے سوال کیا تو حضرت سلمان فارسیؓ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا "لو کان الأیمان عند الثریا، لنا لہ رجال من ھؤلاء"
(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورۃالجمعة، باب قولہ وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ رقم 4897
وصحیح مسلم: جلد 2، صفحہ 312، کتاب الفضائل، باب فضل فارس)
اس کے مصداق بھی امام ابوحنیفہ اور امام بخاری رحمہما اللہ تعالیٰ ہیں۔
فربری رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضورﷺ مجھ سے فرما رہے ہیں "این ترید؟" میں نے عرض کیا
ارید محمد بن اسماعیل" آپﷺ نے فرمایا "اقرأہ منی السلام
(ھدی الساری: صفحہ 489
و تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 10
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 443
و تہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 68
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 223)
احتیاط و تقویٰ
امام بخاری رحمۃاللہ کا قول ہے:
ما أغتبت أحداً قط منذ علمت أن الغیبة حرام"
(ھدی الساری: صفحہ 480)
نیز فرمایا: إنی لأرجو أن ألقى الله ولا يحاسبنی أنی اغتبت أحدا
(ھدی الساری: صفحہ 480
و تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 13
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 439
وتہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 68
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 223، 224)
امام بخاریؒ نے معاصی اور منکرات سے بچنے کا بڑا اہتمام فرمایا ہے کیونکہ گناہوں سے حافظہ خراب ہو جاتا ہے، امام بخاریؒ نے گناہوں سے حد درجہ احتیاط کی اس لیے ان کا حافظہ متاثر نہیں ہوا اور حفظ میں ان کو زبردست کمال حاصل ہوا، امام شافعیؒ فرماتے ہیں۔
شکوت الی وکیع سوء حفظی
فاوصانی الی ترک المعاصی
فان العلم من نور الہ
ونور اللہ لایعطی لعاص
علمی وقار کی حفاظت
کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ امام بخاری رحمۃاللہ دریائی سفر کر رہے تھے اور ایک ہزار اشرفیاں ان کے ساتھ تھیں، ایک شخص نے کمال نیاز مندی کا طریقہ اختیار کیا اور امام بخاریؒ کو اس پر اعتماد ہو گیا، اپنے احوال سے اس کو مطلع کیا یہ بھی بتا دیا کہ میرے پاس ایک ہزار اشرفیاں ہیں، ایک صبح کو جب وہ شخص اٹھا تو اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا اور کہا کہ میری ایک ہزار اشرفی کی تھیلی غائب ہے، چنانچہ جہاز والوں کی تلاشی شروع ہوئی، امام بخاریؒ نے موقع پا کر چپکے سے وہ تھیلی دریا میں ڈال دی، تلاشی کے باوجود تھیلی دستیاب نہ ہوئی تو لوگوں نے اس کو ملامت کی، سفر کے اختتام پر وہ شخص امام بخاریؒ سے پوچھتا ہے کہ آپ کی وہ اشرفیاں کہاں گئیں؟ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ میں نے اس کو دریا میں ڈال دیا، کہنے لگا اتنی بڑی رقم کو آپ نے ضائع کر دیا؟ فرمایا کہ میری زندگی کی اصل کمائی تو ثقاہت کی دولت ہے، چند اشرفیوں کے عوض میں اس کو کیسے تباہ کر سکتا تھا؟
(یہ واقعہ امداد الباری: جلد 1، صفحہ 461 اور فضل الباری: جلد 1، صفحہ 55 میں حافظؒ کی فتح الباری کے حوالے سے منقول ہے، لیکن باوجود تلاش کے نہ مل سکا، نیز تاریخ بغداد، تہذیب الکمال، سیر اعلام النبلاء، تہذیب التہذیب، تہذیب الاسماء واللغات، مقدمہ فتح، مقدمہ قسطلانی اور مقدمہ لامع میں ایمان کے ترجمہ کے تحت اس واقعے کا ذکر نہیں ہے)
امام بخاریؒ کے والد نے ترکے میں کافی مال چھوڑا تھا، امام بخاریؒ نے وہ مال مضاربت پر دے دیا، ایک مرتبہ ایک مضارب 25 ہزار درہم لے کر دوسرے شہر میں جا کر آباد ہو گیا اور اس طرح امام بخاریؒ کی رقم ضائع ہونے لگی، لوگوں نے کہا کہ مقامی حاکم سے خط لکھوا کر اس علاقے کے حاکم کے پاس بھجوا دیجیے تو رقم آسانی سے مل جائے گی، امام بخاریؒ نے فرمایا کہ اگر آج میں حکام کی سفارش کے ذریعے اپنی رقم حاصل کروں گا تو کل یہی حاکم میرے دین میں دخل اندازی کریں گے اور میں اپنے دین کو دنیا کے عوض ضائع نہیں کرنا چاہتا. پھر یہ طے ہوا کہ مقروض 10 درہم ماہوار ادا کرے گا، لیکن اس میں سے ایک درہم بھی امام بخاریؒ کو نہیں ملا۔
(ھدی الساری: صفحہ 479
طبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 227
سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 446)
وراقِ بخاری محمد بن ابی حاتمؒ کا بیان ہے کہ امام بخاریؒ نے فرمایا کہ میں طلبِ حدیث کے لیے آدم بن ابی ایاس کے پاس گیا اور خرچہ ختم ہو گیا تو میں نے گھاس اور پتے کھانا شروع کیے اور کسی کو خبر نہ ہونے دی، تیسرے دن ایک اجنبی شخص میرے پاس آیا اور اشرفیوں کی ایک تھیلی تھما دی۔ (ھدی الساری: صفحہ 480
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 448
و طبقات السبکی: جلد دوم صفحہ 227)
عمر بن حفص الاشقرؒ کا بیان ہے کہ ہم چند ہم سبق بصرہ میں احادیث لکھتے تھے، ہمارے ساتھ امام بخاریؒ بھی تھے، ایک مرتبہ بخاری کئی دن تک نہیں آئے، تفتیش کرنے سے معلوم ہوا کہ ان کے پاس خرچ ختم ہو گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ امام کو کپڑے بھی فروخت کرنے پڑے، ہم نے چندہ کیا اور کپڑے کا انتظام کیا۔
حسنِ سلوک اور ایثار
خود تو کئی دن بغیر کھائے پیے گزار دیا کرتے تھے اور کبھی صرف دو تین بادام کھا لینا بھی ان کے لیے کافی ہوتا تھا لیکن دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کے معاملے میں پیش پیش رہتے تھے۔ ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ کو ہر ماہ 500 درہم کی آمدنی ہوتی تھی، یہ ساری رقم وہ فقراء و مساکین اور طلبہ و محدثین پر خرچ کر دیا کرتے تھے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 448
و تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 13
و طبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 217)
بے نفسی
بے نفسی کا یہ عالم تھا کہ عبداللہ بن محمد صیارفیؒ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ امام کی باندی ان کے پاس سے گزری تو دوات کو ٹھوکر لگ گئی اور روشنائی گر گئی، امام صاحبؒ نے باندی سے کہا کس طرح چلتی ہو؟ باندی نے جواب دیا کہ جب راستہ ہی نہ ہو (چونکہ ہر طرف کتابیں پھیلی ہوئی تھیں) تو کیا کیا جائے؟ یہ سن کر امام بخاریؒ نے فرمایا اذھبی فقد أعتقتک کسی نے کہا اے ابو عبداللہ! اس نے آپ کی شان میں گستاخی کی اور آپ کو ناراض کر دیا لیکن آپ نے اسے آزاد کر دیا؟ امام بخاریؒ نے فرمایا کہ میں نے اس کام سے اپنے آپ کو راضی کر لیا۔ (ھدی الساری: صفحہ 480 و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 452)
حدیث پر عمل کا اہتمام
عام طور پر محدثین کے یہاں اس کا بہت اہتمام ہوتا ہے کہ جو حدیث پڑھیں اس پر عمل کریں، چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ فرماتے ہیں: "ما كتبت حديثا الا وقد عملت به حتى مربي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم واعطى ابا طيبة ديناراً فاعطيت الحجام ديناراً حين احتجمت"
(سیر اعلام النبلاء: جلد 1، صفحہ 213
ترجمہ امام احمد بن حنبلؒ، مشہور محقق شعیب الارنوؤط حدیث "ان النبی صلى الله عليه وسلم احتجم و اعطی ابا طيبة ديناراً" کی تخریج کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یہ حدیث امام مالکؒ نے موطا میں، امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے اپنی اپنی صحیح میں امام ابو داؤد، امام ترمذی اور امام دارمیؒ نے اپنی اپنی سنن میں اور امام احمدؒ نے اپنی مسند میں ذکر کی ہے لیکن ان میں سے بعض میں تو "فامر بصاع من طعام" ہے، بعض میں "بصاع من شعیر" ہے اور بعض میں "بصاعین من طعام" ہے، کسی طریق میں یہ نہیں ہے کہ آپ نے ایک دینار دیا ہو۔
دیکھیے حاشیہ سیر اعلام النبلاء: جلد 11، صفحہ 213)
نشانہ بازی میں مہارت
وراقِ بخاری کا بیان ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ تیر اندازی اور نشانہ بازی کی مشق کے لیے بہت زیادہ نکلا کرتے تھے، میں نے اپنی زندگی میں صرف دو مرتبہ دیکھا کہ ان کا نشانہ خطا گیا ہے ورنہ ٹھیک ہدف پر وہ تیر پھینکتے تھے. ایک مرتبہ فربر سے باہر تیر اندازی کے لیے نکلے، تیر اندازی شروع ہوئی تو امام بخاریؒ کا تیر پل کی میخ پر جا لگا اور پل کو نقصان پہنچا، امام بخاریؒ سواری سے اتر گئے اور میخ سے تیر نکالا اور لوٹ آئے اور مجھ سے فرمایا کہ میرا ایک کام کر دو، پل والے کے پاس جا کر کہو کہ ہمیں یا تو نقصان کا ازالہ کرنے کی اجازت دے دے یا قیمت لے لے اور معاف کر دے۔ کہتے ہیں پل کے مالک حمید بن الاخضر کو جب یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ابو عبداللہ کو میری طرف سے سلام کہو اور کہو کہ جو کچھ ہوا وہ معاف ہے اور یہ کہ اپنی تمام دولت اور جائیداد آپ پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ امام بخاریؒ یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور بطورِ شکر اس دن 500 حدیثیں سنائیں اور تین سو درہم صدقہ کیے۔ (ھدی الساری: صفحہ 480)
شوقِ عبادت
ہمیشہ کا معمول تھا کہ آخر شب میں تین رکعتیں پڑھا کرتے تھے
(ھدی الساری: صفحہ 481
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 13
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 241)
اور رمضان میں اس پر بہت اضافہ ہو جاتا تھا حافظ ابو عبداللہ حاکم رحمۃاللہ اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ جب رمضان شروع ہوتا تو امامؒ ایک مرتبہ قرآن تو عام تراویح کی جماعت میں ہر رکعت میں 20، 20 آیات پڑھ کر ختم کیا کرتے تھے، پھر خود تنہا آخر شب میں نصف یا ثلثِ قرآن پڑھتے، اس طرح ہر تیسرے دن ایک قرآن ختم فرماتے تھے، پھر دن بھر بھی تلاوت کرتے رہتے تھے اور روزانہ افطار کے وقت قرآن کریم ختم فرماتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ہر ختم پر دعا قبول ہوتی ہے۔
(ھدی الساری: صفحہ 481)
قبولیتِ دعا
امام رحمۃاللہ نے فرمایا کہ میں نے دو مرتبہ اپنے رب سے دعا مانگی فورا قبول ہوئی اس کے بعد سے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے اعمال کی جزا دنیا ہی میں تو نہیں مل رہی اس لیے میں اس کے بعد دنیا کے لیے کچھ مانگنا پسند نہیں کرتا تھا۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 448
وھدی الساری: صفحہ 480)
عللِ حدیث کی معرفت میں انفرادیت
اصطلاح میں "علت" پوشیدہ سببِ جرح کو کہتے ہیں، اس علم میں مہارت کے لیے بے پناہ حافظہ، سیال ذہن اور نقد میں کامل مہارت ضروری ہے، رواةِ حدیث کی معرفت، ولادت و وفات کے اوقات کا علم، اسماء، القاب، کنیتوں اور ان کی ملاقات کی تفصیل کا علم لازم ہے، الفاظِ حدیث پر پوری نظر ضروری ہے۔
(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ 42
النوع الثامن عشر معرفۃ الحدیث المعلل)
اسماء و کنیت کی معرفت کے سلسلے میں واقعہ مشہور ہے کہ امام فریابی رحمۃاللہ نے امام بخاری رحمۃاللہ کی موجودگی میں ایک حدیث بیان کی "حدثنا سفیان عن أبی عروۃ عن أبی الخطاب عن أبی حمزۃ" حاضرین سفیان کے بعد مشائخ میں سے کسی کو نہ پہچان سکے تو امام بخاریؒ نے فرمایا ابو عروہ معمر بن راشد ہیں ابو الخطاب قتادہ بن دعامہ سدوسی ہیں اور ابو حمزہ سے مراد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ نیز فرمایا کہ سفیان کی یہ عادت ہے کہ وہ مشہور شیوخ کی کنیت ذکر کرتے ہیں۔
(ھدی الساری صفحہ: 478)
نقد و جرح کے سلسلے میں امام بخاری رحمۃاللہ کا طریقہ
جرح اور تعدیل کے باب میں محدثین نے ان کے مراتب مقرر کیے اور پھر ہر ایک کے لیے مخصوص اصطلاحیں مقرر ہوئیں، چنانچہ جرح کے مراتب میں "فلان کذاب" وغیرہ الفاظ شائع و ذائع ہیں۔ لیکن امام بخاریؒ عام محدثین کی طرح "وضّاع" اور "کذاب" کا لفظ بہت کم استعمال کرتے ہیں۔
(چنانچہ حافظ ذہبیؒ سیر اعلام النبلا: جلد 12، صفحہ 439، 440 میں فرماتے ہیں "و قل ان يقول: فلان كذاب او كان يضع الحديث" شیخ عبدالفتاح ابو غدہؒ امام بخاریؒ سے چند راویوں کے بارے میں "كذاب يذكر بوضع الحديث" وغیرہ الفاظ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ويلاحظ من هذه الامثله القليلة، ان البخاری يحرص على ان يكون لفظ الجرح الذی يرتضيه من قول غيره اذا وجده فينقله عنه والا قاله من قبل نفسه وذلك من دقيق ورعه رحمۃالله تعالىٰ
دیکھیے تعلیقات "الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل" صفحہ، 401، 402)
وہ منکر الحدیث "فیہ نظر" اور "سکتوا عنہ" کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 439
طبقات الشافعیۃ: جلد 2، صفحہ 9
وھدی الساری: صفحہ 480)
چنانچہ وہ فرماتے ہیں "اذ قلت: فلان فی حدیثه نظر، فھو متھم واہٍ"
(سير اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 441
ومیزان الاعتدال: جلد 2، صفحہ 416
ترجمہ: عبداللہ بن داؤد واسطی)
نیز فرماتے ہیں "کل من قلت فیہ: منکر الحدیث، فلاتحل الروایة عنه
(دیکھیے میزان الاعتدال: جلد 1، صفحہ 6،
ترجمہ ابان جبلۃ الکوفی،
حافظ ذہبی نے میزان الاعتدال: جلد 2، صفحہ 416
ترجمہ عبداللہ بن داؤد واسطی میں فرمایا ہے "و قد قال البخاری فیہ نظر ولا یقول ھذا الا فیمن یتھمه غالباً"
اسی طرح حافظ عراقیؒ شرح الفیہ: صفحہ 176 میں فرماتے ہیں "فلان فیہ نظر و فلان سکتوا عنه، وھاتان العباراتان یقولھما البخاری فیمن ترکوا حدیثه"
لیکن محدثِ جلیل حضرت مولانا حبیب الرحمٰن اعظمیؒ نے حافظ ذہبی اور حافظ عراقی رحمہمااللہ کے قول کو محقق اور مفصل طور پر رد کیا ہے۔
دیکھیے حاشیہ "الرفع والتکمیل" صفحہ 389، 391
وحاشیہ قواعد فی علوم الحدیث صفحہ 155، 157 وحاشیہ سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 439، 440)
گویا امام بخاریؒ نے جرح کے باب میں بھی احتیاط کا دامن نہیں چھوڑا۔ امام بخاریؒ کے وراق نے آپ سے کہا کہ لوگ آپ کی تاریخ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں غیبت کی گئی ہے تو آپؒ نے فرمایا ہم نے تاریخ میں متقدمین کے اقوال نقل کیے ہیں، اپنی طرف سے تو ہم نے کچھ بھی نہیں کہا۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 441
وھدی الساری: صفحہ 480
مقدمہ قسطلانی: صفحہ 37)
پھر امام بخاری رحمۃاللہ نے اخذِ حدیث میں بھی بہت احتیاط سے کام لیا، ایک مرتبہ کسی شخص نے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا جس میں تدلیس کا گمان تھا تو امامؒ نے فرمایا کہ تم میرے بارے میں تدلیس کا شبہہ کر رہے ہو؟ میں نے تو ایک محدث کی 10 ہزار احادیث اسی اندیشے کی وجہ سے ترک کر دیں اور شبہہ کی بنیاد پر ایک اور محدث کی اتنی ہی یا اس سے زائد حدیثیں چھوڑ دیں۔
(ھدی الساری: صفحہ 481
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 25)
امام بخاری رحمۃاللہ اہلِ علم کی نظر میں
امام بخاری رحمۃاللہ کے استاذ محمد بن سلام بیکندی رحمۃاللہ نے امام سے فرمایا "انظر فی کتبی، فما وجدت فیھا من خطأ فاضرب علیه، کی لا أرویه" امام بخاریؒ نے ان کی حدیثوں پر نظرِ ثانی کی، چنانچہ جن احادیث کے بارے میں امام صاحب نے اطمینان ظاہر کیا ان پر ان کے استاذ نے لکھ دیا "رضی الفتی" اور جو احادیث ضعیف تھیں ان پر لکھا "لم یرض الفتی"
(تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 24)
اسی طرح ان کے ایک استاذ عبداللہ بن یوسف تنیسی رحمۃاللہ نے بھی ان سے فرمایا "انظر فی کتبی و اخبرنی بما فیھا من السقط"
(ھدی الساری: صفحہ 483
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 419)
آپ کے استاذ اسماعیل بن ابی اویس رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ جس لطیف طریقے سے امام بخاری رحمۃاللہ نے میری حدیثوں کی اصلاح کی اس طرح کسی نے نہیں کی، انہوں نے فرمایا کہ "أ تاذن لی أن أجددھا؟" یعنی میں ان کو دوبارہ لکھ دوں؟ انہوں نے اجازت دے دی، فرماتے ہیں "فاستخرج عامة حدیثی بھذہ العلة"
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 430)
نیز خود امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ میں اسماعیل بن ابی اویس کی جن احادیث کا انتخاب کرتا تھا ان پر وہ لکھ لیتے تھے "ھذہ الاحادیث انتخبھا محمد بن اسماعیل من حدیثی"
(ھدی الساری: صفحہ 482)
اسماعیل بن ابی اویسؒ ہی کا قول ہے انہوں نے اپنے شاگرد امام بخاریؒ سے فرمایا "انظر فی کتبی وما املکه لک، وانا شاکر لک ما دمت حیّا"
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 429)
وھدی الساری: صفحہ 482)
حافظ رجاء بن مرجی رحمۃاللہ فرماتے ہیں "فضل محمد بن اسماعيل على العلماء كفضل الرجال علی النساء"
(تاریخ بغداد جلد 2، صفحہ 25
وھدی الساری: صفحہ 483
و سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 427)
نیز فرمایا "هو آية من آيات الله يمشی على ظهر الأرض"
(حوالا بالا)
امام محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں "ما تحت أدیم السماء اعلم بالحدیث من محمد بن اسماعیل"
(ھدی الساری: صفحہ 485
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 27
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 431)
حافظ رحمۃاللہ فرماتے ہیں "ولو فتحت باب ثناء الائمة علیه ممن تاخر عن عصرہ لفنی القرطاس ونفدت الانفاس فذاک بحر لا ساحل له"
(ھدی الساری: صفحہ 485)
ابتلاء و وصال
امام بخاری رحمۃاللہ بہت بڑے آدمی تھے اور قاعدہ یہ ہے کہ جب آدمی ترقی کرتا ہے تو اس کے حاسد پیدا ہو جاتے ہیں اور اس کو طرح طرح سے تکلیف و اذیت پہنچائی جاتی ہے۔ امام بخاریؒ کو بھی اس صورتحال کا سامنا رہا، چنانچہ ان کو اپنے وطن سے بھی نکلنا پڑا۔
پہلی جلا وطنی
صاحب جواہرِ مضیہ نے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ بغداد سے واپس آئے تو فتویٰ دینا شروع کیا، بخارا کے مشہور امام اور عالم ابو حفص کبیر جو امام محمدؒ کے شاگرد تھے، انھوں نے ان کو منع کیا کہ فتویٰ نہ دیا کرو، لیکن وہ نہ مانے، چنانچہ ان سے کسی نے رضاعت کا مسئلہ پوچھا کہ آیا اگر دو بچے ایک بکری یا گائے کا دودھ پی لیں تو حرمتِ رضاعت ثابت ہو جائے گی یا نہیں؟ انہوں نے حرمت کا فتویٰ دے دیا، چنانچہ اس کے نتیجے میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور امام بخاری رحمۃاللہ کو اپنے وطن کو خیر آباد کہنا پڑا۔ یہ واقعہ اگرچہ بڑے بڑے علماء نے نقل کیا ہے۔
(چنانچہ یہ واقعہ امام سرخسی رحمۃاللہ نے مبسوط میں نقل کیا ہے
صاحب جواہرِ مضیہ نے "جواہر مضیہ" جلد 1، صفا 87، ترجمہ احمد بن حفص میں شمس الائمہ سے نقل کیا ہے،
اسی طرح یہ واقعہ عنایہ شرح ہدایہ، کفایہ شرح ہدایہ اور فتح القدیر میں بھی منقول ہے۔ دیکھیے جلد 3، صفحہ 319، 320
اسی طرح علامہ حسین بن محمد بن الحسن دیار بکری نے بھی اپنی تاریخ خمیس میں جلد 2، صفحہ 342 پر کشف الاسرار شرح المنار کے حوالہ سے یہ واقعہ ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھیے فوائد یہیہ: صفحہ 18،
تعلیقات دراسات اللبیب: صفحہ 304)
لیکن اس کے باوجود اس کی صداقت مشکوک ہے، یقیناً اس کی روایت میں وہم کا دخل ہے، ایک معمولی دین کی سمجھ رکھنے والا انسان بھی ایسی حماقت نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اتنا بڑا امام، فقیہ، محدث و مفسر جس نے 16 سال کی عمر میں وکیع بن جراح اور ابن المبارک کی کتابیں حفظ کر لی ہوں، وہ ایسا غلط فتویٰ کیسے دے سکتا ہے، اس لیے یہ معلول ہے۔ (چنانچہ علامہ عبدالحی لکھنویؒ فوائدِ بہیہ: صفحہ 18 میں لکھتے ہیں کہ "لکنی استبعد وقوعھا بالنسبة الیٰ جلالة قدر البخاری ودقة فھمه وسعة نظرہ وغور فکرہ مما لایخفی علی من انتفع بصحیحه، وعلی تقدیر صحتھا فالبشر یخطیٔ")
دوسری دفعہ اخراج
دوسری مرتبہ اس وقت نکالے گئے جب انہوں نے فتویٰ دیا تھا کہ ایمان مخلوق ہے، ابوبکر بن حامد، ابو حفظ الذاہد اور شیخ ابوبکر الاسماعیلی حنفیہ کے اکابر میں سے تھے، انہوں نے ایک محضر پر دستخط کیے کہ ایمان مخلوق نہیں اور جو اس کے مخلوق ہونے کا قائل ہو وہ کافر ہے، چونکہ امام بخاریؒ اس کے مخلوق ہونے کے قائل تھے، اس لیے ان کو بخارا سے نکالا گیا، صاحب "فصول عمادیہ" نے اسکا تذکرہ کیا ہے۔
(دیکھیے تعلیقات دراسات اللبیب: صفحہ 204، 305)
لیکن یہ مسئلہ مختلف فیہا ہے، احناف کے یہ اکابر غیر مخلوق ہونے کے قائل ہیں، لیکن دوسری جماعت مخلوق ہونے کی قائل ہے، امام بخاری اور محمد بن نصر مروزی رحمہما اللہ وغیرہ اسی طرف ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ نے دونوں پر نکیر کی ہے، وہ فرماتے ہیں جو ایمان کو مخلوق کہتا ہے وہ کافر ہے اسی لیے کہ اس میں کلام اللہ کی طرف تعریض ہے اور جو ایمان کو غیر مخلوق کہتا ہے وہ مبتدع ہے۔
(دیکھیے مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ: جلد 7 صفحہ 655، 661
فصل: واما الايمان هل هو مخلوق او غير مخلوق) حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ میں تفصیل ہے، اگر کوئی ایمان بول کر کلمہ شہادت مراد لیتا ہے اور اس کو مخلوق کہتا ہے تو غلط ہے کیونکہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" قرآن کا دستور ہے اور اگر کوئی آدمی ایمان سے اقرارِ لسانی, تصدیق بالقلب اور عمل بالارکان مراد لیتا ہے تو یہ بالکل صحیح ہے اس لیے کہ انسان اپنی ذات و صفات کے ساتھ مخلوق ہے۔ مسئلے کی تنقیح نہیں کی گئی، اجمال سے کام لیا گیا اس لیے اختلاف و تشدد کی نوبت آئی۔
تیسری مرتبہ جلا وطنی
امام بخاری رحمۃاللہ جب 250ھ میں نیشاپور تشریف لے گئے تو امام محمد بن یحییٰ زہلیؒ نے فرمایا کہ کل محمد بن اسماعیلؒ کے استقبال کے لیے چلنا ہے جو چلنا چاہے چلے۔ امام مسلمؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ کا ایسا استقبال ہوا کہ کسی والی یا حاکم و عالم کا ایسا کبھی استقبال نہیں ہوا تھا، دو تین منزل آگے بڑھ کر لوگوں نے امام سے ملاقات کی، آپ نیشاپور تشریف لائے اور اہلِ بخارا کے محلہ میں قیام ہوا، امام زہلیؒ نے اپنے شاگردوں کو ان کے پاس جانے اور احادیث کے سماع کی ہدایت کی اور ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ علمِ کلام کا کوئی مسئلہ دریافت نہ کرنا، کیونکہ اگر انہوں نے ہمارے خلاف کوئی بات کہہ دی تو نیشاپور اور خراسان کے ناصبی، رافضی، جہمی، مرجئیہ سب خوش ہوں گے اور انتشار بڑھے گا۔ لیکن قاعدہ ہے "الانسان حریص فیما مُنِعَ" چنانچہ ایک شخص نے برسرِ مجلس سوال کر لیا کہ آپ قرآن کریم کے الفاظ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ امام صاحبؒ جواب سے برابر اعراض کرتے رہے پھر اس کے اصرار پر فرمایا "القرآن کلام اللہ غیر مخلوق، وافعال العباد مخلوقة، والامتحان بدعة"
(ھدی الساری: صفحہ 490
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 454)
بعض لوگوں نے نقل کیا ہے کہ اول تو محمد بن یحییٰ ذہلیؒ نے لوگوں کو بخاریؒ سے سماع کی ترغیب دی تھی مگر جب ان کی طرف رجوع بڑھا تو ذہلی کو سخت ناگوار ہوا اور انہوں نے بخاریؒ پر تنقید کی تدابیر اختیار کیں۔
(ھدی الساری: صفحہ 490
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 30
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 453
وطبقات سبکی: جلد 2، صفحہ 11)
بہرحال امام بخاریؒ کے اس جواب پر شور مچ گیا، لوگوں میں اختلاف ہو گیا کہ انہوں نے "لفظی بالقران مخلوق" کہا ہے، جبکہ لوگ انکار کرنے لگے۔ میزبانوں نے مفسدین کو نکال باہر کیا۔ یہ بات شدہ شدہ امام ذہلیؒ تک پہنچی، انہوں نے اعلان کیا "القرآن كلام الله غير مخلوق من جميع جهاته وحيث تصرف فمن لزم هذا استغنىٌ عن اللفظ وعما سواہ من الكلام فی القران و من زعم ان القران مخلوق فقد كفر فخرج عن الايمان و بانت منه امراته، يستتاب فان تاب والا ضربت عنقه وجعل ماله فیئا بين المسلمين ولم يدفن فی مقابرهم ومن وقف فقال: لا اقول مخلوق ولا غير مخلوق فقد ضاھى الكفر ومن زعم ان لفظی بالقران مخلوق فهذا مبتدع لا يجالس ولا يكلم ومن ذهب بعد هذا الى محمد بن اسماعيل البخاری فاتھموه فانه لا يحضر مجلسه الا من كان على مثل مذھبہ"
(تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 31، 32
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 455، 456)
نیز یہ بھی اعلان فرمایا "الا من قال باللفظ فلا یحل لہ ان یحضر مجلسنا"
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 460
و ھدی الساری: صفحہ 491)
اس اعلان کے بعد امام مسلمؒ نے اسی وقت اپنی چادر اپنے سر پر ڈالی اور اٹھ کر چل دیے، ان کے پیچھے پیچھے امام احمد بن سلمہؒ بھی مجلس سے اٹھ گئے، امام مسلمؒ نے جتنی حدیثیں لی تھیں ساری واپس کر دیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 460
وھدی الساری: صفحہ 491)
ادھر احمد بن سلمہ رحمۃاللہ امام بخاری رحمۃاللہ کے پاس آئے اور کہا! کہ حضرت خراسان میں ایک شخص بہت مقبول ہے اور اس مسئلہ میں وہ اڑ گیا ہے اب کیا کیا جائے؟ امام بخاریؒ نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا " وَاُفَوِّضُ اَمۡرِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ
اللهم انك تعلم انی لم ارد المقام بنيسابور اشرأ ولا بطرا ولا طلباً للرئاسة وانما أبت علی نفسی فی الرجوع الی وطنی لغلبة المخالفین وقد قصدنی ھذا الرجل حسداً لما آتانی اللہ، لاغیر" پھر فرمایا کہ اے احمد! میں کل ہی یہاں سے نکل جاؤں گا تاکہ میری وجہ سے آپ لوگ ان کی باتوں سے خلاصی پا لیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 459
وھدی الساری: صفحہ 491)
ادھر یہ ہوا کہ جب امام مسلم اور امام احمد بن سلمہ رحمہما اللہ امام ذہلیؒ کی مجلس سے اٹھ گئے تو ذہلی نے کہہ دیا "لایساکننی ھذا الرجل فی البلد" امام بخاریؒ وہاں سے روانہ ہو کر بخارا تشریف لے گئے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 260
وھدی الساری: صفحہ 491)
اب یہاں دو باتوں کی تحقیق ضروری ہے۔
اول یہ کہ بخاریؒ نے "لفظی بالقران مخلوق" کہا بھی ہے یا نہیں؟ امام سے "لفظی بالقرآن" کہنا کہیں منقول نہیں ہے، تاریخ بغداد وغیرہ میں مذکور ہے کہ امام بخاریؒ نے اس قول کی نسبت اپنی طرف غلط قرار دی ہے، چنانچہ غنجار نے تاریخِ بخارا میں اپنی سند سے ابو عمرو احمد بن نصر خفاف سے نقل کیا ہے کہ ہم ابو اسحاق قیسی کی مجلس میں تھے، ہمارے ساتھ محمد بن نصر مروزی بھی موجود تھے کہ امام بخاری رحمۃاللہ کا ذکر چل نکلا تو محمد بن نصر نے کہا کہ میں نے امام بخاریؒ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے "من زعم انی قلت: لفظی بالقرآن مخلوق، فھو کذاب فانی لم اقله" خفاف نے کہا کہ لوگوں میں تو اس بات کی بڑی شہرت ہے، محمد بن نصر نے جواب دیا کہ بات وہی ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔
ابو عمرو خفاف کہتے ہیں کہ میں امام بخاریؒ کے پاس پہنچا ان سے پہلے کچھ حدیثوں کے بارے میں بحث کی یہاں تک کہ وہ کھل گئے، پھر میں نے ان سے عرض کیا کہ یہاں کچھ لوگ آپ سے ایسی ایسی بات نقل کرتے ہیں، امام بخاریؒ نے فرمایا: "یا أبا عمرو احفظ ما اقول لک: من زعم میں اہل نیسابور وقومس والرائی وھمدان وحلوان و بغداد والکوفة والبصرة ومکة والمدینة انی قلت: لفظی باقرآن مخلوق فھو کذاب و انی لم اقله ألا انی قلت: أفعال العباد مخلوقة"
(تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 32
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 13
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 457
و ھدی الساری: صفحہ 491)
دوسری بات ہے مسئلہ اور اس کی تحقیق...... سو اہلِ حق کا سلفاً و خلفاً اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، قدیم ہے اور غیر مخلوق ہے۔ (تحقیق کے لیے دیکھیے کشف الباری: صفحہ 149 مقدمۃ الکتاب)
اپنے وطن بخارا میں آزمائش
پھر جب امام بخاری رحمۃاللہ نیشاپور سے بخارا آئے تو اہلِ بخارا نے ان کی آمد پر زبردست استقبال کیا، امام بخاریؒ نے وہاں درس شروع کیا، لوگ جوق در جوق حدیثیں سننے کے لیے آنے لگے۔
ادھر خالد بن احمد ذہلی حاکمِ بخارا نے امام سے درخواست کی کہ آپ دربار شاہی میں تشریف لا کر مجھے بخاری شریف اور تاریخ کا درس دیں، امام صاحب نے کہلا بھیجا: أنا لا أذل العلم ولا أحمله إلى أبواب الناس اور فرمایا اگر تمہیں ضرورت ہو تو میری مسجد یا گھر میں حاضر ہو کر درس میں شرکت کرو، اگر تمہیں یہ بات پسند نہ ہو تو تم حاکم ہو مجھے درس سے روک دو تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے میں اپنا عذر پیش کرسکوں، کیونکہ میں علم کو چھپا نہیں سکتا، حضورﷺ نے فرمایا ہے: من سئل عن علم فكتمه ألحم بلجام من نار
(سنن أبي داود، كتاب العلم: رقم 3658
جامع ترمذی کتاب العلم: رقم 2649
وسنن ابن ماجه، مقدمه: رقم 261، 264، 265، 266،
ومسند أحمد: جلد 2، صفحہ 263، 305، 344، 353، 490)
بہرکیف امام صاحبؒ وہاں سے نکل کر بیکند پہنچے، وہاں بھی آپ کے بارے میں لوگوں میں اختلاف ہو گیا، ایک فریق آپ کے موافق تھا اور دوسرا فریق آپ کے مخالف، اس لیے وہاں بھی قیام مناسب نہیں سمجھا، اسی دوران اہلِ سمرقند نے آپ کو دعوت دی، آپ نے ان کی دعوت قبول فرمالی بیکند سے روانہ ہوئے راستہ میں "خرتنگ" میں رک گئے جہاں آپ کے کچھ رشتہ دار تھے۔
غالب بن جبریل جو آپ کے میزبان تھے ان کا بیان ہے کہ میں نے امام بخاریؒ کو رات کے وقت تہجد کے بعد دعا کرتے ہوئے سنا "اللهم إنه قد ضاقت على الأرض بما رحبت فاقبضنی إليك" اس کے بعد مہینہ بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ رمضان کے آخر میں اہلِ سمرقند کی متفقہ دعوت پر آپ سمرقند کے لیے روانہ ہونے لگے، امام نے سواری طلب کی، دو آدمیوں کے سہارے چند قدم چلے تھے کہ فرمایا: مجھے بٹھاؤ، ضعف بہت بڑھتا جا رہا تھا، آپ نے کچھ دعا کی اور وہیں "خرتنگ" میں شب عید الفطر 256ھ میں وصال فرمایا، عید کے دن ظہر کے بعد وہیں آپ کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 493
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 466، 467
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 34
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 14، 15
وتهذیب الکمال: جلد 24، صفحہ 466
وکشف الباری: صفحہ 153 مقدمہ)
ایک بشارت
عبد الواحد بن آدم طواویسی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ نبی کریمﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں، میں نے سلام کیا، آپﷺ نے سلام کا جواب دیا، میں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ! آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا ہم محمد بن اسمعیل بخاریؒ کا انتظار کر رہے ہیں۔ چند دنوں کے بعد امام بخاریؒ کی وفات کی اطلاع پہنچی تو یہ بعینہ وہی وقت تھا جس وقت نبی کریمﷺ کو میں نے دیکھا تھا۔
(تہذیب الکمال: جلد 24 صفحہ 467
وتاریخ بغداد: جلد 2 صفحہ 34
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 468،
وهدی الساری: صفحہ 493
وطبقات السبکی: جلد 2 صفحہ 14)
تصانیف
امام بخاری رحمۃاللہ نے اٹھارہ سال کی عمر میں "قضايا الصحابة والتابعین" لکھی۔
(ھدی الساری: صفحہ 478،
وسیر اعلام النبلاء: جلد 2، صفحہ 400
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 5
وتاریخ احدی بغداد: جلد، 2 صفحہ 7)
اس کے بعد مدینہ منورہ میں چاندنی راتوں میں "تاریخ کبیر" لکھی
(حوالہ جاتِ بالا)
امام اسحاق بن راھویہ رحمۃاللہ نے یہ کتاب امیر عبداللہ بن طاہر کے سامنے یہ کہتے ہوئے پیش کی کہ "میں آپ کو جادو نہ دکھاؤں؟" امیر نے دیکھ کر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ ان کی تصنیف ہو گی۔
(هدی الساری: صفحہ 483
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 7
وسیر اعلام النبلاء: جلد 2، صفحہ 403
وطبقات: جلد 2، صفحہ 7)
امام بخاریؒ کی تصانیف درج ذیل ہیں
1: صحيح بخاری شریف
2: قضايا الصحابة والتابعين
3: الأدب المفرد
4: جزء رفع اليدين
5: جزء القراءة خلف الإمام
6: تاريخ كبير
7: تاريخ أوسط
8: تاريخ صغير
9: خلق أفعال العباد
10: كتاب الضعفاء
11: بر الوالدين
ان کتابوں کے علاوہ چند تصنیفات اور ہیں جن کا ذکر مختلف محدثین نے کیا ہے:
12: جامع کبیر، اس کو محدث ابنِ طاہر نے ذکر کیا ہے۔
13: مسند کبیر
14: تفسیر کبیر، اس کو فربری نے ذکر کیا ہے۔
15: کتاب الاشربہ، اس کا ذکر امام دار قطنی رحمۃاللہ نے کیا ہے۔
16: کتاب الہبہ، اس کا ذکر وراقِ بخاری ابنِ ابی حاتمؒ نے کیا ہے۔
17: اسامی الصحابہ، اس کا ذکر محدث ابوالقاسم بن مندہ نے کیا ہے۔
18: کتاب الوحدان
19: کتاب المبسوط، ذكره الخليلی في الإرشاد
20: كتاب العلل، اس کا ذکر بھی ابنِ مندہؒ نے کیا ہے۔ 21: كتاب الكنىٰ، ذكره الحاكم أبو أحمد
22: كتاب الفوائد، ذكره الترمذی فی أثناء كتاب المناقب من جامعه
(دیکھئے ھدی الساری: صفحہ 491، 492)
بخاری شریف کا نام
ان تمام تصانیف میں سب سے مشہور صحیح بخاری ہے، امام نووی رحمۃاللہ نے اس کا نام "الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه" لکھا ہے۔
(دیکھیے تہذیب الاسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 73
ومقدمہ لامع الدراری: صفحہ 83)
جبکہ حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے اس کا نام "الجامع الصحيح المسند من حديث رسول صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه" تحریر کیا ہے۔
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 8، الفصل الثانی فی بيان موضوعه والكشف عن مغزاه فيه)
"جامع" اُمورِ ثمانیہ کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔
"مُسنَد" اس لیے کہ سندِ متصل کے ساتھ مرفوع روایات نقل کی ہیں اور جو آثار وغیرہ مذکورہ ہیں وہ ضمناً و تبعاً ہیں۔
"صحیح" اس لیے کہ اس میں صحت کا التزام کیا گیا ہے۔
"مختصر" اس لیے کہا کہ تمام صحیح احادیث کا اس میں احاطہ نہیں کیا، خود امام بخاریؒ کا قول ہے "ما أدخلت فی هذا الكتاب إلا ماصح، وتركت من الصحاح کی لا يطول الكتاب"۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 402
وتاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 9
وتهذیب الأسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 74
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 7
وهدی الساری: صفحہ 7)
"من أمور رسول الله صلى الله عليه و سلم" يا "من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم" سے آپﷺ کے اقوال مراد ہیں۔
"سنن" سے افعال و تقریرات کی طرف اشارہ ہے
اور "ایام" سے غزوات اور ان تمام واقعات کی جانب اشارہ ہے جو آپﷺ کے عہدِ مبارک میں پیش آئے۔
امامؒ نے بہت سی روایتیں ایسی ذکر کی ہیں جن میں آپﷺ کا قول یا فعل یا تقریر مذکور نہیں، ایسے مقامات میں لوگوں کو اشکال پیش آتا ہے اگر کتاب کا پورا نام پیشِ نظر ہو تو اشکال نہیں ہوتا۔
سببِ تالیفِ صحیح بخاری
اس کتاب کی تالیف کے دو سبب بیان کیے جاتے ہیں:
1: ابراہیم بن معقِل نسفیؒ کہتے ہیں کہ امام بخاریؒ کا بیان ہے کہ ہم اپنے استاذ اسحاق بن راھویہؒ کی مجلس میں تھے کہ ہمارے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا "لو جمعتم كتاباً مختصراً لسنن النبی صلى الله علیه وسلم" مقدمہ فتح کے الفاظ ہیں "لو جمعتم كتاباً مختصراً لصحيح سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم" اس قول کی وجہ سے میرے دل میں اس کتاب کی تالیف کا داعیہ پیدا ہوا۔
(دیکھیے تاریخِ بغداد: جلد 2، صفحہ 8
وتہذیب الکمال: جلد 24، صفحہ 442
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 401
وطبقات السبکی: جلد 2، صفحہ 7
وهدی الساری: صفحہ 7
وتہذیب الاسماء واللغات: جلد1، صفحہ 74)
تنبیہ:
ان تمام مراجع میں "لو جمعتم...." والا قول ایک مبہم شخص کی طرف منسوب ہے سوائے "هدی الساری" کے کہ اس میں امام اسحاق بن راھویہؒ کی طرف منسوب ہے، بظاہر یہ درست نہیں ہے کیونکہ تقریباً حضرات نے خطیبِ بغدادیؒ کی سند سے اس واقعہ کو نقل کیا ہے اور اس میں "فقال بعض أصحابنا" ہے، خود ھدی الساری نے بھی اسی سند سے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔ فانتبہ
2: محمد بن سلیمان بن فارسؒ کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاریؒ سے سنا ہے، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے خواب میں حضور اکرمﷺ کو دیکھا، میں آپ کے سامنے کھڑا تھا، میرے ہاتھ میں پنکھا تھا جس سے میں آپﷺ سے مکھیاں اڑا رہا تھا، بعض معبّرین سے میں نے تعبیر پوچھی تو انہوں نے کہا کہ "أنت تذب عنه الكذب" اس خواب کے واقعہ سے میرے دل میں احادیثِ صحیحہ جمع کرنے کا شوق ہوا۔
(تہذیب الاسماء واللغات: جلد1، صفحہ 74
وهدی الساری: صفحہ7)
ان دونوں اسباب میں منافات نہیں، دونوں سبب ہو سکتے ہیں، خواب بھی محرک بنا ہو گا اور امام اسحق بن راھویہؒ کی مجلس کے واقعہ سے بھی داعیہ پیدا ہوا ہو گا۔
تالیف کی ابتداء و انتہاء
صحیح بخاری کی تالیف کی ابتداء کب ہوئی؟ اور اختتام کب ہوا؟ کتبِ رجال و تاریخ میں اس کی کوئی تصریح نہیں۔ البتہ حضرت شیخ الحدیث صاحبؒ نے بعض واقعات سے اخذ کر کے فرمایا ہے کہ 217ھ میں اس کی ابتداء ہوئی اور 233ھ میں اختتام ہوا..... اس کی تفصیل یہ ہے کہ ابو جعفر محمود بن عمرو عقیلی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے جب اپنی کتاب تالیف کی تو امام احمد بن حنبلؒ، یحییٰ بن معین اور علی بن المدینی رحمہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کو پیش کیا، سب نے تحسین فرمائی اور صرف چار احادیث میں اختلاف کیا، عقیلی فرماتے ہیں کہ ان چار میں بھی بخاری کی رائے راجح ہے۔
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 7)
ان میں سے یحییٰ بن معینؒ کا انتقال 233ھ میں ہوا،
(تقریب التہذیب: صفحہ 597، ترجمہ 7651)۔
علی بن المدینیؒ کا انتقال 234ھ میں
(تقریب: صفحہ 403، ترجمہ 4760)
اور امام احمدؒ کا انتقال 241ھ میں ہوا،
(تقریب: صفحہ 84، ترجمہ 96)
ان تینوں ائمہ کے سامنے یہ کتاب جب ہی پیش ہو سکتی ہے جب 233ھ میں مکمل ہوگئی ہو اور یہ متعین ہے کہ کتاب سولہ سال میں مکمل ہوئی۔
(دیکھیے تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 14
وسیر اعلام النبلاء: جلد 2، صفحہ 405
وتهذیب الاسماء واللغات: جلد 2 صفحہ 74
وطبقات السبکی: جلد 2 صفحہ 7
وهدی الساری: صفحہ 489)
233ھ میں سے 16 نکال لیں تو 217 بچتے ہیں، (233-16 =217) لہٰذا کہا جائے گا کہ 217ھ میں اس کی تالیف کا آغاز ہوا، اس وقت امام کی عمر تیئیس سال تھی اور 233ھ میں اس کو مکمل کیا، اس وقت امام کی عمر انتالیس سال تھی۔
پھر امام بخاریؒ اس کے بعد تیس سال زندہ رہے تو حسبِ قاعدہ مصنفین اپنی کتاب میں گھٹاتے بڑھاتے رہے، اسی وجہ سے نسخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، چنانچہ حماد بن شاکر کے نسخہ میں، فربری کے نسخہ کے مقابلہ میں دو سو احادیث کم ہیں اور ابراہیم کے نسخہ میں تو تین سو احادیث کم ہیں۔
(دیکھیے مقدمہ لامع الدراری: 124، الفائدة السادسة)
صحیح بخاری رحمۃاللہ کا ایک امتیاز
ابنِ عدیؒ فرماتے ہیں کہ عبد القدوس بن ھمامؒ کا بیان ہے کہ میں نے بہت سے مشائخؒ سے سنا ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ نے صحیح بخاری کے تراجم ریاض الجنہ میں منبرِ مبارک اور روضہ مطہرہ کے درمیان لکھے ہیں اور وہ ہر ترجمہ کے لیے دو رکعت نماز ادا کیا کرتے تھے۔
(تهذیب الاسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 74
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12، صفحہ 404
وھدی الساری: صفحہ 489)
عمر بن محمد بن بجیر البجیریؒ کہتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے فرمایا میں نے یہ کتاب مسجدِ حرام میں لکھی ہے، ہر حدیث کو لکھنے سے پہلے استخارہ کیا، دو رکعت نماز پڑھی اور جب تک اس کی صحت کا یقین نہیں ہوا اس کو کتاب میں درج نہیں کیا۔
(هدی الساری: صفحہ 489)
ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں، ممکن ہے مسودہ مسجدِ حرام میں لکھا ہو اور تبيض رياض الجنہ میں کی ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تراجم تو ریاض الجنہ میں لکھے ہوں اور احادیث لکھنے کی ابتداء مسجدِ حرام سے کی ہو، کیونکہ پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ کتاب سولہ سال میں مکمل کی گئی ہے اور یہ مدت کسی ایک جگہ بیٹھ کر نہیں گزاری گئی۔
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 489
قال النووى رحمة الله تعالىٰ: "قال آخرون منهم أبو الفضل محمد بن طاهر المقدسی صنفه ببخاری وقیل: بمكة، ويقل بالبصرة، وكل هذا صحيح، ومعناه أنه كان يصنف فيه فی كل بلدة من هذه البلدان فإنه بقى فی تصنيفه ست عشرة سنة
تهذيب الأسماء واللغات: جلد 1 صفحہ 74)
تعدادِ روایات صحیح بخاری
حافظ ابن الصلاح رحمۃاللہ نے مقدمہ میں لکھا ہے "جملة مافی كتابه "الصحيح" سبعة آلاف ومائتان وخمسة وسبعون حديثاً بالأحاديث المكررة، وقد قيل: إنها بإسقاط المكررة أربعة آلاف حدیث" یعنی مکررات کو شمار کر کے صحیح بخاری کی احادیث کی تعداد سات ہزار دو سو پچھتر حدیثیں ہوتی ہیں اور مکررات کو حذف کرنے کے بعد چار ہزار احادیث بنتی ہیں۔ امام نووی رحمۃاللہ نے "تقریب" میں اور حافظ ابنِ کثیر رحمۃاللہ نے "اختصار علوم الحدیث" میں اس کی اتباع کی ہے۔
(دیکھیے تقریب النووی مع تدریب الراوی: جلد 1، صفحہ 102
واختصار علوم الحدیث مع شرح الباعث الحثيث: صفحہ 20)
امام نوویؒ نے اپنی "شرحِ بخاری"
(دیکھیے مقدمہ لامع الدراری: صفحہ 124، 125)
میں اور تہذیب الاسماء واللغات
(تهذيب الأسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 75)
میں بھی یہی تعداد ذکر کی ہے لیکن ان دونوں کتابوں میں "مسندۃ" کی قید لگا دی، جس سے وہ تمام روایات نکل جاتی ہیں جو تعلیقات و متابعت کی صورت میں ہیں۔ پھر انھوں نے اپنی شرح بخاری میں حافظ ابوالفضل محمد بن طاہر کی کتاب "جواب المتعنت" سے تفصیلاً تمام روایات کی تعداد ذکر کی ہے، حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے ان تمام تفصیلات کو مقدمہ میں نقل کیا ہے اور جابجا ان پر تنقید کی ہے اور آخر میں فرمایا کہ میری تحقیق کے مطابق بخاری شریف میں مکررات سمیت سات ہزار تین سو ستانوے حدیثیں ہیں۔
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 465، 469
الفصل العاشر فی عد أحاديث الجامع)
یہی تعداد قابلِ اعتماد ہے۔ تفصیل سمجھنے سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ صحیح بخاری میں کچھ روایات مرفوعہ موصولہ ہیں، کچھ معلقات ہیں اور کچھ متابعات، پھر معلقات کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ معلقات ہیں جن کی تخریج مؤلف نے خود اپنی صحیح میں کسی جگہ کر دی ہے اور دوسری قسم وہ معلقات ہیں جن کی تخریج انھوں نے نہیں کی، اب ان میں سے ہر ایک کی تفصیل سمجھ لیجئے ۔
رواياتِ مرفوعة موصولة مع مكررات: 7397
روايات معلقة مخرجة المتون فی الصحيح: 1341
متابعات: 344
(مقدمہ فتح الباری: صفحہ 469 میں متابعات کی تعداد تین سو اکتالیس مذکور ہے جو سہو کاتب ہے صحیح تعداد تین سو چوالیس ہے جو قسطلانیؒ نے حافظؒ سے نقل کیا ہے، اگر تین سو اکتالیس کا عدد ہو تو مجموعہ نو ہزار بیاسی نہیں بنتا جس کی حافظؒ نے تصریح کی ہے۔ فتنبہ)
میزان: 9082
رواياتِ مرفوعة موصولة بدون تكرار: 2602
روایاتِ معلقة غير مخرجة المتون فی الصحيح 159
میزان کل احادیث بدون تکرار: 2761
حافظؒ فرماتے ہیں کہ مذکورہ عدد آثارِ صحابہؓ و مقطوعاتِ تابعینؒ کے علاوہ ہے جن کی کل تعداد پوری کتاب میں ایک ہزار چھ سو آٹھ ہے۔
(دیکھیے فتح الباری: جلد 13 صفحہ 543 خاتمہ)
موضوعِ کتاب
حافظ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ صحیح بخاری کا اصل موضوع تو ہے احادیثِ صحیحہ کا جمع کرنا، چنانچہ یہ موضوع اس کے نام سے ظاہر ہے
" الجامع الصحيح المسند من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه" اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اس کتاب میں پیشِ نظر ہے کہ فقہی استنباطات و فوائد کا بھی اس میں ذکر کیا جائے، چنانچہ امام بخاریؒ نے متون حدیث سے جو فقہی استنباطات کئے ہیں ان کو متفرق ابواب میں ذکر کر دیا ہے۔
(هدى الساری: صفحہ 8
الفصل الثانی فی بيان موضوعه والكشف عن مغزاه فيه)
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ علماءِ حدیث نے سب سے پہلے جب اس علم کو مدون کیا تو چار فنون پر تقسیم کیا ہے۔
1: فن السنۃ یعنی فقہ، جیسے موطا امام مالکؒ اور جامع سفیان۔
2: فن تفسیر، جیسے کتاب ابن جریج۔
3: فن سیر، جیسے محمد بن اسحاقؒ کی کتاب۔
4: فن زہد و رقائق جیسے امام ابن المبارکؒ کی کتاب۔
امام بخاریؒ کا ارادہ یہ ہوا کہ ان چاروں فنون کو یکجا کر دیا جائے اور صرف ان احادیث کو ذکر کیا جائے جن پر امام بخاریؒ سے پہلے یا ان کے زمانے میں صحت کا حکم لگایا جا چکا ہے، نیز یہ کہ اس کتاب کو مرفوع اور مسند احادیث کے لیے مختص کر دیا جائے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی کتاب کا نام ”الجامع صحیح المسند" رکھا ہے، جہاں تک آثار وغیرہ کا تعلق ہے سو وہ تبعاً ذکر کیے گئے ہیں اصالۃً نہیں۔
پھر امام بخاریؒ کا یہ مقصود بھی ہے کہ احادیث سے خوب استنباط کیا جائے، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا ہے، ایک ایک حدیث سے وہ بہت سے مسائل مستنبط کرتے ہیں، یہ طریقہ ان سے پہلے کسی نے اختیار نہیں کیا۔
(دیکھیے ابتداءِ رسالہ شرح تراجم ابواب صیح البخاری مطبوعه من صحیح بخاری: صفحہ 13)
شروطِ صحیح بخاری
(قال الإمام الكوثری رحمه الله تعالىٰ فی تعليقه على "شروط الأئمة الخمسة للحازمی" صفحہ 73
المطبوع مع سنن ابن ماجه: "أول من ألف فی شروط الأئمة. فيما نعلم هو الحافظ أبو عبد الله محمد بن إسحاق بن منده المتوفى سنة خمس وتسعين وثلاثمائة، وقد ألف جزء أسماه "شروط الأئمة فی القراءة والسماع والمنازلة والإجازة" ثم الحافظ محمد بن طاهر المقدسی التوفی سنة سبع وخمس مائة ألف جزء أسماه "شروط الأئمة السنة" وهما موضع أخذ ورد، ثم أتى الحافظ البارع، فألف هذا الجزء وأجاد، وهو جم العلم، جليل الفوائد، على صغر حجمه،يفتح للمطلعين عليه أبواب السبر والفحص وينبهم على نكت قلما ينتبه إليها".
شروط کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مصنفینِ کتب تالیف کے وقت بعض امور کو پیشِ نظر رکھتے ہیں، انہی کے مطابق کتاب میں مضامین لاتے ہیں ان سے ہٹ کر کچھ ذکر نہیں کرتے، ائمہ ستہ نے بھی اپنی کتابوں میں کچھ شروط کا لحاظ کیا ہے لیکن ان حضرات سے یہ تصریح منقول نہیں کہ میں نے فلاں شرط پیشِ نظر رکھی ہے، بعد کے علماء نے ان کی کتابوں کا مطالعہ کر کے ان شروط کا استنباط کیا ہے۔
(چنانچہ حافظ ابو الفضل محمد بن طاہر مقدسیؒ لکھتے ہیں "اعلم أن البخاری و مسلماومن ذكرنا بعدهم لم ينقل عن واحد منهم أنه قال: شرطت أن أخرج فی كتابی ما يكون على الشرط الفلانی، وإنما يعرف ذلك من سبر كتبهم، فيعلم بذلك شرط كل رجل منهم"
دیکھیے ابتداء شروط الائمۃ الستۃ: صفحہ 70، مطبوعه قدیمی کتب خانہ کراچی مع سنن ابی ماجہ)
امام حاکمؒ نے فرمایا ہے کہ صحیح متفق علیہ کی پہلی قسم وہ ہے جس کو امام بخاری و مسلم نے اختیار کیا ہے اور وہی اول درجہ کی صحیح ہے، یعنی وہ حدیث جس کو ایسا صحابی بیان کرے جو رسول اللہﷺ سے روایت کرنے میں مشہور ہو، اس صحابی سے اس حدیث کے دو ثقہ راوی ہوں، پھر اس حدیث کو وہ تابعی بیان کرے جو صحابہؓ سے روایت کرنے میں مشہور ہو اور اس کے بھی دو ثقہ راوی ہوں، پھر تبع تابعینؒ میں سے حافظ متقن مشہور اسے روایت کرے اور چوتھے طبقہ میں اس حدیث کے دو سے زیادہ راوی ہوں، پھر بخاری یا مسلم کا شیخ حافظ و متقن ہو اور اپنی روایت میں عادل ہونے کی شہرت رکھتا ہو۔
(دیکھیے معرفة علوم الحدیث للحاکم: صفحہ 62
ذکر النوع التاسع عشر من علوم الحديث وهو معرفة الصحیح والسقيم والمدخل فی أصول الحديث: صفحہ 9)
اس لحاظ سے حاکم کے نزدیک حدیث صحیح کے لیے تین باتوں کا پایا جانا ضروری ہے، جو بقول ان کے شیخین کی شرط میں سے ہے۔
1: صحابیؓ اور تابعیؒ سے اس حدیث کے دو ثقہ راوی ہوں اور طبقہ رابعہ میں اس کے دو سے زائد راوی ہوں، گویا کہ ہر طبقہ میں دو راوی ہونے ضروری ہیں۔
2: امام بخاری و مسلم کے شیخ سے لے کر صحابیؓ تک ہر ایک راوی ثقہ اور روایتِ حدیث میں مشہور ہو۔
3: شیوخِ شیخین اور اتباعِ تابعین میں سے جو بھی اس حدیث کو روایت کرے وہ ثقہ اور مشہور ہونے کے ساتھ ساتھ حافظ اور متقن بھی ہو۔
یہاں ہم ان شروط کو ذکر کرتے ہیں جو امام بخاریؒ نے خاص طور پر اپنی صحیح میں ملحوظ رکھی ہیں:
1: سند متصل ہو، راوی مسلمان، صادق، غیر مدلس اور غیر مختلط ہو، عدالت کی صفات سے متصف ہو، ضابط ہو، سلیم الذہن اور قلیل الوھم ہو اور عقیدہ اس کا درست ہو۔
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 9،
وشروط الائمة الخمسة للحازمی: صفحہ 78، 79)
2: راوی کی مروی عنہ سے کم از کم ایک دفعہ ملاقات ثابت ہو۔
(مقدمہ فتح الملہم: صفحہ 271
نیز دیکھیے انکت علی کتاب ابن اصلاح: جلد 1، صفحہ 289
النوع الاول: الصحیح)
3: رواۃ ایسے ہوں جو اہلِ حفظ و اتقان میں سے ہوں اور اپنے اساتذہ کی طویل صحبت پائی ہو، کبھی ان رواۃ سے بھی حدیث لے لیتے ہیں جو طویل الملازمہ نہیں ہوتے، لیکن یہ عمومی شرط ہے۔
(دیکھیے شروط الأئمة الخمسة للحازمی: صفحہ 79، 80
وهدى الساری: صفحہ 9
مقدمہ لامع الدراری: صفحہ 89)
4: امام بخاریؒ اپنی صحیح میں کسی مدلس کی روایت اس وقت تک ذکر نہیں کرتے جب تک وہ تحدیث کی صراحت نہیں کرتا خواہ اس حدیث میں یا کسی اور سند میں۔
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 449)
5: امام بخاریؒ اگر کسی ایسے شخص کی روایت تخریج کرتے ہیں جس پر کلام ہو تو اس کی وہ روایت نہیں لیتے جس پر نکیر کی گئی ہو۔
(فتح الباری: جلد 1، صفحہ 189
6: اگر راوی میں کسی قسم کا قصور ہو، اور پھر وہ روایت دوسرے طریق سے بھی مروی ہو جس سے قصور کی تلافی ہو جاتی ہو تو ایسی حدیث بھی امام بخاریؒ کی شرط کے تحت داخل ہو جاتی ہے۔
(فتح الباری: جلد 9 صفحہ 635،
وکشف الباری: صفحہ 161، 166)
یه چند شروط ہیں، کچھ مزید شروط بھی ہیں جو فتح الباری اور ھدی الساری وغیرہ کے تتبع سے نکل سکتی ہیں۔
خصائصِ صحیح بخاری
امام بخاریؒ کی کتاب میں سب سے اہم خصوصیت تراجم ہیں، ایسے تراجم نہ ان سے پہلے کسی نے قائم کیے اور نہ ان کے بعد کسی نے قائم کیے۔ ان کے بعض تراجم آج تک معرکۃ الآراء بنے ہوئے ہیں اور ان کی صحیح مراد آج تک متعین نہیں کی جاسکی، ہر شخص اپنی معلومات اور قرائن کی مدد سے تعیین مراد کی کوشش کرتا ہے۔ تراجم پر ان شاء اللہ مستقل کلام آگے آئے گا۔
دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اثباتِ احکام کے لیے تراجم میں امام بخاریؒ اکثر آیاتِ قرآنیہ کو ذکر کرتے ہیں۔
(مقدمہ لامع: صفحہ 102)
تیسری خصوصیت یہ ہے کہ صحابہؓ و تابعینؒ کے آثار سے مسائل مختلف فیہا کی وضاحت کرتے ہیں اور جب مختلف آثار ذکر کرتے ہیں تو جو اثر ان کے نزدیک راجح ہوتا ہے اس کو پہلے بیان کرتے ہیں۔
چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے پوری "الجامع الصحیح" میں کوئی ایسی روایت ذکر نہیں کی جس کو انھوں نے اپنے استاذ سے علی سبیل المکاتبہ لیا ہو، البتہ کتاب الایمان والنذور میں ایک روایت ایسی لائے ہیں جس میں "کتب إلى محمد بن بشار" فرمایا ہے
(دیکھیے صحیح بخاری: جلد 2 صفحہ 987
کتاب الایمان والنذور
باب إذا حث ناسيا في الأيمان، رقم 6673)
سند کے درمیان مکاتبت کا آ جانا دوسری بات ہے اور وہ امام بخاریؒ کا فعل نہیں ہے بلکہ دوسرے راویوں کا عمل ہے۔
(دیکھیے تدریب الراوی: جلد 2، صفحہ 56
النوع الرابع والعشرون: كيفية سماع الحديث وتحمله، القسم الخامس: الكتابة)
پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ امام بخاریؒ بدء الحکم کا ذکر بھی کیا کرتے ہیں جیسے بدءالوحی بدءالحیض، بدءالاذان اور بدءالخلق کا ذکر فرما کر حکم کی ابتداء کی طرف اشارہ کیا ہے۔
(مقدمہ لامع: صفحہ 108)
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ بعض اوقات بغیر تصریح کے اشارۃً بھی حکم کی ابتداء کو بیان کرتے ہیں۔
(حوالہ بالا)
چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ وہ براعت اختتام کی طرف اشارہ کرتے ہیں، حافظ ابنِ حجرؒ کی رائے یہ ہے کہ ہر کتاب کے آخر میں جب امام بخاریؒ خاتمہ پر دلالت کرنے والا لفظ لاتے ہیں تو اس کتاب کے اختتام کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
(فتح الباری: جلد 13، صفحہ 543
شرح الحدیث الاخیر)
حضرت شیخ الحدیثؒ کی رائے یہ ہے کہ امام بخاریؒ انسانی زندگی کے ختم ہونے کو یاد دلاتے ہیں۔
(مقدمہ لامع: صفحہ 113)
ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ امام بخاریؒ فترت کے بعد تالیف بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ سے شروع کرتے ہیں۔
(مقدمہ لامع: صفحہ 96
ولامع الدراری: جلد 2 صفحہ 360)
لیکن یہ نقطہ نظر ضعیف ہے، کیونکہ بعض اوقات کوئی خاص کتاب شروع کرتے وقت اس کتاب کے مستقل ہونے کا لحاظ کرتے ہوئے بھی تسمیہ کو لاتے ہیں۔
آٹھویں خصوصیت صحیح بخاری کی ثلاثیات ہیں، امام بخاریؒ نے بائیس ثلاثیات اپنی کتاب میں درج کی ہیں۔
ثلاثیات
یہ وہ کتابیں ہیں جن میں ایسی روایات جمع کی جاتی ہیں کہ ان میں مصنف سے لے کر رسول اللہﷺ تک صرف تین واسطے ہوتے ہیں۔ امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں بائیس ثلاثی روایات ذکر کی ہیں۔ ان میں گیارہ روایات مکی بن ابراہیمؒ سے منقول ہیں، جو امام اعظم ابوحنیفہؒ کے خاص شاگرد ہیں، چھ روایات ابو عاصم النبیل ضحاک بن مخلدؒ سے مروی ہیں۔ یہ بھی امام اعظمؒ کے شاگرد ہیں، تین روایتیں محمد بن عبداللہ انصاریؒ سے منقول ہیں۔ یہ امام ابو یوسفؒ اور امام زفرؒ کے شاگرد ہیں۔ اس طرح بائیس میں سے بیس ثلاثی روایات وہ ہیں جو حنفی مشائخ سے لی گئی ہیں۔ باقی دو روایتوں میں سے ایک روایت خلاد بن یحییٰ کوفیؒ کی ہے اور ایک عصام بن خالد حمصی کی ہے۔ ان کے متعلق یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ حنفی ہیں یا نہیں۔ یہ بائیس روایات سند کے لحاظ سے بائیس ہیں۔
(مقدمہ لامع الدراری: جلد 1، صفحہ 63، 64، 102، 187
نیز دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد 1، صفحہ 365، 366
سیر اعلام النبلاء: جلد 9، صفحہ 481
الجواهر المضيۃ: جلد 1، صفحہ 263
هدى الساری: صفحہ 479
تہذیب الکمال: جلد 25، صفحہ 539
تاریخ بغداد: جلد 5 صفحہ 408، 412)
لیکن بلحاظ متن سترہ ہیں۔
امام بخاریؒ کی ثلاثیات پر بڑا فخر کیا جاتا ہے اور واقعۃً بات بھی فخر کی ہے، کیونکہ ثلاثیات کی سند عالی ہوتی ہے اور سند عالی باعثِ افتخار ہے۔ یحییٰ بن معینؒ سے ان کی وفات کے وقت کسی نے سوال کیا تھا. مانشتهی؟ تو فرمایا: بيت خال وإسناد عال
(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ 130)
امام احمد بن حنبلؒ کا ارشاد ہے کہ متقدمین کا طریقہ سندِ عالی کی جستجو اور تلاش کرنا تھا۔
(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ 130)
لیکن امام ابو حنیفہؒ جن کی زیادہ تر روایات ثلاثی ہیں اور بکثرت ثنائی ہیں جیسا کہ مسانیدِ امام اعظم اور کتاب الآثار سے ظاہر ہے اور امام اعظمؒ رؤیۃً تابعی بھی ہیں اس لیے کہ حضرت انس بن مالکؓ کی انھوں نے زیارت کی ہے بلکہ روایۃً بھی ان کو تابعیؒ کہا گیا ہے، اگرچہ اس میں اختلاف ہے۔
(مقدمہ لامع الدراری: جلد 1، صفحہ 103
رؤیہ تابعیت کے ثبوت کے لیے دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد 6، صفحہ 391
تہذیب التہذیب: جلد 10، صفحہ 449
تہذیب الکمال: جلد 29، صفحہ 418
تذكرة الحفاظ: جلد 1، صفحہ 168
تاریخ بغداد: جلد 13، صفحہ 323)
اس کے باوجود امام بخاریؒ کے مقابلے میں امام ابوحنیفہؒ کی ثنائی اور ثلاثی روایت کو صحیح اہمیت نہیں دی جاتی جو شکایت کی بات ہے۔
فصلِ اول
تراجمِ بخاری
صحیح بخاری کی خصوصیات کے ضمن میں ابواب و تراجم کی بحث بڑی اہمیت کی حامل ہے، بخاری کے تراجم تمام کتبِ حدیث کے تراجم کے مقابلہ میں بہت مشکل ہیں، اس لیے
" فقه البخاری فی تراجمه" کا مقولہ اس سلسلے میں مشہور ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امام بخاریؒ کی دقتِ نظر اور شانِ تفقہ کا اندازہ ان کے تراجم سے کیا جا سکتا ہے، دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ نے اپنا فقہی نقطہ نظر تراجم میں پیش کیا ہے۔
امام بخاریؒ کا ترجمہ منعقد کرنے میں اپنا مخصوص انداز ہے اور وہ مختلف طریقوں سے ترجمہ قائم کرتے ہیں۔
1: بعض اوقات حدیثِ رسول اللہﷺ کو ترجمہ بناتے ہیں اور اس کی حدیثِ نبوی ہونے کی صراحت بھی کرتے ہیں جیسے کتاب الایمان کا پہلا ترجمہ ہے، باب قول النبی صلى الله عليه وسلم: بُنِى الإسلام علىٰ خمس۔ اسی طرح کتاب الایمان میں ایک اور ترجمہ ہے، باب قول النبی صلى الله عليه وسلم: الدين النصيحة۔ اسی طرح کتاب العلم میں ترجمہ ہے، باب قول النبی صلى الله عليه وسلم: رب مبلغ أوعى من سامع۔
2: کبھی امام بخاریؒ حدیثِ نبوی کو ترجمہ بناتے ہیں لیکن اس کے حدیث ہونے کا ذکر نہیں کرتے جیسے باب من يرد الله خيراً يفقهه فی الدين۔ ترجمہ حدیث کا ہے لیکن اس کے حدیث ہونے کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا۔
3: کبھی کبھی امام بخاریؒ حدیثِ رسولﷺ کو ترجمہ بناتے ہیں لیکن اس میں تھوڑا سا تصرف اور تبدیلی کر دیتے ہیں اور اس کا مقصد حدیث کی تشریح ہوتا ہے، جیسے باب ما كان النبی صلى الله عليه وسلم يتخوّلهم بالموعظة والعلم كی لاينفروا۔ حدیث میں "كراهة السامة" آیا ہے، امام بخاریؒ نے ترجمہ میں "سامة" کی تفسیر "نفرۃ" سے کر دی ہے۔
4: کبھی امام بخاریؒ ایسی حدیث کو ترجمہ بناتے ہیں جو ان کی شرط کے مطابق نہیں ہوتی، پھر اپنی روایات سے اس کو مؤید فرماتے ہیں جیسے ابواب الوضوء میں "باب ماجاء لا تقبل الصلاة بغير طهور" اور ابواب الزكوٰة میں "باب ماجاء تقبل الصدقة من غلول" ہیں یہ ایک ہی روایت کے دو جزء ہیں، مسلم اور ترمذی نے اس کی تخریج کی ہے، امام بخاریؒ نے ایک جزء پر کتاب الوضوء میں اور دوسرے جزء پر کتاب الزکوٰۃ میں ترجمہ قائم کیا ہے۔
اسی طرح کتاب الصلوٰۃ میں "باب إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة" کا ترجمہ قائم کیا ہے اور یہ مسلم کی روایت پر قائم کیا گیا ہے۔
ایسا ہی ایک ترجمہ ہے " باب الاثنان فما فوقهما جماعة" يه ترجمہ ابنِ ماجه کی روایت پر قائم کیا گیا ہے۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے مقدمہ لامع: صفحہ 303، 304
کشف الباری: جلد 1 صفحہ 169، مقدمۃ الكتاب)
باب بلا ترجمہ
امام بخاری رحمۃاللہ کئی جگہ باب بلا ترجمہ لاتے ہیں صرف "باب" ہوتا ہے ترجمہ نہیں ہوتا اور اس کے ذیل میں مسند روایت پیش کرتے ہیں، اس سلسلہ میں حضرات شراح نے مختلف توجیہات کی ہیں۔
1: امام بخاریؒ کو سہو ہو گیا اس وجہ سے امام بخاری رحمۃاللہ ترجمہ قائم نہ کر سکے۔
2: مصنف کو سہو نہیں ہوا بلکہ کاتب کو سہو ہو گیا ہے یعنی مصنف کا قائم کیا ہوا ترجمہ کاتب سے سہواً چھوٹ گیا ہے۔
3: بعض حضرات کہتے ہیں کہ راوی کا تصرف ہے۔
(دیکھیے فتح الباری: جلد 2، صفحہ 561
باب بلا ترجمہ بعد باب کنیۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
حافظ ابنِ حجرؒ نے بعض مقامات میں یہ کہا ہے کہ مصنفؒ نے قصداً بیاض چھوڑی تھی، ترجمہ قائم کرنے کا ارادہ تھا لیکن بعد میں موقعہ نہیں ملا۔
لیکن یہ جوابات درست نہیں کیونکہ تکمیل کتاب کے بعد تقریباً تیس سال امامؒ نے اس کتاب کا درس دیا ہے اور تقریباً نوے ہزار شاگردوں نے امامؒ سے اس کو پڑھا ہے پھر امام بخاریؒ یا کاتب کے سہو کے برقرار رہنے کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے یا موقعہ نہ ملنے کا عذر کیسے قابلِ سماع ہو سکتا ہے، پھر دو چار جگہ اگر باب بلا ترجمہ ہوتا تب بھی سہوِ مؤلف یا سہوِ کاتب کی گنجائش ہو سکتی تھی۔ یہاں تو بہت سے ابواب صحیح بخاری میں بلا ترجمہ ہیں۔
5: علامہ کرمانیؒ
(شرح کرمانی: جلد 1، صفحہ 103)
حافظ ابنِ حجرؒ
(فتح الباری: جلد 1، صفحہ 64)
علامہ عینی
(عمدة القاری: جلد 1، صفحہ 152)
قسطلانی
(ارشاد الساری: جلد 1، صفحہ 99)
ابنِ رشید
(مقدمہ لامع: صفحہ 322، الاصل العشرون)
شیخ نور الحق
(تیسیر القاری: جلد 1، صفحہ 20، 21)
اور شاہ ولی اللہ
(رسالہ شرح تراجم ابواب البخاری: صفحہ 22)
رحمہم اللہ نے عموماً "باب بلا ترجمہ" کو کالفصل من الباب السابق قرار دیا ہے، یعنی امام بخاریؒ باب بلا ترجمہ میں ایسی روایت لاتے ہیں جو من وجہ باب سابق سے بھی متعلق ہوتی ہے اور من وجہ مستقل بھی ہوتی ہے، اس لیے یہ باب، سابق باب کے لیے فصل کی طرح ہوتا ہے۔
6: شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃاللہ کی رائے یہ ہے کہ باب بلا ترجمہ بعض مقامات میں تشحیذِ اذھان کے لیے ہوتا ہے، یعنی امام بخاریؒ کا منشا یہ ہوتا ہے کہ باب کی روایت کو پیشِ نظر رکھ کر قاری خود ایسا ترجمہ قائم کرے جو بخاری کی شان کے مطابق بھی ہو اور تکرار بھی لازم نہ آئے اس طرح ذہن تیز ہوتا ہے اور استخراجِ مسائل اور استنباط کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
(مقدمہ لامع: صفحہ 327، 328 الأصل الخامس والعشرون)
7: کبھی امام بخاریؒ بابِ سابق سے پیدا شدہ اشکال کو رفع کرنے کے لیے باب بلا ترجمہ لاتے ہیں۔
(دیکھیے تقریر بخاری شریف: جلد 1، صفحہ 126)
8: یہ باب بلا ترجمہ تکثیرِ فوائد کے لیے ہوتا ہے، یعنی باب کی روایت بہت سے فوائد کو شامل ہوتی ہے، اگر ترجمہ قائم کیا جائے تو قاری کا ذہن اسی ترجمہ پر مرکوز ہو جاتا اور دیگر فوائد کی طرف توجہ نہ ہوتی، اس لیے امام بخاریؒ بغیر ترجمہ کے باب کو ذکر کرتے ہیں تا کہ تمام فوائد کی طرف ذہن متوجہ ہو سکے۔
(دیکھیے مقدمہ لامع: صفحہ 329، الاصل السادس والعشرون )
9: باب بلا ترجمہ رجوع الی الاصل کے لیے ہوتا ہے، یعنی ایک سلسلہ ابواب چلا آ رہا ہوتا ہے، درمیان میں کچھ ضمنی تراجم آجاتے ہیں تو اصل سلسلہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے باب بلا ترجمہ لایا جاتا ہے۔
(مقدمہ لامع: صفحہ 367، الأصل السابع والخمسون)
10: علامہ عینیؒ نے بعض مقامات میں یہ بھی فرمایا ہے کہ امام بخاریؒ تکثیرِ طرق کی طرف اشارہ کرنے کے لیے باب بلا ترجمہ لاتے ہیں۔
(دیکھیے مقدمہ لامع: صفحہ 319، 319، الاصل السابع عشر)
11: شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ نے فرمایا ہے کہ امام بخاریؒ کا 'باب بلا ترجمہ" تحویل کے طور پر ہوتا ہے جیسے ایک سند کو ذکر کرتے ہوئے "ح" لاتے ہیں اور اس کے بعد دوسری سند کو ذکر کرتے ہیں، یہ تحویل "من سند الی سند" ہوتی ہے اور آگے جا کر دونوں سندیں مل جاتی ہیں۔
(دیکھیے رسالہ شرح تراجم ابواب البخاری: صفحہ 13)
لیکن اس پر اشکال یہ ہے کہ پوری صحیح بخاری میں کتاب بدءالخلق میں اس کی ایک مثال موجود ہے اور ایک مثال کے پائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ امام بخاریؒ نے اس کو اپنی کتاب میں بطورِ قاعدہ اختیار کیا ہو۔
(دیکھیے مقدمہ لامع: صفحہ 309، الاصل السابع)
یہ ساری گفتگو ابواب و تراجم کے سلسلے میں فصلِ اول کی حیثیت رکھتی ہے۔
فصلِ ثانی: اثباتِ تراجم
اس بحث کی فصلِ ثانی یہ ہے کہ امام بخاری رحمةاللہ ترجمہ کو ثابت کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں اور اپنے دعوے کو کس انداز میں ثابت کرتے ہیں یعنی ان کے ہاں استدلال کا طریقہ کیا ہے؟
عام طور پر امام بخاری رحمةاللہ کے تراجم دعاوی ہوتے ہیں اور احادیثِ سندہ ان دعاوی کی دلیل ہوتی ہیں، لیکن بخاری کے کچھ تراجم "تراجمِ شارحہ" بھی ہوتے ہیں، وہاں دعویٰ اور اثبات دعویٰ بالدلیل کا سلسلہ نہیں ہوتا۔
ایک حدیث عام ہوتی ہے اور اس پر خاص ترجمہ قائم کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ اس عام سے خاص مراد ہے، یا روایت مطلق ہوتی ہے اور ترجمہ مقید لاتے ہیں اور یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ روایتِ مطلقہ میں ترجمہ والی قید ملحوظ ہے، کبھی اس کے برعکس ہوتا ہے کہ روایت خاص ہوتی ہے اور اس پر ترجمہ عام قائم کرتے ہیں، یہ بتلانے کے لیے کہ روایت میں جس خصوصیت کا ذکر ہے وہ ملحوظ نہیں، کبھی روایت مقید ہوتی ہے اور ترجمہ مطلق لاتے ہیں وہاں پر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ روایت میں جس قید کا ذکر کیا گیا ہے وہ ملحوظ نہیں ہے بلکہ وہ اتفاقی قید ہے، ایسے تراجم "تراجمِ شارحہ" کہلاتے ہیں۔ یہاں اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ترجمہ کو روایت سے ثابت کیا جائے، لیکن عام طور پر تراجم بمنزلۃ الدعویٰ ہوتے ہیں اور باب کی روایت دلیل ہوتی ہے، یہی طریقہ صحیح بخاری میں سب سے زیادہ ہے۔
تراجم کی قسمیں
پھر تراجم کی دو قسمیں ہیں۔
1: تراجمِ ظاہرہ، 2: تراجمِ خفیہ
تراجمِ ظاہرہ میں ترجمۃ الباب اور حدیثِ باب میں مطابقت آسان ہوتی ہے وہاں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔
البتہ تراجمِ خفیہ میں تطبیق مشکل ہوتی ہے اور امام بخاریؒ نے ترجمہ کو ثابت کرنے کے لیے کسی ایک طریقہ کی پابندی نہیں کی، کبھی وہ ایک طریقہ اختیار کرتے ہیں اور کبھی کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔
1: کبھی وہ ایسا کرتے ہیں کہ ترجمہ قائم کیا اور اس کے ذیل میں روایت نقل کی، لیکن ترجمہ کا ثبوت کسی دوسری روایت سے ہوتا ہے جو بخاری میں دوسرے مقام پر مذکور ہے۔
مثلاً کتاب العلم میں ترجمۃ الباب ہے "باب السمر فی العلم" اور جو روایت نقل کی ہے اس میں "سمر فی العلم" کا ذکر نہیں ہے، البتہ کتاب التفسیر میں یہی روایت ذکر فرمائی اور اس میں "فتحدث رسول الله صلى الله عليه وسلم مع أهله ساعة" کے الفاظ ذکر کیے۔
(دیکھیے صحیح بخاری، کتاب التفسير، سورة آل عمران، باب: اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡض رقم، 4569)
گویا ترجمہ کتاب العلم میں ہے اور اس کا ثبوت کتاب التفسیر سے ہو رہا ہے۔
(دیکھیے فتح الباری: جلد 1، صفحہ 213
کتاب العلم، باب السمر فی العلم)
اسی طرح کتاب العلم کا ایک ترجمہ "باب الفتيا وهو واقف على الدابة وغیرھا" ہے، یہاں جو روایت ذکر کی ہے اس میں "وقوف على الدابة" کا ذکر نہیں ہے، لیکن کتاب الحج میں یہی روایت مذکور ہے اور وہاں "وقف رسول اللہ صلی الله عليه وسلم علی ناقتہ"
(دیکھیے صحیح بخاری، کتاب الحج، باب الفتيا على الدابۃ عند الجمرة، رقم: 1738)۔
کے الفاظ موجود ہیں، گویا ترجمہ کتاب الحج کی روایت سے ثابت ہو رہا ہے۔
(دیکھیے فتح الباری: جلد 1، صفحہ 181
کتاب العلم، باب الفتيا وهو واقف على الدابۃ وغيرها)
اسی طرح پیچھے آ چکا ہے کہ امام بخاریؒ نے ابواب الصلوٰۃ میں "باب التقاضی والملازمة فی المسجد" كا ترجمہ قائم کیا اور اس کے ذیل میں جو روایت نقل کی اس میں "تقاضی" کا تو ذکر ہے لیکن "ملازمہ" کا ذکر نہیں ہے، لیکن جب کتاب الخصومات میں یہ روایت ذکر کی تو وہاں "فلقیہ فلزمہ" کے الفاظ ہیں، اس طرح یہ ترجمہ بخاری میں مذکور روایت سے ثابت ہوا جس کو یہاں کے بجائے دوسری جگہ ذکر کیا ہے۔
(دیکھیے اصل17، شق ب)
2: اسی طرح امام بخاریؒ کبھی ترجمہ قائم کر کے اس کو ثابت کرنے کے لیے کسی ایسی روایت پر اعتماد کرتے ہیں جو بخاری میں مذکور نہیں، چنانچہ اس کی مثال پیچھے گزر چکی ہے کہ امام بخاریؒ نے ترجمہ قائم کیا ہے "باب دلک المرأة نفسها اذا تطهرت من المحيض" اور باب کے تحت جو روایت نقل کی ہے اس میں "دلک" کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی صحیح بخاری میں ایسی کوئی روایت موجود ہے جس میں "دلک" مذکور ہو، البتہ صحیح مسلم میں ایسی روایت موجود ہے جس میں "دلک" کا ذکر ہے، لہٰذا کہا جائے گا کہ یہاں اثبات مدعی کے لیے ایسی روایت پر اعتماد کیا گیا ہے جو صحیح بخاری میں موجود نہیں۔
(دیکھیے اصل 17، شق ج)۔
3: کبھی امام بخاریؒ روایت کے اجمال سے ترجمہ کو ثابت کرتے ہیں، چنانچہ کتاب الوضوء میں ایک ترجمہ ہے "باب وضوء الرجل مع امرأته وفضل وضوء المرأة" اور اس کے ذیل میں امام بخاریؒ نے اثر نقل کیا ہے "وتوضأ عمر بالحميم ومن بيت نصرانية" اس سے امام بخاریؒ یوں استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے گرم پانی سے وضو کیا اور پانی عموماً عورتیں گرم کیا کرتی ہیں اور گرم کرتے وقت وہ کئی مرتبہ پانی میں ہاتھ ڈال کر دیکھتی ہیں کہ وہ کتنا گرم ہو گیا۔ یہاں حضرت عمرؓ نے گرم پانی وضو میں استعمال کیا اور کوئی تفصیل معلوم نہیں کہ عورت کا گرم کیا ہوا پانی ہے یا مرد کا اور اگر عورت کا گرم کیا ہوا ہے تو اس نے اس میں ہاتھ ڈالا تھا یا نہیں، بس گرم پانی وضو میں استعمال کیا اور حقیقت کو مجمل رہنے دیا، اس سے امام بخاریؒ نے ثابت کیا کہ اگر مرد اور عورت ایک ساتھ وضو کریں اور عورت کا ہاتھ مرد کے وضو کے پانی میں داخل ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اسی طرح "ومن بيت نصرانية" کا جملہ ہے اس میں عقلاً دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ گرم پانی اسی نصرانیہ کے گھر کا ہو اور عبارت یوں ہو "وتوضأ عمر بالحميم من بيت نصرانیة" جیسا کہ ایک نسخہ میں اسی طرح بغیر واو کے آیا ہے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ وضو بالحمیم کا واقعہ اور ہو اور "وضوء من بيت نصرانية" کا واقعہ دوسرا ہو، جیسا کہ حقیقت واقعہ یہی ہے۔
(کیونکہ "توضأ عمر بالحمیم" والا اثر مستقل ہے اور اس کو سعید بن منصور، عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ اور دار قطنی وغیرہ نے موصولاً ذکر کیا ہے اور "و من بيت نصرانية" والا ایک مستقل اثر ہے جس کو شافعی، عبدالرزاق، بیہقی اور اسماعیلی وغیرہ نے موصولاً ذکر کیا ہے، چنانچہ حافظؒ نے اس تفصیل کو بیان کر کے ایک اثر ہونے کے احتمال کو رد کیا ہے اور فرمایا ہے "وقد عرفت أنهما أثران متغایران"
دیکھیے فتح الباری: جلد 1، صفحہ 299
کتاب الوضوء، باب وضوء الرجل مع امرأته)
اگر ایک ہی واقعہ ہے تو اس کی بحث گزر چکی اور اگر یہ واقعہ علیحدہ ہے تو استدلال کی تقریر یوں ہو گی کہ حضرت عمرؓ نے نصرانیہ کے گھر سے پانی لے کر وضو کیا اور یہ تفصیل دریافت نہیں کی کہ وہ پانی نصرانیہ کے استعمال سے بچا ہوا تو نہیں ہے۔ حالانکہ وہاں دونوں صورتوں کا احتمال ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس نصرانیہ کے استعمال سے بچا ہوا پانی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ علیحدہ پانی ہو، استعمال سے بچا ہوا نہ ہو، حضرت عمرؓ تفصیل میں نہیں گئے، اس سے امام بخاریؒ نے استدلال کیا اور اجمال سے اپنے ترجمہ کو ثابت کر دیا۔
(دیکھیے فتح الباری: جلد1، صفحہ 299
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے کشف الباری: صفحہ 182 مقدمہ)
فضائلِ جامع صحیح بخاری
ایک فضلیت تو یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے اس کی تالیف کے وقت کسی حدیث کو اس وقت تک درج نہیں کیا جب تک پہلے غسل، دو رکعت اور استخارے کے بعد اس حدیث کی صحت کا انہیں یقین نہیں ہو گیا۔
(دیکھیے تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 9
وتهذيب الاسماء واللغات: جلد 1، صفحہ 74
وهدی الساری: صفحہ 489
وسیر اعلام النبلاء: جلد 12 صفحہ 402)
دوسری فضلیت یہ کہ اس کی تمام احادیث صحیح ہیں ۔
(تاریخ بغداد: جلد 2، صفحہ 9
وتہذیب الاسماء: جلد 1، صفحہ 74
وسیر اعلام النبلاء: جلد 2، صفحہ 402)
تیسری فضلیت یہ ہے کہ حضور اکرمﷺ کی منامی بشارت اس کو حاصل ہے، ابوزید مروزی بیان کرتے ہیں کہ میں رکن اور مقام کے درمیان سو رہا تھا کہ نبی کریمﷺ کی زیارت ہوئی، آپﷺ نے فرمایا "يا أبازيد، إلى متى تدرس کتاب الشافعی ولا تدرس کتابی؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کی کتاب کون سی ہے؟ فرمایا "جامع محمد بن اسمعیل
(هدی الساری: صفحہ 489)
چوتھی فضلیت یہ ہے کہ جہاں اس کتاب کی باطنی برکات ہیں کہ اس پر عمل کرنے سے دینی ترقی ہوتی ہے اسی طرح ظاہری برکات بھی ہیں۔
ابنِ ابی جمرہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے بعض عارفین نے ایسے سادات سے نقل کیا ہے جن کے فضل کا لوگوں میں خوب چرچا اور اعتراف ہے کہ صحیح بخاری اگر کسی مصیبت میں پڑھی جائے تو وہ دور ہو جاتی ہے اور اگر کسی کشتی میں لے کر سوار ہو جائیں تو وہ غرق نہیں ہوتی، نجات پاتی ہے، مصنف مستجاب الدعوات تھے، انہوں نے اس کتاب کے پڑھنے والوں کے لیے دعا کی ہے۔
(هدى الساری: صفحہ 13)
علامہ جمال الدین رحمۃاللہ نے اپنے استاذ سید اصیل الدینؒ سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب قریباً ایک سو بیس مرتبہ پڑھی، جس نیت سے بھی پڑھی وہ مراد پوری ہوئی۔
(أشعة اللمعات: جلد 1، صفحہ 11)
اسی لیے ختم بخاری شریف کا رواج علماء و محدثین کے یہاں چلا آ رہا ہے، یہ سلسلہ کب سے چلا آ رہا ہے اس سلسلے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی البتہ ساتویں آٹھویں صدی سے اس کا پتہ چلتا ہے۔ ممکن ہے اس سے پہلے بھی یہ سلسلہ رہا ہو۔
اصح الكتب بعد كتاب اللہ: صحيح البخاری
صحیح بخاری کی شروط، خصائص اور فضائل کے جان لینے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس کو دیگر کتبِ حدیث پر مجموعی طور پر فوقیت حاصل ہے، کیونکہ امام بخاری رحمۃاللہ نے جس بالغ نظری اور نکتہ رسی کے ساتھ صحیح احادیث کا انتخاب کیا ہے، پھر ان کی جلالتِ شان اور معرفتِ علل میں ان کا تقدم بھی مسلّم ہے اور چیزوں کے پیشِ نظر اگر کسی نے "اصح الكتب بعد كتاب الله: صحيح البخاری" کا اطلاق کر دیا ہو تو وہ بیجا نہیں، صحیح بخاری سے پہلے موطا امام مالکؒ کے لیے امام شافعیؒ سے اسی قسم کے الفاظ منقول ہیں، لیکن چونکہ موطا میں مراسیل و بلاغات اور منقطعات کی خاصی تعداد ہے جو امام مالکؒ کے نزدیک حجّت ہیں اور موضوعِ کتاب میں داخل ہیں جب کہ صحیح بخاری میں بالعموم احادیثِ صحیحہ متصلہ ہیں اور جو تعلیقات وغیرہ ہیں وہ استشہاداً لائی گئی ہیں موضوعِ کتاب نہیں ہیں، اس لیے متأخرین نے صحیح بخاری کے بارے میں "اصح الکتب بعد كتاب الله تعالىٰ: صحيح البخاری" کا اطلاق کیا اور اسی کو اپنایا ہے۔
صحیح بخاری کے ساتھ صحیح مسلم بھی صحت کے اعتبار سے اس کی شریک ہے لیکن جمہور علمائے حدیث نے صحیح بخاری کوصحیح مسلم پر فوقیت دی ہے، چنانچہ حافظ ابنِ حجرؒ نے صحیح بخاری کی تفضیل ثابت کرتے ہوئے فرمایا کہ:
حدیث کی صحت کا مدار عدالتِ رُواۃ، اتصالِ سند اور علل و شذوذ کے انتفاء پر ہے، ان جہات سے صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر فوقیت حاصل ہے:
1: عدالتِ رُواۃ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو صحیح بخاری کی فضیلت اس طرح ثابت ہے کہ امام بخاریؒ جن رواۃ میں منفرد ہیں ان کی تعداد چار سو پینتیس ہے، ان میں سے متکلَّم فیہ راوی صرف اسّی ہیں جبکہ امام مسلمؒ چھ سو بیس راویوں میں منفرد ہیں ان میں متکلَّم فیہ ایک سو ساٹھ ہیں، یہ تعداد امام بخاریؒ کے متکلَّم فیہ رُواۃ کے مقابلہ میں دُگنی ہے، ظاہر ہے متکلَّم فیہ رُواۃ جس میں کم ہوں گے اس کی افضلیت ثابت ہوگی۔
2: پھر امام بخاریؒ نے جن متکلَّم فیہ رُواۃ سے احادیث تخریج کی ہیں ان سے زیادہ حدیثیں نہیں لیں، جبکہ امام مسلمؒ نے اپنے متکلَّم فیہ رُواۃ سے کثرت سے احادیث نقل کی ہیں۔
3: ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امام بخاریؒ کے متکلَّم فیہ رُواۃ ان کے اپنے اساتذہ اور براہِ راست شیوخ ہیں جن کے حالات سے اور ان کی صحیح و سقیم احادیث سے وہ خوب واقف تھے، چنانچہ انھوں نے ان کی ساری حدیثیں کیف ما اتفق جمع نہیں کیں بلکہ خوب انتقاء کر کے نقل کی ہیں، جبکہ امام مسلمؒ کے متکلَّم فیہ رُواۃ ان کے براہِ راست شیوخ نہیں بلکہ متقدمین میں سے ہیں۔
4: پھر امام بخاریؒ ان متکلَّم فیہ رُواۃ کی احادیث استشہادات و متابعات اور تعلیقات میں عموماً لاتے ہیں، جبکہ امام مسلمؒ اصل کتاب میں بطورِ احتجاج ذکر کرتے ہیں۔
5: اتصالِ سند کے اعتبار سے صحیح بخاری کو اس طرح فوقیت حاصل ہے کہ امام مسلمؒ کا مذہب یہ ہے کہ حدیثِ معنعن متصل کے حکم میں ہوتی ہے بشرطیکہ راوی اور مروی عنہ معاصر ہوں۔ اگرچہ ان کے درمیان لقاء ثابت نہ ہو، جبکہ امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ حدیثِ معنعن کو اتصال کے حکم میں اس وقت سمجھیں گے جبکہ معاصرت کے ساتھ ساتھ کم از کم ایک مرتبہ ان کے درمیان لقاء بھی ثابت ہو، ظاہر ہے امام بخاریؒ کی شرط، اتّصال کے اعتبار سے اقویٰ اور اشد ہے۔
6: علت و شذوذ کے انتفاء کے اعتبار سے صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر بایں طور فوقیت حاصل ہے کہ صحیحین کی کل دو سو دس حدیثوں پر کلام کیا گیا ہے جن میں سے (80) اسّی سے بھی کم حدیثیں بخاری کی ہیں اور باقی حدیثیں صحیح مسلم کی ہیں۔
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 11، 12)
اس تفصیل سے اچھی طرح معلوم ہوگیا ہوگا کہ صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر نیز دیگر کتبِ حدیث پر فوقیت حاصل ہے۔