سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا حسنؓ کے لیے فحش الفاظ استعمال کرنا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا حسنؓ کے لیے فحش الفاظ استعمال کرنا
بعض شیعہ اعتراض کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کے بارے میں خطبہ دیتے ہوئے فحش الفاظ کا استعمال کیا اور اس اعتراض پر دلیل دیتے ہوئے یہ روایت پیش کرتے ہیں۔
سند:
ہوذه عن عوف عن محمد۔
متن: محمد بن سیرین کہتے ہیں صلح کا معاہدہ کرنے کے لیے جب سیدنا امیر معاویہؓ کوفہ آئے تو لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے تو سیدنا عمرو بن العاصؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے کہا سیدنا حسنؓ کو رسول اللہﷺ کی قرابت کی وجہ سے لوگوں میں بہت عزت حاصل ہے اور وہ جوان ہیں مگر کمزور ہیں تو ان سے کہیں کہ وہ خطبہ دیں وہ کمزور ہونے کی وجہ سے تھک جائیں گے اور لوگوں کی نظروں میں گر جائیں گے تو سیدنا امیر معاویہؓ نے انکار کر دیا مگر ان کے اصرار کی وجہ سے اجازت دے دی پھر سیدنا حسنؓ ممبر پر تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا آپ لوگ ہر طرف نظر دوڑائیں تو آپ لوگوں کو میرے اور میرے بھائی (سیدنا حسینؓ) کے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جس کے نانا نبیﷺ ہوں میں نے لوگوں کو خون بہانے سے بچانے کے لیے سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت کی ہے اور پھر سیدنا حسنؓ نے سورۃ الانبیاء آیت 111 پڑھی کہ اور میں کیا جانوں شاید یہ تمہاری آزمائش ہو اور ایک وقت تک تم کو فائدہ پہنچانا اور سیدنا حسنؓ نے ہاتھ سے سیدنا امیر معاویہؓ کی طرف اشارہ کیا تو سیدنا امیر معاویہؓ غضب ناک ہو گئے اور سیدنا حسنؓ کے خطبے کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ نے خطبہ دیا جس میں سیدنا حسنؓ کے لیے فحش الفاظ کا استعمال کیا پھر ممبر سے نیچے اتر آئے اور سیدنا حسنؓ سے پوچھا شاید یہ تمہاری آزمائش ہو سے آپ کا کیا مطلب تھا؟ تو سیدنا حسنؓ نے فرمایا جو مطلب اللہ کا ہے۔
(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 3 صفحہ 271'272)۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 13 صفحہ 275)۔
اس روایت کو دلیل بنا کر شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کو برا بھلا کہا اور یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت اسی لیے کی تھی تاکہ لوگ قتلُ و غارت سے بچ جائیں لیکن سیدنا حسنؓ دل میں سیدنا امیر معاویہؓ کو برا ہی سمجھتے تھے۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت کی سند میں تین علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی عوف اعرابی ثقہ تو ہے لیکن بدعتی شیعہ ہے جیسا کہ امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
ایک قول کے مطابق اس میں تشیع پایا جاتا ہے عبداللہ بن مبارکؒ نے کہا کے عوف کسی بدعت سے اس وقت تک راضی نہیں ہوتا جب تک اس کے اندر دو مزید بدعتیں نہ ہوں یہ قدریہ فرقہ سے بھی تعلق رکھتا ہے اور شیعہ بھی ہے داؤد بن ابی ہند نے قدریہ فرقہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے عوف کی پٹائی بھی کی بندار نے لوگوں کے سامنے عوف کی نقل کردہ حدیث بیان کرتے ہوئے یہ کہا کہ اللہ کی قسم عوف قدریہ فرقہ سے تعلق رکھتا تھا شیعہ شیطان ہے۔
(میزان الاعتدال ( اردو) جلد 5 صفحہ 360)۔
اور اہلِ سنت کے اُصول حدیث کے مطابق ثقہ شیعہ راوی کی وہ روایت جو اس کے مذہب کو تقویت دے قابلِ قبول نہیں ہوتی اس لیے اس روایت کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری علت: اس روایت کا راوی ہوزہ بن خلیفہ البتہ صدوق ہے جیسا کہ امام ذہبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ۔
ہوذہ بن خلیفہ صدوق ہے۔
(الکاشف للذہبی ( عربی) جلد 2 صفحہ 340)۔
اور امام ابنِ حجرؒ بھی اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔
نوویں طبقہ کا صدوق راوی ہے۔
(تقریب التہذیب ( اردو )جلد 2 صفحہ 265)۔
لیکن ہوذہ کی عوف سے کی گئی روایت ضعیف ہوتی ہے اس کی عوف سے کی گئی روایت پر کلام کیا گیا ہے۔
جیسا کہ امام ذہبیؒ نقل فرماتے ہیں کہ۔
'احمد بن زہیر کہتے ہیں یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں ہوذہ کی عوف سے کی گئی روایت ضعیف ہے۔
(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 10 صفحہ 122)۔
امام بلخیؒ نے بھی امام یحییٰ بن معینؒ کہا یہ قول نقل فرمایا لکھتے ہیں۔
ابنِ ابی خیثمہ کہتے ہیں یحییٰ بن معینؒ نے فرمایا ہوذہ کی عوف سے کی گئی روایت ضعیف ہوتی ہے۔
(قبول الاخبار و معرفة الرجال للبلخی (عربی) جلد 2 صفحہ 114)۔
امام یحییٰ بن معینؒ نے فرمایا۔
ہوذہ قابلِ تعریف نہیں ہے پوچھا گیا کیوں؟ تو یحییٰ نے کہا کیونکہ اس نے عوف سے ایسی روایات نقل کی ہیں جو کسی اور نے نقل نہیں کیں۔
(معرفة الرجال یحییٰ بن معین (عربی) جلد 1 صفحہ 73)۔
یعنی یہ عوف سے منفرد روایات بیان کرتا ہے اور ہم یہ اصول بھی بیان کر چکے کہ جب ایک صدوق راوی کسی روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہو تو اس کی وہ روایت منکر ہوتی ہے۔
*تیسری علت:*
اس سند میں انقطاع ہے محمد بن سیرین کا 41 ہجری میں صلح کے وقت کوفہ میں موجود ہونا ثابت نہیں کیونکہ محمد بن سیرین سنہ 33 ہجری میں بصرہ میں پیدا ہوئے اور ان کا آٹھ سال کی عمر میں کوفہ آکر صلح کے وقت موجود ہونا ثابت نہیں۔
محمد بن سیرین سیدنا عثمانؓ کے دورِ خلافت میں ان کی شہادت سے دو سال پہلے 33 ہجری میں پیدا ہوئے جیسا کہ انس بن سیرین (محمد بن سیرین کے بھائی) کہتے ہیں۔
محمد بن سیرین جب پیدا ہوئے تو سیدنا عثمانؓ کی خلافت میں دو سال باقی تھے۔
(تاریخِ مدینہ دمشق ابنِ عساکر (عربی) جلد 9 صفحہ 316)۔
محمد بن سیرین کی ولادت کے بارے میں انس بن سیرین سے یہ قول بھی ملتا ہے کہ وہ سیدنا عمرؓ کی شہادت سے دو سال قبل پیدا ہوئے لیکن امام ذہبیؒ نے اس قول کا تفصیلی رد کیا ہے اور کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو محمد بن سیرین (عمر میں) حسن بصری کے برابر ہوتے لیکن وہ ان سے بہت چھوٹے تھے پھر امام ذہبیؒ نے دوسرے قول کہ سیدنا عثمانؓ کی خلافت کے دو سال باقی رہتے تھے تب پیدا ہوئے کو درست قرار دیا۔
(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 4 صفحہ 607)۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت منکر منقطع و باطل ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں اس لیے اس روایت کو دلیل بنا کر سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے ممبر پر کھڑے ہو کر سیدنا حسنؓ کو برا بھلا کہا اور سیدنا حسنؓ بی سیدنا امیر معاویہؓ کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کسی صورت جائز نہیں۔