سیدنا امیر معاویہؓ کا بدھ کے دن جمعہ پڑھانا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کا بدھ کے دن جمعہ پڑھانا
بعض شیعہ اعتراض کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے بدھ کے دن ہی جمعہ پڑھا دیا اور اس اعتراض کو ثابت کرنے کے لیے دلیل مسعودی کی کتاب مروج الذہب سے دیتے ہیں مسعودی نے بلا سند ایک واقعہ نقل کیا ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ: صفین سے واپسی پر کوفہ کا ایک شخص اونٹ پر دمشق میں داخل ہوا تو دمشق کا ایک آدمی اس سے کہنے لگا کہ یہ میری اونٹنی ہے جو صفین میں مجھ سے چھین لی گئی تھی ان دونوں کا واقعہ سیدنا امیر معاویہؓ تک پہنچ گیا دمشقی آدمی نے پچاس آدمی بطورِ گواہ پیش کیے جنہوں نے گواہی دی کہ یہ اسی شخص کی اونٹنی ہے تو سیدنا امیر معاویہؓ نے کوفی کے خلاف فیصلہ دیا اور کہا کہ یہ اونٹنی دمشقی آدمی کو دے دے کوفی نے کہا اللہ آپ کو خوش رکھے یہ اونٹی تو نہیں اونٹ ہے سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا جو حکم دیا جاچکا ہے وہ نافذ ہوگیا ہے اور لوگوں کے چلے جانے کے بعد آپؓ نے خفیہ طور پر کوفی آدمی کو اپنے پاس بلایا اور اس سے اونٹ کی قیمت دریافت کی اور اس کو دگنی قیمت دی اور اس کو کہا سیدنا علیؓ تک یہ بات پہنچا دو میں ایسے ایک لاکھ آدمیوں کے ساتھ ان سے جنگ کر رہا ہوں جو اونٹ اور اونٹنی میں تمیز نہیں کرتے اور ان کی اطاعت کا یہ عالم ہے کہ میں نے ان کو صفین کی طرف جاتے ہوئے بدھ کے دن جمعہ کی نماز پڑھا دی۔
(مروج الذہب للمسعودی (عربی) جلد 3 صفحہ 32'33)
واقعہ کی حقیقت: جیسا کہ ہم پہلے ہی بیان کرچکے ہیں کہ یہ واقعہ مسعودی نے بلا سند نقل کیا ہے یعنی اس کی کوئی سند موجود نہیں۔
اور مسعودی چوتھی صدی ہجری کا مؤرخ ہے تو اس نے تین سو سال پہلے کا واقعہ کہاں سے نقل کرلیا؟ اور ویسے بھی مسعودی شیعہ ہے جیسا کہ ہم ثابت کر چکے۔
(دیکھیں باب سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا حسنؓ کی شہادت پر خوش ہونا)۔
اس لیے یہ واقعہ محض جھوٹ ہے۔
کسی شیعہ کی کتاب سے ایک بلا سند روایت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ ایک جلیل القدر صحابی رسولﷺ نے جمعہ کی نماز بدھ کے دن پڑھا دی یہ محض تعصب اور جہالت ہے۔