تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 1 از 6

امام نسائی رحمۃاللہ

ولادت 215ھ وفات 303ھ عمر88 سال:

نام ونسب ونسبت:

یہ ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر (خراسانی اور نسائی) ہیں۔

(تفصیلی حالات کے لئے دیکھیے: سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 125 الانساب: جلد، 5 صفحہ، 484 وفیات الاعیان: جلد، 1 صفحہ، 77 تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 298 البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 123 تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 36 معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 282 تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 328 الحطہ: 293)

آپ کی ولادت شہر نساء میں ہوئی چنانچہ اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے آپ کو نسائی کہا جاتا ہے اور چونکہ شہر نساء سر زمینِ خراسان میں ہے تو آپ کو خراسانی بھی کہا جاتا ہے شہر النساء 32ھ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں عبداللہ بن عامر بن کریز کے ہاتھ صلحاً فتح ہوا اور احنف بن قیس اس پر گورنر مقرر ہوئے۔

(دیکھیے: الکامل ابن الکثیر: جلد، 3 صفحہ، 63 شذرات الذہب: جلد، 1 صفحہ، 27)

تحقیق النساء اور وجہ تسمیہ:

علامہ حمویؒ بھی فرماتے ہیں کہ یہ لفظ عجمی ہے اور خراسان میں شہر سرخس سے دو دن کے فاصلے پر ایک مشہور شہر کا نام ہے، نیشاپور اس سے بھی سات دن کے فاصلے پر ہے لشکر اسلام جب فاتحانہ خراسان میں پہنچا اور شہر کا رخ کیا تو تمام مرد شہروں سے نکل کر پہاڑوں میں پناہ گزیں ہوئے مسلمان جب شہر میں داخل ہوئے تو سوائے نساء (عورتوں) کے کوئی اور موجود نہیں تھا اس دن سے اس شہر کو نساء کہا جانے لگا اس وجہ تسمیہ کے پیشِ نظر شہر کا نام نساء (بسکون نون) ہونا چاہئے تھا، لیکن لفظ نساء (بفتح نون) سے مشہور ہوا۔

(معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 281،282 الانساب میں ہے سمیت نسألان النساء کانت تحارب دون الرجال الانساب: جلد، 5 صفحہ، 483)

ابنِ خلکانؒ فرماتے ہیں: نساء بفتح النون و بفتح السین المھملہ و بعد ھمزہ۔

(وفیات الاعیان: جلد، 1 صفحہ، 78 شیخ مبارک پوری کہتے ہیں نسائی (بالمد) اور نسائی (بالقصر) دونوں صحیح ہیں دیکھیے تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 66)

کبھی ہمزہ کو واؤ سے بدل کر نسوی بھی کہتے ہیں (جیسے کہ قیاس کا تقاضا ہے) لیکن مشہور تر نسائی ہی ہے۔

(معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 282 الانساب: جلد، 5 صفحہ، 283) 

ولادت:

امام صاحبؒ شہر نساء ہی میں پیدا ہوئے

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 125) 

علامہ ابنِ اثیر کہتے ہیں کہ سنِ ولادت 252ھ ہے۔

(جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 195)

لیکن ان کی یہ بات ایک تو امام صاحبؒ کی تصریح کے خلاف ہے وہ فرماتے ہیں: یشبہ ان یکون مولدی فی خمس عشرۃ و مائتین۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 34)

دوسری بات دوسری ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام صاحبؒ کی وفات 303ھ میں ہوئی ہے اور تقریباً تمام علماءِ مورخین اس پر متفق ہیں۔

(تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 701 تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 39 جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 195)

پھر حافظ صاحبؒ نے ذہبی کا قول نقل کیا ہے کہ ان کی کل عمر 88 سال ہے۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 39)

تو اس حساب سے 225ھ کا قول کسی صورت میں معقول نہیں، بلکہ اس سے امام صاحبؒ کے قول کی تائید ہوتی ہے، بعض حضرات نے 214ھ کا بھی قول نقل کیا ہے۔

(دیکھیے بستان المحدثین: صفحہ، 296)

ابتدائی تعلیم اور علمی رحلات:

اس زمانے میں سر زمینِ خراسان علم و علماء کا مرکز تھا اور بڑے بڑے اصحابِ فن اس علاقے میں گوہر افشانی کرتے تھے اور دور دراز سے تشنگانِ علم آ کر کسبِ فیض کرتے تھے تو بظاہر امام صاحبؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں ہی حاصل کی ہو گی اس کے بعد جب انہوں نے قصدِ سفر فرمایا تو سب سے پہلے امام قتیبہؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے علامہ سبکیؒ اور ذہبیؒ فرماتے ہیں: رحل قتیبةؒ وله خمس و عشرۃ سنة، سنة وثلاثین۔

(طبقات الشافعات الکبریٰ: جلد، 8 صفحہ، 84 تذکرۃ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 698 امام نسائیؒ فرماتے ہیں: اقمت عندہ سنة وشھرین)

امام صاحبؒ 230ھ میں پندرہ سال کی عمر میں امام قتیبہ رحمۃاللہ کے پاس گئے، لیکن مقدمہ تحفۃ الاحوذی میں امام نسائیؒ کا یہ قول ملتا ہے وہ فرماتے ہیں: رحلتی الاولیٰ الی القتیبةؒ کانت فی سنة 35۔

(مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 66)

یعنی 235ھ میں وہ قتیبہؒ کے پاس گئے ہیں تو اس لحاظ سے 20 سال کی عمر میں انہوں نے علمی سفر شروع کیا ہے، بعض حضرات نے عدد 35 سے یہ سمجھا ہے کہ 35 سال کی عمر مراد ہے لیکن یہ غلط ہے۔

اس کے بعد امام صاحبؒ نے حجاز، مصر، عراق، جزیرہ، شام، ثغور، اور دوسرے مقامات کے حفاظ حدیث سے یہ کسبِ فیض فرمایا اور بالآخر مصر میں جا کر رہائش پذیر ہوگئے۔

(تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 329)

اساتذہ:

امام نسائیؒ کے اساتذہ کی فہرست کافی طویل ہے، ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: سمع من خلائق لا یحصون یأتی اکثرھم فی ھذا الکتب۔

(تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 36)

علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں: سمع من خلق کثیر۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 127)

تاہم بعض مشہور اساتذہ یہ ہیں: اسحاق بن رہویہ، قتیبہ بن سعید، محمد بن بشار، محمد بن مثنیٰ، یحییٰ بن موسیٰ، ہشام بن عماد، علی بن حجر اور اپنے ہم عمر ساتھیوں میں سے امام ابو داؤد، سلیمان بن ایوب، اور سلیمان بن سیف سے روایت کرتے ہیں، بعض حضرات نے امام نسائیؒ کے اساتذہ کی فہرست میں امام بخاری رحمۃاللہ کا نام بھی لیا ہے، لیکن یہ بات محلِ نظر ہے ایک تو اس لئے کہ اسماء الرجال کی کسی کتاب میں امام نسائی رحمۃاللہ کے اساتذہ میں امام بخاریؒ کا نام نہیں ملتا اور نا ہی امام بخاری رحمۃاللہ کے تلامذہ کی فہرست میں امام نسائیؒ کا نام ملتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ امام نسائی رحمۃاللہ نے اپنی کتاب "الکنی" میں کئی روایت عن عبداللہ بن احمد الخفاف عن البخاری کے طریق سے نقل فرمائی ہیں، چنانچہ صاحب تہذیب الکمال لکھتے ہیں: فھذۃ قرینة ظاھرۃ فی انه لم یلق البخاری ولم یسمع منه۔

(تہذیب الکمال: جلد، 24 صفحہ، 436) 

البتہ ہمارے پاس نسائی کا جو نسخہ ہے: 

صفحہ 1 از 6