تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 2 از 6

(بروایت ابن السنی) اس میں ایک روایت اس سند سے مروی ہے: اخبرنا محمد بن اسماعیل البخاری قال حدثنی حفص بن عمر الحارث قال حدثنا حماد قال حدثنا معمر و النعمان بن راشد عن الزھری عن عروۃ عن عائشہؓ قالت: مالعنت رسول اللہ ﷺ من لعنة تذکر الخ۔

(نسائی: جلد، 1 صفحہ، 298 کتاب الصوم باب الفضل والجود فی شہر رمضان)

اس روایت  کے متعلق صاحب تہذیب الکمال کہتے ہیں کہ نسائی کے دوسرے تمام نسخوں میں لفظ "البخاری" نہیں ہے اور ابن السنی کے نسخہ میں بھی صرف یہی ایک روایت بخاری سے منقول ہے اور یہ تب قابلِ تسلیم ہے جب کہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ ابن السنی نے یہ لفظ اپنی طرف سے زیادہ نہیں کیا بلکہ امام نسائیؒ سے سنا ہے۔

(تہذیب الکمال: جلد، 24 صفحہ، 437)

واللہ تعالیٰ اعلم۔

تلامذہ:

امام صاحبؒ نے جب مصر میں سکونت اختیار فرمائی تو دنیا کے گوشہ گوشہ سے طالبِ علم حدیث ان کی طرف آنے لگے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 127)

 اور حضرت امام کا حلقہ درس وسیع ہوتا گیا ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: سمع عنه امم لایحصون۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 37)

ان کے مشہور تلامذہ جو سنن کے بھی راوی ہیں، یہ ہیں: ان کے صاحبزادے عبد الکریم، ابوبکر احمد بن محمد ابن السنی، حسن بن خضر، حسن بن رشیق، حمزہ بن محمد، محمد بن عبد اللہ بن زکریا، نیشاپوری، محمد بن معاویہ الاندلسی، محمد بن قاسم، علی بن ابوجعفر بن طحاوی، مسعود بن علی بجانی۔

امام نسائی رحمۃاللہ کا علمی مقام:

تمام ائمہ حدیث اور صاحبانِ علم و کمال امام صاحبؒ کا علمی اعتراف کرتے ہوئے مختلف انداز سے ان کی تعریف کرتے ہیں، احمد بن محمد اور منصور رفیقہ کہتے ہیں: ابو عبد الرحمٰن امام بن ائمة المسلمین۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 37)

ابو علی نیشاپوری کا قول ہے: النسائی امام فی الحدیث بلا مدافعة پھر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے تمام اسفار میں صرف چار حفاظ حدیث کو دیکھا ہے ان میں سے ایک امام نسائی رحمۃاللہ ہیں۔

(دیکھیے محولہ بالا)

عبداللہ بن محمد بن احمد بن حنبل اور ان کے کچھ ساتھی مشورہ کر رہے تھے کہ کس کے انتخاب سے احادیث لکھنی چاہیئے، تو سب کا اتفاق ہوا کہ امام نسائی رحمۃاللہ کی احادیثِ منتخبہ لکھنے کے قابل ہیں، کہ میں نے کئی بار علی بن عمر کو کہتے ہوئے سنا ابو عبدالرحمٰن مقدم علی کل من یذکر بھذا العلم من اھل العصرہ وھو افقہ مشائخ مصر فی عصرہ واعرفھم بالصحیح السقیم واعلمھم ھو بالرجال۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 37)

کہ امام نسائیؒ اپنے زمانے کے تمام محدثین و فقہا پر علمی فوقیت رکھتے تھے، علمِ رجال اور صحیح اور غیر صحیح احادیث کی پہچان میں سب سے آگے تھے ابوبکر بن حداد شافعی امام نسائی رحمۃاللہ کے علاوہ کسی اور سے روایت کرتے ہی نہیں تھے وہ فرمایا کرتے تھے: رضیت به حجة بینی و بین اللہ تعالیٰ علامہ ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام نسائی رحمۃاللہ علمِ حدیث میں امام مسلم رحمۃاللہ ابو داؤد رحمۃاللہ اور ترمذی رحمۃاللہ سے زیادہ ماہر ہیں اسی طرح فرماتے ہیں: کان من بحور العلم، مع الفھم، والاتقان، والبصر، ونقد الرجال، وحسن التألیف۔

(سیر العلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 127، 133)

حلیہ اور طرز زندگی:

قدرت نے امام نسائی رحمۃاللہ کو باطنی محاسن اور خوبیوں کے ساتھ ساتھ حسن ظاہری کا بھی وافر حصہ عطاء فرمایا تھا چہرہ نہایت پر رونق اور روشن تھا، کہا جاتا ہے کہ بڑھاپے میں بھی حسن و تازگی میں بھی فرق نہیں پڑتا، یہاں تک کہ ایک مرتبہ بعض طلبہ نے کہا: ما اظن ابا عبدالرحمٰن الّا انه یشرب النبیذ (لنضرۃ التی فی وجھه) جب امام صاحبؒ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نبیذ حرام ہے تو میں کیسے پی سکتا ہوں  امام صاحبؒ کی خوراک اور پوشاک بھی نہایت عمدہ ہوتی تھی، بہترین لباس زیب تن فرماتے تھے اور روزانہ مرغ کھاتے تھے۔

(تمام اقوال کے لئے دیکھیے: سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 128)

ابن کثیرؒ فرماتے ہیں مرغ کھانے کے بعد حلال نبیذ (شربت) بھی نوش فرمایا کرتے تھے۔

(البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 124)

صومِ داؤدی کہ عادی تھے

(دیکھیے محولہ بالا)

ایک دن روزہ رکھتے دوسرے دن افطار کرتے آپ کہ نکاح میں چار بیویاں اور لونڈیاں تھی امام صاحبؒ ان سب میں ترتیب کی ایک خاص رعایت فرماتے تھے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 128 البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 123)

تقویٰ اور دلیری:

ابنِ حجر رحمۃاللہ نے ابو الحسن بن مظفر کا قول فرمایا ہے: میرے مصری شیوخ امام نسائی رحمۃاللہ کی کثرتِ عبادت کی تعریف کرتے تھے ان کو حج کا بہت شوق تھا اس کے لیے خاص اہتمام فرماتے تھے سنتوں پر پورا پورا عمل کرنا ان کا شیوہ تھا جہاد میں کئی بار شریک ہوئے اور ان تمام اوصافِ حمیدہ کے ساتھ مجالس سلاطین سے کنارہ کش رہتے تھے تاکہ اخلاص اور للہیت میں کوئی رخنہ نہ آنے پائے۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 38)

امام نسائی رحمۃاللہ اور حارث بن مسکین کا واقعہ:

پہلے آ چکا ہے کہ امام صاحبؒ پر تکلف لباس زیب تن فرماتے تھے ایک دن حارث بن مسکین کی مجلس میں تشریف لے گئے، حارث بن مسکین نے امام صاحبؒ کو اس ہیئت میں دیکھ کر یہ خیال کیا کہ شاید سلاطین وقت کی طرف سے مقرر شدہ آدمی ہے اور اس مجلس کے بارے میں کوئی معلومات حاصل کرنے آیا ہے تو ان کو کوفت ہوئی اور امام صاحبؒ کو سبق سے نکال دیا، اس دن کے بعد سے امام صاحبؒ جا کر دروازے کے پیچھے بیٹھ کر حدیث سنتے تھے یہی وجہ ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت غایت احتیاط کا ثبوت دیتے ہوئے فرماتے تھے: قال الحارث بن مسکین قرات علیه وانا اَسمع۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 130 ابنِ اثیر لکھتے ہیں: حارث بن مسکین مصر میں قاضی کے عہدے پر فائز تھے اور امام نسائیؒ کے ساتھ کچھ نا خوش گواری تھی جس کی وجہ سے امام نسائی رحمۃاللہ مجلس درس میں شریک نہیں ہوسکتے تھے، جامع الاصول: جلد، 1صفحہ، 196)

وفات:

دنیا کا قانون ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اونچا مقام عطاء فرماتے ہیں تو وہ حاسدین کے حسد کی زد میں آجاتا ہے اس کرہِ ارض میں سب سے پہلا قتل بھی اسی حسد کے نتیجے میں واقع ہوا تھا۔

صفحہ 2 از 6