تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 3 از 6

امام نسائی رحمۃاللہ بھی اس عام ضابطے سے مستثنیٰ نہ رہے بلکہ جب ان کے علمی مقام کا چرچا ہوا تو حاسدین امام صاحبؒ کو طرح طرح سے ستانے لگے چنانچہ امام صاحبؒ مصر کو خیر آباد کہہ کر دمشق میں مقیم ہوئے۔

(یہ دن قاعدہ 302ھ کا واقعہ ہے دیکھیے الحطۃ: صفحہ، 294)

 وہاں کے لوگ بوجہ سلطنت بنو امیہ کے خوارج کی طرف میلان رکھتے تھے۔

(دیکھیے بستان المحدثین:297)

ایک دن امام صاحبؒ سے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے فضائل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: الا یرضی راسا برأس حتیٰ یتفضل؟ ان کے لیے یہی بات کافی ہے کہ نجات پاجاویں، ان کے فضائل کہاں ہیں؟بعض نے کہا ہے کہ اس کے ساتھ یہ جملہ بھی فرمایا: ای شئی اخرج؟ حدیث: الھم لا تشبع بطنه؟'

(الحدیث اخرجه ابو داؤد الطیالسی من طریق ابو عوانة عن ابی الحمزہ القصاب عن ابن عباسؓ ان رسول اللہﷺ بعث الى الی معاويه ليكتب له فقال انه ياكل ثم بعث اليه، فقال انه ياكل، فقال رسول اللهﷺ لا اشبع الله بطنه مسند ابو داؤد الطیالسی :359 مکتبه حسینیه قال الذهبی هذه منقبه لمعاويه رضی الله عنه لقول رسول اللهﷺ اللهم من لعنته او سببته فجعل ذلك له زكاه ورحمه قلت! الحديثان اخرجهما مسلم فی البر والصلة: جلد، 2 صفحہ، 323 ،325 ہے قدیمی کتب خانہ،کراچی۔ والخبر فی البدایه والنہایة: جلد، 11 صفحہ، 124 سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 132 تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 38 معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 282)

کہ ان کے مناقب میں کون سی احادیث کی تخریج کروں؟ ایک ہی حدیث ہے اے اللہ اس کے پیٹ کو سیر نہ کر، بعض کا کہنا ہے کہ امام صاحبؒ نے یہ جملہ کسی اور موقع میں فرمایا تھا، ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے مناقبِ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور فضائلِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں تو سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے مناقب میں کیوں نہیں لکھتے؟ تو انہوں نے یہ جواب دیا بہر صورت جب امام صاحبؒ نے اہلِ دمشق کو یہ جواب دیا

(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 38 سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 129)

 تو وہ امام صاحبؒ پر ٹوٹ پڑے اور زدوکوب کیا چند ضربیں جسم کے نازک حصے پر لگیں خادم اٹھا کر گھر لے گئے، امام صاحبؒ نے فرمایا مجھے مکہ لے چلو تاکہ مکہ میں میرا انتقال ہو مکہ پہنچنے کے بعد بروز دو شنبہ 13 صفر المظفر 303ھ میں انتقال فرما گئے یہ قول دار قطنی اور ابنِ اثیر اور شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ کا ہے۔

(دیکھیے سیر اعلام: جلد، 14 صفحہ، 132 جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 195 بستان المحدثین:298)

بعض حضرات کہتے ہیں کہ راستے میں شہر رملہ میں انتقال ہو گیا پھر جنازے کو اٹھا کر مکہ پہنچانے کے بعد صفا مروہ کے درمیان میں دفن کئے گئے۔

(بستان المحدثین: صفحہ، 298، الحلقہ: صفحہ، 294)

ابنِ یونس کا قول ہے کہ ان کی وفات فلسطین میں ہوئی علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: هذا اصح فان ابنِ يونس حافظ يقظ وقد اخذ عن النسائی وهو به عارف۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 133)

حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے بھی اسی قول کو راجح قرار دیا ہے۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 39)

امام نسائی رحمۃاللہ پر تشیع کا شبہ:

امام نسائی رحمۃاللہ کے اس طریقے کار اور طرزِ کلام کو دیکھ کر بعض حضرات نے ان پر تشیع کا حکم لگایا ہے چنانچہ ابنِ اثیر رحمۃاللہ لکھتے ہیں: وقد قيل عنه انه كان ينسب اليه شیء من تشيع علامہ ذہبی رحمۃاللہ لکھتے ہیں: الا ان فيه قليل وانحرف عن خصوم امام علی  كمعاوية وعمر رضی الله تعالىٰ عنهم و الله يسامحه۔

(البدایه والنہایة: جلد، 11 صفحہ، 124)

ابنِ خلکان رحمۃاللہ کہتے ہیں: وکان یتشبع۔

(وفات الاعیان: جلد، 1 صفحہ، 77)

البتہ یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ قدماء کی اصطلاح میں تشیع اور رفض میں فرق تھا چنانچہ اگر کوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل الخلق بعد رسول اللہﷺ مانتا تو وہ رافضی ہے۔

(الرافضة فرقة من الشيعة کانوا بایعوا زید بن علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ ثم قالوا له تبرّا من الشیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نقاتل معک فأبی، وقال کانا وزیری جدیﷺ فلا ابرأ منھما، فقالوا اذ نرفزك فتركه ورفضوه فمن ذلك الوقت سمو الرافضة والنسبة الرافضى وسميت شیعة بن زید الزیدیة، دیکھیے التعلیقات عبد الفتاح ابو غدہ براء اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 141)

اور اگر اس کے ساتھ وہ دوسرے اصحاب پر سبِ وشتم کرتا تو وہ غالی رافضی ہے اور اگر وہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی رجعت الی الدنیا کا قائل ہے تو حد سے زیادہ غالی فی الرفض سمجھا جائے گا لیکن اگر وہ حضراتِ شیخین کی فضیلت کا قائل ہے اور صرف حضرت علی المرتضیٰؓ کو حضرت عثمانِ غنیؓ پر ترجیح دیتا ہے اور ان کے مخالفین کو مخطی کہتا ہے تو شیعہ کہلاتا ہے اب ان کے بارے میں حکم یہ ہے کہ مطلق رافضی اور شیعہ کی روایت قبول ہے خصوصاً جب کہ وہ داعی الی المذھبہ نہ ہو البتہ غالی رافضی کی روایت مردود ہے یہ متقدمین کے ہاں ہیں متاخرین کی اصطلاح میں شیعہ اور غالی رافضی ایک ہی ہے، لہٰذا شیعہ کی روایت مردود ہے۔

(تفصیل کے لئے دیکھیے: ھدی الساری: صفحہ، 459)

حافظ ابو القاسم ابنِ عساکر اس بارے میں کہتے ہیں: هذه حكاية لا تدل على سوء اعتقاد على ابی عبد الرحمٰن فی معاويه وانما تذل على الكف فى ذكره بکل حال۔

(تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 339)

حسن بن ابی ہلال کہتے ہیں کہ جب اس بارے میں امام نسائی رحمۃاللہ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: انما الاسلام كدار لها باب فباب الاسلام الصحابه، فمن اذى الصحابه انما اراد الاسلام، كمن نقر الباب انما يريد دخول الباب، قال: فمن اراد معاويه فانما اراد الصحابه۔(محولہ بالا: جلد، 1 صفحہ، 94)

مسلک:

امام نسائیؒ شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز رحمۃاللہ کی رائے میں شافعی ہیں۔

(ما تمسه الیه الحاجته: صفحہ، 26 بستان المحدثین: صفحہ، 296)

ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی اہلِ حدیث میں سے تھے نہ مقلد محض تھے نہ مجتھدِ مطلق۔

(توجیه النظر: 185)

امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ نے ان کو حنبلی قرار دیا ہے فرماتے ہیں: الامام ابو داؤد حنبلیبان۔

صفحہ 3 از 6