تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 4 از 6

(فیض الباری: جلد، 1 صفحہ، 85 العرف الشذی: صفحہ، 2)

امام اعظم رحمۃاللہ اور امام نسائی رحمۃاللہ: 

امام نسائی رحمۃاللہ نے اپنی کتاب "الضعفاء" میں امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ کے بارے میں لکھا ہے و ابوحنیفہ لیس القوی فی الحدیث۔

(کتاب الضعفاء: صفحہ، 35)

جن لوگوں کو امام صاحبؒ کے علمی و روحانی مراتب میں عالیہ قابلِ برداشت نہیں اس جیسے عبارت کو بہت اچھالتے ہیں امام صاحبؒ کے اوصافِ حمیدہ اور خصائلِ جمیلہ علمی اور عملی مقام جاننے کے لیے مستقل تصانیف موجود ہیں ہم یہاں نہایت اختصار کے ساتھ امام نسائیؒ کے قول کا جواب ذکر کرتے ہیں۔

1: اس جرح کا ناقل حسن بن رشیق ہے جس پر کلام موجود ہے چنانچہ علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: لینة الحافظ عبد الغنی بن سعید، ووفقه جماعته، وانکر علیہ دار قطنی انه کان یصلح فی اصله وبغیرہ اور جو آدمی اصل کتاب میں اپنی طرف سے کمی پیشی کرتا ہو اس کا اعتبار نہیں ہوتا۔

(میزان الاعتدال: جلد، 1 صفحہ، 490)

2: جرح کے باب میں امام نسائیؒ متششدد ہیں اور جارحین متشددین کے بارے میں فیصلہ یہ ہے کہ ان کی جرح مقبول نہیں جب تک کسی منصف اور معتبر امام صاحبؒ سے اس کی تصدیق موجود نہ ہو اعلاء السنن میں ہے: فمن المتشددین ابو حاتم و النسائی و ابن معین و فانھم معرفون بالاسراف فی الجرح والتغت فیه۔

(مقدمہ اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 110)

3: دار قطنی نے لکھا ہے: ابو حنیفة والحین بن عمارۃ ضعیفان محشی لکھتے ہیں: ضعفة النسائی من جھة حفظه۔

(سننِ دار قطنی مع شرح التعلیق المغنی: جلد، 1 صفحہ، 323 باب من کان له امام فقراة الام له قراءة)

لیکن دار قطنی کے مقابلے میں جو کہ امام صاحبؒ سے دو صدی بعد پیدا ہوئے۔

(امام ابو حنیفہؒ کو 150 ھجری میں شہید کر دیا گیا تھا اور دار قطنی 306 ھجری میں پیدا ہوئے)

ان حضرات کا قول زیادہ معتبر ہے جو امام صاحبؒ کے ہم عصر یا قریب العہد ہیں، جیسے: علی بن المدینی، یحییٰ بن معین وغیرہ ہم عنقریب ان حضرات کے اقوال نقل کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ شعبة بن حجاج جو نقد رجال میں متشدد ہے امام صاحبؒ کے بارے میں کہتے ہیں: کان واللہ حسن الفھم جید الحفظ۔

(الخیرات الحسان: صفحہ، 34)

اس صاف عبارت سے تمام متعصبین اور حاسدین کے اقوال ساقط ہو جاتے ہیں جو امام صاحبؒ کے حفظ پر اشکال کرتے ہیں۔

4: یہ بھی ہو سکتا ہے امام نسائیؒ نے حنفیہ کے بارے میں اور ارجاء کے اقوال سے متاثر ہو کر یہ فرمایا حالانکہ حنفیہ کی طرف ارجاء کی نسبت ایک بے اصل اور بے حقیقت بات ہے اس مسئلے کی تفصیل کتب فن میں موجود ہے ہم حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی تحقیق انیق پر اکتفاء کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ خوارجِ معتزلہ اور جمہور محدثین کے یہاں عمل ایمان کا جزء ہے البتہ مذاہب میں فرق یہ ہے کہ خوارج تارکِ عمل کو کافر کہتے ہیں اور معتزلہ کے ہاں نہ وہ مؤمن رہتا ہے نہ دائرہ کفر میں داخل ہوتا ہے یعنی یہ لوگ منزلہ بین المنزلتین کے قائل ہیں اور محدثین کے ہاں تارک عمل کافر نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے البتہ فاسق ہوتا ہے امام ابوحنیفہؒ اور اکثر فقہائے متکلمین اور مرجیہ کا مذہب یہ ہے کہ عمل جزء ایمان نہیں ہے فرق یہ ہے مرجیہ کے ہاں عمل کا ایمان میں کوئی دخل نہیں اور نہ ہی نجات کا دار و مدار عمل پر ہے اور امام ابوحنیفہؒ کے ہاں ایمان کے نشونما اور تقویت کے لیے عمل حد درجہ ضروری ہے اور اس کا تارک فاسق ہے تو ادنی تامل سے پتہ چلتا ہے کہ محدثین اور فقہاء کا اختلاف لفظی ہے اس لیے محدثین حضرات اگرچہ جزئیت کے قائل ہیں لیکن اس کے منکر کو کافر نہیں بلکہ فاسق کہتے ہیں اور فقہاء اگرچہ جزیت کے قائل نہیں ہیں لیکن عمل کا حد درجہ اہتمام کرتے ہیں اور اس کے تارے کو فاسق کہتے ہیں لہٰذا اگر ادنیٰ ملابسبت اور اشتراک کی بناء پر ارجاء کی نسبت ہماری طرف ہو سکتی ہے تو اعتزال کی نسبت بھی ان کی طرف ہو سکتی ہے اس لیے کہ وہ بھی معتزلہ کی طرح جزئیت کے قائل ہیں۔

(فیض الباری: جلد، 1 صفحہ، 53، 54)

5: امام ابو داؤدؒ نے فرمایا: رحم اللہ مالکا کان اماما رحم اللہ الشافعی کان اماما رحم اللہ ابا حنیفة کان اماما۔

(جامع بیان العلم: جلد، 2 صفحہ، 163)

محدثین کے ہاں لفظ امام بہترین اور جامع اور ترین الفاظ میں سے ہے، یحییٰ بن معین کا قول ہے: کان ابو حنیفة ثقة لا یحدث بالحدیث الّا بما یحفظ ولا یحدث ما لا یحفظ۔

امام جرح و تعدیل یحییٰ القطان فرماتے ہیں:

لا نکذب الله ما سمعنا احسن من رای ابی حنیفة وقد اخذنا من باکثر اقواله۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 6 صفحہ، 395)

علی بن مدینی نے فرمایا ہے:

(تہذیب الکمال: جلد، 29 صفحہ، 433)

ابو حنیفة روی عن الثوری وابن المبارک وھو ثقة لا بأس به۔

(مقدمه اعلاء السنن: صفحہ، 197 التعلیق المغنی علی سنن دار قطنی: جلد، 1 صفحہ، 324)

اسی طرح یحییٰ بن معینؒ نے بھی فرمایا: لا بأس به اور یہ جملہ توثیق کے لئے استعمال ہوتا ہے یحییٰ بن معین کا ہی قول ہے: اذا قلت لا بأس به فھو ثقة۔

(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 343)

اعلاء السنن کے محشی لکھتے ہیں: ثم انه لاخصوصيته لابنِ معين بهذا الاستعمال بل هو تعبير منتشر فی الكلام المتقدمين من امثال ابن معين وابن المدينی وغيرهم۔

(مقدمه اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 152 من افادۃ الشیخ ابو الفتاح ابوغدۃ)

بہتر توجیہ اس کی یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ امام نسائیؒ نے مصر میں امام طحاویؒ سے ملنے کے بعد امام اعظمؒ کے بارے میں اپنے قول و تشدد سے رجوع کیا ہے۔

(حضرت مولانا عبدالرشید نعمانیؒ لکھتے ہیں: كان النسائیؒ يسال عن الطحاویؒ عن الاحاديث و الطحاویؒ ايضاً قد تلمذ على النسائی، واخذ عنه ما تمس الیه الحاجة: صفحہ، 27)

اس کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ وہ ایک روایت امام صاحبؒ کی اپنی کتاب میں لائے ہیں۔

(محولہ بالا)

تصانیف:

امام نسائیؒ نے کافی تعداد میں چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں ہیں جن کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:

1: سننِ کبریٰ

2: المجتبیٰ جو سننِ صغریٰ سے مشہور ہے 

3: کتاب الاعراب 

4: خصائص علی بن ابی طالب 

5: فضائل القرآن 

6: عمل الیوم والیلة 

7: فضائل الصحابة 

8: مناسک حج 

9: کتاب الجمعۃ 

10: الکنی 

11: الضعفاء والمتروکین 

صفحہ 4 از 6