تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 5 از 6

12: التسمیة من لم یروعنه غیر راو واحد 

13: فقھاء الامصار 

14: ذکر من حدث عنه ابن ابی عروبة ولم یسمع منه 

15: کتاب الطبقات 

16: التمیز 

17: معجم الشیوخ النسائی 

18: معرفة الاخوۃ والاخوات من العلماء والرواۃ 19: الجرح والتعدیل 

20: شیوخ الزھری 

21: جزء من حدیث عن النَّبِیﷺ  

22: مجالس حدیث  املائته 

23: مسند منصور بن زادن الواسطی 

24: مسند علی بن ابی طالب 

25: مسند حدیث فضیل بن عیاض و داؤد الطائی 

26: مسند حدیث یحییٰ بن سعید القطان 

27: مسند حدیث ابنِ جریحؓ 

28: مسند حدیث انس بن مالکؓ 

29: مسند حدیث الزھری 

30: مسند حدیث شعبة بن حجاج بن الورد 

31: مسند حدیث ابن سعید الثوری۔

(دیکھیے مقدمہ سننُ الکبریٰ: صفحہ، 20 تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 6)

وجہ تصنیف:

امام نسائیؒ سننِ کبریٰ کی تصنیف سے فارغ ہوئے تو اس کو امیر رملہ کی خدمت میں پیش کیا اس نے پوچھا: اصحّ كلّه؟ کیا اس کی تمام روایات صحیح ہیں امام صاحبؒ نے فرمایا: نہیں تو امیر نے درخواست کی کہ فکتب لنا منه الصحیح۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 131 کشف الظنون: جلد، 2 صفحہ، 1006 الحطه: صفحہ، 254 جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 197 بستان المحدثین: صفحہ، 296)

اس کتاب کی صحیح روایات ہمارے لیے لکھ دیں تو امام صاحبؒ نے صحیح روایات کو الگ کر کے کتاب "المجتبیٰ" تصنیف فرمائی، نون کے ساتھ ہے لیکن مشہور پہلا قول ہے اگرچہ دونوں لفظ قریب المعنیٰ ہیں کیونکہ الاجتباء کے معنیٰ ہیں انتخاب کرنا۔

(فی المعجم الوسیط اجتباہ ای اختارہ، واصطفاء لنفسه وفی التنزیل العزیز وکذلك یجتبیك ربك المعجم الوسیط: جلد، 1 صفحہ، 106)

اور اجتناء کا معنیٰ ہے درخت سے پھل چنا۔

(معجم الوسیط میں لکھا ہے: اجتنی الثمرۃ ونحوھا جناھا وقال قبل ھذا جنی الثمرۃ ای تناولھا من منبتھا: جلد، 1 صفحہ، 141)

اس واقعہ کے پیشِ نظر جمہور محققین نے فرمایا: "المجتبیٰ'' جو سننِ صغریٰ کے نام سے مشہور ہے امام نسائیؒ کی تصنیف ہے صاحبِ کشف الظنون ،ابن الاثیر، ملاعلی قاریؒ، حضرت شاہ عبدالعزیزؒ، صدیق حسن خان، وغیرہ اسی کو راجح قرار دیتے ہیں،

(کشف الظنون: جلد، 2 صفحہ، 1006 جامع الاصول: جلد، 1 صفحہ، 197 والمرقاۃ: جلد، 1 صفحہ، 25 بستان المحدثین: صفحہ، 269 والحطة فی ذکر صحائح سته: صفحہ، 245)

 لیکن علامہ ذہبیؒ اس کے متعلق لکھتے ہیں: ھذا لم یصح، بل مجتبیٰ اختیار ابن السنی۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 131)

 یہ خبر قابلِ اعتبار نہیں سننِ صغریٰ درحقیقت امام نسائیؒ کے شاگرد ابن السنی کی انتخاب کردہ احادیث کا مجموعہ ہے۔ 

البتہ صاحب الیانع الجنی نے تطبیق کی یہ صورت نکالی ہے کہ ابن السنی نے سننِ کبریٰ کا اختصار امام نسائیؒ کے حکم اور ان کی زیرِ نگرانی کیا ہے۔

(الیانع الجنی علی سنن النسائی)

لہٰذا دونوں کی طرف نسبت صحیح ہے، یہ بات یاد رہنی چاہیئے کہ محدثین کے ہاں جب کہا جاتا ہے کہ رواہ النسائی یا اخرجہ النسائی تو اس سے امام نسائی رحمۃاللہ کی کتاب "سننِ صغریٰ" مراد ہوتی ہے اسی طرح صحاحِ سته میں جو کتاب داخل ہے وہ سنن الصغریٰ المجتبیٰ ہی ہے۔

(کشف الظنون: جلد، 1 صفحہ، 1006 الحطه: صفحہ، 254)

البتہ بعض حضرات 

(ذکرہ الدکتور بشار عواد فی تعلیقاتیہ علی تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ ،328)

نے لکھا ہے کہ علامہ منزریؒ مختصر سننِ ابی داؤد میں اور حافظ مزی اپنی کتاب الاطراف میں جہاں اخرجہ النسائی کہتے ہیں اس سے سننِ کبریٰ مراد ہوتی ہے نہ کہ سننِ صغریٰ۔

سنن کبریٰ اور سنن صغریٰ میں فرق:

امام نسائیؒ کی ان دونوں کتابوں میں کئی اعتبار سے فرق ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

1: سننِ کبریٰ کے تقریباً 22 باب سننِ صغریٰ میں نہیں ہیں ان کی تفصیل یہ ہے:

كتاب الاعتكاف، كتاب العتق، المواعظ، احياء الموات، العارية والوديعة، الصوال، اللقطة، الركاز، العلم، الفرائض، الوليمة، الوفاة، الرجم، الطب، التعبير، النعوت، فضائل القرآن، المناقب، الخصائص، السيرة، عمل اليوم والليلة،التفسير۔

2: سننِ کبریٰ میں بہت سارے طرق و متابعات ہیں لیکن سننِ صغریٰ میں نہیں ہیں۔

3: سننِ کبریٰ کے بعض تراجم ابواب سننِ صغریٰ میں نہیں اور بعض تراجم کو کافی مختصر کر کے سننِ صغریٰ میں لایا گیا ہے۔

4: سننِ صغریٰ کی بعض روایات کے آخر میں کچھ تشریحی جملے ملتے ہیں جو کہ سننِ کبریٰ میں نہیں ہیں۔

(تفصیل کے لئے دیکھیے: مقدمہ السنن الکبریٰ: جلد، 1 صفحہ، 5 دار الکتب العلمیة، بیروت)

صاحبِ عون المعبود نے لکھا ہے: كل حديث هو موجود فی السنن الصغرىٰ يوجد فی السنن الكبرىٰ لا محالة من غير عكس۔ 

(مقدمہ السنن الکبریٰ: جلد، 1 صفحہ، 8)

لیکن یہ قول صحیح نہیں، بعض احادیث سننِ صغریٰ میں ہیں لیکن سننِ کبریٰ میں موجود نہیں ہیں، مثلاً درج ذیل روایت: أخبرنا محمد بن سلمة والحارث بن مسكين قراءة عليه وأنا أسمع واللفظ له عن ابن القاسم قال: حدثنی مالك عن إسحاق بن عبدالله بن أبی طلحة عن رافع بن اسحاق أنه سمع أنا أيوب الأنصاری وهو يعصر يقول: والله ما أخرى كيف اصنع بهذه الكرايس وقد قال رسول الله ﷺ من ذهب إحدكم إلى الغائط أو البول فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها اس سند کے ساتھ سننِ کبریٰ میں نہیں ملتی ہے۔

(دیکھیے مقدمہ السنن الکبریٰ: جلد، 1 صفحہ، 8)

سنن نسائی کی اہمیت اور خصوصیات:

سننِ نسائی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ امام نسائیؒ نے امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کے طرزِ تالیف و تصنیف کو دیکھ کر اپنی کتاب مرتب فرمائی ہے اور اس لیے وہ شیخین کے طریقے کا خاص خیال کرتے ہیں۔

چنانچہ امام بخاریؒ کے طریقے کو مدِنظر رکھتے ہوئے مسائل متعددہ کو ثابت کرنے کے لیے ایک روایت کو کئی جگہوں میں لاتے ہیں اور امام مسلمؒ کی طرح احادیث کے طرق مختلفہ کی وضاحت کر کے اختلاف الفاظ کو بھی بیان کرتے ہیں ابنِ رشید کا قول ہے:

(یہ محمد بن عمر بن محمد ابو عبدالله الفیری البستی ہیں جو کتاب السنن الأمين فی المحاكمة بين البخاری و مسلم اور الرحلة المترقبہ کے مصنف ہیں، انتقال 21 ھجری میں ہوا)

وهو جامع بين طريقتی البخاری و مسلم مع حظ كثير من بيان العمل۔

(انکث علی کتاب ابن اصلاح: جلد، 1 صفحہ، 484) 

صفحہ 5 از 6