تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 6 از 6

اس سے معلوم ہوا کہ امام نسائیؒ علل پر بھی کافی بحث کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو عللِ حدیث میں مہارت کاملہ حاصل تھی، علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: هو حار فی مضمار البخاری وأبی زرعة۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 133)

اسی طرح امام نسائیؒ مشتبہ ناموں اور مشکل الفاظ کی توضیح، مرسل و متصل ہونے اور راویوں پر جرح وقدح کرنے کا خیال خاص رکھتے ہیں، حدیث کی صحت و سقم کی وضاحت بھی کرتے ہیں، البتہ بعض جگہیں ایسی ہیں کہ جہاں انہوں نے سننِ کبریٰ کے خلاف قول کیا ہے، مثلاً حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ: صلوة الليل والنهار مثنىٰ مثنیٰ، کے بعد فرماتے ہیں: هذا الحديث عندى خطاء۔

(سننِ نسائی: باب کیف صلوة اللیل، جلد، 1 صفحہ، 246)

اور سننِ کبریٰ میں فرمایا ہے: اسنادہ جید۔

(ذكره الحافظ ابنِ حجرؒ فی تلخيص الحبير باب صلوة التطوع: جلد، 2 صفحہ، 22 و ما وجدت الحديث بھذا السقط فی السنن الکبریٰ، والله اعلم)

سننِ نسائی میں ایک اعشاری روایت بھی ہے یعنی اس میں مصنف اور جناب رسول اللہﷺ کے درمیان دس واسطے ہیں، امام نسائیؒ فرماتے ہیں: ما أعرف إسناداً أطول من هذا۔

(کتاب افتتاح باب الفضل فی قراءۃ قل هو الله احد، سنن النسائی: جلد، 1 صفحہ، 155)

شرائط:

1: ان احادیث کی تخریج جو صحیحین میں موجود ہوں۔

2: یا صحیح علی شرط الشیخین ہوں۔

3: امام ابو داؤدؒ کی طرح امام نسائیؒ بھی حدیث ضعیف کو رائے اور قیاس پر ترجیح دیتے ہوں اگر کسی مقام پر صحیح حدیث نہ ملے تو ضعیف روایت نقل کر کے ضعف بھی بیان کر جاتے ہیں، ابنِ حجرؒ نے امام نسائیؒ کا قول نقل کیا ہے: لايترك الرجل عندى حتى يجتمع الجميع على تركه، پھر اس جملہ کی تشریح کرتے ہوئے حافظ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ دراصل ناقدین کے چار طبقے ہیں اور ہر طبقے میں متشدہ اور متوسط دونوں قسم کے ناقد ملتے ہیں تو امام نسائیؒ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف متشددین کی توثیق و تضعیف پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ متوسطین کی رائے کا بھی خیال رکھتے ہیں، لہٰذا معلوم ہوا کہ لفظ يجتمع الجميع سے اجماعِ عام مراد نہیں بلکہ اجماعِ خاص مراد ہے، پھر آگے لکھتے ہیں کہ اس تفصیل سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نقد رجال کے سلسلے میں امام نسائیؒ کے مذہب میں کچھ توسع ہے حالانکہ ایسا نہیں، بہت سارے ایسے راوی ہیں جن کی روایت ابوداؤدؒ اور ترمذیؒ نے نقل کی ہے لیکن امام نسائیؒ نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔

(تفصیل کے لیے دیکھیے النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 292)

اس پر کئی شواہد ہیں، مثلاً:

1: امام نسائیؒ خود فرماتے ہیں: کہ جب میں نے سنن کی تالیف کا ارادہ کیا تو وہ شیوخ جن کے بارے میں میرے دل میں شبہ تھا ان کی روایات اور اسنادِ عالیہ کو چھوڑ کر مجھے اسنادِ نازلہ پر اکتفاء کرنا پڑا۔

(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 483 شروط الائمه الابن طاہر المقدسی، المطبوع مع سنن ابن ماجہ: صفحہ، 72) 

2: ابوالفضل بن طاہر کہتے ہیں کہ میں نے کسی راوی کے بارے میں سعد بن علی سے سوال کیا تو انہوں نے اس کی توثیق کی، میں نے کہا کہ نسائی تو اس کی روایت سے استدلال نہیں کرتے سعد نے کہا کہ عبد الرحمٰن نسائی بعض شرائط میں شیخین سے بہت زیادہ سخت ہیں۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 113  تذکرہ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 700)

3: دار قطنی کے استاد احمد بن نصر (متوفی 323ھ) کہتے ہیں کون اخذ حدیث میں امام نسائیؒ کی طرح احتیاط سے کام لے سکتا ہے؟ ابن لھیعہ کی تمام روایات ان کے پاس موجود تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے ابن لہیعہ سے ایک روایت بھی نہیں لی۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 14 صفحہ، 130  تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 335 تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 700)

سنن نسائی پر صحت کا اطلاق:

امام نسائیؒ کا اپنا قول ہے: کتاب السنن كله صحيح وبعضه معلول إلا أنه لم يبين عليه والمنتخب المسمى بالمجتبٰى صحيح كله۔

(دیکھیے زهر الرابی علی المجتبیٰ المطبوع سنن النسائی: جلد، 1 صفحہ، 3)

اس سے پہلے ہم بیان کر آئے ہیں کہ امام نسائیؒ نے رملہ کے امیر کی درخواست سننِ کبریٰ کی احادیثِ صحیحہ کو الگ کر کے المجتبیٰ  کی تصنیف فرمائی ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری سننِ نسائی صحیح ہے، اسی طرح خطیب بغدادی، ابو طاہر سلفی، ابوعلی نیشاپوری، دار قطنی وغیرہ نے بھی سننِ نسائی پر صحیح کا اطلاق کیا ہے۔

(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ، 25 النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 381)

دوسری طرف ابن الصلاح نے فرمایا کہ یہ فیصلہ نظر سے خالی نہیں لان فیه أحاديث ضعيفة و معلقة ومنكرة۔

(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ، 25)

اس اختلاف اقوال کو علامہ زرکشی اس طرح رفع دفع فرماتے ہیں: وتسمية الكتب الثلثة (وأعنى كتاب النسائی وأبی داؤد والترمذی) صحاحاً، إما باعتبار الأغلب لأن عليها الصحاح والحسان وهی ملحقة بالصحاح والضعيف فيها التحق بالحسن، فإطلاق الصحة عليها من باب التغليب۔ 

(زہر الربی المطبوع مع سنن النسائی: جلد، 1 صفحہ، 3)

علامہ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں: 

وفى الجملة فكتاب السنن أقل الكتب بعد الصحيحين حديثاً ضعيفاً ورجلاً مجروحاً و يقاربه كتاب أبج داؤد و كتاب الترمذی ويقابله في الطرف الآخر کتاب ابنِ ماجه۔ 

(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 484)

شروح و تعلیقات:

سننِ نسائی کے صحاحِ ستہ میں داخل ہونے کے باوجود ائمہ فن کی طرف سے اس کا استقبال نہیں کیا گیا جس طرح کہ صحاحِ ستہ کی دوسری کتابوں کو استقبال اور تلقی بالقبول حاصل ہوا، علامہ سیوطیؒ نے اس پر ایک تعلیق لکھی ہے زهر الربی کے نام سے اس سے پہلے شیخ عمر بن ملقن نے سننِ نسائی کی ان احادیث کی نشاندہی اور تشریح کی جو صحاحِ ستہ کی دوسری کتابوں میں نہیں ہیں علامہ سندھیؒ نے بھی اس پر ایک تعلیق لکھی ہے جس میں الفاظ غریبہ کی تشریح اور ضروری مقامات کا حل موجود ہے۔

(کشف الظنون: جلد، 2 صفحہ، 1006)

حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کی بھی ایک تعلیق ہے جو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ مولانا خلیل احمدؒ اور مولانا یحییٰؒ کے افادات کا مجموعہ ہے.


صفحہ 6 از 6