تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبامام ابو داؤد رحمۃاللہ
ولادت 202ھ وفات 275ھ کل عمر 73 سال:
نسب و نسبت:
امام ابو داؤد رحمۃاللہ کے سلسلہ نسب میں کچھ اختلاف اور تقدیم و تاخیر ہے علامہ ابنِ حجر رحمۃاللہ تہذیب التہذیب میں علامہ ذہبی رحمۃاللہ سیر اعلام النبلاء میں اور حافظ جمال الدین رحمۃاللہ تہذیب الکمال میں عبدالرحمٰن بن ابی حاتم رحمۃاللہ کا قول نقل کرتے ہیں:
سليمان بن الأشعث بن شداد بن عمرو بن عامر۔
(دیکھیے تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 169 سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 203 تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 355)
خطیب نے تاریخ بغداد میں لکھا ہے: سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو بن عمران سمعانیؒ نے الانساب میں اور ابنِ خلکانؒ نے وفیات الاعیان میں اس کو اختیار کیا ہے۔
(تاریخ بغداد: جلد، 9 صفحہ، 55 الانساب: جلد، 3 صفحہ، 225 وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 404، تذکره الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 591)
ابنِ کثیرؒ کے نزدیک نسب یوں ہے: سليمان بن الاشعث بن اسحاق بن بشير بن شداد بن يحيىٰ بن عمران۔
(حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے تقریب میں اسی نسب کو ذکر کیا ہے، دیکھیے تقریب التہذیب: صفحہ، 250، البدايۃ والنہايۃ: جلد، 11 صفحہ، 54)
اور محمد بن عبد العزیز کا کہنا سليمان بن الأشعث بن بشير بن شداد۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 303 تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 355)
ان کے جد اعلیٰ عمران جنگِ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور اس میں مارے گئے۔
(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 355 تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 169)
امام ابو داؤدؒ کا تعلق چونکہ قبیلہ أزد سے ہے اس لیے آپ کو أزدی کہا جاتا ہے اور سجستان آپ کا مولد ہے، اس لیے سجستانی اور سجزی بھی کہا جاتا ہے سجستان کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ خراسان کے اطراف میں واقع ہے جیسے کہ صاحبِ معجم البلدان نے لفظ سجزی کے تحت لکھا ہے: سجز بكسر أوله و سكون ثانيه وآخره زاى اسم السجستان البلد المعروف فی أطراف خراسان۔
(معجم البلدان: جلد، 3 صفحہ، 189)
صاحب الانساب نے لکھا ہے: هی إحدى البلاد المعروفة بكابل۔
(الانساب: جلد، 3 صفحہ، 225)
علامہ یاقوت حموی نے محمد بن ابی نصر قل ھو اللہ احد خوان کا قول نقل کیا ہے: أبو داؤد رحمۃاللہ السجستانی الإمام هو من كورة بالبصرة يقال لها سجستان وليس من سجستان خراسان۔
(معجم البلدان: جلد، 3 صفحہ، 191)
اسی قول کو ابنِ خلکانؒ نے بھی قیل کے ساتھ ذکر کیا ہے، لکھتے ہیں: وقيل بل نسبته إلى سجستان أو سجستانة قرية من قرى البصرة والله أعلم۔
(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 405)
لیکن یہ قول ضعیف ہے ایک وجہ تو یہ ہے کہ محمد بن ابی نصرؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اہلِ بصرہ سے جستجو کی لیکن ان کو بصرہ میں اس نام کا کوئی مقام معلوم نہیں تھا۔
(معجم البلدان: جلد، 3 صفحہ، 192)
دوسری بات یہ ہے کہ حضرت مولانا شاہ عبد العزیزؒ فرماتے ہیں کہ ابنِ خلکانؒ نے تاریخ دانی اور انساب میں مہارت کاملہ رکھنے کے باوجود غلطی کی ہے اور شیخ تاج الدین سبکی نے بھی اس قول کو وہم قرار دیا ہے، وہ لکھتے ہیں: هذا وهم، والصواب انه نسبة الى الاقليم المعروف المتاخر لبلاد الهند یعنی یہ ان کا وہم ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ نسبت اس سرزمین کی طرف ہے جو ہند کے پہلو میں واقع ہے (یعنی سیستان کی طرف نسبت ہے) جو سندھ اور ہرات کے مابین مشہور ملک اور قندھار کے متصل واقع ہے۔
(بستان المحمدثین: صفحہ، 283)
بہر حال یہ قول ضعیف تو ہے لیکن اس کو ابنِ خلکانؒ کا قول قرار دینا اور ان کی غلطی کہنا ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے پہلے اس قول مشہور کو نقل کیا ہے پھر اس قول ضعیف کو لفظ قیل کے ساتھ لکھا ہے۔
(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 405)
پہلے زمانہ میں بست شہر اس ملک کا پایۂ تخت تھا چشت جو بزرگان چشتیہ کا وطن رہا ہے اسی ملک میں واقع ہے، عرب لوگ اس ملک کی نسبت میں کبھی سجزی بھی کہہ دیتے ہیں۔
(بستان المحدثین: صفحہ، 284)
پیدائش:
امام ابو داؤد رحمۃاللہ 202ھ میں سیستان میں پیدا ہوئے، وہ خود فرماتے ہیں: ولدت سنة اثنتين (و مئتين)
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 204)
ابتداء تحصیل علم اور علمی رحلات:
ابتداء تحصیلِ علم کے بارے میں کسی نے کوئی قول نقل نہیں کیا ہے، البتہ امام ابو داؤدؒ خود فرماتے ہیں: دخلت الكوفة سنة إحدى وعشرين اسحاق بن ابراہیم کا بیان ہے کہ میں نے امام صاحب سے 220ھ میں دمشق میں حدیث سنی۔
(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 366)
جس کا مطلب ہے کہ امام صاحب نے 20 سال کی عمر سے کافی پہلے تعلیم کی ابتداء کر کے علمی سفر شروع فرمایا تھا اور مختلف بلادِ اسلامیہ کا سفر کیا تھا جن میں مصر، حجاز، شام، عراق، خراسان، جزیرہ اور شعر شامل ہیں۔
(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 356 تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 591)
بعض اسفار میں آپ کے بڑے بھائی محمد بن الاشعث بھی ہمسفر رہے اور امام صاحب سے کچھ مدت پہلے وفات پا گئے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 221)
مشائخ:
آپ کے اساتذہ بیشمار ہیں
(حافظ ابنِ حجرؒ کہتے ہیں: امام ابوداؤدؒ کی تصانیف میں تقریباً تین سو اساتذہ کے نام ملتے ہیں: دیکھیے تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 172)
چنانچہ مکہ میں قعنبی اور سلیمان بن حرب، بصرہ میں مسلم بن ابراہیمؒ اور ابو الولید طیالسیؒ وغیرہ، کوفہ میں حسن بن ربیع بورانیؒ اور احمد بن یونسؒ یربوعی وغیره، حران میں ابو جعفر نفیلیؒ وغیرہ، حلب میں ربیع بن نافعؒ، حمص میں حيوة بن شریحؒ اور یزید بن عبدربہؒ، دمشق میں صفوان بن صالحؒ اور ہشام بن عمارؒ، خراسان میں اسحاق بن راہویہؒ وغیرہ، بغداد میں احمد بن حنبلؒ وغیرہ، بلخ میں قتیبہ بن سعیدؒ، مصر میں احمد بن صالحؒ، اسی طرح آپ نے علی بن المدینی علی بن الجعد محمد بن المنہال، یحییٰ بن معین وغیرہ سے بھی استفادہ کیا ہے، اس مختصر فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سے شیوخ میں امام بخاریؒ کے ساتھ شریک ہیں اسی طرح اپنے استاذ احمد بن حنبلؒ کے بعض اساتذہ سے بھی مستفید ہوئے ہیں، جیسے ابو الولید ہشام بن عبد الملک طیالسی وغیره۔ (تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 359)
تلامذہ:
آپؒ کے تلاندہ میں امام ترمذیؒ اور امام نسائیؒ سر فہرست ہیں، امام نسائیؒ کتاب الکنی میں امام ابو داؤدؒ سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح سلیمان بن حرب نفیلیؒ، عبدالعزیز بن یحییٰ المدنی علی بن المدینیؒ، عمرو بن عونؒ، مسلم بن ابراہیمؒ، ابوالولید طیالسیؒ کے طریق سے امام نسائیؒ ابوداؤدؒ کی روایت لاتے ہیں اور ظاہراً ان تمام روایات میں امام ابوداؤدؒ سے مراد صاحبِ سنن، امام ابوداؤدؒ سجستانی ہی ہیں، اگرچہ امام نسائیؒ عموماً ابو داؤد سلیمان بن یوسف عبداللہ حرانیؒ سے روایت کرتے ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 207، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 361، تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 171)
ان کے علاوہ امام ابو داؤدؒ کے صاحبزادے ابو بکر بن ابی داؤدؒ بھی اپنے والد ماجد سے اور اپنے چچا محمد سے روایت کرتے ہیں۔
(دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 206، 221)
ابوبکرؒ اپنے زمانے کے بڑے محدثین میں سے تھے، علامہ ذہبیؒ میزان الاعتدال میں ان کو الحافظ الشقہ کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں، امام ابو داؤدؒ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: ابنی عبدالله کذاب علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں: وأما كلام أبيه فيه فلا أدرى أيش تبين له منه۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 228، میزان الاعتدال:جلد، 2 صفحہ، 433)
صاحبزادہ کے علاوہ ابن الاعرابی اور ابنِ دامسہ بھی امام صاحب کے ان تلامذہ میں سے ہیں جو اپنے فن میں انتہاء اور کمال کو پہنچے، ہم ان حضرات کے مختصر حالات سنن ابو داؤد کے رواۃ میں بیان کرینگے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
وفات:
امام ابو داؤدؒ ابنِ خلیفہ کی درخواست پر بصرہ تشریف لے گئے
(اس پر تفصیلی بحث آگے آئے گی)
اور وہیں رہائش پذیر ہوئے اور 16 شوال 275ھ میں انتقال فرما گئے۔
(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 367، سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 221، تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 593 وفيات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 405)
انتقال سے پہلے انہوں نے وصیت کی تھی کہ مجھے حسن بن مثنیٰؒ غسل دیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو سلیمان بن حربؒ کی کتاب سے سمجھ کر غسل دیا جائے، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 173)
نماز جنازہ عباس بن عبدالواحد نے پڑھائی۔
(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 367، تاریخ بغداد: جلد، 9 صفحہ، 59)
اور حضرت سفیان ثوریؒ کے پہلو میں آرام فرما ہوئے۔
(البدايہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 55)
زہد و تقویٰ اخلاق و عادات اور امام ابو داؤد رحمۃاللہ کی شخصیت دوسرے علماء کی نظر میں:
امام صاحبؒ ہمیشہ پر تکلف زندگی سے دور اور سادگی کے خوگر تھے، کہا جاتا ہے کہ قمیص کی ایک آستین کو کشادہ، اور دوسری کو تنگ رکھا کرتے تھے، اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا گشادہ آستین میں اپنے کاغذات رکھتا ہوں اور دوسری کو کشادہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 405، تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 593)
ایک مرتبہ سہل بن عبد اللہ
(یہ ابومحمد سہل بن عبداللہ بن یونس تستری ہیں جو اکابر صوفیاء میں سے تھے، حج کے موقع پر ذوالنون مصری سے ملاقات کر کے ان کی صحبت سے مستفید ہوئے دیکھیے۔ شذرات الذہب: جلد، 2 صفحہ، 182، وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 429، سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 230)
آپ کے پاس آئے اور کہا مجھے آپ سے کام ہے اگر پورا کرنے کا وعدہ کریں تو بتاؤں گا فرمایا: قد قضيتها مع الامکان ممکن ہوا تو پورا کروں گا، کہا میں چاہتا ہوں کہ جس زبان مبارک سے آپ حدیثِ رسول اللہﷺ پڑھتے ہیں اسے بوسہ دوں، چنانچہ آپ نے زبان باہر نکالی اور انہوں نے بوسہ دیا۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 214، وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 404، مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 23، تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 172، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 366)
آپ کے خادم ابوبکر بن جابرؒ کا بیان ہے کہ میں امام صاحب کے ساتھ بغداد میں تھا، مغرب کی نماز ہو چکی تھی کہ ابو احمد الموفق۔
(هو ولى عهد المؤمنين، الأمير المؤفق، أبو أحمد طلحة بن جعفر المتوكل على الله ومنهم من سماه محمداً ولد 229ھ ومات 287 تاریخِ بغداد: جلد، 2 صفحہ، 127 سير أعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 169 شذرات الذہب: جلد، 2 صفحہ، 182)
آپ کے پاس آیا امام صاحب نے فرمایا: اس وقت کس کام کے لیے آنا ہوا؟ کہا تین درخواستیں لے کر حاضر ہوا ہوں، فرمایا وہ کونسی؟ کہا ایک تو یہ کہ آپ بصرہ تشریف لائیں تا کہ بصرہ اور قرب و جوار کے اہلِ علم آپ سے علمی استفادہ کر سکیں، فرمایا منظور ہے، کہا دوسری یہ کہ آپ میری اولاد کو سننِ ابو داؤد پڑھائیں، فرمایا کہ یہ بھی منظور ہے، کہا تیسری یہ کہ میری اولاد کے لیے الگ مجلس درس رکھیں، امام صاحب نے فرمایا کہ یہ منظور نہیں، کیونکہ تحصیل علم میں سب برابر ہوتے ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 212، مقدمه تحفة الاحوذی: صفحہ، 24)
محمد بن اسحاق صاغانی اور ابراہیم حربی کہتے ہیں: لما صنف ابو داود كتاب السنن ألين لابی داؤد الحديث كما ألين لداؤد الحديد۔ (تہذیب التہذیب: جلد، 2 صفحہ، 172، سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 212، تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 593، البدايۃ والنہايۃ: جلد، 11 صفحہ، 55)
اسی مضمون کو حافظ ابو طاہر سلفی شعر کے پیرایہ میں یوں بیان کرتے ہیں:
لان الحديث وعلمه بكماله
لامام اهله أبی داؤد
مثل الذی لان الحديد
لنبی اهل زمانه داؤد
(مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 64)
محمد بن مخلد کا بیان ہے کہ جب امام صاحب نے سنن کی تصنیف فرمائی تو قرآن کی طرح آپ کی کتاب بھی مرجع تقلید بن گئی
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ 212، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 365)
حافظ موسیٰ بن ہارون کہتے ہیں: خلق أبوداؤد فی الدنيا للحديث، وفی الآخرة للجنة۔
(دیکھیے محولہ بالا)
ابو عبد اللہ حاکم نے امام صاحب کے بارے میں کہا: آپ بغیر کسی نزاع کے اپنے زمانے میں علم حدیث کے امام ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 212، تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 592)
ابو عبداللہ بن مندہ کہتے ہیں: جن حضرات محدثین نے احادیث صحیحہ اور غیر صحیحہ کی نشاندہی کی ہے وہ چار ہیں امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، امام ابو داؤدؒ اور امام نسائیؒ (تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 172، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 365)
ابوبکر خلال کا بیان ہے: ابو داؤد الإمام المقدم فی زمانه، رجل لم يسبقه إلى معرفته بتخريج العلوم، ونصره بمواضعه أحد فی زمانه۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 171، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 364، البدايہ والنہایہ: جلد، 2 صفحہ، 592 سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 211)
ایک دن دورانِ درس ایک ساتھی آپ کے پاس آیا اور آپ سے قلم کی روشنائی مانگی استمد من هذه المحبرة؟ کیا اس دوات سے استفادہ کر سکتا ہوں؟ امام صاحب نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: جو اپنے بھائی کے مال کو اجازت لے کر استعمال کرنا چاہے تو وہ شرم کے مارے محروم رہ جاتا ہے اس دن سے آپ کو دانشمند کہا جانے لگا۔
(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 405)
بعض اہلِ علم کہتے ہیں کہ امام ابو داؤدؒ خصائل و شمائل میں امام احمد بن حنبلؒ کے مشابہ تھے اور امام احمد بن حنبلؒ وکیعؒ کے اور وہ حضرت سفیان ثوریؒ کے اور وہ امام منصورؒ کے اور وہ ابراہیم نخعیؒ کے اور وہ علقمہؒ کے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جناب رسول اللہﷺ کے مشابہ تھے
(البدايہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 55، تذكرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 592 سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 212)
اور امام ابو داؤدؒ کے لیے سب سے زیادہ قابلِ فخر بات یہ ہے کہ ان کے استاد احمد بن حنبلؒ بھی ان سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں، قال الحافظ ابن كثير: هو مارواه أبوداؤد من حديث حماد بن سلمة عن أبی معشر الدارمی عن أبيه أن رسول اللهﷺ سئل عن العتيرة فحسنها (البدايہ والنہایہ: جلد، 1 صفحہ، 55، تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 364، تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 171)
امام ابو داؤدؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں امام احمد بن حنبلؒ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں ابو جعفر بن ابی سمیہ بھی موجود تھے، امام صاحب نے ابوجعفر سے فرمایا کہ ابو داؤد کے پاس ایک غریب حدیث ہے اس سے لکھ لو تو میں نے ابوجعفر کو بھی لکھوائی۔
(تاریخ بغداد: جلد، 9 صفحہ، 57)
امام ابوداؤد رحمۃاللہ بحیثیت فقیہ:
امام ابو داؤد رحمۃاللہ علم حدیث میں مہارت تامہ کاملہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے بڑے فقہاء میں سے بھی تھے، ابنِ خلکان فرماتے ہیں کہ شیخ ابو اسحاق شیرازیؒ نے امام صاحب کا نام طبقات الفقہاء میں ذکر کیا ہے
(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 404)
اسی طرح ابو حاتم بن حبانؒ کا بیان ہے: ابو داؤدؒ أحد أيمة الدنيا فقها۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 212)
علامہ ذہبیؒ سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں: کان أبوداؤد مع إمامته فی الحديث وفنونه من كبار الفقهاء فكتابه يدل على ذلك۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 215)
مسلک:
امام ابو داؤدؒ کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ وہ حنبلی ہیں، علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: وهو من نجباء أصحاب الإمام احمد لازم مجلسه مدة (سیر: جلد، 13 صفحہ، 215)
ابنِ ابی یعلیٰؒ نے ان کو طبقات الحنابلہ میں ذکر کیا ہے۔
(ماتمس اليه الحاجة: صفحہ، 26)
اسماعیل پاشا بغدادیؒ نے ہدیۃ العارفین میں ان کو جنبلی لکھا ہے۔
(ہدية العارفين: جلد، 1 صفحہ، 395)
علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے بھی ان کو حنبلی قرار دیا ہے۔
(فیض الباری: جلد، 1 صفحہ، 58 العرف الشذی: 2)
ابنِ خلکانؒ نے فرمایا ہے کہ ابو اسحاق شیرازیؒ نے اپنی تصنیف طبقات الفقہاء میں آپ کو احمد بن حنبلؒ کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔
(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 404)
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ نے بھی اس کو اختیار کیا ہے۔
(مقدمہ لامع الدراری: صفحہ، 71 )
تاج الدین سبکی اور نواب صدیق حسن خان نے ان کو شافعی کہا ہے (ما تمس اليه الحاجة لمن يطالع سنن ابن ماجه: صفحہ، 25، 26)
ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ مجتہد مطلق ہیں (یہ ابنِ تیمیہؒ کا قول ہے، دیکھیے توجیہ النظر: صفحہ، 185)
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ وہ مجتہد منتسب الی احمد و اسحاق ہیں
(یہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلویؒ کا قول ہے دیکھیے، ماتمس الیہ الحاجة: صفحہ، 26)
بعض متاخرین کے نزدیک یہ اہلِ حديث ہيں ليس بمجتهد ولا هو من المقلدين۔
(ماتمس اليه الحاجة: صفحہ، 27)
البتہ سنن ابی داؤد کے مطالعہ سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ رائج پہلا قول ہے، اس لیے کہ بہت سے مسائل میں امام ابو داؤدؒ نے ثابت و معروف روایات کے مقابلہ میں ان روایات کو اختیار فرمایا ہے جو امام احمدؒ کی تأیید میں ہیں۔
تالیفات:
امام صاحب نے اپنی زندگی میں مختلف کتابیں تصنیف فرمائی ہیں، جن کی فہرست درج ذیل ہے:
1: مراسیل
2: الرد على القدرية
3: الناسخ والمنسوخ
4: التفرد ما تفرد بہ اہل الامصار
5: فضائل انصار
6: مسند مالک بن انس
7: المسائل
(یہ ان سوالات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے اصول و فروع کے متعلق امام احمد سے کئے ہیں)
8: كتاب الزهد
9: دلائل النبوة
10: كتاب الدعاء
11: ابتداء الوحی
12: اخبار الخوارج
(تہذیب التہذیب: 1، 6، 4، 170، تقریب التہذیب: صفحہ، 76 هدية العارفین: جلد، 5 صفحہ، 395)
13: کتاب البعث
14: تسمية الاخوان
(الاعلام: جلد، 3 صفحہ، 122)
اور ان کی کتاب
15: السنن تو شہرہ آفاق ہے ہی۔
زمانہ تألیف:
یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا کہ امام صاحبؒ سنن کی تالیف سے کس سنہ میں فارغ ہوئے اس لیے کہ اس سلسلے میں کوئی صریح عبارت نہیں ملتی، البتہ اتنی بات یقینی ہے کہ امام صاحب نے تالیف کے بعد اپنی کتاب امام احمد بن حنبلؒ کے سامنے پیش کی تھی اور امام صاحب نے اسے بہت پسند فرمایا تھا۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 4 صفحہ، 171 تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 363)
امام احمد بن حنبلؒ کا سن وفات 241ھ ہے، اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ امام صاحبؒ 39 سال کی عمر میں سنن کی تالیف سے فارغ ہوئے تھے۔
تعداد روایات:
امام ابو داؤدؒ اپنے رسالے میں فرماتے ہیں کہ میں نے پانچ لاکھ احادیث کے مجموعہ سے چار ہزار آٹھ سو (4800) احادیث کا انتخاب کر کے سنن کو ترتیب دیا ہے۔
سننِ ابو داؤدؒ مطبوعہ بیروت کے مقدمہ میں ہے کہ یہ سن 35 کتابوں پر مشتمل ہے، تین کتابوں میں باب قائم نہیں کیا گیا ہے، باقی کتابوں میں 1871 باب ہیں اور کل احادیث 5274 ہیں اور یہ تعداد امام ابو داؤدؒ کی بیان کردہ تعداد روایات سے زیادہ اس لیے ہے کہ سننِ ابو داؤد کے نسخے تعداد روایات میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ بعض احادیث مکرر بھی ہیں، ہو سکتا ہے کہ جو تعداد امام ابو داؤدؒ نے بتائی ہے کسی ایک نسخہ کی روایات غیر مکررہ کی ہو۔
منتخبات:
امام صاحب فرماتے ہیں کہ مجموعہ احادیث میں سے چار احادیث انسان کے دین اور فلاح و کامیابی کے لیے کافی ہیں انما الاعمال بالنيات
(أخرجه ابو داود فی الطلاق: باب فيما عنى به الطلاق والنيات: جلد، 1 صفحہ، 300)
من حسن اسلام المر تركه ما لا يعنيه
(اخرجه الترمذى في جامعه فی كتاب الزهد وابن ماجه فی كتاب الفتن)
لا يكون المؤمن مؤمنا حتى يرضى لأخيه ما يرضى لنفسه۔
(بعض حضرات نے اس کی جگہ ازهد فی الدنيا يحبك الله کو ذکر کیا ہے۔ اخرجه ابن ماجه فی السنن فی كتاب الزهد)
الحلال بين والحرم بين، وبين ذلك أمور مشتبهات۔
(اخرجه البخاری فی الصحيح فی كتاب الايمان باب فضل من استبرأ لدينه: وفی كتاب المساقاة باب الحلال بين والحرام بين ومسلم فی الصحيح فی كتاب المساقاة باب أخذ الحلال وترك الشبهات)
لیکن علامہ ذہبی کو ان کی اس بات پر اشکال ہے اور وہ فرماتے ہیں: ھذا ممنوع بل يحتاج المسلم الى عدد كثير من السنن الصحيحة مع القرآن۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 210)
حضرت مولانا شاہ عبدالعزیزؒ ان کے رد میں فرماتے ہیں کہ اس بات کا مطلب یہ ہے کہ شریعت مطہرہ على صاحبها الصلاة والسلام کے قواعد کلیہ اور احکام مشہورہ کا علم حاصل ہو جانے کے بعد دوسرے اخلاقی و اصلاحی مسائل میں کسی مجتہد کی ضرورت نہیں رہتی، اس لیے کہ حدیث انما الاعمال بالنيات تمام عبادات و اعمال کی درستگی کے لیے کافی ہے اور دوسری حدیث سے وقت عزیز کی اہمیت اور حفاظت کی تاکید ظاہر ہوتی ہے، حدیث لا يكون المؤمن مؤمنا سے حقوق العباد کی رعایت اور پاسداری معلوم ہوتی ہے اور چوتھی حدیث تقویٰ و تشرع کی حفاظت اور اختلاف علماء کے حل کے لیے بہترین نسخہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہی چیز میں نجات کی کنجی ہیں۔
(بستان المحدثین: 282)
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا نور اللہ مرقدہ نے اوجز المسالک میں جامع اصول الاولیاء کے حوالے سے فرمایا کہ امام ابو داؤدؒ سے پہلے حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ نے بھی اپنے صاحبزادے حماد کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پانچ احادیث کو اپنی بنیاد بناؤ جن کو میں نے پانچ لاکھ احادیث سے منتخب کیا ہے، چار وہی ہیں جن کو امام ابو داؤدؒ نے ذکر فرمایا ہے اور ایک حدیث المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویدہ ہے حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے امام ابو داؤدؒ نے اس حدیث کو تیسری حدیث یعنی لا يكون المؤمن مؤمنا میں داخل فرمایا ہو کہ دونوں کا مضمون ایک ہے تو لہٰذا التعداد چار ہو گئی (اوجز المسالک: جلد، 14 صفحہ، 122 کتاب ما جاء فی حسن الخلق)
شرائط و خصوصیات:
1: ان احادیث کی تخریج جو صحیح علی شرط الشیخین ہوں۔
(شروط الائمه الستة مطبوع مع سفن ابنِ ماجه: صفحہ، 70)
2: ان رواۃ کی احادیث جن کے ترک پر اجماع نہ ہو۔
(مختصر سنن ابی داؤد للمنذری: صفحہ، 8)
3: موضوع، مقلوب یا مجہول روایت کو نہیں لیتے مگر بوقتِ ضرورت مثلاً اس باب سے متعلق کوئی صحیح روایت موجود نہ ہو یا خصم کی دلیل بیان کر کے اس پر جرح وغیرہ کرنی ہو، البتہ انہوں نے یہ التزام کیا ہے کہ اکثر مواضع میں اس حدیث کا سقم بیان کرتے ہیں۔
(معالم السنن للخطابی مطبوع مع مختصر سنن ابی داؤد: صفحہ، 11)
4: رواۃ کے طبقات خمسہ میں سے طبقہ اولیٰ، ثانیہ اور ثالثہ کی احادیث کو بالاستیعاب لاتے ہیں اور کبھی طبقہ رابعہ کی احادیث کو متابعات میں ذکر کرتے ہیں۔
(شروط الائمه الخمسه مطبوع مع سننِ ابن ماجہ: صفحہ، 80)
امام ابو داؤدؒ نے اہلِ مکہ کی درخواست پر ان کو ایک خط لکھ کر اس میں اپنی کتاب میں روایات کی نوعیت بیان فرمائی ہے۔
(خط کے تفصیلی مندرجات کے لیے دیکھیے: مقدمہ بذل المجهود: صفحہ، 35)
اس خط میں وہ لکھتے ہیں: ذکرت فیه الصحيح وما يشبهه ويقاربه ومافيه وهن شديد بينته، وما لا يفهم منه وما بعضه اصح من بعض۔
صدیق حسن خان اس عبارت کے متعلق لکھتے ہیں کہ اس میں حدیث کے ان اقسام کی طرف اشارہ ہے جو سنن ابو داؤد میں موجود ہیں۔
1: الصحیح یعنی صحیح لذاتہٖ
2: ما يشبهه يعنى صحيح لغيرهٖ
3: ما يقاربه يعنى حسن لذاتهٖ
4: مافيه وهن شديد یعنی قم بیان کرنے کے بعد
5: ما لا يفهم منه يعنى جس میں وطن شدید نہ ہو جب تک اس کا کوئی مؤید نہ ہو
6: اگر اس کی کوئی مؤید حدیث مل جائے تو وہ حسن لغیرہ بن جائے گی۔
(المحطة فی ذکر صحاح الستہ: صفحہ، 253)
5: امام ابو داؤدؒ کی عادت ہے کہ وہ اقدم کی روایت کو احفظ پر ترجیح دیتے ہیں چنانچہ اہلِ مکہ کی طرف ارسال کردہ خط میں لکھتے ہیں: فاعلموا أنه كذلك كله إلا أن يكون قدروى من وجهين إحدهما أقوى إسناداً، والآخر صاحبه أقدم فی الحفظ، فربما كتبت ذلك۔
6: کبھی طویل حدیث کو مختصر بیان کرتے ہیں تاکہ سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔
7: اختصار کے پیشِ نظر ترجمۃ الباب ثابت کرنے کے لیے ایک ہی حدیث پر اکتفا فرمایا کرتے ہیں اور کسی باب میں اگر ایک سے زیادہ حدیث لاتے ہیں تو کسی خاص فائدہ کے لیے اس خط میں ہے: وإذا أعدت الحديث فی الباب، من وجهين او ثلاثة مع زيادة كلام فيه، وربما فيه كلمة زائدة على الحديث الطويل لانی لو كتبته بطوله لم يعلم بعض من سمعه ولا يفهم موضع الفقه منه، فاختصرته لذلك۔
8: علامہ خطابیؒ فرماتے ہیں کہ اگر کسی مسئلے میں احادیث متعارض ہوں تو ایک باب قائم کرنے کے بعد دوسرے باب میں امام ابو داؤدؒ معارض حدیث کی تخریج کرتے ہیں۔ (شروط الأئمة الستة: صفحہ، 70 و شروط الأيمة الخمسة: صفحہ، 83 مطبوعه مع سنن ابنِ ماجه)
9: اقاویل ابو داؤدؒ بھی ان خصوصیات میں سے ہیں جس میں امام صاحب منفرد ہیں، مختصر اور بہترین انداز میں کبھی الفاظ حدیث میں رواۃ کے اختلاف یا تعدد طرق کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔
ضروری تنبیہ:
خصوصیات ابو داؤدؒ میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اول السنن ہے، یعنی کتب حدیث میں سنن سے متعلق سب سے پہلی کتاب جو لکھی گئی وہ سنن ابو داؤدؒ ہے، لیکن شیخ محمد بن جعفر الکتانی نے اس رائے سے اختلاف کیا ہے وہ الرسالۃ المتطرفہ میں لکھتے ہیں: قیل هو أول من صنف فی السنن، وفيه نظر يتبين مماياتی، مصنف نے کچھ صفحات کے بعد سنن امام شافعیؒ کا تذکرہ فرمایا ہے، امام شافعیؒ کی وفات 204ھ میں ہے جب کے امام ابو داؤدؒ کی ولادت 202ھ میں ہے تو مطلب یہ ہوا کہ سننِ امام شافعی پہلے ہے، لہٰذا سننِ امام ابو داؤدؒ کو اول السنن کہنا مخدوش ہے۔
(دیکھیے الرسالۃ المتطرفہ: 11، 29)
ماسکت عنہ ابوداؤد کی بحث:
امام ابو داؤدؒ تخریج روایات میں ایسے طریقے اختیار فرماتے ہیں کہ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ روایت کسی درجہ کی ہے، لیکن بعض مواقع پر ایسا ہوتا ہے کہ روایات نقل فرمانے کے بعد اس پر سکوت کرتے ہیں یعنی اس میں کسی قسم کا اضطراب بیان نہیں کرتے، اہلِ مکہ کی طرف ارسال کردہ خط میں وہ لکھتے ہیں: وما كان فی کتابی من حديث فيه وهن شديد، فقد بينته منه ما لا يصح سنده ومالم أذكر فيه شياً فهو صالح، وبعضها أصح من بعض۔
امام صاحب کا یہ آخری جملہ اور سنن میں ان کا یہ طریقہ کار ایک معرکۃ الآراء مسئلہ بن گیا ہے کہ جس حدیث پر امام صاحب سکوت فرماتے ہیں وہ کسی درجہ کی ہو گی؟
علامہ نوویؒ فرماتے ہیں کہ اس قول کے پیشِ نظر اگر امام صاحب کسی حدیث پر سکوت فرماتے ہیں اور دوسرے محققین نے بھی اس پر کوئی کلام نہیں کیا ہے تو وہ حدیث امام صاحب کے نزدیک حسن ہے۔
(تدریب الراوی فی شرح تقریب: جلد، 1 صفحہ، 167)
ابنِ حجرؒ نے فرمایا کہ نوویؒ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ جس حدیث پر امام صاحب نے سکوت فرمایا ہے، لیکن دوسرے محققین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے تو امام ابو داؤدؒ کے سکوت کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی بلکہ اس پر ضعیف کا حکم لگایا جائے گا، پھر ابنِ حجرؒ علامہ نوویؒ پر اعتراض کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگرچہ نوویؒ کا قول تحقیقی ہے لیکن وہ خود اپنے اس فیصلہ پر قائم نہیں رہے اور اپنی بعض تصانیف میں بہت کی احادیث کو صرف سکوت ابو داؤدؒ کی وجہ سے حسن کا درجہ دے دیا ہے، حالانکہ وہ حسن نہیں ہیں
(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 444)
مثلاً حدیث مسور بن یزید مالکی کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
رواه أبو داود بإسناد جيد ومذهبه أن مالم يضعفه فهو عنده حسن۔
(المجموع شرح المهذب للنووی، فرع مذاہب العلماء فی تلقين الامام: جلد، 40 صفحہ، 241)
حالانکہ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر کاہلی ہے جو کہ ضعیف ہے۔
(نسائی نے ان کو ضعیف اور حافظ ابنِ حجرؒ نے لین الحدیث کہا ہے، دیکھیے تقریب التہذیب: 595، ان کی حدیث کی تخریج امام ابو داؤد نے کتاب الصلاۃ باب الفتح على الامام میں فرمائی ہیں۔
ابنِ صلاح بھی علامہ نوویؒ کے قول کے موافق ہیں وہ لکھتے ہیں: فعلى هذا ما وجدناه فی كتابه مذكوراً مطلقاً وليس فی واحد من الصحيحين ولانص على صحته أحد ممن يميز عن الصحيح والحسن عرفناه بأنه من الحسن عند أبی داؤدؒ۔
(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 445)
لیکن ابنِ کثیرؒ نے ابنِ صلاح کے قول پر نکتہ چینی کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سنن ابو داؤد کے نسخے زیادہ ہونے کے ساتھ ان میں کافی فرق بھی ہے، بعض نسخوں میں بعض احادیث پر کلام موجود ہے، جبکہ دوسرے نسخوں میں نہیں، اسی طرح ابو عبیدہ آجری کے سوالات کے جواب میں بعض احادیث پر انہوں نے جرح فرمائی ہے حالانکہ ان روایات میں سے کچھ سنن میں بھی موجود ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ ابنِ صلاح کے اس قول: ما سكت عنه ابو داؤد فهو حسن عنده، سے سکوت مطلق مراد ہے یا صرف سنن میں سکوت مراد ہے ابنِ صلاح نے اس کی تصریح نہیں کی ہے۔
(اختصار علوم الحديث لابنِ كثير مع شرحه الباعث الحثيث لاحمد محمد شاکر: 34، 35)
علامہ عراقی نے اس اعتراض کا جواب یوں دیا ہے کہ امام صاحب ضعف شدید کے بیان کا اہتمام فرماتے ہیں اور یہ ہو سکتا ہے کہ سنن میں جن روایات پر انہوں نے سکوت کیا ہے اور دوسری تصانیف میں ان کو ضعیف قرار دیا ہے، ان میں ضعف شدید نہ ہو۔
(دیکھیے محولہ بالا)
علامہ سیوطیؒ نے فرمایا ہے کہ یہاں صالح سے مراد صالح للاحتجاج ہے جو صحیح اور حسن دونوں کو شامل ہے، لیکن احتیاطاً حسن مراد لیا جائے گا یا اس سے صالح للاعتبار مراد ہے تو اس صورت میں حدیث ضعیف کو بھی شامل ہوگا۔
(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 168)
محقق کوثری نے بھی انہی دو احتمالات کو بیان فرمایا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
فهو صالح اى للاعتبار أو للحجة، وتعيين أحدهما تابع للقرينة القائمة كما هو شان المشترك وادعاء أنه صالح للحجة تقويل لأبی داؤد مالم يقله۔
(دیکھیے تعلیقات استاد عبد الفتاح ابو غده بر اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 51)
ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ بعض نسخوں میں فهو صالح کے بجائے فهو حسن ہے۔
(اختصار علوم الحدیث: 34) اور حافظ صاحب فرماتے ہیں: فهذه النسخة إن كانت معتمدة فهو نص فی موضع النزاع فيتعين المصير إليه۔
(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 432)
بعض حضرات نے کہا ہے کہ بظاہر یہ ایک روایت شاذہ ضعیفہ ہے اور صیح روایت فهو صالح ہے جیسا کہ امام صاحب کے خط میں موجود ہے۔
(دیکھیے تعلیقات استاد عبد الفتاح ابوغده بر اعلاء السنن: جلد،1 صفحہ، 51)
اس سلسلے میں حافظ صاحب کا قول بہت ہی لطیف اور تحقیقی ہے۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے: النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 435)
وہ فرماتے ہیں کہ امام ابو داؤدؒ کے قول وما كان فی كتابی من حديث فيه وهن شديد فقد بينته کا مطلب یہ ہے کہ وہ ومن ضعیف کے بیان کا التزام نہیں فرماتے، لہٰذا جن روایات پر سکوت فرماتے ہیں وہ سب حسن اصطلاحی کے قبیل میں سے نہیں، بلکہ ان کی مختلف نوعیت ہو گی۔
1: بعض تو وہ ہیں جو صحیحین میں موجود ہیں۔
2: بعض اگر چہ صحیحین میں نہیں لیکن شرط صحت پر پوری اترتی ہیں۔
3: بعض حسن لذاتہٖ ہیں۔
4: بعض حسن لغیرہٖ ہیں۔
5: بعض ضعیف ہیں لیکن ان رواۃ سے مروی ہیں جن کے ترک پر اجماع نہیں، مثلاً عبداللہ بن محمد بن عقیل متوفی 140ھ کے بعد۔
(یہ ابومحمد عبداللہ بن عقیل ابن عم النبیﷺ ہیں، ان کی والدہ زینب بنتِ علیؓ بن ابی طالب ہیں، ابنِ معین وحی بن سعید نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے، بخاری نے ان کو مقارب الحدیث فرمایا ہے اور امام احمدؒ نے بھی ان کی روایات سے استدلال کیا ہے المتوفی 140ھ کے بعد، دیکھیے سیرا علام النبلاء: جلد 2 صفحہ 204، تہذیب الكمال: جلد، 16 صفحہ، 78)
موسیٰ بن وردان متوفی 51ھ۔
(یہ ابو عمر مری ہیں، امام ابو داؤدؒ نے ان کو ثقہ اور ابو حاتمؒ نے ان کے بارے میں لیس بہ بأس کہا ہے، ابنِ معین نے ان کو ضعیف اور لیس بالقوی کہا ہے، دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 5 صفحہ، 107، تہذیب الکمال: جلد، 29 صفحہ، 163)
سلمۃ بن الفضل متوفی 191ھ۔
(یہ ابوعبداللہ الرازی ہیں، ابنِ معین اور ابنِ سعد نے ان کی توثیق، ابو حاتمؒ اور نسائیؒ نے تضعیف کی ہے، امام بخاریؒ نے فرمایا ہے: عنده مناكبر وهنه على: دیکھیے: سیر اعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ، 49، 50 تہذیب الكمال: جلد، 11 صفحہ، 305)
وغیرہ اور یہ سب اقسام امام صاحب کے یہاں حجت ہیں، اس لیے کہ وہ حدیث ضعیف کو رائے رجال پر فوقیت دیتے ہیں، یہی مذہب امام احمد بن حنبلؒ کا بھی ہے، اور ان کا قول ان کے صاحبزادے عبداللہ کے طریق سے مروی ہے:
لا تكاد ترى أحداً ينظر فى الرأى الأوفى قلبه دغل، والحديث الضعيف أحب إلى من الرأی ان کے صاحبزادے کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ اگر کسی شہر میں ایک محدث ہو جو صحیح اور سقیم میں فرق نہ کر سکتا ہو اور ایک صاحبِ رائے، تو مسائل کس سے دریافت کئے جائیں، انہوں نے فرمایا: بسال صاحب الحديث ولا يسأل صاحب الرأى۔ (دیکھیے مقدمہ اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 59، 60)
ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اس مسئلہ میں امام ابو داؤدؒ امام احمدؒ کا اتباع کریں کیونکہ وہ امام احمدؒ کے اجل تلامذہ میں سے ہیں۔
(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 437)
6: بعض مرتبہ ایسی روایات بھی لاتے ہیں جن کے رواۃ بہت ہی ضعیف اور متروک ہوتے ہیں جیسے حارث بن وحید۔
(یہ ابو محمد بصری ہیں یحییٰ بن معین نے فرمایا ہے: لیس حدیثه بشی امام بخاریؒ اور ابو حاتمؒ فرماتے ہیں: فی حديثه بعض المناكير امام نسائیؒ نے بھی ان کو ضعیف کہا ہے، دیکھیے تہذیب الکمال: جلد، 5 صفحہ، 304) اور عثمان بن واقد۔
(ان کا نسب حضرت عمرؓ سے جا ملتا ہے، احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: لا أرى به باسا یحییٰ بن معین نے ان کی توثیق کی ہے ابنِ حبانؒ نے ان کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے، امام ابو داؤدؒ نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے، دیکھیے تہذیب الکمال: جلد، 19 صفحہ، 504، لیکن حافظ ابنِ حجرؒ کا عثمان بن واقد کو متروکین میں شمار کرنا محل نظر ہے) وغیرہ۔
7: ایسی روایات بھی سنن میں ملتی ہیں جن کی سند میں انقطاع یا ابہام ہے اور ان پر امام صاحب نے سکوت فرمایا ہے تو صرف سکوت ابو داؤدؒ کی وجہ سے ان کو حسن نہیں کہا جائے گا، اس لیے کہ ان کا سکوت کبھی اس وجہ سے ہے کہ پہلے اس پر کلام ہو چکا ہے یا ڈھول کی وجہ سے یا شدۃ وضوح ضعف کے بنا پر، اسی طرح وہ بعض روایات کو نہایت ضعیف قرار دیتے ہیں لیکن سنن میں اس پر سکوت فرماتے ہیں، مثلاً كتاب الطهارة باب التيمم فی الحضر میں محمد بن ثابت عبدی سے روایت کی ہے بغیر کسی تبصرے کے لیکن کتاب التفرد میں فرمایا ہے: لم يتابع أحد محمد بن ثابت علی هذا پھر امام احمد بن حنبلؒ کا قول نقل کیا ہے: ھو حدیث منکر لیکن غالباً یہاں حافظ صاحب سے کہو ہو گیا ہے کیونکہ امام صاحب نے ابو داؤدؒ میں اس روایت پر کلام کیا ہے۔
(حافظ ابنِ حجرؒ کی طرف سے یہ اعتراض ممکن ہے کہ ان کے پاس موجود نسخہ میں وہ عبارت نہیں تھی جس کی حافظ صاحب نفی فرما رہے ہیں تفصیل کے لیے دیکھیے ڈاکٹر ربیع بن ہادی کا حاشیہ بر النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 442)
علامہ منذریؒ نے کہا کہ امام ابو داؤدؒ نے بہت سی ضعیف احادیث پر سکوت فرمایا ہے اور میں نے ان کی نشاندہی کی ہے۔
(دیکھیے تعلیقات استاد عبد الفتاح ابوغده بر اعلاء السنن: 53)
پھر علامہ شوکانیؒ نے فرمایا کہ ابوداؤدؒ اور منذریؒ نے بعض احادیث پر سکوت کیا ہے، حالانکہ وہ ضعیف ہیں اور میں نے ان پر کلام کیا ہے۔
(قال الشوکانیؒ فی نيل الأوطار: وماسكنا أى ابوداؤد والمنذرى عليه جميعا فلاشك أنه صالح للاحتجاج إلا فى مواضع يسيرة قد نبهت على بعضها فی هذا الشرح نيل الأوطار: جلد، 1 صفحہ، 33)
ابنِ قیمؒ نے بھی بعض روایات کے متعلق کہا ہے کہ وہ ضعیف ہیں اور کسی نے ان پر کلام نہیں کیا ہے۔
(ابنِ قیم کہتے ہیں: وزدت عليه، ای علی مختصر سنن ابی داؤدؒ للمنذری من الكلام على علل سكت أی المنذری عنها أولم يكملها شرح مختصر سنن أبی داؤد المطبوع مع معالم السنن: جلد، 11 صفحہ، 9)
تو مطلب یہ ہوا کہ ان چار حضرات کے سکوت کے بعد وہ روایت قابلِ احتجاج ہو سکتی ہے، البتہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ابو داؤدؒ کی تمام ضعیف روایات کی نشاندہی کر دی گئی ہے، اور اب کسی کو ان کے متعلق تحقیق و تفتیش کا حق نہیں بلکہ ہر محقق عالم کو یہ حق حاصل ہے کہ تمام اصول و قواعد کو مدِنظر رکھ کر ان کے متعلق کوئی رائے قائم کرے چنانچہ ابو داؤدؒ کے شروع میں ایک حدیث ہے: عن الحسن بن ذكوان عن مروان الصفر قال: رأيت ابن عمر أناخ راحلته مستقبل القبلة ثم جلس يبول إليها الخ۔
(ابوداؤد: جلد، 1 صفحہ، 2 باب كراهية استقبال القبلة عند قضاء الحاجة)
امام ابو داؤدؒ، شوکانیؒ، منذریؒ نے اس پر سکوت کیا ہے، ابنِ حجرؒ نے بھی کوئی کلام نہیں کیا ہے، البتہ فتح الباری میں اس کو حسن قرار دیا ہے، ان تمام حضرات کے سکوت کے بعد حضرت مولانا خلیل احمد سہار پوری علیہ الرحمۃ والغفر ان نے اس پر زبردست کلام کیا ہے وہ فرماتے ہیں: سكوت المحدثين عليه وقول الحافظ : إسناده حسن، عجيب، فإن حسن بن ذكوان راوی الحديث ضعفه كثير من المحدثين، فكيف يصلح للاحتجاج به، فقد قال ابن معين وأبو حاتم: ضعيف، وقال أبو حاتم والنسائی أيضاً: ليس بالقوى، قال يحيىٰ بن معين: منكر الحديث وضعفه، وقال ابن أبی الدنيا: ليس عندى بالقوى، وقال أحمد: أحاديثه أباطيل۔ (بذل المجهود: جلد، 1 صفحہ، 29 باب كراهية استقبال القبلة عند قضاء الحاجة)
ابن سید الناس نے روایات ابو داؤدؒ کے متعلق آراء علماء کو رد کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ امام مسلمؒ اور امام ابوداؤدؒ کی شرائط ایک جیسی ہیں امام مسلمؒ نے فرمایا تھا کہ رواۃ کے تین طبقے ہیں: ایک وہ جو حفظ و عدالت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہے، دوسرا وہ جو صرف عدالت میں پہلے طبقہ کے برابر ہے اور تیسرا ضعفاء و مجاہیل کا طبقہ ہے اور ہم صرف پہلے دو طبقے کی روایات کو لائیں گے، امام ابو داؤدؒ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ وہ صحیح یعنی طبقہ اولیٰ و ما یشبھہ اویقاربہ یعنی طبقہ ثانیہ کی روایت کو لائیں گے، اور ان کی کتاب کے مطالعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف طبقہ اولیٰ اور ثانیہ کی روایات کو درج کیا ہے اور طبقہ ثالثہ کی روایات کو نظر انداز کیا ہے، البتہ اتنی بات ہے کہ امام مسلمؒ نے اپنی کتاب میں صحیح کی شرط لگائی ہے اور وہ صرف صحیح احادیث کی تخریج فرماتے ہیں، بخلاف امام ابو داؤدؒ کے کہ وہ حدیث ضعیف کو بھی لیتے ہیں اور ان کا ضعف بھی بیان فرماتے ہیں اور احادیث ضعیفہ کو جاننا بھی اپنی جگہ بہت اہم چیز ہے۔
(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 168، النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 432)
حافظ ابنِ حجرؒ نے حافظ صلاح الدین علائی کی طرف سے اس اعتراض کا جواب یہ دیا ہے، کہ ام مسلمؒ طبقہ اولیٰ کی روایات کو اصالہ اور طبقہ ثانیہ کی روایات کو متابعات میں ذکر کرتے ہیں اور امام ابو داؤدؒ دونوں کی روایات اصالۃ لاتے ہیں، لہٰذا دونوں کتابوں کے درمیان فرق واضح ہے۔
(النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 433)
علامہ عراقی نے اس بات کا یوں جواب دیا ہے کہ امام مسلمؒ نے صحیح احادیث کا التزام کیا ہے، لہٰذا ہم ان کی کتاب کی کسی حدیث پر حسن کا حکم نہیں لگا سکتے، اس لیے کہ حسن کا درجہ صحیح سے کم ہے، بخلاف امام ابو داؤدؒ کے کہ انہوں نے فرمایا ہے: ماسكت عنه فهو صالح اور صالح میں صحیح اور حسن دونوں داخل ہیں اور احتیاطاً حسن ہی مراد لیا جائے گا جب تک کہ صحیح ہونے کا یقین نہ ہو۔
(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 169، النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 432) بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ دراصل امام مسلمؒ نے رجال کے تین طبقے بتائے ہیں اور امام ابو داؤدؒ نے متون حدیث کی تین قسمیں بنائی ہیں یعنی امام مسلمؒ کی تقسیمِ رجال سے متعلق ہے اور امام ابو داؤدؒ کی تقسیم متنِ حدیث سے اور یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی حدیث متن کے اعتبار سے صحیح ہو اور وہ امام ابو داؤدؒ کی شرط پر پوری اترتی ہو، لیکن اس کے بعض رجال ضعیف ہوں جس کی وجہ سے امام مسلمؒ اس کو رد کرتے ہیں۔
(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 169)
بعض علماء نے کہا ہے کہ امام مسلمؒ رواۃ کے پانچ طبقات میں سے طبقہ اولیٰ اور ثانیہ کی روایت کو اصالۃ اور طبقہ ثالثہ کی روایات کو متابعات میں ذکر کرتے ہیں اور امام ابو داؤدؒ تینوں کی روایات کو اصالۃ لاتے ہیں، لہٰذا دونوں میں فرق واضح ہے، بعض نے کہا کہ امام ابو داؤدؒ کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ضعف غیر شدید کے بیان کا التزام نہیں فرماتے، لہٰذا ان کی کتاب کا درجہ مسلم سے کم ہے۔
(دیکھیے محولہ بالا)
سنن ابو داؤد رحمۃاللہ میں کوئی حدیث ثلاثی نہیں:
نواب صدیق حسن خان نے لکھا ہے کہ سنن ابو داؤد میں ایک حدیث ثلاثی ہے جو اس سند و متن کے ساتھ مروی ہے: حدثنا مسلم بن إبراهيم حدثنا عبد السلام بن أبی حازم أبو طالوت قال: شهدت أبابرزة دخل على عبیدالله بن زياد فحدثنی فلان۔(قال الحافظ: عبد السلام بن أبی حازم، حدثنی فلان، عن أبی هريرة، هو عمه، ولم أقف على اسمه التقريب باب المبهمات بترتيب من روى عنهم: صفحہ، 735 وقد أخرج الإمام أحمد فی مسنده حديث الحوض هذا برواية عبد السلام أبی طالوت فسماه فيه من حدثه وهو العباس الحريری انظر مسند الإمام أحمد
: جلد، 4 صفحہ، 424)
سماه مسلم وكان فی السماط فلما رآه عبيد الله قال ان محمديكم هذا الدحداح، ففمهما الشيخ فقال: ما كنت احسب انی ابقی فی قومی يعيرونى بصحبة محمدﷺ فقال له عبيدالله: ان صحبة محمدﷺ لك زين غير شين، ثم قال: انما بعثت اليك لاسالك عن الحوض سمعت رسول اللهﷺ يذكر فيه شيئا قال: فقال ابو برزه نعم الامرة ولا ثنتين ولاثلاثا ولا اربعا ولا خمسة فمن كذب به فلا سقاه الله منه، ثم خرج مغضبا۔
بقول نواب صاحب کے اس حدیث میں امام ابو داؤدؒ اور جناب رسول اللہﷺ کے درمیان تین واسطے ہیں: ایک مسلم بن ابراہیم، دوسرا عبدالسلام اور تیسرا ابوبرزہ، لہٰذا یہ حدیث ثلاثی ہے، لیکن نواب صاحب کی یہ بات نظر سے خالی نہیں اس لیے کہ عبدالسلام نے صرف یہ کہا کہ میں نے حضرت ابو برزہ کو عبید اللہ کے پاس جاتے ہوئے دیکھا، باقی ان دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کو ابو طالوت از خود نقل نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے شخص (جس کا نام امام ابو داؤدؒ کو یاد نہیں رہا) سنِ عقل کرتے ہیں تو گویا واسطے چار ہو گئے نہ کہ تین۔
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری نور اللہ مرقدہ بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بذل المجہود میں فرماتے ہیں: (شهدت ابا برزه دخل على عبيد الله بن زياد) ولم ادخل معه الا عبيد الله بن زياد فلم اسمع الحديث من غيرواسطة۔
(بذل المجہود: جلد، 18 صفحہ، 287)
علامہ شمس الحق عظیم آبادی لکھتے ہیں: ولم يكن عبدالسلام حاضرا مع ابی برزه فلم يسمع من ابی برزة نفسه ما جرى بين ابی برزة وبين عبيدالله بن زياد۔
(عون المعبود: جلد، 13 صفحہ 83، 84)
سنن ابو داؤد رحمۃاللہ کے نسخے:
سننِ ابو داؤد کے متعدد نسخے ملتے ہیں، حضرت مولانا شاہ عبدالعزیزؒ فرماتے ہیں کہ اس کتاب کے تین نسخے مشہور ہیں بلادِ مشرق میں نسخہ لؤلؤی مشہور ہے یہ ابوعلی محمد بن احمد بن عمرو بصری لؤلؤی کا نسخہ ہے، جو 20 سال تک امام صاحبؒ کی خدمت میں سنن پڑھتے رہے ان کو وراق ابو داؤد بھی کہا جاتا ہے۔
(والوراق فی لغةںاہل بصرہ القاری للناس سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 307) انہوں نے سنہ 333 ھ میں وفات پائی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 308)
بلادِ مغرب میں نسخہ ابنِ داسہ کی شہرت ہوئی یہ نسخہ ابوبکر محمد بن بکر بن محمد بصری کا ہے ان کی وفات 346ھ میں ہوئی ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 538)
تیسرا نسخہ ابن الاعرابی کا ہے ان کا پورا نام ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری ہے ان کی ولادت سنہ 240ھ کے بعد ہے اور 340ھ میں وفات پائی ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 410)
ابوعلی لؤلؤی کا نسخہ اصح النسخ سمجھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے 275ھ میں امام ابو داؤد سے روایت کیا ہے اور یہ آخری املاء ہے جو کہ امام صاحبؒ نے کرایا ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 206 حاشیہ)
ابن العرابی کے نسخے میں کافی کمی پائی جاتی ہے چنانچہ اس میں کتاب الفتن، کتاب الملاحم، کتاب الحروف اور کچھ حصہ کتاب اللباس کا موجود نہیں۔
(مقدمہ تحفةالحوزی: صفحہ، 62)
علامہ ذہبیؒ نے لؤلؤى کا قول نقل فرمایا ہے: والزيادات التی فی رواية ابن داسة حذفها ابو داؤد آخرا لامر رايه فی الاسناد۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 307)
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابنِ داسہ کے نسخہ میں بنسبتِ نسخہ لؤلؤى کے کچھ زیادتی موجود ہے اگرچہ ان دونوں میں زیادہ تر اختلاف تقدیم و تاخیر کا ہے، سننِ ابو داؤد کے رواة کی فہرست میں ان کے علاوہ ابو طیب احمد بن ابراہیم بن اشنانی بغدادی،ابو عمر احمد بن علی بن حسن بصری، اسحاق بن موسیٰ رملی (عراق ابو داؤد) علی بن حسن بن عبد انصاری، ابو اسامہ محمد بن عبدالملک وغیرہ کے نام بھی ملتے ہیں۔
(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 360، 361 وسیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 205، 206)
سنن ابو داؤد اہل فن کی نظر میں:
سننِ ابو داؤد کی سب سے بڑی قابلِ فخر خوبی یہ ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اس کی تعریف و تحسین فرمائی ہے۔
(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 363)
ابنِ سبکی اپنے طبقات میں لکھتے ہیں: يمن دواوين الاسلام والفقهاء لا يتحاشون من اطلاق اللفظ الصحيح عليها على سنن الترمذى۔
(الحطة فی ذکر صحاح الستہ: صفحہ، 346 کشف الظنون: جلد، 4 صفحہ، 1004)
حسن بن محمد بن ابراہیم کا بیان ہے کہ میں نے ایک رات جناب رسول اللہﷺ کو خواب میں دیکھا، ارشاد فرما رہے تھے کہ جو شخص سنتیں سمجھ کر ان پر عمل کرنا چاہے تو سننِ ابو داؤد کا مطالعہ کرے یحییٰ بن زکریا ساجی کا قول ہے: اصل الاسلام كتاب الله وعمادة سننِ ابى داؤد ابن الاعرابی فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو کتاب اللہ اور سننِ ابو داؤد کا علم حاصل ہو جائے (تو مقدمات دین میں) اسے کسی اور چیز کی ضرورت نہ ہوگی۔
علامہ نوویؒ فرماتے ہیں کہ علم فقہ میں دلچسپی لینے والوں کے لیے ضروری ہے کہ سننِ ابو داؤد کو اچھی طرح سمجھ کر اس کی معرفت حاصل کریں، اس لیے کہ احادیث احکام کا بہت بڑا ذخیرہ اس میں موجود ہے۔
(تمام اقوال کے لیے دیکھیے الحطةفی ذکر صحاح الستہ: صفحہ، 245، 246 و مقدمہ تحفةالحوزی: صفحہ، 61 بستان المحدثین: صفحہ، 287)
علامہ خطابیؒ بھی فرماتے ہیں کہ سننِ ابو داؤد ایسی شاندار و جاندار کتاب ہے کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے تمام لوگوں کے درمیان مشہور و مقبول اور علماء کے اختلافی مسائل میں حکم ہے سب اس کی طرف رجوع کر کے خوشہ چینی کرتے ہیں اگرچہ اہلِ خراسان صحیحین کے گرویدہ ہیں جو ترتیب اور کثرت کے مسائل فقہیہ کے لحاظ سے سننِ ابو داؤد پر فائق ہے۔
(دیکھیے مختصر سننِ ابو داؤد: صفحہ، 10)
امام صاحبؒ خود اپنی کتاب کے بارے میں یہ فرماتے ہیں: لا اعلم شيئا بعد القرآن الزم للناس أن يتعلموا من هذا الكتاب ولا يضر رجلا أن لا يكتب من العلم بعد ما يكتب هذا الكتاب شيئا واذا نظر فيه وتدبره وتفهمه حينئذ يفهم قدره۔
میرے خیال میں قرآنِ حکیم کے بعد سب سے زیادہ ضرورت اس کتاب کے سیکھنے کی ہے اگر کوئی آدمی حدیث کی دوسری تمام کتابیں چھوڑ کر صرف اس کتاب کے لکھنے پر اکتفاء کرے تو اس کے لیے کافی ہے اس کی قدر وہی جانے گا جو اس میں غور و خوض کرے گا۔
(مقدمہ بذل المجہود: صفحہ، 36)
حافظ محمد مخلد دوری کا قول ہے:
لما صنف ابو داؤد السنن وقراه على الناسؤ صار كتابه لاهل الحديث كالمصحف يتبعونه۔
(تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 365)
شروح حواشی و مختصرات:
سننِ ابو داؤد پر کافی شروع و تعلیقات لکھی گئی ہیں جن سے اس کتاب کا حسن قبول واضح ہو جاتا ہے ان میں سے چند کا تعارف درج ذیل ہے:
1: معالم السنن از ابو سلیمان احمد بن محمد بن ابراہیم خطابی ممتوفی 388ھ۔
2: عجالة العالم من المعام از ابو محمود احمد بن محمد مقدسی متوفی 765ھ یہ معالم السنن کی تلخیص ہے۔
3: المجتبیٰ از زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری متوفی 656ھ۔
4: زہر الربی علی المجتبیٰ از علامہ سیوطی متوفی 911ھ یہ علامہ منذری کی کتاب المجتبیٰ کی شرح ہے۔
5: شرح مختصر سننِ ابو داؤد از ابنِ قیم الجوزیہ متوفی 751ھ،یہ بھی المجتبیٰ کی شرح و تہذیب ہے۔
6: مرقاة الصعود از سیوطی متوفی 911ھ۔
7: درجاة مرقاة الصعود از علی بن سلیمان الدمنتی متوفی 1306ھ یہ علامہ سیوطی کی کتاب کی تلخیص ہے۔
8: شرح سننِ ابو داؤد از علامہ نووی متوفی 676ھ۔
9: شرح ابو داؤد از قطب الدین ابوبکر بن احمد متوفی 752ھ۔
10: شرح سننِ ابو داؤد از حافظ علاؤ الدین مغلطائی بن قلیج متوفی 762ھ، ناتمام۔
11: انتماء السنن والاقتفاء السنن از شہاب الدین ابو محمد بن محمد بن ابراہیم المقدسی متوفی 765ھ۔
12: شرح سننِ ابو داؤد از سراج الدین عمر بن علی بن الملقن شافعی متوفی 804ھ۔
13: شرح سننِ ابو داؤد از ابو زرعہ احمد بن عبدالرحیم عراقی متوفی 826ھ، سات جلدوں پر مشتمل ہے صرف سجود السہو تک ہے۔
14: شرح سنن ابو داؤد از شہاب الدین احمد بن حسن رملی مقدسی متوفی 844ھ۔
15: شرح سنن ابو داؤد از علامہ بدر الدین عینی متوفی 855ھ۔
16: شرح سننِ ابو داؤد از شہاب الدین رسلان۔
17: فتح الودود از ابو الحسن عبدالہادی سندھی متوفی 1139ھ۔
18: بذل المجہود از مولانا خلیل احمد سہارنپوری متوفی 1346ھ۔
19: انوار المحمود،یہ حضرت شیخ الہندؒ اور شاہ صاحبؒ کی تقاریر کا مجموعہ ہے۔
20: التعلیق المحمود از مولا فخر الحسن گنگوئی متوفی 1315ھ.
21: فلاح و بہبود از مولانا محمد حنیف گنگوئی۔
22: الھدی المحمود از وحید الزمان بن مسیح الزمان۔
23: غایة المقصود از شمس الحق ابو طیب عظیم آبادی لکھنؤی متوفی 1339ھ۔
24: عون المعبود حضرت شیخ محمد اشرف یہ غایة المقصود کی تلخیص ہے البتہ اس کی جلد پر شمس الحق صاحب کا نام ہے اور اس کی آخری عبارت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خود اپنے شرح کی تلخیص کی ہے۔
25: المنہل المورود۔