Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اللہ سیدنا معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے

  محمد ذوالقرنين

اللہ سیدنا معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے

اکثر شیعہ صحیح مسلم کی ایک روایت پیش کر کے کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہؓ کو بلایا لیکن وہ کھانا کھانے میں مشغول تھے اس لیے وہ نبی کریمﷺ کے بلانے پر نہیں آئے تو نبی کریمﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو بد دعا دی تھی کہ اللہ سیدنا معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے روایت کچھ یوں ہے۔

متن: سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو نبی کریمﷺ تشریف لائے میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا نبی کریمﷺ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان پیار سے تھپکی لگائی اور فرمایا جاؤ میرے لیے سیدنا معاویہؓ کو بلا لاؤ میں نے آپﷺ سے آکر کہا وہ کھانا کھا رہے ہیں نبیکریم ﷺ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا جاؤ سیدنا معاویہؓ کو بلا لاؤ میں نے پھر آکر کہا وہ کھانا کھارہے ہیں تو نبی کریمﷺ نے فرمایا اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔

(صحیح مسلم (اردو) جلد 5 حدیث 6628)۔

اس روایت کو دلیل بنا کر شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو بلایا لیکن وہ نبی کریمﷺ کے بلانے پر نہیں آئے تو نبی کریمﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو بددعا دی کہ ان کا پیٹ نہ بھرے ذیل میں ان اعتراضات کا علمی و تحقیقی جواب ملاحظہ فرمائیں۔

شیعہ کے پہلے اعتراض کا رد: پہلی بات تو یہ کہ اس روایت سے شیعہ کا یہ استدلال کرنا کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو بلایا اور انہوں نے آنے سے منع کر دیا یہ بات اس روایت سے کہیں بھی ثابت نہیں ہوتی اس روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا ابنِ عباسؓ کو بھیجا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کو بلا لاؤ، تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے آکر عرض کی کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں اس روایت میں کہیں بھی یہ جملہ موجود نہیں کہ سیدنا ابنِ عباسؓ نے جا کر سیدنا امیر معاویہؓ کو بلایا ہو اور انہوں نے کہا ہو کہ میں کھانا کھارہا ہوں بلکہ سیدنا ابنِ عباسؓ چھوٹے بچے تھے وہ گئے انہوں نے جاکر سیدنا امیر معاویہؓ کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تو واپس آکر ویسے ہی نبی کریم ﷺ کو بتایا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کھانا کھا رہے ہیں اس لیے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے نبی کریمﷺ کے بلانے پر کھانا کھانے کو ترجیح دے کر نبی کریمﷺ کے پاس آنے سے منع کر دیا یہ محض شیعہ کا تعاصب ہے۔

شیعہ کے دوسرے اعتراض کا رد: اس روایت سے شیعہ کا دوسرا استدلال کہ نبی کریمﷺ کا یہ جملہ (اللہ سیدنا معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے) بطور بددعا تھا یہ بھی شیعہ کی جہالت و تعاصب کے سوا کچھ نہیں کیونکہ یہ جملہ بھی بطورِ بددعا نہیں ہے اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

اس طرح کے جملے جو بظاہر سخت جملے محسوس ہوتے ہیں عرب کے کلام میں یہ عام بات چیت میں بطورِ عادت بولے جاتے ہیں اور ان سے مراد ان کی اصل نہیں ہوتی۔

جیسا کہ امام نوویؒ اس باب کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

(نبی کریمﷺ کا مسلمانوں میں سے) کسی کو بُرا کہنا بددُعا کے کلمات کہنا یا اس جیسے ہی دیگر جملے کہنا اس سے مراد ان کی اصل نہیں ہے بلکہ یہ اہلِ عرب کا کلام میں بلانیت اس جیسے کلمات کا استعمال کرنا ہے جیسے کہ (نبی کریمﷺ کا) یہ کہنا تیرے ہاتھ مٹی میں پڑیں اور (یہ کہنا) تو بانجھ ہو تو سر منڈی ہو اور جیسے کہ یہ حدیث کہ تیری عمر نہ بڑھے اور یہ حدیث سیدنا معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے اور اسی طرح کے دیگر جملے ان میں سے کسی جملے کا مقصد بددعا نہیں ہے۔

(صحیح مسلم بشرح النووی (عربی) جلد 16 صحفہ 152)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جملہ نبی کریمﷺ نے بطور بددعا نہیں فرمایا بلکہ اس جیسے جملے اہلِ عرب بلانیت کلام میں استعمال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد ہر گز بددعا نہیں ہوتا۔

امام مسلمؒ نے یہ روایت اس باب میں نقل فرمائی ہے کہ نبی کریمﷺ نے کسی پر لعنت کی ہو کسی کو بُرا کہا ہو یا اس کے خلاف بددعا کی ہو اور وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ اس کے لئے اجر اور رحمت کا باعث بن جائے تو امام نوویؒ نے یہ صراحت بھی کی ہے کہ امام مسلمؒ کے نزدیک بھی سیدنا امیر معاویہؓ ان (بظاہر) سخت الفاظ کے مستحق نہیں تھے اور فرماتے ہیں نبی کریمﷺ کے یہ الفاظ سیدنا امیر معاویہؓ کی مناقب میں ہیں اور یہ سیدنا امیر معاویہؓ کے لیے نبی کریمﷺ کی دعا ہے۔

جیسا کہا امام نوویؒ اسی حدیث کے تحت فرماتے ہیں۔

امام مسلمؒ کا اس حدیث کے بارے میں خیال یہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ اس (بظاہر) بددعا کے مستحق نہیں تھے اس لئے انہوں نے یہ روایت اس باب میں نقل کی ہے اور امام مسلمؒ کے علاوہ (محدثین) نے اس حدیث کو سیدنا امیر معاویہؓ کے مناقب میں باب میں نقل کیا ہے

کیونکہ حقیقت میں یہ ان کے لئے دُعا ہے۔

( صحیح مسلم بشرح النووی (عربی) جلد 16 صحفہ 156)

اسی روایت کے بارے میں ایک اور محدث کا موقف ملاحظہ فرمائیں کہ وہ اس روایت کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

یہ روایت سب سے پہلے جس کتاب میں نقل کی گئی وہ کتاب مسند ابو داؤد الطیالسی ہے جس میں یہ روایت امام ابوداؤد الطیالسی سے صرف تین واسطوں سے نبی کریمﷺ سے جا ملتی ہے جو کہ کچھ یوں ہے۔

سند:

"حدثنا ہشام وابوعوانه عن ابی حمزة القصاب عن ابنِ عباسؓ۔

متن: سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ تشریف لائے اور فرمایا سیدنا معاویہؓ کو بلا کر لاؤ میں نے آکر کہا کہ وہ کھانا کھارہے ہیں نبی کریمﷺ نے مجھے دوبارہ بھیجا میں نے پھر آکر کہا وہ کھانا کھا رہے ہیں تو نبی کریمﷺ نے فرمایا اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔

(مسند ابی داؤد الطیالسی (عربی) جلد 4 حدیث 2869)۔

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اس کے نیچے اس کتاب کے راویوں میں سے ایک راوی محدث عبداللہ بن جعفر بن فارسؒ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں۔

اللہ بہتر جانتا ہے اس حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ اللہ دنیا میں سیدنا امیر معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے تاکہ قیامت کے دن سیدنا امیر معاویہؓ بھوکے نہ رہیں جیسا کہ نبی کریمﷺ کی حدیث ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے دنیا میں جس کا پیٹ سب سے زیادہ بھرا ہوگا قیامت کے دن وہ سب سے زیادہ بھوکا ہوگا۔

(مسند ابی داؤد الطیالسی (عربی) جلد 4 صحفہ 465)

اور یہ کوئی عام شخصیت نہیں ہیں یہ خود ایک بہت بڑے محدث ہیں۔

امام ذھبیؒ ان کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

ابومحمد عبداللہ شیخ امام اور صالح محدث ہیں محدث جعفر بن احمد بن الفارس کے بیٹے ہیں ابنِ مندہؒ کہتے ہیں دنیا کے پانچ شیوخ ہیں (جن میں) ابنِ الفارس اصبہان (شامل ہیں)۔

(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 15 صحفہ 554،555)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بہت بڑے محدث کے نزدیک بھی نبی کریمﷺ کا یہ فرمان سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں بددعا نہیں بلکہ دُعا کے طور پر ہے کیونکہ جس کا پیٹ دنیا میں سب سے زیادہ بھرا ہوا ہوگا وہ قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہوگا تو اسی لئے نبی کریمﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو یہ دُعا دی تاکہ قیامت کے دن وہ بھوکے نہ ہوں۔

سیدنا امیر معاویہؓ کا پیٹ علم اور حلم سے بھر جائے:

جیسا کہ ہم یہ ثابت کرچکے کہ صحیح مسلم کی روایت میں نبی کریمﷺ کا فرمان بددعا کے طور پر نہیں تھا بلکہ وہ ایک دعا تھی کہ سیدنا معاویہؓ کا پیٹ دنیا میں کھانے سے نہ بھرے اب ملاحظہ فرمائیں کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے لیے دُعا کی کہ ان کا پیٹ علم و حکمت سے بھر جائے۔

امام بخاریؒ سند حسن سے روایت نقل کرتے ہیں کہ:

سند:

قال اسحاق بن يزيد نا محمد بن مبارك الصورى قال نا صدقة بن خالد قال حدثنى وحشى ابنِ حرب بن وحشى عن أبيه عن جده قال۔

متن: سیدنا وحشیؓ فرماتے ہیں سیدنا امیر معاویہؓ نبی کریمﷺ کے ساتھ سواری پر سوار تھے تو نبی کریمﷺ نے پوچھا اے سیدنا معاویہؓ تمہارے جسم کا کون سا حصہ میرے زیادہ قریب ہے؟ تو سیدنا امیر معاویہؓ نے عرض کی پیٹ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا اے اللہ اسے (سیدنا معاویہؓ کے پیٹ کو علم اور حلم ( بردباری) سے بھر دے۔

(التاريخ الكبير للبخاری (عربی) جلد 8 صحفہ 180)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے یہ دعا فرمائی کہ ان کا پیٹ علم سے بھر جائے ان دونوں روایات کو جمع کیا جائے تو معنیٰ بلکل واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ دنیا میں سیدنا معاویہؓ کا پیٹ کھانے سے نہ بھرے بلکہ علم سے بھرے تاکہ سیدنا امیر معاویہؓ قیامت کے دن بھوکے لوگوں میں نہ ہوں۔

دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اس طرح کے الفاظ:

جیسا کہ ہم بیان کرچکے کہ اس طرح کے جملے جو بظاہر تو بہت سخت معلوم ہوتے ہیں اہلِ عرب یہ عام کلام میں بغیر نیت کے بطورِ عادت استعمال کیا کرتے تھے اس لئے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے بھی ایسے جملے ملتے ہیں۔

جیسا کہ نبی کریمﷺ نے ایک مرتبہ سیدنا ابوذر غفاریؓ کے بارے میں فرمایا:

سیدنا ابوذرؓ تیری ماں تم پر روئے سیدنا ابوذرؓ تمہاری ماں کے لئے بربادی ہوا۔

(سننِ ابو داؤد (اردو) جلد 1 روایت 332)۔

سیدنا ابوذر غفاریؓ بھی شیعوں کے نزدیک بھی جلیلُ القدر صحابی ہیں تو کیا کوئی شیعہ اس روایت کو دلیل بنا کر یہ کہہ سکتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا ابوذر غفاریؓ کو بددُعا دی؟۔

جیسے یہاں پر بھی نبی کریمﷺ نے سیدنا ابوذر غفاریؓ کو بددُعا نہیں دی بلکہ یہ جملہ بطورِ حیرت تھا کیونکہ سیدنا ابوذر غفاریؓ کو نبی کریمﷺ نے کچھ بکریاں دے کر جنگل میں بھیجا تھا اور وہ وہاں جنبی ہوگئے تھے اور ان کو غسل کے لیے پانی نہ ملا تو وہ ویسے ہی رہے کیونکہ وہ تیمم کے بارے میں بھی نہیں جانتے تھے اس پر نبی کریمﷺ نے بطورِ حیرت یہ جملہ ارشاد فرمایا ویسے ہی صحیح مسلمؒ کی روایت میں بھی نبی کریمﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے وہ جملہ بطورِ بددُعا نہیں بلکہ دُعا کے طور پر ارشاد فرمایا تھا جو کہ ہم ثابت کرچکے ہیں۔

ایسا ایک واقعہ سیدنا علیؓ کے بارے میں بھی ملتا ہے۔

سیدنا علیؓ فرماتے ہیں:

رسول اللہﷺ ایک مرتبہ میرے اور سیدہ فاطمہؓ کے گھر رات میں تشریف لائے اور ہم سے کہا کیا تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے؟ سیدنا علیؓ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہﷺ ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ جب ہمیں اُٹھانا چاہے گا اُٹھا دے گا جب میں نے یہ بات کہی تو نبی کریمﷺ واپس چلے گئے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا لیکن میں نے نبی کریمﷺ کو واپس جاتے ہوئے کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریمﷺ نے اپنی ران پر ہاتھ مار کر یہ آیت پڑھی کہ انسان ہمیشہ سے تمام چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے (سورۃ الکہف آیت 54)۔

(صحیح بخاری (اردو) جلد 6 روایت 7465)۔

اب اگر اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے کوئی ناصبی یہ کہے کہ سیدنا علیؓ جھگڑالو تھے اس لئے نبی کریمﷺ نے ان کے رد میں یہ آیت پڑھی تو کیا کوئی شیعہ اس کی اس تاویل کو قبول کرئے گا؟

اگر نہیں تو جیسے سیدنا علیؓ کے بارے میں اس روایت سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ جھگڑالو تھے اس لیے نبی کریمﷺ نے ان کے لیے یہ آیت پڑھی اس طرح صحیح مسلمؒ کی روایت سے بھی یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کو نبی کریمﷺ نے بددُعا دی لیکن اگر پھر بھی کوئی نہ مانے تو اس کو چاہیے کہ سب سے پہلے سیدنا علیؓ کے بارے میں یہ کہے کہ وہ جھگڑالو تھے اس لیے نبی کریم ﷺ نے ان کے لئے یہ آیت پڑھی۔

جیسا کہ اب ثابت ہوچکا کہ صحیح مسلمؒ کی یہ روایت کہ اللہ سیدنا معاویہؓ کا پیٹ نہ بھرے یہ سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں نبی کریمﷺ کی بددعا نہیں بلکہ دُعا ہے اور اس طرح کے جملے اہلِ عرب عام بات چیت میں استعمال کرتے ہیں جو بظاہر سخت جملے محسوس ہوتے ہیں لیکن ان کا مقصد ان کی اصل نہیں ہوتا اور اس پر ہم محدثین کی صراحت بھی دکھا چکے ہیں اور اس کے ساتھ ہم یہ بھی بیان کرچکے کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے دُعا فرمائی تھی کہ ان کا پیٹ علم سے بھر جائے۔

اگر اب بھی کوئی شیعہ سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ کہے کہ یہ جملہ ان کے لئے بددُعا تھا تو اس کو پھر سیدنا ابوذر غفاریؓ کے بارے میں بھی یہ کہنا ہوگا کہ نبی کریمﷺ نے اُن کو بھی بدد ُعا دی اور سیدنا علیؓ کے بارے میں بھی یہ کہنا ہوگا کہ نبی کریمﷺ نے ان کے بارے میں سورۃ الکہف کی آیت نمبر 54 کی تلاوت کی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیدنا علیؓ جھگڑالو تھے اسی لئے نبی کریمﷺ نے ان کے لئے اس آیت کی تلاوت کی جو کہنا شیعہ کے لئے ممکن نہیں۔

اس لئے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں اس روایت سے بددعا کا استدلال کرنا محض شیعہ کا تعاصب اور جہالت ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔