تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبامام ترمذی رحمۃاللہ
(امام ترمذی رحمۃاللہ کے حالات کے لیے دیکھیے سیر الاعلام النبلاء: جلد 13، صفحہ 27
دفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ 278 تہذیب الکمال: جلد، 9 صفحہ، 387 الانساب: جلد، 1 صفحہ، 415 فی نسبة "البوغی" وفی صفحہ، 459 فی نسبة الترمذی معجم البلدان: جلد، 1 صفحہ، 510 فی بیان بوغ: و مجلد، 2 صفحہ، 26 فی بیان ترمذ)
نسب و نسبت:
محمد بن عيسىٰ بن سورة بن موسىٰ الضحاك بعض نے نسب یوں بیان کیا ہے: محمد بن عيسىٰ بن يزيد بن سورة بن السكن۔
(دیکھیے تہذیب الکمال: جلد، 26 صفحہ، 250)
بعض اس طرح بیان کرتے ہیں: محمد بن عيسىٰ بن سورة بن شداد بن عيسىٰ۔
(الانساب: جلد، 1 صفحہ، 415، 459 البدايہ و النہايہ: جلد، 11 صفحہ، 66)
ابوعيسىٰ السلمی، الترمذى، البوغى، الضرير۔
بوغ شہر ترمذ سے چھ فرسخ کے فاصلے پر واقع ایک قریہ کا نام ہے، امام ابوعیسیٰ اسی قریہ میں رہتے تھے اس لیے اس کی طرف نسبت کر کے "بوغی" کہا جاتا ہے اور چونکہ بوغ شہر ترمذ کے مضافات میں ہے تو اس کی طرف نسبت کر کے ترمذی بھی کہا جاتا ہے، البتہ لفظ ترمذ کے تلفظ و کیفیت میں قدرے اختلاف ہے ، تَرمِذ، تِرمِذ، تُرمُذ، تین طرح سے پڑھا گیا ہے۔
(الانساب: جلد، 1 صفحہ، 359، معجم البلدان: جلد، 2 صفحہ، 26 دفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 194)
علامہ سمعانی رحمۃاللہ کہتے ہیں کہ میں بارہ دن اس شہر میں رہا، وہاں کے لوگ تَرمِذ بولتے تھے۔
(الانساب: جلد، 1 صفحہ، 459)
یہ دو نسبتیں آپ کی مشہور ہیں باقی چونکہ آپ کا تعلق قبیلہ سُلَم سے ہے تو سلمی بھی کہتے ہیں، آخر عمر میں آپ نابینا ہو گئے تھے اس لیے ضریر بھی کہا جاتا ہے۔
ابوعیسیٰ کنیت رکھنا:
حدیث میں ابوعیسیٰ کنیت رکھنے کی ممانعت ہے، مصنف ابنِ ابی شیبہ میں روایت ہے: عن موسیٰ بن على عن أبيه أن رجلاً اكتنى بأبی عيسىٰ، فقال رسول اللہﷺ إن عيسىٰ لا أب له۔ (دیکھیے مصنف ابنِ ابی شیبہ باب ما يكره للرجل أن يكتنی بأبی عيسىٰ)
اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے ایک صاحبزادے پر اس وجہ سے غصہ ہوئے کہ اس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی، حدیث میں اس ممانعت کی وجہ اور حکمت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں تھا، لہٰذا اگر کوئی ابوعیسیٰ کنیت رکھتا ہے اس سے فسادِ عقیدہ کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ (دیکھیے بذل المجہود: جلد، 20 صفحہ، 198) اب سوال یہ ہے کہ جب حدیث میں ممانعت موجود ہے تو امام ترمذی رحمۃاللہ نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ کیوں رکھی بعض نے کہا کہ شاید یہ روایت امام ترمذی رحمۃاللہ تک نہ پہنچی ہو یا یہ کہ آپ رحمۃاللہ نے خود یہ کنیت اختیار نہ کی ہو بلکہ ان کے باپ، دادا نے یہ کنیت رکھی ہو۔
(حوالہ بالا)
دوسرے حضرات نے کہا کہ امام صاحب نے اس روایت کو خلاف اولیٰ پر حمل فرمایا ہوگا نہ کہ حرمت پر لیکن یہ باتیں اس جبلِ علم و تقویٰ کی شان کے خلاف ہیں، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃاللہ نے فرمایا کہ امام ترمذی رحمۃاللہ کی طرف سے ایک ہی اعتذار پیش کیا جا سکتا ہے جو حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ نے بیان فرمایا کہ سنن ابو داؤد میں حضرت شعبہؓ کی روایت سے ابو عیسیٰ کنیت رکھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔(العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد 1، صفحہ 2
معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 14)
روایت یہ ہے: عن زيد بن أسلم عن أبيه أن عمر بن الخطاب ضرب ابناله تكنى أبا عيسىٰ، وإن المغيرة بن شعبة تكنى بأبی عيسىٰ، فقال له عمر: أما يكفيك أن تكنى بأبی عبداللہ؟ فقال له: أنّ رسول اللہﷺ كنّانی، فقال: انّ رسول اللہﷺ قد غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، وإنا فی جلجتنا، فلم يزل يكنى بابی عبداللہ حتىٰ هلك۔(دیکھیے سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، باب فيمن يتكنى بأبی عیسیٰ: جلد، 2 صفحہ، 322) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے کو مارا جنہوں نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی، حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کو ابو عبداللہ کی کنیت کافی نہیں؟ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جناب رسول اللہﷺ نے مجھے اس کنیت کے ساتھ پکارا ہے، حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ آپﷺ کی تمام بھول چوک اللہ نے معاف فرما دی تھیں اور ہم تو ایک امرِ مضطرب میں مبتلا ہیں پھر انہوں نے مرتے دم تک اپنی کنیت ابو عبداللہ ہی رکھی۔
تو گویا امام ترمذیؒ مصنف ابنِ ابی شیبہ کی روایت کو ابتدائے اسلام پر محمول کرتے ہیں جبکہ فسادِ عقیدہ کا شبہ تھا اور حضرت مغیرہؓ کی روایت بعد کی ہے اور اس سے جواز معلوم ہوتا ہے، حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃاللہ اس جواب سے بھی مطمئن نہیں ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مغیرہؓ کے قول کنّانی رسول اللہﷺ کے معنیٰ یہ نہیں کہ آپﷺ نے ان کی کنیت ابوعیسیٰ رکھی بلکہ معنیٰ یہ ہیں کہ مجھے اس کنیت سے پکارا، اور پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جواب بھی حدیث میں ہے کہ آپﷺ کبھی کوئی غیر اولیٰ فعل کرتے تھے، بیانِ جواز کے لیے اور قاعدہ یہ ہے کہ رسول اگر کوئی غیر اولیٰ فعل کرے بیانِ جواز کے لیے، وہ فعل ان کے لیے مکروہ نہیں ہو گا بلکہ اس پر ثواب ملے گا، بخلاف عام لوگوں کے کہ ان کے حق میں کراہیت ختم نہیں ہوتی، خلاصہ یہ ہوا کہ ابوعیسیٰ کی کنیت رکھنے کی کراہت اب بھی موجود ہے، حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ختم نہیں ہوئی۔
(بستان المحدثین: صفحہ، 294)
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے امام ترمذیؒ کو یہ کنیت اس لیے پسند ہو کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو اس کے ساتھ پکارا ہے تو اس سنت پر عمل کرنے کے لیے انہوں نے اس کراہت کا ارتکاب کیا ہو۔
(بذل المجہود: جلد، 20 صفحہ، 199٫198) بعض حضرات نے کہا کہ احادیث نہی مرفوع متصل نہیں، ابنِ ابی شیبہ والی روایت مرسل ہے اور حضرت عمرؓ کا اثر کہ انہوں نے اپنے لڑکے کو مارا وہ بھی مرفوع کے حکم میں نہیں، لہٰذا بظاہر جواز ہی معلوم ہوتا ہے اور اگر حدیث کو مرفوع مان بھی لیا جائے تو اس میں ابوعیسیٰ کنیت رکھنے سے منع تو نہیں، بلکہ جناب رسول اللہﷺ نے مزاحاً ایک امرِ واقع کا بیان فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں ہے تو تم کہاں سے ابوعیسیٰ بن گئے اس طرح کے مزاح احادیث میں وارد ہیں۔
(مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 170)
بہرحال شامی میں ہے: لا ینبغی أن يسمى بهذا۔
(ردالمختار کتاب الخطر والا باحتہ: جلد، 6 صفحہ، 418 مطبوع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
ولادت، وفات:
آپ کی ولادت 209ھ میں ہوئی۔
(علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں: ولد فی حدود سنة عشر و مئتین دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد 13، صفحہ، 271)
تاریخِ وفات میں اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ بروز دو شنبہ تیرہ رجب 279ھ میں انتقال ہوا اور ترمذ ہی میں مدفون ہوئے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 277 البدايہ و النہايہ: جلد، 11 صفحہ، 27 دفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 278 تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ 635)
سمعانی نے لکھا ہے کہ 275ھ میں قریہ بوغ میں انتقال ہوا۔
(الانساب: جلد، 1 صفحہ 415، اس کے بعد صفحہ، 460 میں لکھتے ہیں: توفى بقرية بوغ سنة نيف و سبعين و مائتين احد قرى ترمذ) حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃاللہ نے تیرہ رجب کے بجائے سترہ رجب فرمایا ہے۔
(بستان الحمدثین: صفحہ، 293)
مشہور قول پہلا ہے اور اس کے مطابق کل عمر ستر سال بنتی ہے، کسی نے آپ کی عمر اور تاریخ وفات کو اس شعر میں ظاہر کیا ہے:
الترمذی محمد ذوزین
عطر وفاة عمره فی عين۔
عطر سے تاریخ وفات اور عین سے کل عمر کی طرف اشارہ ہے۔
(العرف الشذى مطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 2 معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 14)
کیا امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ پیدائشی نابینا تھے؟
بعض حضرات نے کہا ہے کہ امام ترمذیؒ پیدائشی نابینا تھے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 270)
لیکن یہ بات غلط ہے بلکہ امام صاحب آخر عمر میں نابینا ہوئے تھے، حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃاللہ لکھتے ہیں: زہد و خوف بحدے داشت کہ فوق آن متصور نیست، بخوف الہی بسیار گریہ و زاری کرد، و نابینا شد۔
(بستان المحد ثین: صفحہ، 290)
امام ترمذی رحمۃاللہ کی خدا ترسی تصور انسانی سے بالا تر تھی اللہ کے خوف سے روتے روتے نابینا ہو گئے، اسی طرح عمر بن ملک کا بیان ہے: بکی حتیٰ عمى وبقى ضرير العينين۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 277 تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 234 تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 379 میں راوی کا نام عمران بن علان آیا ہے، ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں: والذی يظهر من حال الترمذى أنه إنما طرأ عليه العمى بعد أن رحل و سمع و كتب و ذاكر وناظر وصنف البدايہ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ، 67 علامہ ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: والصحيح أنه أضر فی كبره بعد رحلته وكتابته العلم، سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 270)
تحصیل علم:
امام ترمذی رحمۃاللہ نے تحصیل علم کے لیے خراسان، عراق، حجاز کی طرف سفر کیا اور وہاں کے علماء سے کسبِ فیض کیا، البتہ مصر اور شام تشریف نہیں لے گئے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 271 تہذیب الکمال: جلد، 26 صفحہ، 251)
حیرت انگیز حافظہ:
اللہ تعالیٰ نے امام ترمذیؒ کو حیران کن قوت حافظہ عطا فرمائی تھی، علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: قال أبو سعيد الإدريسی: كان أبو عيسىٰ يضرب به المثل فی الحفظ۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 273 تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 634)
امام ترمذیؒ قوتِ حافظہ میں ضرب المثل تھے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہو سکتا ہے کہ امام ترمذیؒ نے ایک شیخ کی روایات کے دو جز نقل کئے تھے، مکہ کے راستہ میں اسی شیخ سے ملاقات ہوئی، امام صاحب نے سوچا کہ کیوں نہ براہِ راست شیخ سے سماعت کروں، درخواست لے کر شیخ کے پاس گئے، انہوں نے منظور کر کے کہا میں پڑھتا جاؤں گا اور آپ اپنے نسخہ میں مقابلہ کرتے جاؤ، اتفاق سے وہ دو جزء امام صاحب کے سامانِ سفر میں نہ ملے تو وہ سادہ کاغذ لے کر بیٹھ گئے، شیخ کی نظر پڑ گئی، بہت سخت ناراض ہوئے، امام صاحب نے واقعہ سنایا اور کہا کہ وہ دو جزء مجھے ازبر یاد ہیں اور پھر شیخ کے کہنے پر سنانا شروع کیا، شیخ نے کہا کہ آپ پہلے سے یاد کر کے آئے ہو، امام ترمذیؒ نے کہا امتحان کر لیجیئے، انہوں نے چالیس غریب حدیثیں امام ترمذیؒ کے سامنے پڑھیں، پھر اسی وقت امام صاحب نے بغیر کسی غلطی کے ان کو وہ سب حدیثیں سنا دیں۔
(دیکھیے تذکرة الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 235 سیر اعلام النبلاء: جلد، 12 صفحہ، 273
تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 388 الانساب: جلد، 1 صفحہ، 45 بتغیر یسیر واللہ اعلم)
جلالت قدر:
حضرت امام بخاریؒ کو اپنے اس شاگرد رشید پر ناز تھا، وہ فرماتے ہیں: ما انتفعت بك أكثر مما انتفعت بی۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 389)
علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ یہ بات بظاہر بعید نظر آتی ہے اس لیے کہ امام ترمذیؒ اگرچہ فنِ حدیث میں علم کے پہاڑ ہیں، لیکن امام بخاریؒ علمِ حدیث کی دنیا کا چمکتا ہوا سورج ہیں جو اپنی روشنی میں کسی کے محتاج نہیں تو اس قول کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے تلامذہ کی بنسبت آپ نے مجھ سے زیادہ علم حاصل کیا اور ظاہر ہے کہ شاگرد جتنا علم حاصل کرے استاد کا فائدہ ہوتا ہے، چونکہ جس طرح شاگرد استفادہ کا محتاج ہے استاد بھی افادہ اور اپنے علم کی اشاعت کا ذمہ دار ہے، اگر شاگرد ذکی ہو تو اشاعت علم کا بہترین ذریعہ ہونے کے ساتھ دورانِ درس بھی ایسے سوالات کرتا ہے جو استاد کے لیے فائدہ سے خالی نہیں ہوتے۔
(العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 2 معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 15)
علامہ ابنِ حجرؒ نے ادریسی کا قول نقل کیا ہے: "كان الترمذى أحد الائمة الذين يقتدى بهم فی علم الحدیث۔
(تہذیب التہذيب: جلد، 9 صفحہ، 388)
امام ترمذیؒ کے لیے ایک قابلِ فخر بات یہ بھی ہے کہ حضرت امام بخاریؒ نے ان سے دو حدیثیں سنی ہیں۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 387)
ایک ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت: أن النبیﷺ قال لعلی: لا يحل لأحد يجنب فی هذا المسجد غيرى و غيرك۔
(اخرجه الترمذی فی مناقب علی بن ابی طالب: جلد، 2 صفحہ، 214)
قال الترمذى: سمع منى محمد بن إسماعيل دوسری حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہا کی روایت سورۃ حشر کی تفسیر میں
(اخرجه الترمذی فی تفسير سورة الحشر: جلد، 2 صفحہ، 166)
علامہ عینیؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ کا اپنے شاگرد سے حدیث سننا کوئی تعجب کی بات نہیں، وہ خود فرمایا کرتے تھے: لا يكون المحدث محدثا كاملا حتىٰ يكتب عمن هو فوقه، وعمن هو دونه وعمن هو مثله۔
(عمدة القاری: جلد، 1 صفحہ، 8)
عمران بن علان کہتے ہیں: امام بخاریؒ وفات پاگئے اور خراسان کی زمین میں اپنا ایک ہی جانشین چھوڑ گئے ہیں جو علم و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ ہیں اور وہ امام ترمذیؒ ہیں۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 389)
امام ترمذی رحمۃاللہ ابن حزم رحمۃاللہ کی نظر میں:
ابنِ حزمؒ نے اپنی کتاب الایصال میں امام ترمذی رحمۃاللہ کے بارے میں لکھا ہے: هو مجهول اور اپنی دوسری تصنیف میں لکھا ہے: ومن محمد بن عیسیٰ بن سورۃ؟
(البدايہ والنہايہ: جلد، 11 صفحہ، 97 تہذیب التہذیب: جلد 9، صفحہ 388 مقدمہ اعلاء السنن مع تعليقات الشيخ عبد الفتاح: جلد، 1 صفحہ، 125 مقدمہ تحفۃ الاحوذی)
ابنِ حزمؒ کی اس تجہیل کو علماء نے بہت سخت رد کیا ہے۔
(ابنِ حزمؒ کا نام علی بن احمد بن سعید بن حزم اور کنیت ابومحمد ہے، 384ھ میں شہر قرطبہ میں ان کی ولادت ہوئی اور 456ھ میں وفات پائی)
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 18 صفحہ، 84 وفیات الاعیان: جلد، 3 صفحہ، 335 تذکرة الحفاظ: جلد، 3 صفحہ، 1146 البدايہ و النہايہ: جلد، 12 صفحہ، 91)
حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ لکھتے ہیں: كان واسع الحفظ جداً، إلا أنه لثقته بحافظته كان يهجم على القول في التعديل والتجريح وتبيين اسماء الرواة، فيقع له من ذلك أوهام شنيعة۔
(لسان المیزان: جلد، 4 صفحہ، 198)
تاج الدین سبکی لکھتے ہیں: ابنِ حزمؒ ایک زبان دراز اور جرح و تعدیل میں بغیر کسی تحقیق کے اپنے گمان پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کرنے والے ہیں، اپنے الفاظ میں ائمہ اسلام کو ہدف تنقید بناتے ہیں اور ان کی کتاب الملل والنحل تو شرالکتب ہے، اس کتاب میں انہوں نے امام ابو الحسن اشعری پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کو کفر کے کنارے تک پہنچا دیا اور ان کے بدعتی ہونے کا فیصلہ کیا، محققین نے اس کتاب کے مطالعہ سے منع کیا ہے۔
(طبقات الشافعية الكبرىٰ: جلد، 1 صفحہ، 43)
امام ترمذیؒ کا دفاع کرتے ہوئے علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں: الحافظ العالم أبوعيسىٰ الترمذى صاحب الجامع ثقة مجمع عليه، ولا التفات إلى قول أبی محمد بن حزم فيه فی الفرائض من كتاب الإيصال أنه مجهول، فإنه ما عرفه ولادرى بوجود الجامع ولا العلل اللذين له۔
(میزان الاعتدال: جلد، 3 صفحہ، 678 ترجمہ محمد بن عیسیٰ)
حافظ ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں: ابنِ حزمؒ نے امام ترمذیؒ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کر کے اپنے مرتبہ و مقام کو اہلِ علم کے نزدیک پست کیا ہے نہ کہ امام صاحب کے مقام و منزلت کو۔
(البدايہ والنہايہ: جلد، 11 صفحہ، 17)
حافظ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں: کوئی یہ نہ سمجھے کہ ابنِ حزم امام ترمذی رحمہما اللہ کو جانتے نہیں تھے اور ان کی تصانیف و قوتِ حفظ کی اطلاع ان تک نہیں پہنچی تھی، بلکہ یہ اس آدمی کی عادت ہے جیسا کہ انہوں نے بہت سارے ثقہ حفاظ کے بارے میں اس جیسے جملے استعمال کئے ہیں، حالانکہ حافظ ابنِ فرضی (جو ابنِ حزمؒ کے شہر کے ہیں) کی کتاب المؤتلف والمختلف میں امام ترمذیؒ کی تعریف و توثیق موجود ہے تو کیا ابنِ حزمؒ نے اپنے شہر کے محقق و مصنف کی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا؟
(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 388)
شیوخ و تلامذہ:
امام ترمذیؒ نے اپنے زمانے کے ہر خرمنِ علم سے خوشہ چینی کی، امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ جیسے ائمہ فن سے استفادہ کے ساتھ ساتھ ان کے بعض شیوخ میں بھی ان کے ساتھ شریک ہیں، جیسے قتیبہ بن سعید علی بن حجر محمد بن بشارؒ، اسحاق بن راھویہؒ، ان کے تلامذہ میں ایک محمد بن احمد۔
(یہ ابو العباس محمد بن احمد بن محبوب الجبوبی امروزی ہیں، 265ھ میں امام ترمذیؒ سے استفادہ کرنے آئے جبکہ آپ کی عمر 16 برس کی تھی، 346ھ میں ان کا انتقال ہوا، دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 537 شذرات الذہب: جلد، 2 صفحہ، 373)
جو جامع کے رواۃ میں سے ہیں اور ہیثم بن کلیب۔
(یہ ابوسعید الہیثم بن کلیب الشاش الترکی اور المسند الکبیر کے مصنف ہیں، 335ھ میں سمرقند میں انتقال ہوا، دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 359، تذکرة الحفاظ: جلد، 3 صفحہ، 848)
جو شمائل کے رواۃ میں سے ہیں وغیرہ مشہور ہیں۔
تصانیف:
جامع ترمذی کے علاوہ بہت سی کتابیں یادگار چھوڑ گئے ہیں، جیسے علل صغریٰ جو جامع ترمذی کے ساتھ مطبوع ہے علل کبریٰ یہ نایاب ہے شمائل النبیﷺ یہ اپنے موضوع کی بہترین کتاب ہے اور اس کے پڑھنے میں بہت برکت ہے، شیخ عبد الحق اشعۃ اللمعات میں لکھتے ہیں:
خواندن آن برای مهمات مجرب اکابر است
یعنی مشکلات میں اس کا پڑھنا بزرگوں کا مجرب ہے۔
التاريخ، الزهد، الأسماء والكنى، الجرح و التعدیل۔
(الاعلام: جلد، 6 صفحہ، 322 البدايہ و النہايہ: جلد، 1 صفحہ، 26، 27)
بھی ان کی تصنیفات ہیں۔
مسلک:
علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ
(فیض الباری: جلد، 1 صفحہ، 58 العرف الشذی: صفحہ، 2)
مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃاللہ
(مقدمه معارف السنن: صفحہ، 22 قال صاحب التحفة معترضا على الشيخ أنور شاه: أن الترمذی لم يكن مقلداً للشافعی ولا لغيره، ولهذا اعترض على تأويل الشافعی فی حديث الإبراد فانه ليس من شأن المقلد الاعتراض على إمامه۔ انتهى قال الشيخ محمد يوسف ياليت لو كان يعلم طبقات المقلدين و درجاتهم والفروق بينهم، و ياليت لو كان يعلم الفرق بين تقليد أكابر المحدثين من السلف وبين تقليد المتأخرين، معارف السنن: جلد، 3 صفحہ، 55، 56)
سید صدیق حسن خان
(ما تمس اليه الحاجة: صفحہ، 25)
نے امام ترمذیؒ کو شافعیؒ کہا ہے، شیخ ابراہیم سندھی نے کہا کہ امام ترمذیؒ امام شافعیؒ کے مقلد نہیں تھے بلکہ خود مجتہد تھے، اگرچہ اکثر مواقع میں ان کی تخریج امام شافعیؒ کے مذہب سے ملتی جلتی ہے۔
(ماتمس اليه الحاجة: صفحہ، 25، 26)
امام ابنِ تیمیہؒ نے ان کو اہلِ حدیث قرار دیا ہے۔ (توجیه النظر الی اصول الاثر: صفحہ، 185)
اور حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ کی رائے میں یہ مجتہد منتسب الی احمد و اسحاق ہیں
(ما تمس اليه الحاجة: صفحہ، 26)
کتاب کا نام:
جامع ترمذی میں اضاف ثمانیہ (سیر، آداب، تفسیر ، عقائد، فتن، احکام، اشراط، مناقب) موجود ہیں لہٰذا اس پر جامع کا اطلاق کیا جاتا ہے، صاحب کشف الظنون نے کہا کہ عموماً اس کی نسبت مؤلف کی طرف کی جاتی ہے اور جامع الترمذی کہا جاتا ہے۔
(کشف الظنون: جلد، 1 صفحہ، 559 مقدمه تحفۃ الاخودی: صفحہ، 181)
(جس طرح صحاحِ ستہ کی دوسری کتابوں میں ہوتا ہے) اسی طرح یہ کتاب ابوابِ فقہیہ کی ترتیب پر ہے، لہٰذا اسے السنن، بھی کہا جاتا ہے، حاکم اور خطیب نے جامع ترمذی پر صحیح کا اطلاق کیا ہے لیکن ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ اطلاق تغلبی ہے، وگرنہ اس میں احادیث ضعیفہ بھی موجود ہیں، لہٰذا اس پر تغلیباً الجامع الصح کا اطلاق بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن پہلا نام زیادہ مشہور ہے۔
عادات امام ترمذی رحمۃاللہ:
1: اکثر ابواب خصوصاً ابوابِ متعلقہ بالاحکام میں ایک ہی روایت لاتے ہیں اور اس باب کے تحت آنے والی باقی روایات کی طرف وفی الباب عن فلان و فلان سے اشارہ کرتے ہیں۔
2: جتنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی روایت پیشِ نظر ہوتی ہیں وفی الباب میں ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
(نفع قوت المغتذى المطبوع مع جامع الترمذى: جلد 1، صفحہ 2،
الكوكب الدری: جلد، 1 صفحہ، 33 مقدمہ تحفة الاحوذی: صفحہ، 190)
علامہ عراقیؒ فرماتے ہیں کہ وفی الباب، سے صرف اوپر والی حدیث کی طرف اشارہ نہیں بلکہ وہ تمام روایات پیشِ نظر ہیں جو باب میں آ سکتی ہیں۔
(تحفۃ الاحوذی: جلد، 1 صفحہ، 9)
بعد کے علماء و مصنفین نے وفی الباب کی روایات کی تخریج و تشریح پر کام کیا ہے، حافظ ابنِ حجرؒ کی کتاب اللباب فیما یقولہ الترمذی وفی الباب اور علامہ عراقی کی ایک کتاب کا تذکرہ ملتا ہے، حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے بھی اس سلسلہ میں اہم کام شروع فرمایا تھا اور اس کا نام لب اللباب تجویز فرمایا تھا معارف السنن میں فرماتے ہیں: قد بدأت والحمد لله فی تأليف كتاب فی تخريج أحاديث ما فی الباب بنمط بديع وأسلوب جيد، ولو تم الكتاب لوقع فی جذر قلوب أولى الألباب۔
(معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 36 مزید فرماتے ہیں: وأكبر عون على تخريج ما فی الباب بعد الصحاح مسند أحمد بن حنبل و زوائد الهيثمی، وكتب التخريجات ومن أنفعها وأوسعها نصب الراية للحافظ جمال الدين الزيلعی ثم تلخيص الحبير للحافظ ابنِ حجر، انتھی)
3: کبھی مشہور حدیث کو ترجمہ کے تحت نہیں لاتے بلکہ دوسری غیر مشہور حدیث لاتے ہیں، پھر وفی الباب میں اس مشہور حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اس طریق کار میں غیر مشہور حدیث سے واقف کرانا اور اس کی علت خفیہ یا متن کی کمی زیادتی پر متنبہ کرنا مقصود ہے۔
(نفع قوت المعتدى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد،1 صفحہ، 2 مقدمہ تحفۃ الاحوذی علامہ محمد یوسف بنوری رحمۃاللہ فرماتے ہیں: هذا غير مطرد فی الأبواب، نعم تارة يكون الأمر هكذا معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 35)
4: بالعموم امام ترمذیؒ کی عادت ہے کہ وفی الباب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسماء مبارکہ کو ذکر کرتے ہیں لیکن کبھی عن فلان عن أبيه کہتے ہیں یہاں مقصود بالذکر باپ ہی ہوتا ہے لیکن بیٹے کا نام اس وجہ سے ذکر کرتے ہیں کہ اس صحابی سے سوائے ان کے بیٹے کے کوئی اور روایت کرنے والا نہیں ہے مثلاً باب ماجاء لا تقبل صلاة بغير طهور میں وفى الباب عن أبی المليح عن أبيه کہا، يا باب ماجاء فی الزكاة من التشديد میں وفى الباب عن قبيصة بن هلب عن أبيه کہا، تو تنبیہ اس بات پر کرتے ہیں کہ اسامہ بن عمیر ھذلی بصری۔
(ابنِ حجرؒ تقریب التہذیب میں لکھتے ہیں: أسامة بن عمير بن عامر بن الأفيشر الهذلی، البصری، والد أبی المليح صحابی، تفرد ولده عنه دیکھیے تقریب التہذیب: صفحہ، 98)
ان کے بیٹے ابو الملیح کے علاوہ اور ھلب طائی (هلب، بضم أوله وسكون اللام ثم موحدة، الطائی صحابی، قبل اسمه یزید و هلب لقب، وقد على النبیﷺ وهو أقرع، فمسح رأسه فنبت شعره سكن الكوفة، وروى عن النبیﷺ وعنه ابنه قبيصة دیکھیے تقریب التہذیب: صفحہ، 574 تہذیب التہذیب: جلد، 11 صفحہ، 26)
سے ان کے بیٹے قبیصہ کے علاوہ اور کوئی روایت نہیں کرتا، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صحابی کے نام میں اختلاف ہوتا ہے تو التباس دور کرنے کے لیے بیٹے کا نام ذکر کرتے ہیں۔
5: عام طور پر جس صحابی کی روایت ذکر کرتے ہیں پھر دوبارہ وفی الباب میں ان کا ذکر نہیں ہوتا، لیکن بعض مقامات پر اس کے خلاف بھی موجود ہے مثلاً باب حرمة خاتم الذهب میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت ذکر کی ہے: قال: نهانی رسول اللهﷺ عن التختم بالذهب وعن لباس القسى۔
(دیکھیے جامع ترمذی: ابواب اللباس، باب كراهية خاتم الذهب: جلد، 1 صفحہ، 304)
پھر عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے پھر وفی الباب عن علیؓ فرمایا، علامہ عراقیؓ فرماتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ حضرت علیؓ کی مذکورہ روایت کے علاوہ کسی دوسری روایت کی طرف اشارہ ہے، یعنی وہ روایت جسے امام احمدؒ، ابو داؤدؒ اور نسائیؒ نے نقل کیا ہے: إن النبیﷺ أخذ حريراً فجعله فی يمينه، وأخذ ذهبا فجعله فی شماله، ثم قال: إن هذين حرام على ذكور أمتى۔
(مقدمۃ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 191 والحدیث اخرجہ ابو داؤد فی کتاب اللباس باب فی الحرير للنساء: جلد، 2 صفحہ، 205)
6: امام ترمذیؒ جب کسی حدیث پر حسن و غریب کا حکم لگاتے ہیں تو عموماََ حسن کو مقدم کر کے حسن غریب کہتے ہیں لیکن بعض مقامات پر اس کا عکس بھی کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امام ترمذیؒ اجتماع و صفین کے وقت وصف غالب کو مقدم کرتے ہیں، اگر غرابت غالب ہو تو غریب کو مقدم کرتے ہیں اور اگر وصف حسن غالب ہو تو حسن کو مقدم لاتے ہیں۔
(العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 7 معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 86)
7: رواۃ کی جرح و تعدیل ذکر کرتے ہیں۔
8: راوی کے نام اور کنیت کی وضاحت کرتے ہیں۔
9: سلف کا تعامل بیان کرتے ہیں۔
10: ائمہ کے مذاہب پر تقریباً ہر باب میں تنبیہ کرتے ہیں۔
11: ترتیب عمدہ ہے تکرار بھی نہیں۔
12: امام ترمذیؒ کی تمام روایات معمول بہا ہیں، امام صاحب کتاب العلل میں فرماتے ہیں: اس کتاب میں دو حدیثوں کے علاوہ کوئی حدیث ایسی نہیں جس پر امت میں کسی نہ کسی کا عمل نہ ہو ایک حدیث ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی ہے جمع رسول اللهﷺ بين الظهر والعصر بالمدينة اور دوسری حدیث: من شرب الخمر فاجلدوه، فان عاد فی الرابعة فاقتلوہ (العلل الصغرىٰ للترمذى المطبوع فی آخر جامع الترمذی: جلد، 2 صفحہ، 233)
یہ امام ترمذیؒ کا اپنا خیال ہے ورنہ حنفیہ کے یہاں یہ دونوں حدیث معمول بہا ہیں بایں طور کہ پہلی حدیث جمع صوری پر محمول ہے اور دوسری سیاست و تعزیر پر تو گویا جامع ترمذی کی تمام روایات معمول بہا ہیں۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے معارف السنن: جلد، 2 صفحہ، 167 باب ما جاء فی الجمع بین الصلاتین العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: صفحہ، 233)
13: امام ترمذیؒ احادیث کی اقسام بھی بیان فرماتے ہیں جیسے حسن، صحیح، ضعیف۔
تنبیہ:
امام ترمذی رحمۃاللہ حدیث کی نوعیت تو بیان کرتے ہیں لیکن یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ امام ترمذی رحمۃاللہ تصحیح و تحسین میں تساہل ہیں۔
(مقدمہ اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 112
متقدمۃ الكوكب الدری: جلد، 1 صفحہ، 17
مقدمۃ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 171)
اور بہت سی ضعیف روایات کو انہوں نے حسن قرار دیا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
1: حديث كثير بن عبداللہ عن أبيه عن جده: أن النبیﷺ كبّر فی العيدين فی الأولى سبعا قبل القراءة وفی الآخرة خمسا قبل القراءة اس حدیث کے متعلق امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: حدیث جد کثیر حدیث حسن، وهو أحسن شيئ روى فی هذا الباب۔
(جامع الترمذی ابواب العيدين باب فی التكبير فی العيد: جلد، 1 صفحہ، 19 حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ لکھتے ہیں: قال الحافظ أبو الخطاب بن دحية المغربی إن أقبح الأحاديث التی أخرجها الترمذی وحسنها رواية كثير بن عبداللہ فی تكبيرات العيدين وأما ابن دحية فمتكلم فيه، فقيل: إنه وضاع، ولكنى لا اسلمه، نعم إنه رجل غير مبالٍ انتھی، دیکھیے العرف الشذی المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 117)
اور اپنی کتاب العلل الکبریٰ میں لکھتے ہیں: سالت محمدا عن هذا الحديث فقال: ليس شيئ فی هذا لباب أصح منه، و به أقول۔
(الكاشف و تعلیقاته: جلد، 2 صفحہ، 145، رقم 3746)
امام ترمذی رحمۃاللہ نے اس حدیث کی تحسین کی ہے، حالانکہ اس کی سند میں کثیر بن عبداللہ ہیں جن کی اکثر محدثین نے تضعیف کی ہے۔
قال ابن معين: لیس بشيئ وقال الشافعی وأبو داؤد: ركن من أركان الكذب وضرب أحمد على حديثه، قال الدارقطنی وغیره متروك۔
(میزان الاعتدال للذہبی: جلد، 3 صفحہ، 306)
حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: انكر جماعة تحسينه على الترمذی۔
(تلخيص الحبير كتاب الصلاة: جلد، 2 صفحہ، 84)
2: اسی کثیر بن عبداللہ کی ایک اور روایت جامع ترمذی میں ہے۔
إن رسول اللہﷺ قال: الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرّم حلالا أو أحّل حراما والمسلمون على شروطهم الا شرطا حرّم حلالا أو أحل حراما۔
(دیکھیے جامع ترمذی، ابواب الأحكام، باب ما ذكر عن النبیﷺ فی الصلح بين الناس: جلد، 1 صفحہ، 251)
امام ترمذیؒ اس کی تحسین کرتے ہوئے فرماتے ہیں: هذا حدیث حسن صحیح۔
(حوالہ بالا)
حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ نے فرمایا: قال أحمد: إنه لا يساوى در هماً۔
(العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 250)
صاحبِ میزان الاعتدال لکھتے ہیں: وأما الترمذى فروى عن كثير بن عبداللہ الصلح جائز بين المسلمين وصححه فلهذا لا يعتمد العلماء على تصحيح الترمذی۔
(میزان الاعتدال للذہبی: جلد، 3 صفحہ، 407) البتہ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ امام ترمذیؒ کے تساہل کے باوجود ان کی کتاب میں کوئی موضوع حدیث موجود نہیں۔
بعض اصطلاحات کی تشریح:
ہذا حديث صحیح:
صحیح کی دو قسمیں ہیں:
1: صحیح لذاتہ: مارواه العدل تام الضبط باتصال السند من غير شذوذو لا علة۔
2: صحیح لغیرہ: جس کے قصورِ ضبط کی تعدد طرق سے تلافی ہو گئی ہو۔
ہذا حدیث حسن:
حسن کی بھی دو قسمیں ہیں:
1: حسن لذاتہٖ: وہ حدیث ہے جس میں کوئی ایک راوی ضعیف الضبط ہو لیکن صحیح کی دوسری شرائط بدستور اس میں موجود ہوں۔
2: حسن لغیرہٖ: وہ ضعیف حدیث جو طرق متعددہ سے مروی ہو اور اس کا کوئی متابع موجود ہو۔
(تعریفات کے لیے دیکھیے مقدمہ اعلاء السنن: صفحہ، 24)
امام ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ نے کہا ہے کہ حدیث حسن، امام ترمذی رحمۃاللہ کی ایجاد ہے، ان سے پہلے جو محدثین تھے حدیث کی دو قسمیں بتاتے تھے، صحیح اور ضعيف (و أول ما عرف أنه قسم الحديث ثلاثة أقسام: صحيح و حسن و ضعيف هو أبوعيسىٰ الترمذی فی جامعه)
(قاعدة جليلۃ فی التوسل والوسيلۃ: صفحہ، 82
و مجموع الفتاویٰ: جلد، 1 صفحہ، 251)
امام ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ کی یہ بات نظر سے خالی نہیں، اس لیے کہ امام ترمذیؒ کے استاذ حضرت امام بخاری رحمۃاللہ اور دوسرے محدثین جو امام ترمذیؒ سے پہلے کے ہیں، نے بعض احادیث پر حسن کا حکم لگایا ہے، امام ترمذیؒ اپنی کتاب میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کرتے ہیں: إن رسول اللهﷺ قال: من زرع فی أرض قوم بغير إذنهم، فليس له من الزرع شيئ وله نفقته۔ (دیکھیے جامع ترمذی ابواب الاحکام، باب ما جاء من زرع فی ارض قوم بغیر اذنهم: جلد، 1 صفحہ، 253)
اس کے بعد فرماتے ہیں: سالت محمد بن إسماعيل عن هذا الحديث، فقال: هو حدیث حسن اور بھی احادیث اس طرح کی ہیں۔
حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام علی بن المدینی عموما احادیث پر صحیح یا حسن کا حکم لگاتے ہیں بظاہر وہ حدیث حسن کے موجد ہیں، ان سے یہ اصطلاح امام بخاریؒ نے اور امام بخاریؒ سے امام ترمذیؒ نے اخذ کی۔
(دیکھیے النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 426 ثم اعلم أن الحافظ قد ذكر بحثا مشبعا فارجعه إن شئت النكت: المجلد الأول، من الصفحہ، 424، 429)
البتہ امام ترمذیؒ یہ اصطلاح بہت استعمال کرتے ہیں اس لیے ابنِ صلاح نے فرمایا: كتاب أبی عيسىٰ الترمذى أصل فی معرفة الحديث الحسن۔
(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ، 15، 16 مکتبہ فاروقی ملتان)
هذا حديث حسن صحیح:
امام ترمذیؒ نے یہاں حسن اور صحیح کو جمع کر دیا ہے یہ جمع قابلِ اعتراض ہے اس لئے کہ صحیح اور حسن میں تضاد ہے، صحیح میں حافظہ اعلیٰ درجے کا ہونا چاہیئے اور حسن میں حافظہ کے اندر قصور ہوتا ہے، لہٰذا صحیح حسن جمع نہیں ہو سکتے۔
1: یہاں صحیح اور حسن کے اصطلاحی معنیٰ مراد نہیں جو اعتراض کیا جائے بلکہ لغوی معنیٰ مراد ہیں یعنی ما تميل إليه النفس وتستحسنه۔
(دیکھیے الکوکب الدری: جلد، 1 صفحہ، 31
اسی طرح ابنُ الصلاح لکھتے ہیں: إن المراد بالحسن فقط معناه اللغوى "دون الصحيح" مقدمہ ابنُ الصلاح : صفحہ، 19)
لیکن یہ جواب غلط ہے، اول تو حضورِ اکرمﷺ کی ہر حدیث ایسی ہوتی ہے جس کو نفس پسند کرتا ہے، پھر امام ترمذیؒ کا "هذا حدیث حسن صحیح" کہنے کا کیا فائدہ؟
دوم یہ کہ اگر معنیٰ لغوی مراد لیا جائے تو یہ بات موضوع اور ضعیف حدیثوں پر بھی صادق آئے گی۔
(حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: هذا الإلزام عجيب لأن ابن الصلاح إنما فرض المسألة حيث يقول القائل حسن صحيح، فحكمه عليه بالصحة يمنع معه أن يكون موضوعاً، قلت هذا إذا كان الحسن فقط بالمعنىٰ اللغوى، وأما إذا كان المراد بالصحيح أيضا معناه اللغوى (كما ذكره الشيخ الجنجوهی) فالإيراد وارد)
کیونکہ جو آدمی موضوع یا ضعیف حدیث بناتا ہے تو وہ اس کا مضمون اچھا ہی بناتا ہے اور امام ترمذیؒ موضوع اور ضعیف کے لیے یہ عنوان استعمال نہیں کرتے۔
سوم یہ کہ کتاب حدیث کی ہے اور باقی تمام اصطلاحات محدثین کی استعمال کر رہے ہیں پھر "حسن صحیح" میں اصطلاحِ قوم سے اعراض، اصول کے خلاف ہے۔
(تینوں اعتراضات کا ذکر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃاللہ نے فرمایا ہے، دیکھیے الکوکب الدرى: جلد، 1 صفحہ، 31)
2: علامہ ابنِ دقیق العید فرماتے ہیں کہ صحیح کو بشرط الشییٔ کے درجے میں لیا جائے یعنی اس میں کمالِ ضبط و اتقان و عدالت وغیرہ کی رعایت رکھی جائے اور حسن کو لا بشرط الشییٔ کے درجے میں لیا جائے، یعنی نہ قصور حافظہ کی قید ہو نہ کمال حافظہ کی تو اب ہر صحیح حسن ہوگی لیکن ہر حسن صحیح نہیں ہوگی، عموم خصوص مطلق کی نسبت ہوگی، لہٰذا دونوں جمع ہو جائیں گے۔
(دیکھیے تدریب الراوی للسیوطی: جلد، 1 صفحہ، 123)
حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ نے بھی اس جواب کو پسند فرمایا۔
(حافظ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: فی الجملة أقوى الأجوبة ما أجاب به ابن دقيق العید دیکھیے النكت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 478، مولانا محمد یوسف بنوری لکھتے ہیں: هذا الجواب هو الصواب عن شيخنا الشيخ أنور شاه الكشميریؒ وهو من أحسن ما أجيب به،
دیکھیے معارف السنن : جلد، 1 صفحہ، 44)
لیکن یہ جواب بھی اس لیے مشکوک ہے کہ محدثین کی اصطلاح کے خلاف ہے، ان کی اصطلاح میں حسن میں قصورِ ضبط شرط ہے۔
3: حافظ ابنِ کثیر رحمۃاللہ نے فرمایا کہ حسن اور صحیح کے درمیان ایک متوسط درجہ ہے جسے حسن صحیح کہا جاتا ہے یعنی وہ روایت جس کے راوی میں ضبط کا نقصان اتنا نہ ہو جتنا حسن کے راوی میں ہوتا ہے اور اتنا کمال بھی نہ ہو جتنا صحیح کے راوی میں ہوتا ہے، یعنی بین بین ہو۔
(اختصار علوم الحديث مع شرح الباعث الحثيت: صفحہ، 36)
جیسے حلو میٹھا، حامض کھٹا اور حلو حامض کٹھا میٹھا، یہ جواب محلِ نظر ہے، کیونکہ یہ بھی اصطلاح محدثین کے خلاف ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ امام ترمذی رحمۃاللہ نے حسن صحیح کا اطلاق کئی جگہ ان حدیثوں پر کیا ہے جو بالکل صحیح ہوتی ہیں تو اگر یہ جواب صحیح تسلیم کیا جائے تو وہ تمام حدیثیں جو عند المحدثین صحیح ہیں، امام ترمذی رحمۃاللہ کے ہاں صحیح کے درجے سے گری ہوئی ہوں گی حالانکہ ایسا نہیں، یہ اعتراض علامہ زرکشی اور ابنِ حجر رحمۃاللہ نے ابنِ کثیر رحمۃاللہ پر کیا ہے۔
(دیکھیے النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 477)
4: علامہ زرکشی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہوتی ہے اور حسن کا لفظ بطورِ تاکید کے بڑھا دیتے ہیں، اس پر یہ اعتراض ہے کہ تاکید بعد میں آیا کرتی ہے اور امام ترمذیؒ حسن پہلے کہتے ہیں۔
(حافظ ابنِ حجرؒ یہ اعتراض کر کے لکھتے ہیں: التأسيس أولى من التأكيد النكت على كتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 478)
5: علامہ زرکشی نے دوسرا جواب یہ دیا کہ محدث جب تک ضبط و عدالت کے اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچتا اس کی حدیث حسن ہوتی ہے اور جب اس بلند مقام تک پہنچتا ہے اس کی حدیث صحیح کے درجے میں آ جاتی ہے تو حسن صحیح کہنا دو مختلف زمانوں کے اعتبار سے ٹھیک ہے۔
(مقدمہ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 200)
6: انہوں نے تیسرا جواب یہ دیا کہ وہ حدیث امام ترمذیؒ کی نظر میں حسن اور دوسرے محدثین کے نزدیک صحیح ہوتی ہے یا اس کا عکس ہوتا ہے، اس لیے امام ترمذیؒ دونوں کو ذکر کرتے ہیں۔
(حوالہ بالا)
7: حافظ ابنِ حجرؒ نے یہ جواب دیا ہے اگر حدیث ایک ہی سند سے مروی ہو تو راوی کے بارے میں مصنف کو تردد پیش آیا ہے کہ اس کو کامل الضبط قرار دیا جائے یا نہیں، اس صورت میں عبارت کے اندر "او" مقدر ہوگا حسن او صحیح۔
8: اگر وہ حدیث کئی سندوں سے مروی ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ ایک سند کے اعتبار سے حسن اور دوسری سند کے اعتبار سے صحیح ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی: حسن بسند و صحيح بسند۔
(قال الحافظ وإنى الأميل إليه أى إلى هذا الجواب وأرتضيه، قال المحشى: كيف يميل إليه الحافظ مع أنه يرد عليه ماذكر الحافظ انه لو ارادلاتی بالواوالتی للجمع أو أتى بأوالتی هی للتخيير أو الترديد ويتوقف ايضاً على اعتبار الأحاديث التی جمع الترمذى فيها بين الوصفين فان كان فی بعضها مالا اختلاف فيه عند جميعهم فی صحته فيقدح فی الجواب النكت: جلد، 1 صفحہ، 477، 478، ثم اعلم أن الشيخ محمد يوسف البنوریؒ قال بعد نقل هذا الاعتراض إن الحافظ ايضاً اختار هذا الجواب فی شرح النخبة و ارتضاه وقوى جواب ابن دقيق العيد فی "نكته" فلعل ما أجاب به الحافظ فی شرح النخبة غير مرضى عنده أيضاً، وارى واللہ أعلم أن "نكته" آخر تاليفاً عن "شرح النخبة" انتهى معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 43، 44 الحافظ ذكر الجوابين فی "نكته" فيمكن أن يكون كلاهما مرضيين عنده، لأنه قال: جواب ابن دقيق العيد أقوى ولا يلزم من هذا أن لا يكون الجواب الثانی قوياً وإن شئت تفصيل هذا البحث كله فانظر النكت: المجلد الأول من صفحہ، 475، 478 وتدريب الراوى: جلد، 1 صفحہ، 161، 164 و مقدمة فتح الملهم: جلد، 1 صفحہ، 31 و معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 43، 44 و مقدمۃ تحفۃ الأحوذی: صفحہ، 200)
هذا الحديث أصح شيئ فی هذا الباب وأحسن:
اس عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ اس باب کی تمام حدیثیں صحیح ہیں اور یہ حدیث ان میں زیادہ صحیح ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس باب میں تمام روایت شدہ احادیث میں سے یہ روایت ارحج ہے چاہے تمام حدیثیں صحیح ہوں یا ضعیف۔
(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 87، 88، فتح الملہم: جلد، 1 صفحہ، 31 شیخ عبد الفتاح ابوغدہ تعلیقات اعلاء السنن میں لکھتے ہیں: و كثيراً ما يطلق أهل الحديث هذه العبارة على أرجح الحديثين الضعيفين وهو كثير فی كلام المتقدمين، ولو لم يكن اصطلاحاً لهم لم تدل اللغة على إطلاق الصحة عليه، فإنك تقول لأحد الحديثين هذا أصح من هذا، ولا يدل على أنه صحيح مطلقاً، مقدمه اعلاء السنن: جلد، 1 صفحہ، 56)
هو مقارب الحديث:
اگر لفظ مقارب کو بکسر راء (اسم فاعل ) پڑھا جائے تو معنیٰ یہ ہو گا حدیثه يقارب حديث غیرہ اور اسم مفعول ہونے کی صورت میں معنیٰ یہ ہوگا حدیثه يقاربه حدیث غیرہ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ای يقارب حديثه القبول أو الذهن۔
(الكوكب الدری: جلد، 1 صفحہ، 35)
دونوں معنیٰ قریب قریب ہیں، اور جمہور محدثین کے یہ الفاظ تعدیل میں سے ہے، علامہ سیوطی نے ابنِ سید کا قول نقل کیا ہے کہ اسم فاعل کی صورت میں یہ الفاظِ تعدیل سے ہے اور اسم مفعول کی صورت میں الفاظ تجریح میں سے ہے۔
(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 349)
اس کے الفاظ تعدیل میں سے ہونے کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ امام ترمذیؒ کئی جگہ "ثقة مقارب الحديث" فرماتے ہیں۔
(معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 75)
مولانا محمد یوسف بنوریؒ فرماتے ہیں: وغاية ما يعبر عنه بأنه متوسط الحديث (درمیانی حدیث والا ) باللغة الأردية۔
(معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 76، قال صاحب المعجم الوسيط فی مادة قرب: قارب فلان فی أموره اقتصد و ترك المبالغة المعجم الوسيط: جلد، 2 صفحہ، 723 وفی مصباح اللغات قارب فی الأمر: غلو کو چھوڑ دینا اور میانہ روی اختیار کرنا)
هذا حديث مضطرب وهذا حديث فيه اضطراب:
1: فی المتن فی السند
2: اضطراب کی دو قسمیں ہیں۔
اضطراب فی السند یہ ہوتا ہے کہ حدیث کے راوی سند میں کمی بیشی کریں، کوئی تین اور کوئی چار واسطے بتائے یا ایک ہی راوی کے نام و نسب میں تبدیلی کرتے رہیں اضطراب فی المتن یہ ہوتا ہے کہ متنِ حدیث میں تبدیلی یا کمی بیشی آجائے۔
اضطراب کے تحقق کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس حدیث کے طرق مختلفہ میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح حاصل نہ ہو، اگر ایک طریق کو دوسرے پر ترجیح حاصل ہے پھر راجح اور مرجوح میں سے کوئی مضطرب نہیں، بلکہ طریق مرجوح کے راوی اگر ثقہ ہیں اسے شاذ اور اگر ضعیف ہیں اسے منکر کہا جائے گا، اضطراب فی السند کے بارے میں تفتیش کرنا محدث کا کام ہے، جبکہ فی المتن کی تحقیق مجتہد کرتا ہے اور اضطراب کا حکم یہ ہے کہ مورث ضعف ہوتا ہے
(تفصیل کے لیے دیکھیے مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ، 44 و نخبة الفكر مع شرحه نزهة النظر: صفحہ، 81 تدريب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 226
فتح المہلم: جلد، 1 صفحہ، 159 معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 79)
هذا حديث غير محفوظ:
غیر محفوظ سے حدیث شاذ مراد ہے، یعنی وہ حدیث جس میں ثقہ راوی نے ثقات کی مخالفت کی ہو تو دوسرے ثقات کی روایت جو راجح ہیں اسے محفوظ اور منفرد ثقہ راوی کی روایت کو غیر محفوظ یعنی شاذ کہا جائے گا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: نخبة الفكر مع شرحہ نزهة النظر: صفحہ، 49 تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 232 مقدمہ ابنُ الصلاح: صفحہ، 36)
شاذ روایت غیر مقبول مردود ہے، البتہ شاذ کا اطلاق اس روایت پر بھی ہوتا ہے جس میں ثقہ راوی متفرد ہو لیکن وہ دوسرے ثقات کی مخالفت نہ کرے اس لحاظ سے شاذ روایت مقبول ہے، شاذ غیر مقبول کی مثال وہ روایت ہے، جسے امام ترمذیؒ نے اضطجاع بعد رکعتی الفجر میں نقل کیا ہے: حدثنا بشر بن معاذ العقدی نا عبد الواحد بن زياد نا الأعمش عن أبی صالح عن أبى هريرة قال: قال رسول اللہﷺ إذا صلى أحدكم ركعتی الفجر فليضطجع على يمينه۔
(دیکھیے جامع ترمذی: ابواب الصلوٰة باب ماجاء فی الاضطجاع بعد ركعتی الفجر: جلد، 1 صفحہ، 96)
اس روایت میں عبدالواحد نے اعمش سے جناب رسول اللہﷺ کا قول نقل کیا ہے، حالانکہ اعمش کے دوسرے تلامذہ سب نبی کریمﷺ کا فعل بیان کرتے ہیں۔
(تدریب الراوی: جلد، 1 صفحہ، 235)
حافظ ابنِ حجرؒ عبد الواحد کے بارے میں لکھتے ہیں: فی حديثه من الأعمش وحده مقال۔
(تقریب التہذیب: صفحہ، 367)
اگر ضعیف راوی ثقہ کی مخالفت کرے تو اس کی روایت کو منکر اور ثقہ کی روایت کو معروف کہا جاتا ہے۔
هذا حديث حسن غريب:
امام ترمذیؒ علل صغریٰ میں حدیث حسن کی اس طرح تعریف کرتے ہیں: كل حديث يروى لا يكون فی إسناده من ينهم بالكذب، ولا يكون الحديث شاذا، ويروى من غير وجه نحو ذلك۔
(كتاب العلل الصغریٰ المطبوع منع جامع الترمذی: جلد، 2 صفحہ، 238)
اس تعریف کے پیشِ نظر امام ترمذیؒ کی رائے میں حدیث حسن میں تعدد طرق ضروری ہے اور حدیث غریب میں تعدد نہیں ہوتا بلکہ تفرد ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ حدیث حسن اور غریب میں منافات ہے تو امام ترمذیؒ کس طرح ایک ہی حدیث پر حسن اور غریب کا حکم لگاتے ہیں؟
اس کا ایک جواب یہ ہے کہ امام ترمذیؒ نے حسن کی جو تعریف کی ہے وہ حسن مطلق کی تعریف ہے، یعنی جبکہ اس کے ساتھ دوسرے اوصاف نہ ہوں اگر دوسرے اوصاف ساتھ ہیں پھر ان کے یہاں حسن میں تعدد طرق ضروری نہیں ہوتا۔
(دیکھیے نخبۃ الفکر: صفحہ، 44)
مولانا انور شاہ :کشمیری رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام ترمذیؒ نے علل صغریٰ میں غریب کی تین تعریفیں کی ہیں۔
1: هو الذی لا يروى إلا من طريق واحد كما هو عند الجمهور۔
2: ما يستغرب لزيادة تكون فی الحديث، ولا تكون هی فی المشهور۔
3: ما يستغرب لحال الإسنادو إن كان يروى من أوجه كثيرة۔
(كتاب العلل الصغرىٰ المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 2 صفحہ، 238)
دوسری اور تیسری تعریف کے لحاظ سے حسن اور غریب جمع ہو سکتے ہیں ان میں کوئی منافات نہیں، منافات پہلی تعریف کے لحاظ سے ہے۔
(العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذی: جلد، 1 صفحہ، 7)
مولانا بنوری رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ علامہ زرکشی رحمۃاللہ نے بھی تقریباً ایسا ہی جواب دیا ہے اگرچہ انہوں نے امام ترمذیؒ کے کلام کا حوالہ نہیں دیا اور ابن حجرؒ کی رسائی اس جواب تک نہ ہو سکی اور تفصیلات میں جانے لگے، حالانکہ حضرت شاہ صاحب کی بات بہت دلنشین ہے۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 86)
هذا حديث جيد:
علامہ ابنُ الصلاح کی رائے ہے کہ "جید" اور "صحیح" دونوں ایک ہی درجے کے دو نام ہیں، جامع ترمذی کتاب الطب میں "هذا حدیث جید حسن" وارد ہوا ہے، عام محدثین کے نزدیک جید اور صحیح میں کوئی فرق نہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں ایک باریک نکتہ ہے یعنی جو حدیث "حسن لذاتہٖ" کے درجے سے اعلیٰ اور صحیح سے ادنیٰ ہو اسے "جید" کہتے ہیں۔ (مقدمة تحفة الاحوذی: صفحہ، 197)
اسنادہ لیس بذاک:
یعنی اس کی سند قوی نہیں علامہ طیبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں "ذاک" کا مشار الیہ علمِ حدیث سے تعلق رکھنے اور سند قوی کو معتبر سمجھنے والے کے ذہن میں موجود ہے۔
(حوالہ بالا: صفحہ، 196)
هذا إسناد مشرقی:
اسناد مشرقی کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کی سند میں مذکور تمام رواۃ مشرق (بصرہ کوفہ اور ان کے قرب وجوار ) کے رہنے والے تھے ان میں اہلِ مدینہ میں سے کوئی نہیں ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ جرح میں سے نہیں، صرف یہ بتانا ہے کہ اس کے تمام رواۃ مشرقی تھے، حضرت شیخ الحدیث صاحب نے فرمایا کہ امام شافعیؒ سے منقول ہے: کل حديث لا يوجد له أصل فی حديث الحجاز بين واهٍ اسی طرح علامہ حازمی نے بھی کہا کہ اگر دو متعارض حدیثوں میں سے ایک کی سند مشرقی اور دوسری کی حجازی ہو تو حجازی کو مشرقی پر ترجیح ہوگی والمخالف فيه مجال وسيع الکلام۔
(الكوكب الدرى: جلد، 1 صفحہ 85، 86
معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 214)
هذا حديث مفسر:
کلام کے سیاق و سباق کے اعتبار سے اس میں تین معنیٰ مراد ہو سکتے ہیں:
ایک یہ کہ مفسر کو اسم فاعل (بکسر عین) پڑھا جائے یعنی یہ حدیث کسی آیت یا دوسری حدیث کی تفسیر ہے، یا اسم مفعول (بفتح سین) پڑھا جائے یعنی کسی راوی یا کسی اور حدیث سے اس کی تفسیر کی گئی ہے، یا اس سے اصطلاحِ اصول والا مفسر مراد ہو جو نص کے مقابلہ میں ہوتا ہے، اس صورت میں بھی بفتح سین پڑھا جائے گا۔
(الكوكب الدری: جلد، 1 صفحہ، 129
معارف السنن: جلد، 1 صفحہ، 334)
قد ذهب بعض اہل الكوفہ:
امام ترمذیؒ ہر باب میں بیان مذاہب کا التزام فرماتے ہیں اور اس میں یہ جملہ بعض اہلِ الکوفہ بھی استعمال کرتے ہیں نیز امام ترمذیؒ نے اپنی کتاب جامع میں کسی جگہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃاللہ کا نام نہیں لیا، البتہ کتاب العلل کی ایک روایت میں امام ابو حنیفہؒ کا نام ملتا ہے لیکن وہ روایت بعض نسخوں میں نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ کتاب العلل خود مستقل ایک کتاب ہے، لہذا یہ جو کہا جاتا ہے کہ جامع ترمذی میں امام ابوحنیفہؒ کا نام نہیں ہے، اپنی جگہ صحیح ہے۔
شیخ سراج احمد سرہندیؒ اور شیخ عبد الحق محدث دھلویؒ فرماتے ہیں کہ جامع ترمذی میں جہاں بھی اہلِ کوفہ کا لفظ آتا ہے اس سے امام ابوحنیفہؒ اور ان کے پیروکار مراد ہیں۔
(مقدمۃ تحفۃ الاحوذی: صفحہ، 208)
ان حضرات کا یہ حکمِ عام، للاکثر حکم الکل کے اعتبار سے ہے ورنہ بعض ایسے مقامات ہیں جہاں اہلِ کوفہ سے حنفیہ کے علاوہ دوسرے حضرات مراد ہیں باقی رہا یہ سوال کہ امام ترمذیؒ حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نام گرامی کو کیوں ذکر نہیں کرتے؟ بعض حضرات نے کہا کہ غایت تعصب کے بناء پر یہ طریقہ اختیار کیا ہے لیکن بہتر توجیہ جو امام ترمذیؒ کے شایانِ شان بھی ہے، یہ ہے کہ حنفیہ کا مذہب امام ترمذیؒ تک کسی قابلِ اعتماد سند سے نہیں پہنچا تھا اس لیے انہوں نے تصریح نہیں فرمائی۔
(حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ شرح بخاری کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: ثم إن الترمذی لیس عنده إسناد مذهب الإمام أبی حنيفة، فلذا لا يذكر اسمه صراحة بخلاف مذاهب الأئمة الآخرين، فلها عنده أسانيد سردها فی كتاب العلل ويظن من ليس عنده علم أنه لا يذكر اسمه لعدم رضائه منه، مقدمة فيض الباری: جلد، 1 صفحہ، 58)
بعض اہل الرائے:
بعض نام نہاد علماء نے کہا ہے کہ اہلُ الرائے سے امام ابو حنیفہؒ اور ان کے متبعین مراد ہیں اور ان کو اہلُ الرائے اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ رائے اور قیاس کو حدیث پر مقدم کرتے ہیں، یعنی بالفاظ دیگر یہ لفظ تنقیص کے لیے استعمال ہوتا ہے، ان حضرات کی دونوں باتیں غلط ہیں، اہلُ الرائے صرف حنفیہ ہی کو نہیں بلکہ دوسرے ائمہ فقہاء کو بھی کہا جاتا ہے۔
امام ربیعہ بن عبدالرحمٰن کا لقب کثرتِ اجتہاد ہی کی وجہ سے "الرای" پڑ گیا تھا۔
علامہ ذہبی رحمۃاللہ لکھتے ہیں: وكان إماماً حافظ فقيها مجتهداً بصيراً بالرأی ولذلك يقال له ربيعة الرأی۔
(دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد، 1 صفحہ، 148) ابنِ قتیبہ رحمۃاللہ نے اپنی کتاب المعارف میں مستقل ایک فہرست اہلُ الرای کی بنائی ہے، جس میں یہ نام لکھتے ہیں ابنِ أبی ليلىٰ، أبو حنيفة، ربيعة الرأى، زفر، أوزاعی، سفيان ثورى، مالك بن أنس، أبو يوسف، محمد بن الحسن۔
(دیکھیے سیرۃ النعمان از شبلی نعمانی: صفحہ، 188)
دوسری بات یہ ہے کہ اہلُ الرائے ہونا ایک صفت محمود اور باعث فضیلت ہے نہ کہ مذموم اور موجبِ تنقیص، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: والرأى هو نظر القلب يقال رأى رأيا بدل دید و رای رؤیا بغیر تنوین بخواب دید و رأی رؤیه بچشم دید۔
(مقدمه فتح الملہم: صفحہ، 73)
ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو قلب بینا عطاء فرمائیں یہ کوئی کم فضیلت کی بات نہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ فقہائے کرام کو اصحابِ رائے کیوں کہا جاتا ہے۔
ابنِ اثیر جزری رحمۃاللہ متوفی 606ھ کہتے ہیں:
والمحدثون يسمّون أصحاب القياس أصحاب الرأى، يعنون أنهم يأخذون برأيهم فيما يشكل من الحديث، أو مالم يأت فيه حديث ولا أثر۔ (دیکھیے النہایہ: جلد، 2 صفحہ، 117)
صاحب قاموس لکھتے ہیں: أصحاب الرأى أصحاب القياس لأنهم يقولون برأيهم فيما لم يجدوا فيه حديثا أو أثراً۔
(الكوكب الدرى: جلد، 2 صفحہ، 132)
ملا علی قاری رحمۃاللہ، علامہ طیبی رحمۃاللہ پر رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: إنما سموا بذلك لدقة رأيهم وحذاقة عقلهم۔
(مرقاة: جلد، 2 صفحہ، 78)
ان تصریحات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حنفیہ اور دوسرے فقہائے کرام کو ان کی باریک بینی اور استنباطِ مسائل کی وجہ سے اہلُ الرای کہا جاتا ہے نہ اس لیے کہ وہ قیاس کو حدیث پر مقدم کرتے ہیں محدثین اور فقہاء دو الگ الگ اصطلاحیں ہیں لیکن درحقیقت ان میں کوئی تضاد و تنافی نہیں ہے، بات صرف اتنی ہے کہ جن حضرات نے حدیث کو من حيث الروایہ اپنا مشغلہ بنایا ہے انہیں محدث اور جن حضرات نے صرف حدیث کے ظاہری الفاظ اور عبارۃ النص پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اشارہ، دلالۃ، اور اقتضاء النص سے بھی احکام استنباط کر کے ان مستنبطہ احکام کی نشر و اشاعت کی ہے، انہیں فقیہ اور مجتہد کہا جاتا ہے۔
ابنِ خلدون اور حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ نے انہی دو فرقوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔
(دیکھیے مقدمہ ابنِ خلدون: صفحہ 446،
حجۃ اللہ البالغة: جلد، 1 صفحہ، 161)
یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ حدیث بغیر رائے کے سمجھ میں نہیں آتی، مولانا شبیر احد عثمانیؒ نے امام محمد رحمۃاللہ کا قول نقل کیا ہے کہ حدیث بغیر رائے کے اور رائے بغیر حدیث کے ناقابلِ فہم ہے۔
(مقدم فتح المہلم: صفحہ، 72)
ابنِ حجر مکی رحمۃاللہ لکھتے ہیں: وقد قال المحققون لا يستقيم العمل بالحديث بدون استعمال الرأى فيه اذهو المدرك لمعانيه التی هی مناط الاحكام۔ومن ثمة لما لم يكن لبعض المحدثين تأمل لدرك التحريم فی الرضاع، قال بان المرتضعين بلبن الشاه تثبت بينهما المحرمية ولا العمل بالرأى المحض، ومن ثمة لم يفطر الصائم بنحو الأكل ناسياً
۔
(الخيرات الحسان، الفصل الأربعون فی رد ما قيل إنه خالف الأحاديث الصحيحة: صفحہ، 172)
یہ بات کہ امام حنیفہؒ اپنی رائے کو حدیث پر مقدم کرتے ہیں بالکل بے جا اور بے دلیل ہے تاریخ بغداد میں امام صاحب کا اپنا بیان موجود ہے فرماتے ہیں: میں پہلے کتاب کو لیتا ہوں، اگر اس میں حکم نہیں ملتا تو سنتِ رسول کو لیتا ہوں، اگر اس میں بھی نہ ہو تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال میں سے کسی کا قول لیتا ہوں اور دوسروں کا قول چھوڑ دیتا ہوں لیکن ان کے اقوال سے ہٹ کر کوئی فیصلہ نہیں کرتا اور جب معاملہ ابراہیم، شعبی، ابنِ سیرین تک پہنچتا ہے تو جیسے انہوں نے اجتہاد کیا، میں بھی کرتا ہوں۔
(تاریخ بغداد: جلد، 13 صفحہ، 368)
امام ذہبی رحمۃاللہ نے بھی یحییٰ بن معین کے طریق سے امام صاحبؒ کا یہ قول نقل کیا ہے۔
علامہ شعرانی رحمۃاللہ باوجود شافعی ہونے کے ان لوگوں کے متعلق جو امام صاحبؒ کے بارے میں ایسے خیال خام رکھتے ہیں فرماتے ہیں: اعلم أن هذا الكلام صدر من متعصب على الإمام، متهور فی دينه، غير متورع فی مقاله، غافلا عن قوله تعالىٰ: اِنَّ السَّمۡعَ وَالۡبَصَرَ وَالۡفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۤئِكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡئُوۡلًا ۞
(میزان کبریٰ: جلد، 1 صفحہ، 56)
پھر علامہ شعرانی نے سند متصل کے ساتھ نقل کیا ہے: عن الإمام أبی حنيفة أنه كان يقول كذب واللہ، وافترى علينا من يقول عنا أنا نقدم القياس على النص، وهل يحتاج بعد النص إلى القياس۔
(محولہ بالا: صفحہ، 61)
نواب صدیق حسن خان نے کہا کہ ابنِ حزمؒ ظاہری نے اجماع نقل کیا ہے کہ امام صاحب کے نزدیک حدیث ضعیف رائے و قیاس سے بہتر اور اس پر مقدم ہے۔
(دیکھیے الحطتہ: صفحہ، 60)
قیاس کی حیثیت:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا:
فَاعۡتَبِـرُوۡا يٰۤاُولِى الۡاَبۡصَارِ ۞
(سورۃ الحشر: آیت 2)
اس سے قیاس و رائے کی حجیت ثابت ہوتی ہے، صاحب نور الانوار لکھتے ہیں: الاعتبار رد الشيئ إلى نظيره، فكأنه قال قيسوا الشيئ إلى نظيره۔
(نورالانوار: صفحہ، 224)
اسی طرح قول وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ الخ۔
(سورۃ آلِ عمران: آیت 159)
اور وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ الخ۔
(سورۃ الشوریٰ: آیت 38)
اور ان جیسی آیات سے بھی استدلال ہوتا ہے، صحیحین میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: أنه سمع رسول اللہﷺ يقول إذا حكم الحاكم فاجتهد فأصاب، فله أجران، وإذا حكم وأخطأ، فله أجر (أخرجه البخاری فی كتاب الاعتصام باب أجر الحاكم إذا اجتهد فاصاب أو أخطأ، ومسلم فی الأقضية فی نفس الباب)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث بہت مشہور ہے جناب رسول اللہﷺ نے اُن سے پوچھا کہ جب کوئی حکم کتاب اللہ اور سنتِ رسول میں نہ ملے تو کیا کرو گے؟ انہوں نے کہا "اجتهد برائی" آپﷺ نے انتہائی مسرور ہو کر فرمایا: الحمد للہ الذی وفق رسول اللهﷺ لما يرضى به رسول اللهﷺ۔
(دیکھیے مسند امام احمد بن حنبل: جلد، 5 صفحہ، 236، 242)
طبقات ابنِ سعد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ معمول منقول ہے: إن أبا بكر نزلت به قضية لم نجد لها فی كتاب اللہ اصلا، ولا فی السنة اثراً، فقال: اجتهد رأئی، فان يكن صوابا، فمن اللہ وإن يكن خطأ، فمنى وأستغفر اللہ۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 178)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کر کے فرمايا: إنی رأيت فی الجدّ رايا، فان رأيتم أن تتبعوه، فقال عثمان إن نتبع رأيك فهو رشد، وإن نتبع رأى الشيخ قبلك فنعم ذو الرأی کان۔ (مستدرک حاکم: جلد، 4 صفحہ، 340)
ان واضح اور بے غبار احادیث و آثار سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ غیر منصوص مسائل میں رائے اور اجتہاد جائز ہی نہیں بلکہ ضروری بھی ہے
جن حضرات نے رائے اور قیاس کی مذمت میں احادیث و آثار نقل کئے ہیں، ان سب کا بصورت تسلیمِ سند ایک ہی جواب کافی ہے کہ وہاں رائے سے وہ رائے مراد ہے جو دین کے کسی اصل کی طرف مستند نہ ہو۔
امام بخاریؒ نے بھی ایک باب قائم کیا ہے "باب ما يذكر من ذم الرأى وتكف الناس" یہاں بھی شراح یہی جواب دیتے ہیں کہ یہ اس رائے کی مذمت ہے جو مستند الی اصل شرعی نہ ہو۔ محترم وحید الزمان صاحب کی بھی یہی تحقیق ہے وہ حضرات آیت: اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ الخ۔
(سورۃ المائدہ: آیت 3)
اور تِبۡيَانًا لِّـكُلِّ شَىۡءٍ الخ۔
(سورۃ النحل: آیت 89)
اور اس جیسی آیات سے استدلال کرتے ہیں اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ قیاس مظہر الحکم ہے مثبت للحکم نہیں ہے و التفصيل فی المطولات۔
شروح و مختصرات:
جامع ترمذی کی چند شروح درج ذیل ہیں:
1: عارضه الاحوذی از قاضی ابوبکر بن عربی مالکی (متوفی 546ھ ) علامہ سیوطی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق یہ ایک ہی شرح ہے ترمذی کی، جو مکمل ہے۔
2: شرح ترمذی از حافظ ابوالفتح محمد بن سید الناس (متوفی 734ھ) یہ نامکمل ہے۔
3: شرح ترمذی از حافظ زین الدین عراقی (متوفی 806ھ) یہ ابنِ سید الناس کی شرح کا تکملہ ہے۔
4: شرح زوائد الترمذی علی الصحیحین از سراج الدين محمد بن على ابى الملقن (متوفی 804ھ)
5: شرح ترندی از ابوالفرج زین الدین عبد الرحمٰن بن شہاب الدین احمد بن رجب (متوفی 795ھ)
6: شرح ترمذی از شهاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن محمد العسقلانی المعروف بابن حجر (متوفی 852ھ) اس کا تذکرہ انہوں نے فتح الباری میں کیا ہے (قال الحافظ فی فتح البارى: ولم يثبت عن النبیﷺ فی النهی عنه أی عن البول قائماً شيئ كما بينته فی أوائل شرح الترمذى، فتح الباری: جلد، 1 صفحہ، 330، باب البول عند سباطتہ قوم)
7: العرف الشذی علی جامع الترمذی از محمد بن رسلان بلقینی شافعی (متوفی 805ھ) یہ نامکمل ہے۔
8: قوت المغتذی علی جامع الترمذی از جلال الدین عبد الرحمٰن بن الکمال السیوطی (متوفی 911ھ)
9: شرح ترمذی از علامہ محمد طاہر صاحب مجمع البحار (متوفی 686ھ)
10: شرح ترمذی فارسی از شیخ سراج احمد سرہندی (متوفی 1230ھ)
11: شرح ترمذی از ابوطیب سندھی۔
12: شرح ترمذی از عبد الهادی سندھی (متوفی 1138ھ)
13: الکوکب الدری از افادات مولانا رشید احمد گنگوہیؒ (متوفی 1323ھ)
14: العرف الشذی از مولانا انور شاہ کشمیریؒ (متوفی 1352ھ)
15: معارف السنن از مولانا محمد یوسف بنوریؒ (متوفی 1397ھ 1977متوفی)
16: تحفة الاحوذی از عبد الرحمٰن مبارک پوری (متوفی 1352ھ)
17: جائزة الشعوذی از بدیع الزمان بن مسیح الزمان لکھنؤی (متوفی 1304ھ)
18: المسک الزکی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ (متوفی 1323ھ) کی تقریر ہے-
19: شرح ترمذی از شیخ فضل احمد انصاری۔
20: شرح ترمذی از مفتی صبغت اللہ بن محمد غوث شافعی (متوفی 1280ھ)
21: افادات درسیه حضرت شیخ الہند (متوفی 1339ھ)
(دیکھیے کشف الظنون: جلد، 1 صفحہ، 559
و مقدمۃ الکوکب الدری جلد، 1 صفحہ، 6
مقدمة تحفة الاحوذی: صفحہ، 183، 190)