Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہؓ کا پیٹ بڑھ جانا

  محمد ذوالقرنين

سیدنا امیر معاویہؓ کا پیٹ بڑھ جانا

بعض شیعہ پچھلے باب میں جس روایت کی تفصیل بیان کی گئی ہے اس کو بددُعا ثابت کرنے اور اس سے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ واقعی بددُعا تھی اور اس سے سیدنا امیر معاویہؓ کا پیٹ بڑھ گیا تھا ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا پیٹ بڑا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے وہ جمعہ کا خطبہ بھی بیٹھ کر پڑھتے تھے اور یہ نبی کریمﷺ کی بددُعا کا اثر تھا اور جمعہ کا خطبہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو سیدنا کعب بن عجرہؓ نے خبیث کہا ہے اس لئے یہ الفاظ سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے بھی ہوئے (معاذ اللہ)۔

سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں بیان کی جانے والی وہ روایت کچھ یوں ہے۔

سند:

حدثنا جرير عن مغيره عن شعبی قال۔

متن: شعبی کہتے ہیں سب سے پہلے بیٹھ کر خطبہ سیدنا امیر معاویہؓ نے پڑھا اور یہ تب ہوا جب وہ بوڑھے ہوگئے تھے جسم فربہ اور پیٹ بڑھ گیا تھا۔

(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 11 روایت 36885)۔

(الاحاد والمثانی (عربی) جلد 1 صحفہ 380)۔

اور سیدنا کعب بن عجرہؓ کی روایت کچھ یوں ہے۔

متن: سیدنا کعب بن عجرہؓ کہتے ہیں میں مسجد میں آیا تو دیکھا کہ عبدالرحمٰن بن اُم حکم بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے تو میں نے کہا اس خبیث کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے جبکہ اللہ فرماتا ہے اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو ادھر ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔

(صحیح مسلم (اردو) جلد 2 حدیث 2001)۔

ان دو روایات کو بیان کر کے شیعہ کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا پیٹ نبی کریمﷺ کی بددُعا کی وجہ سے بڑا ہوگیا تھا اور سیدنا کعب بن عجرہؓ نے بیٹھ کر خطبہ دینے والے کو خبیث کہا ہے اور سیدنا امیر معاویہؓ نے بیٹھ کر خطبہ دیا اس وجہ سے یہ الفاظ سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے بھی ہوئے (معاذ اللہ)۔

پہلی بات تو یہ کہ سیدنا کعب بن عجرہؓ کا یہ کہنا ہر اس شخص کے لیے نہیں تھا جو بیٹھ کر خطبہ دے کیونکہ خطبہ دیتے ہوئے کھڑے ہونا سنت ہے اور اگر کوئی شخص کسی عُذر کی وجہ سے بیٹھ کر خطبہ دے تو بھی جائز ہے کیونکہ جب شرعی عُذر کی وجہ سے نماز بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ہے تو خطبے کے لئے کھڑا ہونا تو محض سنت ہے سیدنا عجرہؓ کا عبدالرحمٰن بن اُم حکم کے لیے یہ کہنا اس وجہ سے تھا کیونکہ وہ فاسق تھا اور اُس نے جان بوجھ کر بغیر کسی عُذر کے سنت کو ترک کیا اس وجہ سے سیدنا کعبؓ نے نبی کریمﷺ کی سنت کی اہمیت کو اُس کے سامنے واضح کرنے کے لیے یہ فرمایا اور آیت کی تلاوت فرما کر یہ بتایا کہ نبی کریمﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے۔

دوسری بات یہ کہ مصنف ابنِ ابی شیبہ کی یہ روایت ضعیف ہے جس کو بطورِ دلیل پیش کیا جاتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا پیٹ بڑھ گیا تھا اور وہ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

اسناد کا تعاقب: مصنف ابنِ ابی شیبہ کی روایت سخت ضعیف اور ناقابلِ استدلال ہے کیونکہ اس کی سند کا راوی مغیرہ بن مقسم مدلس ہے اور ان سے روایت کر رہا ہے اور یہ تیسرے طبقے کا مدلس ہے۔

امام ذھبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

ابنِ فضیل کہتے ہیں یہ تدلیس کرتا ہے اس لیے اس کی صرف اس حدیث کو قبول کیا جائے گا جس میں اس نے یہ کہا ہو کہ ابراہیم نے ہمیں یہ حدیث بیان کی (یعنی جس میں سماع کی تصریح کرے)۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 6 صحفہ 471)۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔

چھٹے طبقہ کا ثقہ راوی ہے تاہم تدلیس کرتا تھا۔

(تقریب التہذیب (اردو) جلد 2 صحفہ 206)۔

اور امام ابنِ حجرؒ نے ہی اس کو مدلسین کے تیسرے طبقے میں شامل کیا ہے۔

( تعریف اہلِ التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس (عربی) صحفه 46)۔

اور تیسرے طبقے کے مدلسین کے بارے میں امام ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں۔

یہ وہ مدلسین ہیں جن کی (معنن) حدیث سے آئمہ نے احتجاج نہیں کیا جب تک سماع کی تصریح نہ کریں ان کی (معنن) احادیث مطلقاً رد کی جاتی ہیں۔

( تعریف اہلِ التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس (عربی) صحفه 13)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مصنف ابنِ ابی شیبہ کی یہ روایت قابلِ قبول نہیں اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں اس روایت کے برعکس ایک صحیح روایت میں یہ موجود ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے ایک بار خطبہ بیٹھ کر دیا کیونکہ ان کو پیروں کی شکایت تھی جیسا کہ ابنِ ابی عاصم کی روایت میں ہے۔

سند:

حدثنا ابوبكر بن ابی شيبه نا يحيىٰ بن آدم عن اسرائيل عن ابی اسحاق قال۔

متن: ابو اسحاق السبیعی کہتے ہیں سب سے پہلے سیدنا امیر معاویہؓ نے بیٹھ کر خطبہ دیا اور لوگوں کے پاس آکر عُذر پیش کیا کہ مجھے پیروں کی شکایت ہے۔

(الاحاد و المثانی (عربی) جلد 1 صحفہ 380)۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے ایک بار بیٹھ کر خطبہ پڑھا اور اس کی وجہ ان کے پیروں کا کوئی مسئلہ تھا نہ کہ ان کا پیٹ بڑھ جانا۔

اور ہم یہ بیان کر چکے کہ شرعی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر خطبہ پڑھنا جائز ہے کیونکہ کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنا سنت ہے جیسا کہ ہماری فقہ میں بھی اس کی صراحت موجود ہے کہ۔

کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنا سنت ہے اگر بیٹھ کر یا لیٹ کر خطبہ پڑھے تو بھی جائز ہے۔

(فتاویٰ عالمگیری (اردو) جلد 1 صحفه 385)۔

اس لئے یہ کہنا کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو بددُعا دی تھی جس وجہ سے ان کا پیٹ بڑا ہوگیا تھا اور وہ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے محض بہتان ہے اور نہ ہی سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیدنا کعبؓ نے عبد الرحمٰن بن اُم حکم کو خبیث کہا تو معاذاللہ یہ الفاظ سیدنا امیر معاویہؓ کے لیے بھی ہوئے کیونکہ سیدنا امیر معاویہؓ نے شرعی عُذر کی وجہ سے ایسا کیا نہ کہ نبی کریمﷺ کی سنت کی دشمنی میں۔