تعارف امام ابن ماجہ رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابن ماجہ رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 1 از 4

امام ابن ماجہ رحمۃاللہ

ولادت 209ھ 

وفات 273ھ 

 کل عمر 64 

نسب:

ابو عبداللہ محمد بن یزید الربعی القزوینی۔ (تفصیلی حالات کے لیے دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 277، تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 530، وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 279، تذکرہ الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 636، البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 52، بستان المحدثین: صفحہ، 298، الاعلام: جلد، 7 صفحہ، 144 تقریب التہذیب: صفحہ، 514، الکاشف: جلد، 2 صفحہ، 232)

اسماءُ الرجال کی عام کتابوں میں آپ کے دادا کا نام نہیں ملتا حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے دادا کا نام عبداللہ لکھا ہے صدیق حسن خان نے بھی الحطہ میں اسی کا تذکرہ کیا ہے۔

(بستان المحدثین: صفحہ، 298 الحطہ: صفحہ، 294)

نسبت:

حافظ صاحب فرماتے ہیں: محمد بن یزید الرابعی مولاہم۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 530) 

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ ربیعہ کے ساتھ رشتہ موالات رکھنے کی وجہ سے آپ ربعی کہلاتے ہیں، ابنِ خلکان کہتے ہیں کہ ربیعہ متعدد قبائل کا نام ہے اب یہ معلوم نہیں کہ ان کی نسبت کس کی طرف ہے۔

(وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 279)

علامہ سمعانی رحمۃاللہ لکھتے ہیں: هذا النسبة الى ربيعة بن نزار، وقلما يستعمل ذلك لانه ربيعة بن نزار شعب واسع، فيه قبائل عظام وبطون وافخاذ استغنى بالنسب اليها عن النسب الى ربيعة۔ 

(الانساب: جلد، 3 صفحہ، 43)

تحقیق ابن ماجہ رحمۃاللہ:

ماجہ (بالتخفیف و سکون الہاء) 

(سننِ ابنِ ماجہ بتحقیق محمد فواد عبد الباقی میں لکھا ہے کہ صحیح ابنِ ماجہ بالہاء یا ابنِ ماجۃ بالتاء مربوطۃ ہے) کے بارے میں اقوال مختلف ہیں بعض حضرات کا خیال ہے کہ ماجہ آپ کی والدہ کا نام ہے حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃاللہ بستان المحدثین میں اسی کو رائج قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں صحیح یہ ہے کہ ماجہ آپ کی والدہ تھیں لہٰذا ابن کے ساتھ الف لکھنا چاہئیے تاکہ معلوم ہو کہ ابنِ ماجہ محمد کی صفت ہے نہ کہ عبداللہ کی۔ 

(بستان المحدثین: صفحہ، 298، 299) 

صدیق حسن خان نے بھی الحطہ اور اتحاف النبلاء میں اسی کو صحیح کہا ہے۔

(الحطہ: صفحہ، 295، اتحاف النبلاء: صفحہ، 38 طبع ہند)

علامہ سید مرتضی زبیدی رحمۃاللہ نے تاج العروس میں لکھا ہے: وهناك قول آخر صححوه وهو ان ماجه اسم امه۔ 

(دیکھیے تاج العروس المجلد الثانی آخر فصل المیم من باب الجیم: صفحہ، 103)

پھر حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃاللہ عجالہ نافعہ میں فرماتے ہیں کہ ماجہ ابو عبداللہ کے باپ یزید کا لقب ہے نہ دادا کا نام ہے نہ والدہ کا۔ 

(عجالہ نافعہ: صفحہ، 23 مکتبہ نور محمد آرام باغ کراچی)

حالانکہ بستان میں والد کا نام ہونے کی آپ نے تصحیح فرمائی ہے صاحب قاموس لکھتے ہیں: ماجة والد محمد بن يزيد لا جده۔

(تاج العروس آخر فصل المیم من باب الجیم: جلد، 2 صفحہ، 103)

ابنِ کثیر رحمۃاللہ نے خلیلی کا قول نقل فرمایا ہے ويعرف يزيد بماجه۔

(البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 52) 

مؤرخ قزوین علامہ رافعی کہتے ہیں: ان ماجه لقب يزيد وانه بالتخفيف، اسم فارسى پھر کہتے ہیں: وقد يقال: محمد بن يزيد بن ماجه والاول اثبت۔ 

(ماتمس الیہ الحاجۃ: صفحہ، 33، البدایہ والنہایہ، جلد، 11 صفحہ، 52)

شہر قزوین: 

قزوین قاف کے زبر زاء کے سکون اور واؤ کی زیر کے ساتھ، اصفہان کے مشہور شہر میں اس کا شمار ہوتا ہے کہا جاتا ہے کہ "باب الجنۃ" وہی ہے، صدیوں تک یہ ہر علم و فن کے علماء و فضلاء کا مستقر و ممبع رہا ہے اسی شہر میں امام ابنِ ماجہ رحمۃاللہ کی ولادت ہوئی۔ (الانساب: جلد، 4 صفحہ، 493)

ولادت:

علامہ ابنِ حجرؒ نے ابنِ طاہر مقدسی کا قول نقل فرمایا ہے: ورايت له تاريخا وفى آخره بخط صاحبه جعفر بن ادريس مات ابو عبدالله لثمان بقين من رمضان سنة ثلاث و سبعين و سمعته يقول ولدت سنة تسع۔

(تہذيب التہذيب: جلد، 9 صفحہ،531 و ذکرہ المزی ایضاً فی تہذیب الکمال: جلد، 27 صفحہ، 40) 

(أی و مائتین) میں نے ابنِ ماجہ رحمۃاللہ کی کتاب "التاریخ" دیکھی ہے اس کے آخر میں آپ کے ایک تلمیذ جعفر بن ادریس نے بقلم خود لکھا ہے کہ ابنِ ماجہ رحمۃاللہ کا انتقال 22 رمضان 273ھ میں ہوا اور میں نے آپ کو کہتے ہوئے سنا تھا کہ میری ولادت 209ھ میں ہوئی ہے۔

ابتدائی تعلیم اور علمی اسفار: 

اس زمانے میں شہر قزوین علوم و فنون اسلامیہ کا خاص مرکز تھا بڑے بڑے علماء کی موجودگی میں کسی اور جگہ جانے کی ضرورت نہ تھی چنانچہ آپ نے قزوین ہی میں اپنی تعلیم شروع فرمائی اس کے بعد علمی پیاس بجھانے کے لیے ترک وطن فرما کر خراسان، عراق، مصر، شام، حجاز، ری، بصرہ، کوفہ، بغداد، مکہ اور دمشق تشریف لے گئے۔(ذکر الذہبی من کلام ابی یعلیٰ الخلیلی انظر سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 279 تہذیب الکمال: جلد، 27 صفحہ، 40 وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 279) 

بعض حضرات نے کہا کہ آپ نے 230ھ کے بعد سفر کیا یعنی تقریباً 32 سال کی عمر میں راہِ سفر اختیار کیا۔

شیوخ: 

ان کے اساتذہ میں امام ذہلی، محمد بن بشار اور محمد بن مثنیٰ سر فہرست ہیں یہ دونوں مؤخر الذکر حضرات صحاحِ ستہ کے تمام مصنفین کے استاد ہیں۔ 

علامہ ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: کہ علی بن محمد طنافسی (سیر اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 277) سے بھی کافی استفادہ کیا۔

صاحب معجم البلدان کہتے ہیں:

دمشق میں ہشام بن عمار وغیرہ مصر میں یونس بن عبد الاعلیٰ وغیرہ حمص میں محمد بن مصفی وغیرہ، عراق میں ابوبکر بن ابی شیبہ وغیرہ سے استفادہ کیا۔

(ذكر الشيخ عبد الرشيد نعمانی فی كتابه "الامام ابن ماجه وعلم الحديث۔ (بالارديه) البلاد التی سمع بها ابن ماجه مع ذكر اساتذته بمالا مزيد يا عليه فراجعه ان شئت وصنف الامام الحافظ ابن عساكر المتوفی 71ھ معجما يشتمل على ذكر اسماء شيوخ الأيمه السنة وهو عن محفوظات دار الكتب الظاهرية بدمشق)

تلامذہ اور راویان سنن: 

علی بن ابراہیم، سلیمان بن یزید، محمد بن عیسیٰ، ابوبکر حامد ابہری، سعدون اور ابراہیم بن دنیار یہ چھ حضرات سننِ ابنِ ماجہ کے راوی بھی ہیں۔

وفات: 

صفحہ 1 از 4