تعارف امام ابن ماجہ رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابن ماجہ رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 2 از 4

بروز دوشنبہ 21 رمضان المبارک 273ھ کو انتقال فرما گئے اور 22 رمضان بروز سہ شنبہ سپردِ خاک کیے گئے نمازِ جنازہ ان کے بڑے بھائی ابوبکر بن یزید نے پڑھائی اور دفن کے لیے ان کے دونوں بھائی ابوبکر اور ابو عبداللہ اور ان کا بیٹا عبداللہ قبر میں اترے۔

امام ابن ماجہ رحمۃاللہ ائمہ فن کی نظر میں:

 تمام علماء و ائمہ فن، امام ابنِ ماجہ رحمۃاللہ کے کمالات اور علوم درجات کے معترف اور ان کو محبت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چنانچہ ابو یعلیٰ حنبلی کا بیان ہے: ابن ماجہ ثقه كبير، متفق عليه محتج به له معرفة وحفظ قال وكان عارفا بهذا الشان۔

(تذكره الحفاظ: جلد، 2 صفحہ، 36 سیر اعلام النبلاء: جلد، 13صفحہ، 279 تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 315) 

علامہ ذہبی رحمۃاللہ سیر اعلام النبلاء میں ان الفاظ سے آپ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں: قد كان ابن ماجة حافظا ناقدا صادقا واسع العلم۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد، 13صفحہ، 278 )

ابنِ ناصر دین کہتے ہیں: ابن ماجہؒ بڑے درجے کے حافظِ حدیث اور ثقہ ہیں، نامور ائمہ میں سے ایک اور ان کی کتاب السنن دنیائے اسلام کی مایہ ناز کتابوں میں سے ہے۔

(ماتمس الیہ الحاجۃ: صفحہ، 33، شذرات الذہب: جلد، 2 صفحہ، 164)

ابنِ اثیر رحمۃاللہ کا قول ہے: كان عاقلا اماما عالما۔

(تاریخ ابنِ اثیر: جلد، 6 صفحہ، 62)

ابنِ خلکان لکھتے ہیں: كان اماما فی الحديث عارفا بعلومه وجميع ما يتعلق به۔

(وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 279)  

امام ابن ماجہ رحمۃاللہ بحیثیت مفسر و مؤرخ:

امام ابن ماجہؒ امام فی الحدیث ہونے کے ساتھ علم تفسیر و تاریخ میں بھی ایک مسلم شخصیت ہیں اور علمِ حدیث کی طرح تفسیر و تاریخ میں بھی آپ نے یادگار تصانیف چھوڑی ہیں، جن کا تذکرہ کتابوں میں ملتا ہے، ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں۔

ولابن ماجة تفسير حافل وتاريخ كامل من لدن الصحابة الى عصره۔

(البدایہ والنہایہ: جلد11، صفحہ، 52) 

اسی طرح ابویعلیٰ خلیلی کا قول نقل کرتے ہیں کہ ابنِ ماجہؒ نے تفسیر و تاریخ میں بھی کتابیں لکھی ہیں۔

(محولہ بالا)

 ابنِ خلکان لکھتے ہیں: وله تفسير القرآن الكريم وتاريخ مليح۔ 

(وفيات الاعيان: جلد، 4 صفحہ، 279) 

کچھ پہلے ابِن طاہر کا قول گزرا ہے کہ انہوں نے ابنِ ماجہؒ کی کتاب تاریخ دیکھی ہے جس کے آخر میں امام صاحبؒ کے تلمیذ نے ان کی تاریخِ ولادت و وفات ضبط کی ہے۔ 

(تہذیب التہذیب: جلد، 9صفحہ، 53)

علامہ ذہبی رحمۃاللہ آپ کا ترجمہ ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں الحافظ الكبير، الحجة، المفسر، ابو عبدالله ابن ماجه القزوينی، مصنف السنن والتاريخ والتفسير۔

(سير اعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 277)

اسی طرح ہدیة العارفین فی اسماءُ المؤلفین و آثار المصنفين میں ہے: من تصانيفه تاريخ قزوين، تفسير القرآن، سنن فی الحديث من الكتاب الستة۔

(ہديةالعارفين: جلد، 2 صفحہ، 18) 

اس سلسلے میں ایک واضح ثبوت یہ بھی ہے کہ علامہ سیوطیؒ نے الاتقان فی علوم القرآن میں طبقاتِ مفسرین کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کے اسمِ گرامی کو بھی ذکر کیا ہے۔

(قال السيوطیؒ: ثم بعد هذه التبقة ألفت تفاسير تجمع اقوال الصحابة والتابعين كتفسير سفيان بن عيينة وبعدهم ابن جرير الطبری، وكتابه اجل التفاسير واعظمها، ثم ابن ابی حاتم وابن ماجه و كلها مسندة الى الصحابه والتابعين واتباعهم، وليس فيها غير ذلك الا ابن جرير فانه يتعرض لتوجيه الاقوال وترجيح بعضها على بعض والاعراب والاستنباط فهو يفوقها بذلك۔ دیکھیے الاتقان فی علوم القرآن: جلد، 2 صفحہ، 190 لاہور پاکستان)

مسلک:

ابن ماجہؒ کے بارے میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ ان کا مذہب بالتحقیق معلوم نہیں۔

(فیض الباری: جلد، 1 صبح، 58) 

اور العرف الشذی میں فرمایا ہے: واما ابن ماجه فلعله شافعى۔

 (العرف الشذى المطبوع مع جامع الترمذى: صفحہ، 2) 

شاید کے امام ابنِ ماجہؒ شافعی ہیں، شاه ولی اللہؒ کی رائے میں یہ مجتہد منتسب الى احمد و اسحاق ہیں (ماتمس الیہ الحاجہ صفحہ 26)

علامہ طاہر جزائری کی رائے میں بھی وہ مجتہد منتسب الى الشافعی و احمد و اسحاق وابی عبیدہ ہیں 

(توجیہ النظر: صفحہ، 185) 

ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ کا خیال ہے کہ وہ علمائے اہلِ حدیث میں سے ہیں، نہ مجتہد مطلق ہیں، نہ مقلد محض۔

(توجیہ النظر: صفحہ، 185) 

تعداد ابواب و احادیث

ابنِ کثیرؒ سننِ ابنِ ماجہ کے بارے میں لکھتے ہیں: يشتمل على اثنين وثلاثين كتابا، و ألف و خمسائة باب، وعلى اربعة اٰلاف حديث كلها جياد سوی اليسيرة۔

(البدایہ والنہایہ: جلد، 11 صفحہ، 52) 

کی سننِ ابنِ ماجہ میں 32 کتابیں 1500 ابواب اور چار ہزار حدیثیں ہیں جس میں بہت کم روایات کے علاوہ سب عمدہ احادیث ہیں۔ 

خصوصیات اور اقوال علماء:

بعض خوبیوں کے اعتبار سے ابنِ ماجہ حدیث کی دوسری کتابوں سے ممتاز ہیں چنانچہ اس میں ترتیب بہت عمدہ اور بہترین ہے اور تکرار بھی شاہ عبدالعزیز رحمۃاللہ اس بارے میں لکھتے ہیں: وفی الواقع از حسن ترتيب وسرد احاديث بےتكرار واختصار آنچہ این کتاب دارد ہیچ یک از کتب ندا رد۔

(بستان المحدثین: صفحہ، 298)

حافظ ابنِ کثیر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: وهو كتاب قوى التبويب فى الفقه۔

(الباعث الحثيث النوع الموفی الستین)

حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ لکھتے ہیں: وكتابه فی السنن جامع جيد۔

(تہذيب التہذيب: جلد، 9 صفحہ، 531)

دوسری نمایا خوبی یہ ہے کہ اس میں کافی احادیث ایسی ہیں جو صحاحِ ستہ کی دوسری کتابوں میں نہیں پائی جاتی اس میں اکثر فائدے کے ساتھ ساتھ کمال احتیاط بھی ہے امام ابنِ ماجہؒ نے باب النهی عن الخلاء على قارعة الطريق میں ابو سعید حمیری کا قول نقل فرمایا ہے: كان معاذ بن جبلؓ يتحدث بما لم يسمع اصحاب رسول اللهﷺ ويسكت عما سمعوا۔

(سننِ ابنِ ماجہ: صفحہ، 28) 

علامہ عبدالغنی دہلوی رحمۃاللہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے اس طرزِ عمل کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: لان التبليغ قد حصل من جهة غيره واحتمال الزياده والنقصان لا يأمن عليه احد والمعتمد به سبب التبوء فی النار كما مرفالترك كان اصلح لحاله۔

(حاشیہ سننِ ابنِ ماجہ المسمی بانجاح الحاجہ صفحہ، 28)

صفحہ 2 از 4