تعارف امام ابن ماجہ رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابن ماجہ رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 3 از 4

اور علامہ سندھی یہ وجہ بتاتے ہیں: "لتكثير الفائدة" پھر لکھتے ہیں: وكان المصنف طبع معاذ فی ذلك حيث اخرج من المتون فی كثير من الابواب ماليس فی الكتاب الخمسة المشهورة وان كانت ضعيفة وفی الباب احاديث صحيحة اخرجتها اصحاب تلك الكتاب فی كتبهم۔

(دیکھیے حاشیہ علامہ سندھی بر ابنِ ماجہ باب النہی عن الخلاء على قارعة الطريق: جلد، 1 صفحہ، 208 مطبوع دار المعرفہ بیروت)

اسی طرح سننِ ابنِ ماجہ میں ایسی احادیث بھی کافی ہیں جو صحت کے اعتبار سے صحیح بخاری کی حدیثوں سے بھی اصح ہیں مثلاً باب ماجاء اذا اقيمت الصلاة فلا صلاة الا المكتوبة میں حضرت عبداللہ بن مالک (جو اپنی ماں کی نسبت سے ابنِ بحینہ کہلاتے ہیں) کی روایت اس سند سے منقول ہے: حدثنا ابو مروان محمد بن عثمان العثمانی ثنا ابراهيم بن سعد عن ابيه عن حفص بن عاصم بن عبدالله بن مالك بن بحينة قال: مره النبیﷺ برجل وقد اقيمت الصلاة الصبح وهو يصلى فكلّمه بشئ لا ادری ما هو فلما انصرف احطنابه نقول ماذا قال لك رسول اللهﷺ قال قال لی: يوشك احدكم أن يصلى الفجر أربعاً۔

(الحديث اخرجه ابن ماجه فی سننه تحت ابواب الجمعه، باب ماجاء اذا اقيمت الصلاة فلا صلاة الا المكتوبة: صفحہ، 80)

صحیح بخاری میں اسی باب کے اندر شعبہ کی روایت اس سند سے مروی ہے: حدثنی عبد الرحمٰن قال حدثنا بهذ بن اسد قال حدثنا شعبة قال اخبرنی سعد بن ابراهيم قال سمعت حفص بن عاصم قال سمعت رجلا من الازديقال له مالك بن بحينه ان رسول اللهﷺ الخ۔

(اخرجه الامام البخاری فی كتاب الاذان باب اذا اقيمت الصلاة فلا صلاة الا مكتوبة: صفحہ،91) 

     چنانچہ صحیح بخاری کی سند میں دو غلطیاں ہیں ایک یہ کہ بحینہ عبداللہ کی والدہ کا نام ہے نہ کہ مالک کی والدہ کا دوسری یہ کہ روایت حضرت عبداللہ بن مالک سے مروی ہے جو مشہور صحابی ہیں ان کے باپ مالک سے نہیں جس طرح اس سند میں ہے کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھے۔

(تفصیل کے لیے دیکھیں ابنِ ماجہ اور علم حدیث از مولانا عبدالرشید نعمانی) 

علامہ عینی اسی ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وحكم الحفاظ يحيىٰ بن معين واحمد ومسلم والنسائی والاسماعيل والدارقطنی وابو مسعود واآخرون عليهم بالوهم فی موضعين احدهما ان بحينة والدة عبدالله لا والدة مال، والآخر ان الصحبة والرواية لعبد الله لا لمالك۔

(عمدة القاری: جلد، 5صفحہ، 283)

حافظ صاحب عبداللہ بن مالک کے بارے میں لکھتے ہیں هو عبد الله بن مالك ابنی القشب بكسر القاف وسكون المعجمة بعدها موحدة وهو لقب واسمه جندب بن نضلة بن عبد الله، قال ابن سعد قدم مالك بن القشب مكة يعنی فی الجاهلية فحالف بنی المطلب بن عبد مناف وتزوج بحينة بنت الحارث بن عبد المطلب واسمها عبدة وبحينة لقب وأدركت بحينة الاسلام فأسلمت وصحبت وأسلم ابنها عبدالله قديما ولم يذكر احد مالكا فی الصحابة إلابعض ممن تلقاه من هذا الٕاسناد ممن لا تمييز له۔

(فتح الباری: جلد، 2 صفحہ، 149، 150) دوسرا نقطہ اس میں یہ ہے کہ ابنِ ماجہؒ کی سند خماسی ہے اور بخاری کی سند سداسی ہے تو اس لحاظ سے بھی اسے فوقیت حاصل ہے۔ 

اسی طرح اور بھی احادیث ہیں۔ 

امام صاحبؒ غریب احادیث اور مختلف بلاد کی مخصوص روایات کی نشاندہی کرتے ہیں مثلاً کئی جگہ فرماتے ہیں قال ابنی ماجه هذا حديث الرمليين ليس الا عندهم۔(قاله بعد حديث انس بن مالك فی ابواب الاديات باب العفو عن القاتل:

صفحہ، 193، 150) 

قال ابنِ ماجہؒ هذا حديث المصريين (قاله بعد حدیث ابنِ مسعود فی ابواب الاشربة،باب كل مسكر حرام

: صفحہ، 242) 

هذا حديث الرقيين(قاله بعد حديث معاوية فی ابواب الاشربة باب كل مسكر حرام

: صفحہ، 242 والرقة بالفتح و تشديد القاف بلد على الفرات واسطة ديار ربيعة واخرى عربی بغداد وقرية اسفل منها بفرسخ وبلد بقوهستان وموضعان آخران كذا فی القاموس، انجاح الحاجة: صفحہ، 242)

شاید انہی خصوصیات کے پیشِ نظر جب امام ابنِ ماجہؒ نے اپنی کتاب امام ابوذرعہ کے سامنے پیش کی تو وہ کہنے لگے: اظن ان وقع هذا فی ايدی الناس تعطلت هذه الجوامع او اكثرها۔

(تذكر الحافظ للذهبی: صفحہ، 632) 

اور ایسا ہی ہوا چنانچہ حدیث کی بے شمار کتابوں میں سے صرف سنِن ابنِ ماجہ ہی کو صحاحِ ستہ کی صف میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

ثلاثیات ابن ماجہ:

سننِ ابنِ ماجہ میں پانچ حدیثیں ثلاثی ہیں: 

1: حدثنا جبارة بن المغلس ثنا كثير بن سليم سمعت انس بن مالك يقول: قال رسول اللهﷺ من احب ان يكثر الله خير بيته فليتوضا اذا حضر غداؤه واذا رفع۔

(الحديث اخرجه ابن ماجه فی سته ابواب الاطعمه باب الوضوء عند الطعام:صفحہ، 234، 235)

2: حدثنا جبارة بن المغلس ثنا كثير بن سليم سمعت انس بن مالك قال: ما رفع من بين يدی رسول اللهﷺ فضل شواء قط ولا حملت معه طنفسة۔

(الحديث اخرجه ابن ماجه فی سته ابواب الاطعمة باب الشواء: صفحہ، 238)

3: حدثنا جبارة بن المغلس ثنا كثير بن سليم عن انس بن مالك قال: قال رسول اللهﷺ الخير أسرع الى البيت الذی يغشی من الشفرة إلى سنام البعير۔

(الحديث اخرجه ابن ماجه فی سته، ابواب الاطعمه، باب الضيافة: صفحہ، 24)

4: حدثنا جبارة بن المغلس ثنا كثير بن سليم سمعت انس بن مالك يقول: قال رسول اللهﷺ ما مررت بليلة أسرىٰ بملاء الا قالوا: يا محمد مرأمتك بالحجامة۔

(اخرجه الامام ابن ماجه فی ابواب الطب، باب الحجامة: صفحہ، 248)

5: حدثنا جبارة بن المغلس ثنا كثير بن سليم عن انس بن مالك قال: قال رسول اللهﷺ ان هذه الامة مرحومة عذابها بايديها،فاذا كان يوم القيامة دفع الى كل رجل من المسلمين رجل من المشركين فيقال هذا فداؤك من النار۔ 

(اخرجه الامام ابن ماجه فی ابواب الزهد باب صفة أمة محمدﷺ: صفحہ، 317)

صحاحِ ستہ میں بخاری شریف کے بعد سب سے زیادہ ثلاثی روایات ابنِ ماجہ میں ہیں اور یہ باعثِ افتخار بھی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ پانچوں حدیثیں سنداً ضعیف ہیں، اس لیے کہ ان میں کثیر بن سلیم ہے جس کی اکثر حفاظ نے تضعیف کی ہے حافظ ذہبی لکھتے ہیں: 

ضعفه ابن المدينی وابو حاتم، قال النسائی متروك قال ابو زرعه واه قال البخاری: منكر الحديث۔ 

(ميزان الاعتدال للذہبی: جلد، 3 صفحہ، 405)

صفحہ 3 از 4