تعارف امام ابن ماجہ رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

تعارف امام ابن ماجہ رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 4 از 4

حافظ جمال الدین مزی لکھتے ہیں: قال عباس الدوری عن يحيىٰ بن معين كثير بن سلام ضعيف قال عبدالله بن علی بن المدينی عن ابيه كثير صاحب انس ضعيف كان يحدث عن انس احاديث يسير خمسة او نحوها فصارت مئة حديث۔

(تہذيب الكمال: جلد، 24 صفحہ، 119)

باقی جبارة بن المغلس کی توثیق بھی موجود ہے تضعيف بھی، قال ابن نمير صدوق ما هو ممن يكذب قال البخاری حديثه مضطرب قال ابو حاتم هو عندی عدل قال ابن معين: كذاب۔

(ميزان الاعتدال: جلد، 1صفحہ، 387)

البتہ ناقدین کے تمام اقوال کو سامنے رکھ کر تتبع کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ جبارہ صددق و امین ہیں لیکن بعد میں سوءِ حفظِ عارض ہونے کی وجہ سے ان کی روایات میں غلطی آنے لگی اور دوسرے لوگ ان کی کتابوں میں اضافہ کرتے رہے لیکن یہ تمیز نہ کر سکے، چنانچہ حافظ مزی نے ابو احمد بن عدی کا قول نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں: له احاديث عن قوم ثقات، وفی بعض حديثه ما لا يتابعه احد عليه، غير انه كان لا يعتمد الكذب، انما كانت غفلة فيه، وحديثه مضطرب۔

(تہذيب الكمال: جلد، 4 صفحہ، 429)

محشی لکھتے ہیں: قال نصر من احمد البغدادی جباره فی الاصل صدوق الى أن ابن الحمانی أفسد عليه كتبه۔

(دیکھیے محولہ بالا تعلیقات ڈاکٹر بشار عواد)

تفردات ابن ماجہ:

اس میں کوئی شک نہیں کہ ضعیف روایات سننِ ابنِ ماجہ میں بکثرت ہیں چنانچہ بعض حضرات نے اس سلسلے میں ایک عام قانون بھی بیان کیا ہے،چنانچہ حافظ مزید لکھتے ہیں: كل من تفرد به ابن ماجه فهو ضعيف۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ،531)

حافظ ابنِ حجرؒ نے اس قول سے اختلاف کیا ہے فرماتے ہیں: وليس الأمر فی ذلك على إطلاقه باستقرائ وفی الجملة ففيه أحاديث كثيرة منكرة۔

(محولہ بالا)

حافظ صاحب کے خیال میں اگر اس حکمِ عام کو رجال پر محمول کیا جائے تو صحیح ہو سکتا ہے لیکن احادیث کے بارے میں صحیح نہیں ہو سکتا لکھتے ہیں: لكن حمله على الرجال أولى وأما حمله على احاديث فلا يصح كما قدمت ذكره من وجود الاحاديث الصحيحة والحسان مما انفرد به عن الخمسة۔

(تہذیب التہذیب: جلد، 9 صفحہ، 531) 

یعنی جن رجال سے صرف امام ابنِ ماجہؒ نے روایت کی ہے صحاحِ ستہ کے دوسرے مصنفین نے نہیں کی وہ ضعیف ہیں،جہاں تک نفسِ احادیث کا تعلق ہے تو اس میں ایسی روایات صحیح اور حسن ہیں جن سے دوسری کتابیں خالی ہیں۔

شروح:

اگرچہ صحت کے اعتبار سے سننِ ابنِ ماجہ کا درجہ سننِ نسائی سے کم ہے اور یہ صحاحِ ستہ آخری کتاب بھی سمجھی جاتی ہے،لیکن حفاظ اور ائمہ حدیث کی طرف سے جو تلقی بالقبول اس کو حاصل ہوا وہ سننِ نسائی کو حاصل نہیں ہو سکا چنانچہ بڑے بڑے اہلِ فن نے سننِ ابنِ ماجہ پر شروح و تعلیقات لکھی ہیں مثلا:

1: شرح ابنِ ماجہ از حافظ علاؤ الدین بن قلیج حنفی (متوفی 762ھ) یہ سب سے پہلی شرح ہے لیکن نامکمل ہے، علامہ سیوطی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ: ولم يكمل وقد شرعت فی اتمامه۔

2: شرح ابنِ ماجہ از حافظ رجب الحنبلی (متوفی 795ھ) اس کا تذکرہ علامہ سندھی نے فرمایا ہے چنانچہ وہ حدیث من ترك الكذب وهو باطل کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: يحتمل انه على ظاهره وجملة وهو باطل حال من الكذب وهو الذی ذكره ابن رجب فی شرح الكتاب۔

(ماتمی الحاجہ: صفحہ، 49) 

علامہ سیوطیؒ نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے: من الشارحين زين الدين عبد الرحمٰن بن احمد بن رجب الحنبلی (ذیل تذکرة الحفاظ للسیوطی: صفحہ، 369) 

لیکن مولانا عبدالرشید نعمانیؒ نے اپنی استدراک میں ایک اور بات کہی ہے وہ یہ کہ شارح ابنِ رجب حنبلی نہیں بلکہ محمد بن رجب زبیری شافعی ہیں۔

3: ماتمس اليه الحاجة على سننِ ابنِ ماجة از شیخ سراج الدین عمر بن علی بن الملقن (المتوفی 804 ھ) صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں اٹھ جلدوں میں انہوں نے زوائد ابنِ ماجہ کی شرح لکھی ہے،ذوالقعدہ 800ھ میں تصنیف شروع فرمائی اور شوال 801ھ میں اس سے فارغ ہوئے۔

4: شرح ابنِ ماجہ از شیخ کمال الدین محمد موسیٰ الدمیری (متوفی 808ھ) نامکمل ہے۔

5: الدیباچہ علی سننِ ابنِ ماجہ از حافظ احمد بن ابی بکر شہاب بوصیری (متوفی 840ھ) اس شرح کا تذکرہ علامہ سندھی نے فرمایا ہے۔

علامہ سیوطیؒ لکھتے ہیں: والف تصانيف حسنة منها زوائد سننِ ابنِ ماجه عن الكتب الخمسة۔

(ذیل تذکرة الحفاظ: صفحہ، 379، 380)

6: شرح ابنِ ماجہ از حافظ برہان الدین ابراہیم بن محمد معروف بسبط بن العجمی (متوفی 841ھ)

7: مصباح الزجاجہ از علامہ سیوطیؒ (متوفی 911ھ) یہ حافظ علاؤ الدین کی شرح کا تکملہ ہے۔

8: نور مصباح الزجاجہ از شیخ علی بن سلیمان مالکی دنتی (متوفی 1306ھ) انہوں نے سیوطی کے حاشیہ کا اختصار کیا ہے۔

9: شرح سننِ ابنِ ماجہ مسمی کفایہ الحاجہ از شیخ ابو الحسن محمد بن عبدالہادی سندھی حنفی (متوفی 1138ھ)۔

10: انجاح الحاجہ شرح سننِ ابنِ ماجہ از شیخ عبدالغنی مجددی (متوفی 1195ھ)۔

11: حاشیہ بر سننِ ابنِ ماجہ از مولانا فخر الحسن گنگوہیؒ (متوفی 1315ھ)۔

12: مفتاح الحاجہ بر ابن ماجہ شیخ محمد علویؒ (متوفی 1366ھ)۔

13: ماتمس الیہ الحاجہ لمن یطالع سننِ ابنِ ماجہ از شیخ عبدالرشید نعمانی۔

14: رفع العجاجہ عن سننِ ابنِ ماجہ از وحید الزمان بن مسیح الزمان لکھنؤیؒ (المتوفی 1338ھ)

(دیکھیے تفصیل کے لیے کشف الزنون: جلد، 2 صفحہ، 1004 وما تمس الیہ الحاجہ لشیخ عبدالرشید النعمانی: صفحہ، 45، 55)


صفحہ 4 از 4