سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ کی اطاعت کرنے والوں کو پکڑوانا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ کی اطاعت کرنے والوں کو پکڑوانا
بعض شیعہ اعتراض کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنے دور خلافت میں سیدنا علیؓ کی اطاعت کرنے والوں کو پکڑوا کر ان کو اذیتیں دی اور ان کے دور میں اُن کے گورنر بسر بن ابی ارطاہ (ان کی صحابیت میں اختلاف ہے) نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں افعال قبیحہ سر انجام دیے۔
اس اعتراض پر جو روایت پیش کی جاتی ہے تقریباً ایک جیسے مفہوم کے ساتھ دو اسناد سے مروی ہے۔
پہلی سند:
اخبرنی ابوبكر محمد بن شجاع عن أبی عمرو بن مندة عن ابيه ابی عبدالله انبانا ابوسعيد بن يونس قال
متن: ابو سعید بن یونس کہتے ہیں کہ بسر بن ابی ارطاہ سیدنا امیر معاویہؓ کے شیعوں میں سے تھے اور سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ صفین میں بھی شامل تھے سیدنا امیر معاویہؓ نے ان کو چالیس ہجری کے شروع میں یمن اور حجاز کی طرف (گورنر بنا کر) بھیجا اور جو لوگ سیدنا علیؓ کی اطاعت پر قائم تھے ان کو پکڑنے کو کہا تو (بسر بن ابی ارطاہ) نے مکہ مدینہ اور یمن میں افعال قبیحہ کا ارتکاب کیا۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 10 صحفه 145)۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت کے راوی ابو سعید بن یونس جو کہ حافظ عبدالرحمٰن بن احمد بن یونس بن عبد الاعلی ہیں انہوں نے سیدنا امیر معاویہؓ کا زمانہ نہیں پایا بلکہ سیدنا امیر معاویہؓ کی وفات کے 200 سال بعد پیدا ہوئے۔
جیسا کہ امام ذھبیؒ ان کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
ان کی پیدائش سنہ 281 ہجری میں ہوئی اور ان کی وفات سنہ 347 ہجری میں 66 برس کی عمر میں ہوئی۔
(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 15 صحفہ 579)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سیدنا امیر معاویہؓ کا زمانہ نہیں پایا اس لئے یہ روایت منقطع باطل ہے اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔
دوسری سند:
اخبرنا ابوبكر الانصارى اخبرنا ابو محمد الجوهرى اخبرنا ابوعمر بن حيويه اخبرنا احمد بن معروف حدثنا الحسين بن الفھم حدثنا محمد بن سعد انبانا محمد بن عمر حدثنی داود بن جبيرة عن عطاء بن ابی مروان قال۔
(تاریخِ مدینه دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 10 صحفہ 152)۔
(الطبقات الكبرىٰ الطبقة الخامسة من الصحابہؓ (عربی) جلد 2 روایت 655)۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں تین علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی محمد بن عمر بن واقد جو کہ واقدی کے نام سے مشہور ہے کذاب اور متروک الحدیث ہے اس کا ترجمہ گزر چکا ہے۔
(دیکھیں باب سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا حسنؓ کو زہر دلوانا دوسری روایت کا تعاقب)۔
دوسری علت: اس روایت کا راوی داؤد بن جبیرہ مجہول ہے اس کا ترجمہ کُتب رجال میں موجود نہیں ہیں۔
تیسری علت: اس روایت کے راوی عطاء بن ابی مروان کا سیدنا امیر معاویہؓ کے دور اور اس واقعہ پر موجود ہونا بھی مشکوک ہے کیونکہ ان کی وفات پہلے عباسی خلیفہ اسفاح کے دور میں ہوئی۔
جیسا کہ امام ابنِ سعدؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
عطاء بن ابی مروان پہلے عباسی خلیفہ کے دور میں فوت ہوئے۔
(طبقات ابنِ سعد (عربی) جلد 6 صحفه 398)۔
امام ابنِ حبانؒ بھی اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
عطاء بن ابی مروان کا انتقال عباسی خلیفہ اسفاح کے دور میں ہوا۔
(الثقات لابنِ حبان (عربی) جلد 7 صحفه 253)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس راوی کی وفات 132 ہجری کے بعد ہوئی کیونکہ عباسی خلافت 132 ہجری میں شروع ہوئی اس لئے اس کا تقریباً 100 سال پہلے سیدنا امیر معاویہؓ کے دور میں موجود ہونا بھی ثابت نہیں اور نہ ہی اس بات کی کوئی صراحت موجود ہے۔
اِن دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایات بھی باطل و موضوع ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہوئے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے سیدنا علیؓ کے پیروکاروں کو قتل کروایا اور ان کے دور میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں افعالِ قبیحہ ہوتے رہے محض تعصب و جہالت ہے۔