تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبامام مالک رحمۃ اللہ
نسب و نسبت:
هو فقيه الامة امام دار الهجرة ابو عبدالله مالك بن انس بن مالك بن ابی عامر بن عمرو بن الحارث بن غيمان بن جثليل بن عمرو بن ذی اصبح الحارث الاصبحی المدنی۔
(تفصیلی حالات کے لیے دیکھیے الکامل لابن الاثیر: جلد، 6 صفحہ،:147 تہذیب الاسماء واللغات للنووی: جلد، 2 صفحہ، 75، 79 وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 135 تہذیب الکمال: جلد، 27 صفحہ، 91 رقم: 1297 تذکرۃ الحفاظ: جلد، 1 صفحہ، 207 البدایہ والنہایۃ: جلد، 10 صفحہ، 74 تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 5 سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 47)
حضرت شیخ الحدیث نے اس نسب کو اسی تفصیل اور کچھ اختلاف کے ساتھ مقدمہ اوجز المسالک میں نقل فرمایا ہے۔
(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 25)
آپ کا تعلق چونکہ قبیلہ اصبح سے تھا جس کا یمن کے معزز قبائل میں شمار ہوتا تھا اس لیے آپ کو اصبح کہا جاتا ہے آپ کے خاندان میں سب سے پہلے آپ کے جدِ اعلیٰ ابو عامر مسلمان ہوئے امام صاحبؒ کے دادا مالک بن ابی عامر کبارِ تابعین میں سے ہیں ان کے تین صاحبزادے تھے، ابوسہیل، ربیع اور انس، ہم ان سب کے حالات مختصر بیان کریں گے۔
ابو عامر:
اتنی بات یقینی ہے کہ وہ محضرمین میں سے ہیں یعنی جاہلیت اور اسلام کا زمانہ انہوں نے پایا ہے لیکن ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے امام ذہبی رحمۃاللہ نے لکھا ہے: لم أر احدا ذكره فی الصحابة۔
(قاله شیخ الحدیث نقلا عن تجريد الصحابه للذہبی: جلد، 1 صفحہ، 18 حافظ ابنِ حجرؒ نے بھی الاصابہ کی قسم ثالث میں ان کا تذکرہ لا کر امام ذہبیؒ کے قول پر اکتفاء کیا ہے الاصابہ: جلد، 4 صفحہ، 144 اور الاصابہ کی تیسری قسم ان حضرات کے بارے میں ہے، جن کی ملاقات رسولﷺ کے ساتھ کسی طرح ثابت نہ ہو۔
(ابنِ حجرؒ الاصار حجر الاصابہ کے خطبہ میں لکھتے ہیں: القسم الثالث فيمن ذكر فی الكتب المذكورة من المخضرمين الذين أدركوا الجاهلية والإسلام، ولم يردفى خبر قط أنهم اجتعموا بالنبیﷺ ولا ولا رأوه، سواء أسلموا فی حياته أم لا وهولاء ليسوا صحابة باتفاق من أهل
العلم بالحديث الاصابة: جلد، 1 صفحہ، 6)
لیکن ان کے برخلاف قاضی عیاض نے ابوبکر بن العلاء کا قول نقل کیا ہے کہ: ھو صحابی جليل شهد المغازى كلها خلا بدراً
(مقدمه أوجز المسالک: جلد، 1 صفحہ، 18) علامہ سیوطیؒ نے بھی تنویر میں اسی کو لیا ہے۔
(تنویر الحوالك للسيوطی: صفحہ، 3 القائدة الاولىٰ)
امام صاحبؒ کے دادا مالک بن ابی عامر:
(دیکھیے تہذیب الکمال: جلد، 28 صفحہ، 148، 150 تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 25)
ان کی کنیت ابو انس ہے اور کبارِ تابعین میں سے ہیں ان کی روایت حضرت عمرؓ حضرت
عثمانؓ حضرت ابوہریرہؓ اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ سے ثابت ہے، صحاحِ ستہ میں ان کی روایات ملتی ہیں 84ھ میں ان کی وفات ہوئی۔
امام صاحب رحمۃاللہ کے چچاربیع بن مالک:
ان کا تذکرہ علامہ سمعانی نے الانساب میں کیا ہے۔
(الانساب: جلد،1 صفحہ، 147)
امام صاحب رحمۃاللہ کے دوسرے چچا نافع بن مالک:
(تہذیب الکمال: جلد، 29 صفحہ، 290، 291 تقریب التہذیب: رقم الترجمۃ: 7107)
ان کی کنیت ابوسہیل ہے، حضرت انس بن مالک، عبداللہ بن عمر، سعید بن المسیب عمر بن عبدالعزیز وغیرہ سے روایت کرتے ہیں، امام احمد، ابو حاتم اور نسائی رحمہم اللہ نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے، اصحاب اصولِ ستہ نے ان کی روایتیں لی ہیں۔
امام صاحب رحمۃاللہ کے تیسرے چچا اویس بن مالک:
علامہ ابنِ حجرؒ اور سمعانیؒ نے ان کا تذکرہ نقل کیا ہے۔
علامہ سمعانیؒ لکھتے ہیں: امام مالکؒ کے والد محترم انس بن مالک سب سے بڑے بھائی، ان کے بعد اویس، ان کے بعد نافع اور سب سے چھوٹے ربیع بن مالک تھے۔
(تہذیب التہذیب: جلد، 1 صفحہ، 385، 386، الانساب: جلد، 1 صفحہ، 184)
امام صاحب رحمۃاللہ کی والدہ:
عالیۃ بنتِ شریک بن عبد الرحمٰن الازدیہ ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 49)
ولادت:
اس پر اتفاق ہے کہ امام صاحب رحمۃاللہ رحمِ مادر میں معمول سے زیادہ رہے، البتہ اختلاف مدت میں ہے لیکن اکثر مؤرخین نے تین سال اور بعض حضرات نے دو سال بتائی ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 49)
پھر سنِ ولادت میں بھی اختلاف ہے 90ھ، 94ھ، 95ھ، لیکن علامہ ذہبیؒ نے امام صاحبؒ کے مشہور تلمیذ یحییٰ بن بکیر کا قول نقل کیا ہے کہ سمعته يقول ولدت سنة ثلاث وتسعين لہٰذا 931ھ ہی کو راجح کہا جائے گا۔
(تذكرة الحفاظ: جلد، 1 صفحہ، 212)
وفات:
امام صاحبؒ 22 دن تک صاحبِ فراش رہنے کے بعد 179ھ میں دارِفانی کو الوادع کہہ کر خالق حقیقی سے جاملے، تاریخ میں اختلاف ہے 10، 11، 14، ربیع الاول بعض نے کہا صفر میں انتقال ہوا اور بقیع میں مدفون ہوئے کہا گیا ہے کہ حالتِ اختصار میں لا الہ الا اللہ پڑھ کر پھر لله الامر من قبل ومن بعد پڑھتے رہے، یہاں تک کہ روح مبارک پرواز کر گئی، رحمہ الله رحمة واسعہ، نہلانے میں ان کے صاحبزادے یحییٰ اور ان کے کاتب حبیب اور ابنِ ابی زنبر اور ابنِ کنانہ شریک رہے، عبداللہ بن محمد نے جو اپنے باپ کی جگہ نائب والی مدینہ تھے نمازِ جنازہ پڑھائی، دفنانے میں بہت سے لوگ شریک تھے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 130)
پسماندگان میں تین صاحبزادے یحییٰ، محمد، حماد اور ایک صاحبزادی فاطمہ شامل ہیں۔ (وفات کے متعلق اختلافِ اقوال کے لیے دیکھیے: سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 130، 131)
حلیہ و لباس:
امام صاحبؒ بہت ہی خوش پوش انسان تھے عام طور سے روزانہ نئے کپڑے زیب تن فرماتے بہت ہی تنومند اور قد معتدل مائل بہ درازی تھا رنگ سفید مائل بزردی اور سروریش کے انتہائی سفید بال چہرہ کی رونق و نورانیت کو دوبالا کرتے تھے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 69، 70)
تحصیل علم:
امام صاحبؒ نے اس زمانہ میں آنکھ کھولی جب مدینہ منورہ میں علم و عرفان کے بے حد و حساب چشمے جاری تھے، ان کا گھرانہ خود علوم کا مرجع تھا، امام صاحبؒ نے دس سال کی عمر میں تحصیل علم کی ابتداء فرمائی اور امام القراء نافع بن (تفصیلی حالات کے لیے دیکھیے غایۃ النہايۃ فی طبقات القراء: جلد، 2 صفحہ، 230، 434) عبد الرحمٰن متوفی 169 ھ سے علمِ قراءت حاصل کر کے اس کے بعد بقول علامہ زرقانی نو سو سے زائد اہلِ علم و فضل سے کسبِ فیض فرمایا، بارہ برس تک حضرت ابنِ عمرؓ کے خصوصی شاگرد حضرت نافع کے درس میں شریک رہے۔
(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 34)
اور اس دوران وہ تکالیف و مشقتیں برداشت کیں جو ہر کس و ناکس کا کام نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ گھر کی چھت توڑ کر لکڑیاں تک فروخت کرنے کی نوبت آئی۔
درس و تدریس:
علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ امام مالکؒ نے اکیس سال کی عمر میں تدریس شروع فرمائی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 55)
بعض حضرات نے سترہ سال کا قول نقل کیا ہے امام صاحبؒ نے اپنے دستِ مبارک سے تقریباً ایک لاکھ احادیث لکھیں، ان کے دروازے پر شائقین علوم و سائلین مسائل کا ایسا ازدحام رہتا کہ دیکھنے والا کسی بڑے بادشاہِ وقت کا دربار سمجھ بیٹھتا۔
(تذكرة الحفاظ: جلد، 1 صفحہ، 208 و فيه قال عبد الرحمٰن بن واقد رأيت باب مالك كأنه باب الأمير)
اور جب حاضرین زیادہ ہو جاتے تو امام صاحبؒ پہلے اپنے خاص تلاندہ و رفقاء کو بلواتے ان سے فارغ ہو کر پھر عوام کو اجازت ملتی، اس پر کسی نے شکوہ کیا تو فرمایا: أصحابی جيران رسول اللهﷺ۔
(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 39)
وقار مجلس درس:
امام صاحبؒ کا درسِ حدیث کے لیے اہتمام بھی ایک حیران کن حقیقت ہے چنانچہ مطرف کا کہنا ہے کہ جب لوگ امام صاحبؒ کے دروازے پر پہنچتے تو ان کی ایک خادمہ ان سے پوچھتی کہ فقہ پوچھنے آئے ہو یا حدیث؟ اگر کہتے کہ فقہی مسائل پوچھنے ہیں تو اطلاع ملنے پر امام صاحبؒ گھر سے نکل کر ان کے مسائل کا جواب دیتے لیکن اگر حدیث کی بات ہوتی تو پہلے غسل فرماتے، نئے کپڑے پہن کر خوشبو استعمال فرماتے، عمامہ باندھ کر پھر باہر آ جاتے۔
(دیکھیے محولہ بالا، علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں: وكان مجلسه مجلس وقار و حلم، قال كان رجلا مهيبا نبيلا، ليس فی مجلسه شی من المراء واللغط ولا رفع صوت، وكان له كاتب قد نسخ كتبه ويقال له حبيب يقرأ للجماعة، ولا ينظر أحد فی كتابه ولا يستفهم هيبة لمالك وإجلاله، وكان حبيب إذا قرأ فاخطأ، فتح عليه مالك وكان ذلك قليلا: سير اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 65 امام صاحبؒ کے کاتب حبیب بن ابی حبیب کے بارے میں امام احمد رحمۃاللہ فرماتے ہیں: لیس بثقة ابنِ معین رحمۃاللہ کہتے ہیں: كان حبيب يقرا على مالك وكان يسرع بالناس يصفح ورقتين ثلاثا امام نسائی رحمۃاللہ کہتے ہیں: أحاديثه كلها موضوعة عن مالك وغيره سیر اعلام النبلا: جلد،8 صفحہ، 65) اور درسِ حدیث کی مجلس میں برابر عود و لوبان کی دہونی ہوتی رہتی اور یہ اہتمام صرف زمانہ تدریس میں نہ تھا بلکہ طالبِ علمی کے زمانہ سے ہی حدیثِ رسول اللہﷺ کی توقیر تعظیم دل میں موجزن تھی، علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ امام صاحبؒ سے پوچھا گیا کہ آپ نے عمرو بن دینار کی حدیث کو کیوں نہیں لیا، تو جواباً فرمایا: أتيته، فوجدته يا خذون عنه قياماً، فاجللت حديث رسول اللهﷺ أن أخذ قائماً (دیکھیے سیر اعلام النیلا: جلد، 8 صفحہ، 27)
یعنی میں ان کی خدمت میں پہنچا تو دیکھا کہ تلامذہ کھڑے ہو کر ان سے پڑھتے ہیں، میں نے حدیث رسول اللہﷺ کو اس سے بالاتر سمجھا کہ کھڑے ہو کر پڑھی جائے اور یہ تعظیم کیوں نہ ہو کہ امام صاحبؒ کے دل میں عشقِ رسول علیہ الف الف تحیات کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا تھا، یہاں تک کہ امام صاحبؒ مدينة الرسول على صاحبها الف الف تحیات سے اتنی محبت فرماتے تھے کہ زندگی بھر صرف ایک حج کیا اور وقت کے بڑے بڑے سلاطین کی دعوتِ سفر کو مسترد کر دیا۔
(اس بارے میں علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں کہ خلیفہ مہدی نے دو ہزار اور بعض روایات کے مطابق تین ہزار دنیار پیش کئے اس کے بعد ربیع نے امام صاحبؒ کے پاس آ کر کہا امیر المؤمنین کی خواہش ہے کہ آپ ان کے ساتھ مکہ چلے جائیں، آپ نے فرمایا: قال النبی عليه الصلاة والسلام: المدينة خيرلهم لو كانا يعلمون اور اگر امیر کو اپنے تحفہ پر ناز ہے تو وہ اسی طرح میرے پاس محفوظ ہے۔ سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 62، 63)
کیونکہ ان کو فراقِ مدینہ قابلِ برداشت نہیں تھا اور خواہش یہ تھی کہ مدینہ میں انتقال ہو مصعب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ امام صاحبؒ کے سامنے جب بھی رسول اللہﷺ کا نام گرامی آتا تو ان کا رنگ متغیر ہو جاتا اور کمر جھک جاتی، اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمايا: لو رأيتم ما رأيت لما أنكرتم۔
(دیکھیے مقدمہ التعلیق الممجد: صفحہ، 14)
ابنِ خلکان لکھتے ہیں امام صاحبؒ انتہائی کمزوری کے باوجود گھوڑے پر سوار نہیں ہوتے تھے اور پیدل ہی چلتے تھے اور فرماتے: لا اركب فی مدينة فيها جثة رسول اللهﷺ مدفونة، یہاں تک کہ آخر کار مدینہ الرسولﷺ على صاحبها الف الف تحیات میں مرنے کی تمنا پوری ہو گئی، اسی عشق و محبت کا نتیجہ تھا کہ امام صاحبؒ ہر رات کو خواب میں سرکارِ دو عالمﷺ کی ملاقات سے مشرف ہوتے تھے، چنانچہ مثنیٰ بن سعید کہتے ہیں: سمعت مالكا يقول: مابت ليلة إلا رأيت فيها رسول اللهﷺ۔
(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 32)
کوئی شب ایسی نہیں گزری کہ رسول اللہﷺ کو خواب میں نہ دیکھا ہو۔
ایک مرتبہ درسِ حدیث کے دوران ایک بچھونے سولہ مرتبہ امام صاحبؒ کو ڈنک مارا، جس کی وجہ سے آپ کا چہر متغیر ہوتا رہا لیکن درسِ حدیث کو بدستور جاری رکھا، حضرت عبداللہ بن مبارک نے جو آپ کے خصوصی شاگرد ہیں اس بارے میں دریافت کیا تو فرمایا حدیثِ رسول کی تعظیم کی وجہ سے میں نے برداشت کیا۔
(دیکھیے مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 23)
مسائل بتانے میں کمال احتیاط:
امام صاحبؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت فتویٰ دینا شروع کیا جب ستر جید علماء نے میری اہلیت کی گواہی دی اور مسئلہ بتانے میں اس قدر محتاط تھے کہ جب تک مسئلہ میں کامل شرح صدر نہ ہوتا جواب دینے سے انکار فرماتے چنانچہ امام مالکؒ سے 48 مسائل کے بارے میں سوال کیا گیا، تو 32 مسائل میں فرمایا (لا أدرى) خالد بن خداش کہتے ہیں کہ میں نے 40 مسائل کے بارے میں امام صاحبؒ سے سوال کیا، تو انہوں نے صرف 5 مسائل کا جواب دیا باقی کے بارے میں فرمایا (لا ادری)
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 77 وعن مالك: جنة العالم لا أدرى فإذا أغفلها أصيبت مقاتله نفس المرجع)
امام صاحب رحمۃاللہ دوسرے اہل علم کی نظر میں:
حدیث شریف میں ہے: ليضربن الناس أكباد الابل فی طلب العلم فلا يجدون عالما أعلم من عالم المدينة۔
(اخرجه الترمذی فی الصحیح کتاب العلم باب ما جاء فی عالم المدينة رقم الحدیث: 2680)
سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث امام مالک رحمۃاللہ کے بارے میں ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 56)
امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا ہے میں نے امام مالکؒ سے زیادہ جلد صحیح جواب دینے والا نہیں دیکھا، امام شافعیؒ فرماتے ہیں: امام مالکؒ آسمانِ علم کا وہ تابناک و درخشاں ستارہ ہیں جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 57)
ابنِ مہدی کا کہنا ہے کہ سفیان ثوری رحمۃاللہ حدیث کے امام ہیں اور اوزاعی سنت کے امام ہیں اور امام مالکؒ دونوں کے امام ہیں۔
(دیکھیے اوجز المسالک: صفحہ، 29، 47)
کسی نے امام شافعیؒ سے پوچھا کہ جن علماء سے آپ کی ملاقات ہوئی ہے کیا ان میں کوئی امام مالکؒ جیسا بھی ہے؟ تو فرمایا: جو حضرات علم و عمر میں ہم سے مقدم ہیں ان سے سنا ہے کہ ہم نے امام مالکؒ جیسا عالم نہیں دیکھا تو میں امام مالکؒ جیسا آدمی کہاں سے دیکھ سکتا؟
(التعليق الممجد: صفحہ، 14)
حماد بن سلمہ کہتے ہیں: اگر مجھ سے کہا جائے کہ امت محمدیہ علی صاحبھا الف الف تحیات کے لیے ایسے عالم کا انتخاب کر دو جس سے وہ استفادہ کرے تو میں امام مالکؒ ہی کو اس منصب پر فائز کروں گا۔
(المصدر السابق)
امام مالک رحمۃاللہ اور امام اعظم رحمۃاللہ کے تعلقات:
عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہؒ امام مالکؒ کے پاس آئے ، امام مالکؒ نے ان کو نہایت اکرام و اعزاز کے ساتھ اوپر بٹھایا پھر ان کے تشریف لے جانے کے بعد فرمایا: تم ان کو جانتے ہو؟ لوگوں نے کہا نہیں، فرمایا کہ یہ ابوحنیفہ نعمان بن ثابت ہیں جو اگر دعویٰ کریں کہ یہ ستون سونے کا ہے تو ستون ان کے قول کے مطابق نکل آئے اللہ نے فقہ کو ان کے لیے ایسا آسان بنایا ہے کہ ان کو اس میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی پھر سفیان ثوریؒ آئے تو ان کو نیچے بٹھایا اور ان کے جانے کے بعد ان کے فقہ اور پر ہیزگاری کا تذکرہ کیا
(المناقب للكردی: جلد، 1 صفحہ، 39)
ابن دراوردی کا قول ہے کہ امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ نے ایک مرتبہ نماز عشاء کے بعد سے مذاکرہ شروع کیا تو صبح کی نماز تک اسی میں مشغول رہے، جب کسی مسئلہ میں کوئی دوسرے سے مطمئن ہو جاتا تو بے تامل اسے اختیار کر لیتا تھا۔
(اقوم المسالک للکوثری: صفحہ، 97، 98 نقلا عن أخبار أبی حنيفة وأصحابه اللصیمری)
امام مالکؒ بہت سارے مسائل میں امام ابوحنیفہؒ کے قول کو معتبر سمجھتے تھے۔
دور ابتلاء:
امام صاحبؒ گردشِ زمان اور سلاطین وقت کے شر و فساد کی وجہ سے اس قدر دل برداشتہ ہو گئے کہ اختلاط مع الانام کو یکسر چھوڑ کر گھر میں یکسوئی اختیار فرمالی حتیٰ کہ نمازِ جنازہ اور عیادت کے لیے بھی باہر جانا پسند نہ فرماتے کسی نے اس بارے میں پوچھا تو فرمایا: آدمی اپنا ہر عذر بیان نہیں کر سکتا۔
ابو مصعب کہتے ہیں کہ امام صاحبؒ پچیس سال تک اس طرح عزلت و یکسوئی میں رہے کہ نماز کے لیے بھی مسجد میں نہیں آتے تھے، جب پوچھا گیا تو فرمایا اس خوف سے کہ کوئی منکر نظر آئے اور اس کو روکنے کی ضرورت پڑے۔
(ان تمام اقوال کے لیے دیکھیے: سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 64 بعض حضرات نے لکھا ہے کہ: کان تخلفه عن المسجد لأنه سلس بوله، فقال عند ذلك: لا يجوز أن أجلس فی مسجد رسولﷺ وأنا على غير طهارة، فيكون ذلك استخفافاً)
(حالانکہ اس زمانہ جور میں یہ مشکل کام ہے) حضرت شیخ الحدیث غالباً اسی وجہ کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں: میرے نزدیک اصل وجہ یہ ہے کہ امام مالکؒ صلاۃ خلف الفاسق کو باطل سمجھتے تھے۔
(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 32)
اور اس زمانے کے امراء جو امام بھی ہوا کرتے تھے اکثر فسق و فجور میں مبتلا تھے اور ان کو منصبِ امامت سے ہٹانا امام صاحبؒ کے بس کی بات نہیں تھی) ابو العباس (ابو العباس اور ابو جعفر کی خلافت کی تفصیل کے لیے دیکھیے: تاریخ اسلام از شیخ حسن ابراہیم: جلد، 2 صفحہ، 23) سفاح کے بعد جب ابو جعفر منصور خلیفہ بنا تو اس کی عدمِ موجودگی میں محمد بن عبداللہ بن حسن معروف بہ نفسِ زکیہ نے اس کے خلاف اعلانِ خلافت کر کے لوگوں سے بیعت لینی شروع کی، ابنِ کثیرؒ نے بحوالہ ابن جریر کہا کہ امام مالکؒ نے محمد بن عبداللہ کے ہاتھ بیعت کرنے اور منصور کی بیعت سے دست بردار ہونے کا فتویٰ دیا، لوگوں نے کہا کہ ہم پہلے منصور سے بیعت کر چکے ہیں، تو فرمایا کہ تم سے جبراً بیعت لی گئی ہے وليس لمکرہ بیعة۔
(البدايہ والنہایہ: جلد، 10، صفحہ، 84 ذكره فی ما حدث سنة خمس و أربعين و مائة من الحوادث)
اور یہ مسئلہ اس بناء پر ہے کہ طلاق مکرہ امام مالکؒ کے نزدیک صحیح نہیں، بعد میں جب نفسِ زکیہ مارا گیا تو منصور کے اشارے پر والی مدینہ جعفر بن سلیمان نے امام صاحبؒ کو بلوا کر کوڑے لگوائے اور دونوں ہاتھ کھینچ کر مونڈھے اتروا دیئے گئے جس کے بعد امام صاحبؒ ہاتھوں کو نہیں اٹھا سکتے تھے، لیکن کوڑے لگتے وقت امام صاحبؒ یہی کہتے رہے: اللهم اغفر لهم فانهم لا يعلمون اس واقعہ سے امام صاحبؒ کا عوام میں ذکرِ خیر متاثر نہ ہوا بلکہ ان کی مزید عزت افزائی ہوئی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 79)
اس تفصیل سے ان تمام اقوال میں تطبیق ہو جائے گی جس میں کوڑے لگنے کی وجہ بعض لوگوں نے ترکِ جماعت اور بعض نے قول بطلاقِ مکرہ بتائی ہے اور بعض نے کہا کہ کسی نے جعفر بن سلیمان کو یہ شکایت لگائی تھی کہ امام مالکؒ آپ کی بیعت کو صحیح نہیں سمجھتے۔
اساتذه:
امام صاحبؒ کے اساتذہ کی فہرست کافی طویل ہے، زرقانی کہتے ہیں کہ انہوں نے تقریباً نو سو مشائخ وقت سے استفادہ کیا۔
(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 34)
خود امام صاحبؒ نے جن اساتذہ کا نام لیا ہے وہ 95 ہیں، جن کو علامہ ذہبیؒ نے سیر اعلام النبلاء میں ذکر کیا ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 49، 51) ان میں سے بعض درج ذیل ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر کے خصوصی شاگرد نافع، ایوب سختیانی، حمید، ربیعہ الرائی، مسلمہ بن دینار، عبداللہ بن دینار، عطاء، خراسانی، زہری وغیرهم ۔
تلامذه:
علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے، امام مالکؒ ابھی نوجوان تھے کہ حدیث بیان کرنی شروع کر دیا۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 55)
امام مالکؒ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ ان کے اساتذہ میں سے بعض نے ان سے روایت کی ہے، علامہ ذہبیؒ نے سات اساتذہ کا نام لیا ہے جو امام صاحبؒ سے روایت کرتے ہیں۔
(سیر اعلام النبلا: جلد، 8 صفحہ، 52)
اور آخر میں وغیرہم لکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اور بھی ایسے اساتذہ ہیں لیکن قید قلم میں نہیں آئے، البتہ حضرت شیخ الحدیث نے بعض کا تذکرہ کیا ہے۔
(دیکھیے مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 38)
وہ اساتذہ درج ذیل ہیں امام صاحبؒ کے چچا ابو سہیل، یحییٰ بن ابی کثیر، زہری، یحییٰ بن سعید، یزید بن الہاد (متوفی 139ھ) زید بن ابی انیسہ (متوفی 124 ھ یا 125ھ) عمر بن محمد بن زید ان کے ہمعصر ساتھیوں میں سے معمر، اوزاعی، شعبہ، ثوری، سفیان بن عینیہ عبداللہ بن مبارک کا ان کے تلامذہ میں نام لیا جاتا ہے، علامہ ذہبیؒ نے اس فہرست میں امام ابوحنیفہؒ کو بھی ذکر کیا ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 52)
لیکن صحیح یہ ہے کہ امام صاحبؒ کی روایت امام مالکؒ سے ثابت نہیں ہے، ابو منصور بغدادی نے کہا تھا کہ: أصح الأسانيد الشافعی عن مالك عن نافع عن ابن عمر ہے، اس پر حافظ مغلطای نے اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابو حنیفہؒ اجل اور افضل ہے شافعیؒ سے لہٰذا، أصح الأسانيد أبوحنيفه عن مالك عن نافع عن ابن عمر ہونی چاہیئے، علامہ ابنِ حجرؒ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
أما اعتراضه بأبي حنيفة فلا يحسن لأن أبا حنيفة لم يثبت روايته عن مالك وإنما أوردها الدار قطنی ثم الخطيب لروايتين وقعتا لهما عنه بإسنادين فيهما مقال، وأيضاً فان رواية أبی حنيفة عن مالك إنما هی فی ماذكره فی المذاكرة ولم يقصد الرواية عنه كالشافعى الذى لازمه مدة طويلة، وقرء عليه الموطأ بنفسه۔
(دیکھیے النکت علی کتاب ابن الصلاح: جلد، 1 صفحہ، 16)
بے غبار عبارت سے علامہ ذہبیؒ کے قول کا جواب ملتا ہے علامہ کوثری نے بھی اس کا پر زور رد کیا ہے۔
(اقوم المسالك للكوثری: صفحہ، 99، 104)
تالیفات:
امام مالکؒ کی موطا کے علاوہ اور بھی کافی تالیفات ہیں جن میں سے بعض کو علامہ ذہبیؒ اور حضرت شیخ الحدیث نے ذکر کیا ہے، وہ مندرجہ ذیل ہیں:
رسالة فی الأقضية، رسالة الأدب والمواعظ، رسالة فی أجماع أهل المدينه، ديوان العلم، كتاب فی النجوم ومنازل القمر، كتاب المناسك، كتاب المجالسات وغيره۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 88 مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 38)
مؤطا کی تاریخ، وجہ تصنیف اور وجہ تسمیہ:
خلیفہ منصور جب امام صاحبؒ کے ساتھ بدسلوکی پر شرمندہ ہوا، تو امام صاحبؒ سے درخواست کی کہ آپ ایسی کتاب لکھیں جس میں ابنِ عباس کے جواز، ابنِ عمر کے تشدد اور ابنِ مسعود کے شواذ نہ ہو، اس میں میانہ روی کو اپنائیں اور وہی مسائل لکھیں جن پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ کا اجماع ہو۔
(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 43)
امام صاحبؒ نے کام شروع کیا لیکن یہ کام منصور کی زندگی میں ختم نہ ہو سکا اور اس کے بیٹے مہدی کی خلافت کے ابتدائی ایام میں اختتام پذیر ہوا، منصور نے 6 ذی الحجہ 158ھ میں وفات پائی، اس کے علاوہ مفضل بن محمد کا بیان ہے کہ مؤطا کے طرز پر سب سے پہلے عبد العزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ ماجشون نے کتاب تصنیف کی جس میں صرف مسائل تھے حدیث اور آثار نہیں تھے، جب امام صاحبؒ نے اس کا مطالعہ کیا تو فرمایا: کام تو اچھا کیا ہے لیکن اگر میں ہوتا تو شروع میں آثار لاتا پھر اس کے بعد مسائل ذکر کرتا اس کے بعد امام صاحبؒ کے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ ایسی کتاب لکھ دی جائے، چنانچہ انہوں نے مؤطا کی تصنیف کی۔
امام صاحبؒ سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے مؤطا نام کیوں رکھا ہے؟ تو فرمایا: لکھنے کے بعد میں نے مدینہ کے ستر فقہاء کے سامنے اسے پیش کیا سب نے میری موافقت کی تو میں نے مؤطا نام رکھا، ابوحاتم رازی کہتے ہیں کہ چونکہ امام صاحبؒ نے عوام کی سہولت کے لیے اس کی تصنیف کی تھی اسی لیے اس کو مؤطا ما لک کہا جانے لگا، جس طرح جامع سفیان وغیرہ کہا جاتا ہے، مؤطا کے لغوی معنیٰ ہیں، ممہد اور مسہل کے، ابنِ فہر کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کسی نے اس نام کی کوئی کتاب تصنیف نہیں کی۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے مقدمہ التعلیق الممجد: صفحہ، 14)
تعداد روایات:
امام مالکؒ تقریباً ایک لاکھ احادیث روایت کرتے تھے، پھر ان میں سے دس ہزار احادیث کو منتخب کر کے مؤطا کی شکل میں جمع کیا، اور ہر سال اس میں کمی بیشی ہوتی رہی یہاں تک کہ موجودہ مجموعہ باقی رہا، حضرت شاہ ولی اللہ نے مصفی میں اس کو اختیار کیا ہے، بقول ابو بکر ابہری کے جس کو حضرت شیخ الحدیث نے ذکر کیا ہے۔
(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 42)
مؤطا میں ایک ہزار سات سو میں احادیث ہیں، جن میں سے مسند و مرفوع چھ سو، مرسل دو سو، موقوف چھ سو تیرہ، تابعین کے اقوال و فتاویٰ دو سو پچاسی ہیں۔
(مقدمہ اوجز المسالک: صفحہ، 42)
رواۃ مؤطا اور نسخوں کی تعداد:
امام مالکؒ سے ایک ہزار آدمی روایت حدیث کرتے تھے، لیکن جو حضرات احادیثِ مؤطا کی روایت کرتے تھے وہ بھی کچھ کم نہیں تھے، قاضی عیاض نے ایسے 39 رواۃ کی ایک فہرست تیار کی ہے جنہوں نے امام صاحبؒ سے مؤطا کی روایت کی ہے کہ ہے
(التعليق الممجد: صفحہ، 16)
لیکن بظاہر رواۃ مؤطا کی تعداد اس سے زیادہ ہوگی، ہارون رشید رحمۃاللہ نے بھی اپنے بیٹوں کے ساتھ امام صاحبؒ سے مؤطا پڑھی ہے، خلیفہ مہدی اور ہادی نے بھی امام صاحبؒ سے پڑھ کر روایت کی ہے حضرت مولانا عبدالحی لکھنؤی نے التعلیق الممجد میں قاضی عیاض کا قول نقل کیا ہے کہ مؤطا کے بیس نسخے مشہور ہوئے بعض حضرات نے تیس نسخوں کا ذکر کیا ہے، جن میں سے چار مستعمل ہیں، حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ نے سولہ نسخوں کا تذکرہ پیش کیا ہے جن کو حضرت شیخ الحدیث نے مقدمہ اوجز المسالک میں درج فرمایا ہے، ہم ان کا مختصر سا تذکرہ پیش کرتے ہیں۔
1: نسخہ ابو عبداللہ عبد الرحمٰن بن القاسم المصر ی 132 ھ میں پیدا ہوئے اور 191ھ
میں انتقال ہوا، انہوں نے سب سے پہلے المدونۃ الکبری میں فقہ مالک کے مسائل کو مرتب و مدون کیا۔
(التعلیق الممجد: صفحہ، 17)
2: نسخہ ابو یحییٰ معن بن عیسیٰ 130ھ کے بعد پیدا ہوئے اور 197ھ میں انتقال ہوا، ان کو عصائے مالک کہا جاتا تھا کیونکہ امام صاحبؒ ضعف و کمزوری کے زمانے میں ان کا سہارا لے کر چلتے تھے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ، 304 تہذیب الکمال: جلد، 28 صفحہ، 336 )
3: ابو عبد الرحمن عبدالله بن مسلمہ بن قعنب: 130ھ کے بعد پیدا ہوئے اور 221ھ میں انتقال ہوا مؤطا کا نصف حصہ امام صاحبؒ سے سن کر دوسرا حصہ امام صاحبؒ کو پڑھ کر سنایا۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ، 257 تہذیب الکمال: جلد، 16 صفحہ، 136)
4: نسخہ ابو محمد عبداللہ بن یوسف یحییٰ بن معین کہتے ہیں: أثبت الناس فی المؤطا عبدالله بن یوسف امام بخاریؒ کہتے ہیں كان من أثبت الشاميين 218ھ میں وفات پائی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 10 صفحہ، 357 تہذیب الکمال: جلد، 12 صفحہ، 333)
5: نسخہ سعید بن عفیر: یہ اپنے دادا کی طرف منسوب ہیں، ان کے والد کا نام کثیر ہے سعید بن کثیر بن عفیر 146ھ میں پیدا ہوئے، ان کو علمِ تاریخ و انساب میں مہارت تامہ حاصل تھی ابو حاتم نے ان کو صدوق کہا ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 10 صفحہ، 583 تہذیب الکمال: جلد، 11 صفحہ، 36)
6: نسخہ ابو عبدالله مصعب بن عبدالله 152ھ میں پیدا ہوئے، مسئلہ خلقِ قرآن میں اہلِ توقف کے ساتھ تھے اور علمِ انساب کے ماہر تھے 236ھ میں انتقال ہوا۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 11 صفحہ، 30 تہذیب الکمال: جلد، 28 صفحہ، 34 تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 162)
7: نسخہ ابو عبدالله محمد بن المبارک الصوری: 153ھ میں پیدا ہوئے اور دمشق کے مفتی رہے، کیی بن معین کہتے ہیں: محمد بن المبارك شيخ الشام بعد أبی مسہر وہیں انتقال کر گئے نمازِ جنازہ ابو مسہر نے پڑھائی۔
(تہذیب الکمال: جلد، 26 صفحہ، 352 سیر اعلام النبلا: صفحہ، 10 صفحہ، 390)
8: نسخہ سلیمان بن برد: ان کے حالات غالباً پردہ خفا میں ہیں، حضرت شیخ الحدیث اور مولانا عبد الحی لکھنؤی نے بھی ان کے حالات بیان نہیں کئے ہیں۔
9: نسخہ ابو حذاقۃ احمد بن اسماعیل بن محمد: ان کو اکثر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے فضل بن سہل کہتے ہیں کہ جو بھی بات کہی جائے تو فوراً کہتا ہے: حدثنی مالك عن نافع بن عمر یہ آخری راوی ہیں جو امام صاحبؒ سے مؤطا کی روایت کرتے ہیں۔
(تہذیب الکمال: جلد، 10 صفحہ، 266)
10: نسخہ ابو محمد سوید بن سعید بن سہل ابن شہر یار: مسلم و ابنِ ماجہؒ کے راویوں میں سے ہیں، تاہم متکلم فیہ ہیں بعض حضرات نے ان کی تضعیف کی ہے جیسے امام بخاریؒ، ابنِ مدینیؒ وغیرہ البتہ امام احمد بن حنبلؒ نے ان کو ثقہ کہا ہے، عیدالفطر کے دن 240ھ عمر کی تقریباً سو بہاریں دیکھنے کے بعد انتقال کر گئے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 11 صفحہ، 410 تہذیب الکمال: جلد، 12 صفحہ، 247)
11: نسخہ امام محمد بن الحسن الشیبانی: اس کا تذکرہ بعد میں آئے گا۔
12: نسخہ ابو زکریا یحییٰ بن یحییٰ بن بکر بن عبد الرحمٰن تمیمی نیشابوری 142ھ میں پیدا ہوئے اور علمِ حدیث میں امام مانے گئے امام بخاریؒ، مسلمؒ، ترمذیؒ، نسائیؒ ان سے روایت لیتے ہیں علماء جرح و تعدیل نے ان کی زبردست توثیق کی ہے، 226ھ میں انتقال ہوا، حاکم کہتے ہیں: ان کی تاریخِ وفات کے بارے میں کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا، جو بھی اس قول سے اختلاف کرے گا غلطی پر ہوگا، ان کی قبر کی لوح پر جو 224ھ لکھا ہے وہ غلط ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ، 223 تہذیب الکمال: جلد، 16 صفحہ، 277)
مؤطا کے چار مشہور نسخے:
13: نسخہ ابو محمد عبداللہ بن وہب بن مسلم: 125ھ میں پیدا ہوئے بالاتفاق ثقہ اور صحاحِ ستہ کے رواۃ میں سے ہیں، ان کے علمی مقام کے لیے یہی کافی ہے کہ امام مالکؒ جب ان کو خط لکھتے تو یہ تحریر فرماتے: إلى عبدالله بن وهب مفتی اہل مصر کسی اور کے لیے ایسا نہیں کرتے تھے، دو کتابیں بنامِ مؤطا صغیر و مؤطا کبیر تالیف فرمائی تھیں، شعبان 197ھ میں انتقال ہوا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ کتاب اہوال القیامۃ ان کے سامنے پڑھی گئی، وہ بے ہوش ہوگئے اور اسی حالت میں انتقال ہوا۔ (تہذیب الکمال: جلد، 32 صفحہ، 31)
14: نسخہ ابو زکریا یحییٰ بن عبدالله بن بکیر المصری: ان کو کبھی دادا کی طرف منسوب کر کے عبداللہ بن بکیر بھی کہتے ہیں ، 155ھ میں پیدا ہوئے کئی مرتبہ امام مالکؒ سے مؤطا سننے کا موقع ملا، اسی طرح لیث سے بھی کئی مرتبہ مؤطا کی سماعت کی امام نسائیؒ نے ان کو ضعیف کہا ہے لیکن علامہ ذہبیؒ نے فرمایا کہ نہ معلوم نسائیؒ کس بناء پر ان کو ضعیف قرار دیتے ہیں یہ ایک جرح مردود ہے، امام بخاریؒ اور مسلمؒ ان سے روایت لیتے ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ، 223 تہذیب الکمال: جلد، 12 صفحہ، 277)
15: ابو مصعب احمد بن ابی بکر القاسم بن الحارث: 150ھ میں پیدا ہوئے اور امام مالکؒ سے حدیث و فقہ حاصل کیا، یہاں تک کہ ان کا شمار مدینہ کے شیوخ وقضاۃ میں ہونے لگا اصحابِ صحاحِ ستہ ان کی روایت لیتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کا نسخہ سب سے آخر میں امام صاحبؒ کے سامنے پیش ہوا اور اس میں دوسرے نسخوں کے مقابلے میں ایک سو احادیث زیادہ ہیں، رمضان المبارک 242ھ میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر انتقال کر گئے، وفات کے وقت ان کی عمر 92 سال تھی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد، 10 صفحہ، 212 تہذیب الکمال: جلد، 31 صفحہ، 401)
16: نسخہ ابو محمد یحییٰ بن یحییٰ کثیر الاندلسی القرطبی: ہمارے یہاں جو نسخہ متداول و مشہور ہے وہ یہی نسخہ ہے اور جب مؤطا مالک کہا جاتا ہے اس سے یہی نسخہ مراد ہوتا ہے، یحییٰ بن یحییٰ صحاحِ ستہ کے رواۃ میں سے نہیں ہیں ابنِ حجرؒ نے ان کا ترجمہ تہذیب التہذیب میں تمییز کے طور پر ذکر کیا ہے، فرماتے ہیں: ذكرته للتميز بينه وبين الذی قبله (اى يحيىٰ بن يحيىٰ بن قيس) لاشتراكهما فی الرواية عنه۔
(تہذیب الکمال: جلد، 1 صفحہ، 280)
151 یا 152ھ میں ان کی وفات ہوئی ہے، دو مرتبہ مدینہ کی طرف سفر کیا ہے، پہلی بار 179ھ میں یعنی جس سال امام صاحبؒ کا انتقال ہوا، اس سفر میں انہوں نے مؤطا کا اکثر حصہ امام صاحبؒ سے سنا ان کی عمر اس وقت 28 سال تھی بستان المحدثین میں جو 20 سال کا ذکر ہے بظاہر درست نہیں ہے (تہذیب التہذیب: صفحہ، 300، 301) دوسرے سفر میں ابو عبداللہ عبدالرحمٰن بن القاسم سے فقہ حاصل کر کے اپنے وطن واپس گئے اور اندلس میں تدریس وفقہ کا کام شروع کیا اندلس اور اس کے قرب و جوار میں ترویج مذہبِ مالک میں ان کا بڑا حصہ اور کردار ہے، حاکمِ وقت نے ان کو قضاء کا عہدہ پیش کیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اس کے بعد حاکم ان سے مشورہ لیے بغیر کوئی قاضی مقرر نہیں کرتا تھا امام مالکؒ نے ان کو "العاقل" کا لقب دیا تھا، اس لقب کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہاتھی دیکھنے کے لیے جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں آپ سے علم و فضل حاصل کرنے آیا ہوں ہاتھی دیکھنے کے لیے نہیں آیا، امام مالکؒ کی رائے اور مذہب کو تمام آراء پر ترجیح دیتے تھے، البتہ کچھ مسائل میں امام صاحبؒ سے اختلاف بھی کیا ہے، ابن عبد البر رحمۃاللہ نے ان کے بارے میں کہا ہے: الا ان له وهماً وتصحيفا فی مواضع كثيرة ولم يكن له بصر بالحدیث 234ھ میں ان کا انتقال ہوا۔
فضائل مؤطا:
علامہ سیوطی رحمۃاللہ اور ابنِ عربی کہتے ہیں: المؤطا هو الأصل الأول واللباب، وكتاب البخاری هو الأصل الثانی فی الباب، وعليهما بنى الجميع۔
(بستان المحدثین: صفحہ، 31)
ابنِ عبدالبرؒ نے عمر بن عبد الواحد کا قول نقل کیا ہے کہ ہم نے چالیس دن میں امام صاحبؒ سے مؤطا پڑھی اختتام پر آپ نے فرمایا: كتاب الفته فی اربعين سنة اخذتموه فی اربعین یوما۔
(التعليق الممجد 14)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام صاحبؒ نے اپنی زندگی کے تمام تجربات و مطالعات اس مؤطا پر خرچ فرمائے ہیں، امام صاحبؒ سے کہا گیا کہ آپ کی طرح دوسرے علماء نے بھی مؤطا لکھی ہے آپ نے کیوں اس میں وقت ضائع کیا؟ فرمایا وہ کتابیں لاؤ، کتابیں دیکھنے کے بعد فرمايا: إنه لا يرتفع إلا ما أريد به وجه الله
(محولہ بالا)
مؤطا کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اکثر وہ اسانید جن پر اصحیت کا حکم لگایا گیا ہے اس میں موجود ہیں۔
(محولہ بالا: صفحہ، 16 اصبح الاسانید کی تفصیل کے لیے دیکھیے: تدریب الراوی: صفحہ، 76، 87) اور نسخہ مصمودی کو دوسروں پر ترجیح اس لیے ہے کہ انہوں نے سب سے آخر میں امام صاحبؒ سے سنا ہے و معلوم ان آخر السماع ارحج اسی طرح ہر باب کے تحت کافی مسائلِ فرعیہ بھی اس میں موجود ہیں۔
شروح:
مؤطا امام مالک پر اتنا زیادہ کام ہوا ہے کہ اس کی تفصیل و اختصار دونوں اس موقع پر مشکل ہیں، ہم بہت ایجاز کے ساتھ اس کی چند شروح کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
1: التمهيد لما فی المؤطا من المعانی والأسانيد: یہ شرح جو ستر ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے علامہ ابنِ عبدالبرؒ (متوفی 463ھ) کی تصنیف ہے جس کو انہوں نے شیوخ مالک کے اسماء کے حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دیا ہے۔
2: كتاب الاستذكار لمذهب علماء الأمصار فيما تضمنه المؤطا من المعانی والآثار: یہ بھی ابنِ عبدالبرؒ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اس تمہید کو مختصر کیا ہے۔
3: كتاب التفصى فی اختصار المؤطا یہ بھی انہی کی تالیف ہے۔
4: القبس فی شرح مؤطا مالك بن أنس: یہ قاضی ابوبکر بن عربی (متوفی 546ھ) کی تصنیف ہے۔
5: علامہ خطابی صاحبِ معالم السنن (متوفی 388ھ) نے بھی اس کا اختصار کیا ہے۔
6: المصفی: یہ فارسی شرح حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ (متوفی 1176ھ) کی ہے، جس میں انہوں نے احادیث و آثار کو الگ کر کے اقوال امام مالکؒ اور ان کے بعض بلاغات کو حذف کیا ہے۔
7: المسوی یہ عربی شرح بھی حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ کی ہے۔
8: أوجز المسالك إلى مؤطا مالک: یہ ایک جامع اور نفیس شرح ہے جو محتاجِ تعارف نہیں حضرت شیخ الحدیث علامہ محمد زکریا رحمۃاللہ (متوفی 1402ھ ) کی تصنیف انیق ہے۔