سیدنا عمار بن یاسرؓ کا گروہِ سیدنا معاویہؓ کو گمراہی پر سمجھنا
محمد ذوالقرنينسیدنا عمار بن یاسرؓ کا گروہِ سیدنا معاویہؓ کو گمراہی پر سمجھنا
بعض شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے گروہ کے بارے میں جنگ صفین میں کہا تھا کہ وہ گمراہی پر ہیں اس پر شیعہ جو روایت پیش کرتے ہیں وہ کچھ یوں ہے۔
سند:
حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبه عن عمرو بن مره قال سمعت عبدالله بن سلمه يقول۔
متن: عبداللہ بن سلمہ کہتا ہے کہ میں نے جنگ صفین کے موقع پر سیدنا عمارؓ کو دیکھا وہ انتہائی بوڑھے عمر رسید اور لمبے قد کے آدمی تھے انہوں نے اپنے ہاتھ میں نیزہ پکڑ رکھا تھا اور ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے میں نے تین مرتبہ نبی کریمﷺ کی معیت میں اس جھنڈے کو لے کر قتال کیا ہے اور یہ چوتھی مرتبہ ہے
اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر یہ لوگ ہمیں مارتے ہوئے ہجر کی چوٹیوں تک بھی پہنچ جائیں تب بھی میں یہی سمجھوں گا کہ ہمارے مصلحین حق پر ہیں اور وہ (گروہِ سیدنا معاویہؓ) گمراہی پر ہے۔
( مسند احمد (اردو) جلد 8 حدیث 19090)۔
(مستدرک الحاکم (اردو) جلد 4 روایت 5651)۔
اسناد کا تعاقب: یہ روایت منکر ہے کیونکہ اس روایت کے مرکزی راوی عبداللہ بن سلمہ اسے منکر و منفرد روایات منقول ہیں جن کی متابعت نہیں کی گئی۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
عمرو بن مرہ کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن سلمہ کو احادیث بیان کرتے ہوئے سنا ان میں سے کچھ روایات سے میں واقف تھا اور کچھ منکر تھیں یہ اس وقت عمر رسید ہوچکا تھا امام بخاریؒ کہتے ہیں اس کی نقل کردہ روایات کی متابعت نہیں کی گئی امام ابوحاتمؒ اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ کچھ معروف ہے اور کچھ منکر ہے۔
(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفہ (121)۔
امام بخاریؒ بھی اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
عمرو بن مرہ کہتے ہیں عبداللہ نے مجھے احادیث سنائیں ان میں سے بعض سے میں واقف تھا اور بعض منکر تھیں (پھر امام بخاریؒ فرماتے ہیں) اس کی بیان کردہ احادیث کی متابعت نہیں کی گئی۔
(التاريخ الكبير للبخاری (عربی) جلد 5 صحفہ 99)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن سلمہ سے منکر روایات بھی منقول ہیں اور ایسی منفرد روایات بھی منقول ہیں جن میں اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
اور اس روایت کو بیان کرنے میں بھی عبداللہ بن سلمہ منفرد ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی منکر ہے اور اس سے استدلال جائز نہیں۔
اس لئے اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے گروہ کو گمراہ سمجھتے تھے ناجائز و حرام ہے۔