تعارف امام محمد رحمۃاللہ علیہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبامام محمد رحمۃاللہ
نسب و مولد:
ابو عبداللہ محمد بن الحسن بن بن فرقد الشیبانی ہے بعض حضرات نے دادا کا نام فرقد کے بجائے واقد لکھا ہے جو کہ غلط ہے تمام تراجم میں فرقد ہی ہے۔
(بلوغ الامانی فی سيرة الامام محمد بن حسن الشيبانی: صفحہ، 4)
شیبانی نسبت ہے شیبان بن ذبل بن ثعلبہ کی طرف جو کہ مشہور قبیلہ ہے۔
(دیکھیے الانساب: جلد، 3 صفحہ، 482)
بعض حضرات نے کہا ہے کہ امام محمدؒ کی نسبت قبیلہ شیبان کی طرف سے اقامۃ ہے، لیکن اکثر محققین کا قول یہ ہے کہ یہ نسبت "ولاء" ہے۔
(دیکھیے بلوغ الامانی: صفحہ، 4)
امام محمدؒ 132ھ میں واسط میں پیدا ہوئے بعض حضرات نے تاریخِ ولادت 135 بتائی ہے جو کہ صحیح نہیں۔
(وفیات الاعلان: جلد، 4 صفحہ، 184)
ان کے آبائی وطن کے بارے میں بعض کا قول یہ ہے کہ فلسطین کے کسی گاؤں سے تعلق رکھتے تھے طبقاتِ کبریٰ میں ہے کہ ان کا اصل تعلق جزیرہ سے تھا اور امام محمدؒ کے والد شام کے لشکر کے ساتھ واسط پہنچے جہاں امام صاحبؒ کی ولادت ہوئی، خطیب نے تاریخِ بغداد میں لکھا ہے کہ اصل تعلق دمشق کے گاؤں حرستہ سے ہے۔
(الجواہر المضیۃ فی طبقات الحنفیہ: جلد، 2 صفحہ، 42)
بعض حضرات نے ان اقوال کی یوں تطبیق کی ہے کہ اصل تعلق تو جزیرہ سے ہے لیکن چونکہ آپ کے والد شامی افواج میں تھے تو کبھی حرستہ اور کبھی فلسطین کے کسی گاؤں میں رہائش پذیر ہوئے یہ دونوں گاؤں شام کی سرزمین میں ہیں یہاں سے کوفہ منتقل ہوئے کسی کام سے جب واسطہ جانا ہوا تو وہاں امام صاحبؒ کی ولادت ہوئی اس کے بعد کوفہ واپسی آگئے اور یہی آپ کا مسکن رہا۔
(بلوغ الامانی: صفحہ، 4، 5)
امام محمدؒ علم نحو کے مشہور اور مسلم عالم، فرّاء کے خالہ زاد بھائی تھے۔
(وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 185)
وفات:
امام محمدؒ ہارون الرشید کے حکم سے منصبِ قضاء سے بر طرف کیے جانے کے کچھ مدت بعد دوبارہ قاضی القضاۃ مقرر ہوئے، اسی زمانے میں ہارون الرشید کے ساتھ سفر کر کے "ری" پہنچے اور وہیں پر 187ھ میں انتقال ہوا بعض حضرات 189ھ کو تاریخِ وفات قرار دیتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اسی روز علمِ نحو کے مسلم امام کسائی کا انتقال ہوا بعض کہتے ہیں کہ ایک دن بعد انتقال ہوا ہارون الرشید کہا کرتا تھا دفنت الفقه والعریبة بالری۔
(دیکھیے وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 185 الانساب: جلد، 3 صفحہ، 383)
ابتداء تعلیم اور امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ سے شرف تلمذ:
امام محمدؒ کے زمانے میں کوفہ، علم حدیث، فقہ اور لغت کا گہوارہ بن چکا تھا، حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا وہاں پر قیام اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا کوفہ کو دارالخلافہ بنانا مزید اس کی علمی چمک میں اضافہ کر رہا تھا، امام محمدؒ قرآنِ کریم سیکھنے اور کچھ حصے حفظ کرنے کے بعد وہاں کی ادبی مجلسوں اور حلقہ ہائے درس میں شامل ہونے لگے اب 14 سال کی عمر کو پہنچے تو امام ابو حنیفہؒ کے پاس گئے انہوں نے امام صاحبؒ سے پوچھا آپ ایسے نابالغ لڑکے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جیسے عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد رات کو احتلام ہوجائے؟ کیا عشاء کی نماز لوٹائے گا؟ امام صاحبؒ نے فرمایا جی ہاں! امام محمدؒ نے مسجد کے ایک کونے میں جا کر عشاء کی نماز لوٹا دی امام صاحبؒ نے یہ دیکھ کر فرمایا ان ھذا الصبی یفلح ان شاءاللہ۔
اس واقعہ کے بعد اللہ نے فقہ کی محبت آپ کے دل میں ڈال دی، چنانچہ آپ اصولِ فقہ کے لیے امام ابوحنیفہؒ کی مجلس میں پہنچ گئے امام صاحبؒ نے فرمایا کہ پہلے قرآنِ کریم حفظ کر لو پھر سبق میں آ جانا سات دن کے بعد امام محمدؒ نے واپس آکر فرمایا کہ میں نے حفظِ قرآن مکمل کر لیا ہے پھر امام صاحبؒ سے کسی مسئلہ کے بارے میں پوچھا امام صاحبؒ نے فرمایا یہ سوال کسی سے سنا ہے یا خود تمہارے ذہن میں پیدا ہوا؟ فرمایا کسی سے نہیں سنا بلکہ میرے ذہن میں پیدا ہوا ہے امام صاحبؒ نے فرمایا کہ یہ تو بڑے لوگوں کا سوال ہے آپ پابندی کے ساتھ درسِ فقہ میں شریک ہوا کریں اس کے بعد امام محمدؒ چار سال متواتر امام صاحبؒ کے درس میں شریک ہوتے رہے اور مجلسِ فقہ کے تمام مسائل کے جوابات لکھ کر اسے مرتب کرتے رہے۔
( بلوغ الامانی: صفحہ، 5، 6)
علمی انہماک:
امام محمدؒ کا علمی شوق و ذوق بہت ہی عجیب تھا ہر وقت حصولِ علم میں منہمک رہتے تھے (بسا اوقات اتنے مستغرق ہو جاتے کہ کوئی سلام کرتا تو آپ اس کو دعا دیتے پھر دوبارہ بلند آواز سے سلام کیا جاتا تو آپ وہی دعا دہرا دیتے)
اس علمی ذوق اور انہماک کی وجہ سے جب امام یوسفؒ کے مشورے سے امام محمدؒ کو "رقہ" میں منصب قضاء پیش کیا گیا یحییٰ بن خالد بن برمک نے امام محمدؒ کو اس کے قبول کرنے پر مجبور کیا تو امام محمدؒ ،امام ابو یوسفؒ سے ناراض ہو گئے اور وفات تک ان سے کوئی بات نہیں کی بعض حضرات امام ابو یوسفؒ کے جنازہ میں شریک نہ ہونے کی بھی یہی وجہ بتاتے ہیں لیکن قرینِ قیاس یہ ہے کہ امام ابو یوسفؒ کی وفات کے وقت امام محمدؒ "رقہ" میں تھے اور جنازہ کے لیے بغداد پہنچنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔
(بلوغ الامانی: صفحہ، 36، 38)
امام محمد رحمۃاللہ بحیثیت فقیہ:
امام ابوحنیفہؒ کی زندگی میں امام محمدؒ ہر وقت ان کی مجلسِ درس میں شریک ہو کر کسبِ فیض کرتے رہے امام ابوحنیفہؒ کے انتقال کے بعد انہوں نے امام ابو یوسفؒ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا یہاں تک کہ فقہ میں امام کے درجہ پر فائز ہو گئے انہوں نے اپنے اساتذہ کے علوم کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے لیے وہ کار ہائے نمایاں سر انجام دیے کہ باقی مذاہب میں اس کی مثال نہیں ملتی آپ کی چھ مشہور کتابیں جن کو ظاہر الروایۃ کہا جاتا ہے فقہ حنفی کی بنیاد ہے اور یہ بات بھی آگے آئے گی کہ فقہ مالکی کی تدوین میں امام محمدؒ کہ علوم و تصانیف کا بڑا دخل ہے امام شافعیؒ نے شاگرد ہونے کی حیثیت سے امام محمدؒ کے تجربات اور علوم سے اتنا استفادہ کیا کہ درجہ اجتہاد کو پہنچ گئے اسی طرح امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا گیا من این لك ھذہ المسائل الدقیقة؟ قال من کتب محمد بن الحسن۔
یوں تمام فقہاء کے علومِ مدونہ کا سر چشمہ فیض امام محمدؒ اور ان کی تصانیف ہیں امام محمدؒ مسائلِ شرعیہ کے حل کے لیے کبھی اپنے علم و دانست پر اکتفاء نہ کرتے بلکہ اہلِ صناعت اور تاجروں کے پاس جا کر خود ان کے طریقِ کار کو دیکھتے پھر اپنے مشاہدات کو سامنے رکھ کر شرعی فیصلے فرمایا کرتے تھے اور یہی فقیہ کی شان ہوتی ہے کہ کسی بھی مسئلہ کی گہرائی تک پہنچے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرے۔
(بلوغ الامانی: صفحہ، 44)
آپ اکثر راتوں کو جاگا کرتے کسی نے کہا آپ راتوں کو کیوں جاگتے ہیں؟ فرمایا: كيف انام وقد نامت عيون الناس تعويلا علينا وهم يقولون اذا وقع لنا امر رفعناه اليه فيكشفه لنا فاذا نمنا ففيه تضیع للدين۔
(بلوغ الامانی: صفحہ، 46، 45)
امام محمد رحمۃاللہ بحیثیت محدث:
امام محمدؒ علمِ حدیث کے لیے مختلف ملکوں اور شہروں میں گئے کوفہ میں امام ابوحنیفہؒ، سفیان ثوریؒ، مسعر بن کدامؒ، امام ابو یوسفؒ، عمر بن ذرؒ وغیرہم سے علمِ حدیث حاصل کیا۔
مدینہ میں امام دار الہجرۃ مالک بن انس، ابراہیم بن محمد، ضحاک بن عثمان، مکہ میں سفیان بن عینیہ، بصرہ میں سعید بن ابی عروبۃ، خراسان میں عبداللہ بن مبارک رحمہم اللہ وغیرہم سے سماعِ حدیث کیا اسی طرح شام، واسط، یمامہ وغیرہ بھی گئے اور وہاں کے شیوخ سے استفادہ کیا امام محمدؒ اپنے ہمعصر ساتھیوں سے بھی روایت حدیث کرتے ہیں اس بارے میں بعض دوسرے علماء کی طرح تکلف نہیں فرماتے۔
(بلوغ الامانی: صفحہ، 7، 8)
بعض حضرات نے ان کے اساتذہ کی فہرست میں عمرو بن دینار کا نام بھی لکھا ہے لیکن یہ صحیح نہیں اس لیے کہ عمرو بن دینار کی وفات 126ھ میں ہوئی ہے اور اس وقت امام محمدؒ کی عمر تقریباً تین سال کی تھی اور اس عمر میں سماعِ حدیث کا تصور مشکل ہے (دیکھیے الجواہر المضیۃ اور اس کا حاشیہ: جلد، 2 صفحہ، 42)
مہدی کے عہدِ خلافت میں جب امام مالکؒ کی کتاب "المؤطا" کی شہرت عام تو امام محمدؒ نے بھی مدینہ منورہ کا رخ کیا، وہاں امام مالکؒ کی خدمت میں تین سال متواتر رہ کر تقریباً سات سو احادیث خود امام مالکؒ کی زبانی سنیں اور مؤطا مرتب فرمائی۔
امام محمد رحمۃاللہ بحیثیت لغوی:
تمام محققین کا اس پر اتفاق ہے کہ امام محمدؒ علمِ لغت اور عربیت پر کامل دسترس رکھتے تھے لغت میں ان کا قول دلیل کا درجہ رکھتا ہے وہ خود فرماتے تھے کہ وراثت میں مجھے تیس ہزار درہم ملے میں نے چند ہزار درہم فقہ اور حدیث باقی پندرہ ہزار درہم شعر و لغت کے حصول میں خرچ کیے۔
(بلوغ الامانی: صفحہ، 6)
امام محمد رحمۃاللہ بحیثیت قاضی:
کہا جاتا ہے کہ جب امام یوسفؒ منصبِ قضاء پر فائض ہوگئے تو امام محمدؒ کو یہ بات ناگوار گزری کہ امام یوسفؒ نے اپنے استاذ یعنی امام اعظم ابوحنیفہؒ کے عمل کو نظر انداز کیا اور ان کے نقشِ قدم کو نہیں اپنایا امام ابوحنیفہؒ تمام تر اذیتیں برداشت کیں اور جامِ شہادت نوش فرمایا لیکن منصبِ قضاء کو قبول نہیں کیا امام ابو یوسفؒ کو جب امام محمدؒ کے اس طرزِ فکر کا پتہ چلا تو فرمایا: لا قبض اللہ روحه قبل ان يبتلی بالقضاء چنانچہ پہلے "رقہ" میں قاضی مقرر ہوئے اور اس وقت بھی بڑی حق گوئی اور عدل و انصاف کا مظاہرہ کرتے رہے
ہارون الرشید نے یحییٰ بن عبداللہ بن حسن کو امان دی تھی لیکن چونکہ وہ "طالبی" تھا اس لیے اس کے امان کو کالعدم قرار دے کر ہارون اسے قتل کروانا چاہتا تھا چنانچہ اس نے امام محمدؒ اور حسن بن زیاد اور ابو البختری وہب بن وہب (جو امام قاضی ابو یوسفؒ کے بعد قاضی القضاۃ تھے) کو اپنے دربار میں بلا کر وہ "امان نامہ" ان کے سامنے پیش کیا امام محمدؒ نے "امان نام" پڑھ کر فرمایا یہ شرعی اور مضبوط امان ہے اسے توڑنے کی کوئی وجہ نہیں یہی کہا کہ یہ صحیح امان ہے اور تھوڑی نہیں جا سکتی پھر قاضی القضاۃ ابو البختری کو دیا گیا اس نے ایک نظر ڈال کر کہا: میں اس امان پر راضی نہیں ہوں یہ بدمعاش آدمی ہے جس نے مسلمانوں کے خون سے اپنا ہاتھ رنگین کیا ہوا ہے تو پھر اپنے جوتے سے چاقو نکالا اور امان نامہ کو پھاڑ ڈالا ہارون الرشید کو مخاطب کر کے کہا "اس کو قتل کرو اس کا خون میرے ذمہ ہے"
امام محمدؒ فرماتے ہیں سب حاضرینِ مجلس کو سخت حیرت ہوئی کہ ایک قاضی القضاۃ کس طرح ایک آدمی کا خون اپنے ذمہ لیتا ہے اور پھر اپنے جوتے میں چاقو چھپا کر گھومتا ہے اس کے بعد کیا ہوا؟ روایات مختلف ہیں بعض کا خیال ہے کہ ہارون الرشید نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ طویل مدت جیل کاٹنے کے بعد وہ مرگیا بعض کہتے ہیں کہ وہ قتل کر دیا گیا۔
اس واقعہ کے بعد امام محمدؒ ہارون الرشید کی نظر میں معتوب ہو گئے اور اس نے امام محمدؒ کو منصبِ قضاء سے بر طرف کر کے ان کے فتویٰ دینے پر پابندی لگا دی بالآخر ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ ام جعفر کی سفارش سے یہ پابندی ختم ہوئی اور امام محمدؒ ہارون الرشید کے مقربین میں سے ہو گئے یہاں تک کہ اس نے اپنے آپ کو قاضی القضاۃ کے منصب کے لیے منتخب کر لیا۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے بلوغ الامانی: صفحہ، 40، 41)
امام محمد رحمۃاللہ کے تلامذہ:
امام محمدؒ کے تلامذہ کی فہرست طویل ہے، بعض حضرات یہ ہیں:
ابو سلیمان موسیٰ بن سلیمان جوزجانی، امام شافعیؒ ابو عبداللہ ابن ادریس اسد بن فرات قیروانی (مدون مذہب مالکی) ابو جعفر احمد بن محمد بن مہران نسوی جو مؤطا محمد کے راویوں میں سے ہیں، شعیب بن سلیمان کیسانی جو کتاب الکیسانیات کے راوی ہیں، علی بن صالح جرجانی جو کتاب الجرجانیات کے راوی ہیں۔
امام محمد رحمۃاللہ اور فقہ مالکی کی تدوین:
اسد بن فرات 176ھ میں قیروان سے مدینہ آ کر امام مالکؒ کے حلقہ درس میں شریک ہوئے وہ مختلف مسائل میں امام مالکؒ سے استفسار کیا کرتے تھے اور امام مالکؒ بھی یہ سوچ کر جواب دیتے کہ بہت دور دراز کا سفر کر کے آیا ہے لہٰذا اس پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے لیکن امام مالکؒ کی یہ عادت تھی کہ صرف پیش آمدہ مسائل کا جواب دیا کرتے تھے، جب اسد بن فرات کو یقین ہو گیا کہ اس طرح سے علمی پیاس بھی باقی رہ جائے گی اور دیگر شیوخ کی ملاقات سے بھی محروم رہوں گا تو وہ امام مالکؒ کے حلقہ درس کو چھوڑ کر عراق آگئے امام ابو یوسفؒ، اسد بن عمرو بجلیؒ، امام محمد بن حسنؒ اور امام ابوحنیفہؒ رحمہم اللہ کی دوسرے تلامذہ سے فقہ حاصل کرنے لگے، البتہ زیادہ تر امام محمدؒ کے پاس جاتے رہتے ہیں، ایک مرتبہ انہوں نے امام محمدؒ سے کہا کہ میں مسافر ہوں (زیادہ دیر تک قیام نہیں کر سکتا) اور مسائل سے کافی نا آشنا ہوں طلبہ آپ کے پاس زیادہ ہوتے ہیں میں کیا کروں تاکہ آپ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ ممکن ہو سکے امام محمدؒ نے فرمایا دن کو تو میں مصروف رہتا ہوں البتہ رات کا وقت آپ کے لیے خاص ہے آ کر اپنے سوالات بیان کریں اسد بن فرات کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہر رات کو میں امام محمدؒ کے پاس جاتا وہ ایک برتن میں پانی بھر کر لاتے اور سبق کے لیے تشریف رکھتے ہیں اگر کبھی مجھ پر نیند غالب آ جاتی تو میرے پر پانی کا چھڑکاؤ کرتے کچھ عرصہ کے بعد اسد بن فرات عراق سے چلے گئے اور امام محمدؒ سے سنے ہوئے تمام مسائل وہ امام مالکؒ کے خاص شاگرد ابنِ قاسم کے سامنے پیش کر کے امام مالکؒ کی رائے دریافت کی پھر "الاسدیہ" کے نام سے ان کو مرتب کیا بعد میں ابنِ قاسم نے سحنون کے ہاتھ کچھ اس میں ترمیم کر کے فقہ مالکی کی تدوین کی اس تفصیل سے معلوم ہوتا کہ فقہ مالکی کی تدوین دراصل انہی مسائل کی روشنی میں ہوئی ہے تو اسد بن فرات نے امام صاحبؒ سے سنے تھے۔
( بلوغ الامانی: صفحہ، 14، 18)
امام محمد رحمۃاللہ اور امام شافعی رحمۃاللہ کے تعلقات:
امام شافعیؒ شاگرد ہیں امام محمدؒ کے امام ابنِ تیمیہؒ نے منہاج السنۃ میں اس تلمذ کا انکار کیا ہے لیکن علامہ نووی رحمۃاللہ وغیرہ نے اس تلمذ کو تسلیم کیا ہے۔
(دیکھیے مقدمہ التعلیق الممجد: صفحہ، 30)
امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ سمعت من محمد و قربعیر یعنی ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر میں نے امام محمدؒ سے علم حاصل کیا۔
(الجواہر المضیۃ: صفحہ، 43)
یہ وہی مسائل ہیں جو صرف امام شافعیؒ نے امام محمدؒ سے سنے ہیں، باقی وہ مسائل جن کے سماع میں امام شافعیؒ کے ساتھ دوسرے تلامذہ بھی شریک تھے وہ ان کے علاوہ ہیں (اسی طرح ساٹھ دینار خرچ کر کے انہوں نے امام محمدؒ کی تصانیف نقل کرا کر اپنے لیے محفوظ کرا لی تھیں)
(بلوغ الامانی: صفحہ، 20)
بھجوانے میں امام محمدؒ سے تاخیر ہو گئی امام شافعیؒ نے یہ لکھ کر بھیجا:
قل للذی لم ترعی ن من رآہ مثلهحتىٰ كان من رآه قد رآی من قبلهالعلم ينهی اهله ان يمنعوه اهله لعله یبذله لاهله لعله۔
تو امام محمدؒ نے اسی وقت وہ کتاب ارسال کر لیں۔
(وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 184)
امام شافعیؒ سے امام محمدؒ کی تعریف و توثیق کے بارے میں قابلِ قدر جملے منقول ہیں فرماتے ہیں: ما رایت رجلا سمینا افھم منہ ما رایت افصح منہ کان اذا تکلم خیل لک ان القرآن نزل بلغتہ کان یمیلا القلب والعین ما رایت اعلم بکتاب اللہ من محمد
(الجواہر المضیہ: صفحہ، 43)
امن الناس علی فی الفقہ محمد بن الحسن اعاننی اللہ برجلین بابن عینیۃ فی الحدیث وبمحمد فی الفقہ۔
تصانیف امام محمد رحمۃاللہ:
امام محمدؒ کی تصانیف بہت زیادہ ہیں بعض حضرات کا خیال ہے ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً 990 ہے کسی عالم نے اپنے مذہب پر اتنی کتابیں نہیں لکھیں جتنی امام محمدؒ نے فقہ حنفی میں لکھی ہیں
(مقدمہ شرح الوقایہ: (لکھنؤی) صفحہ، 46)
ہم ذیل میں ان میں سے چند کا تذکرہ کریں گے۔
1: آپ کی سب سے بڑی تصنیف: "کتاب الاصل" ہے جو کہ "المبسوط" کے نام سے مشہور ہے کہا جاتا ہے کہ امام شافعیؒ نے مبسوط کو سامنے رکھ کر اس کی روشنی میں "کتاب الام" تصنیف فرمائی کسی اہلِ کتاب نے مبسوط کا مطالعہ کیا اور یہ کہہ کر مسلمان ہو گیا کہ ھذا کتاب محمد کم الاصغر فکیف کتاب محمد کم الاکبر، یعنی چھوٹے محمدؒ کی کتاب کہ یہ شان ہے تو بڑے محمدﷺ کی کتاب (قرآن) کے کیا کہنے۔
(کشف الظنون: جلد، 2 صفحہ، 1581)
2: الجامع الصغیر: امام محمدؒ مبسوط کی تصنیف سے فارغ ہوگئے تو امام ابو یوسفؒ نے آپ سے درخواست کی کہ امام اعظمؒ سے روایت شدہ ان تمام مسائل کو جو انہوں نے امام یوسفؒ سے سنے ہیں کتابی شکل میں جمع کریں چنانچہ آپ نے ایک مجموعہ "الجامع الصغیر" کے نام سے تیار کر کے قاضی امام یوسفؒ کی خدمت میں پیش کیا آپ نے دیکھ کر فرمایا: بہت بہتر ہے البتہ ابو عبداللہ نے تین مسائل میں غلطی کی ہے "امام محمدؒ" کو معلوم ہوا تو فرمایا: میں نے کوئی غلطی نہیں کی وہ شاید بھول گئے ہیں۔
3: الجامع الکبیر: یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے ،ابنِ شجاع کا قول ہے لم یؤلف فی السلام مثله فی الفقه اور صرف یہی نہیں، بلکہ عربیت کے لحاظ سے بھی اسی کتاب نے ائمہ لغت کو حیرت زدہ کر دیا اخشف اور ابوعلی فارسی نے اس کے ادبی پہلو کی بہت تعریف کی ہے۔
4: الزیادات: اس میں ان مسائل کا تذکرہ ہے جو جامع صغیرہ و جامع کبیر میں قیدِ قلم میں نہیں آئے۔
5: السیر الصغیر: یہ دونوں کتابیں بھی اپنے مخصوص انداز میں منفرد حیثیت رکھتی ہیں
ان کتابوں میں احکامِ جہاد، غنیمت، فئی ہے وغیرہ کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے ہارون الرشید نے سیر کبیر کی خصوصیات دیکھ کر اپنے دونوں بیٹوں کو یہ کتاب پڑھوائی۔
امام محمدؒ کی یہ وہ چھ کتابیں ہیں جو شہرہ آفاق ہیں اور ان کی روایت بھی مشہور یا متواتر طرق سے چلی آرہی ہے ،ان میں مذکورہ مسائل کو "ظاہر الروایۃ" کہا جاتا ہے ان کے علاوہ جو کتابیں بطریقِ آحاد مروی ہیں، وہ یہ ہیں: الرقیات، الکیسانیت، الجرحانیات، الهارونیات، الحج فی الاحتجاج علی اھل المدینه، اجتہاد الرأی، کتاب الاستسحسان، کتاب الخصال، الرد علی اھل المدینة، کتاب اصول الفقه۔
(بلوغ الامانی: صفحہ، 65، 66، 67)
حدیث کے موضوع پر امام محمدؒ کی تصانیف ایک تو مؤطا ہے دوسری آثار السنن ہے جس میں وہ امام ابوحنیفہؒ سے روایت کرتے ہیں۔
مؤطا بروایت امام محمد رحمۃاللہ ایک تقابلی جائزہ عادات و خصوصیات:
پہلے کہا جا چکا ہے کہ امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ تین سال تک امام مالکؒ کی مجلس درس میں بیٹھ کر انہوں نے مؤطا کی روایات سنی ہیں اور پھر انہوں نے اس مجموعہ کو تیار کیا جسے عرف میں مؤطا امام محمد کہا جاتا ہے
البتہ مؤطا امام مالک بروایتِ یحییٰ اندلسی کو شہرت زیادہ حاصل ہوئی اور مطلقاً جب مؤطا کہا جاتا ہے تو اس سے وہی مؤطا بروایت یحییٰ مراد ہوتا ہے لیکن اس شہرت کے باوجود مؤطا بروایتِ امام محمد کئی وجوہ سے ممتاز ہے مولانا عبدالحی لکھنؤی نے اس پر مفصل بحث کی ہے ان وجوہ ترحیج میں سے بعض یہ ہیں۔
1: یحییٰ اندلسی نے مؤطا کے بعض حصے امام مالکؒ سے اور اکثر حصے امام مالکؒ کے دوسرے تلامذہ سے سنے ہیں اور امام محمدؒ نے پورا موطا امام مالکؒ سے سنا ہے اور سماع بلا واسطہ سماع بالواسطہ سے اولیٰ ہے۔
2: یحییٰ اندلسی امام مالکؒ کے پاس ان کے سنہ وفات میں حاضر ہوئے اور امام محمدؒ متواتر تین سال تک شریکِ درس رہے اور طویل الملازمۃ کی روایت اقوی ہے علی الملازمۃ کی روایت ہے۔
3: مؤطا یحییٰ میں مسائل فقیہہ اور اجتہاداتِ امام مالکؒ زیادہ ہیں بہت سارے تراجم میں تو بغیر کسی روایت یا اثر کے صرف امام مالکؒ کا اجتہاد ہی مذکور ہے اور یہ بات مؤطا امام محمد میں نہیں وہاں ہر ترجمہ کے تحت کوئی روایت ضرور ہوتی ہے اور احادیث غیر مخلوطہ بالرأی افضل ہیں مخلوطہ بالرأی سے
4: مؤطا یحییٰ صرف امام مالکؒ کے طریق سے مروی احادیث پر مشتمل ہے اور مؤطا محمد میں دوسرے شیوخ کی روایات بھی ہیں یہ فائدہ جلیلہ مؤطا یحییٰ میں نہیں ہے۔
5: مؤطا یحییٰ میں امام مالکؒ کے مذہب کے موافق احادیث ہیں اور بس اوقات وہ احادیث، حنفیہ کے یہاں کسی وجہ کے معمول بہا نہیں ہوتیں لیکن مؤطا امام محمد نے ان روایات غیر معمول بہا کے بعد حنفیہ کے یہاں معمول بہا روایات کا بھی تذکرہ ہے جو کہ حنفی حضرات کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔
( دیکھیے مقدمہ التعلیق الممجد: صفحہ، 34، 35)
مؤطا کی روایت میں امام محمدؒ کی عادت یہ ہے کہ ترجمۃ الباب کے بعد امام مالکؒ کی روایات لاتے ہیں چاہے مرفوع ہو یا موقوف عنوانات میں لفظِ کتاب یا باب استعمال کرتے ہیں لفظ فضل نہیں لکھتے وبه نأخذ کہہ کر مذہبِ حنفیہ کی نشاندہی کرتے ہیں اگر امام مالکؒ کی روایت حنفیہ کے مذہب کے مطابق نہ ہو تو اس پر گفتگو کر کے حنفیہ کی تائید کے لیے دوسرے مشایخ کی روایات لاتے ہیں تمام روایات میں لفظ اخبرنا ہی استعمال کرتے ہیں
ابراہیم نخعیؒ کے مذہب کی بھی نشاندہی کرتے ہیں امام ابو یوسفؒ کہ مذہب کے بارے میں خاموش رہتے ہیں واجب کے مقابلہ میں لفظ ھذا حسن،جمیل مستحسن وغیرہ استعمال کرتے ہیں جو کہ سنتِ مؤکدہ و غیر مؤکدہ کو شامل ہے لفظ لا باس به کو کبھی نفسِ جواز بتانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، حالانکہ متاخرین کے یہاں اس کا استعمال مکروہ تنزیہی میں ہوتا ہے کبھی لفظ "ینبغی" کا استعمال متقدمین کی اصطلاح کے مطابق عام معنیٰ میں کرتے ہیں جو کہ واجب و سنت کو شامل ہے،لفظ "اثر" کا استعمال کبھی حدیث مرفوع و موقوف کے لیے بھی کرتے ہیں بعض آثار کی سند بیان نہیں کرتے بلکہ "بلغنا" کہہ کر نقل کرتے ہیں اور محققین کے یہاں بلاغات محمد مسند ہے۔
(التعلیق الممجد: صفحہ، 39، 40)
تعداد روایات:
مولانا عبدالحئی لکھنویؒ مؤطا امام محمدؒ کی تمام روایات کو باریک بینی سے گن کر فرماتے ہیں: مؤطا بروایت امام محمدؒ میں تمام احادیث مرفوع اور آثار موقوفہ گیارہ سو اسی ہیں ایک ہزار پانچ روایتیں امام مالکؒ کے طریق کے سے تیرہ روایتیں ابوحنیفہؒ اور چار روایتیں امام ابو یوسفؒ کے طریق سے اور باقی دوسرے حضرات سے مروی ہیں۔
(مقدمہ التعلیق الممجد: صفحہ، 39)
شروح و حواشی:
مؤطا بر روایت امام محمدؒ کی بہت کم شرحیں دستیاب ہیں، شرح المؤطا: دو جلدوں میں
علامہ ابراہیم المعروف بیری زادہ نے لکھی۔
مولا علی قاری ہروی مکی نے دو جلدوں میں لکھی اس شرح میں شارح سے تنقید رجال میں بہت زیادہ مسامحات واقع ہوئے ہیں۔
(المقدمۃ التعلیق الممجد: صفحہ، 5، 26)
حضرت مولانا عبدالحئی لکھنویؒ کا بھی ایک جامع حاشیہ التعلیق الممجد علی مؤطا محمد کے نام سے موجود ہے البتہ علامہ کوثری نے دو جگہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں سند کی بحث میں مولانا عبد الحئی رحمۃاللہ کو دقت پیش آئی ہے قراءۃ خلف الامام کے باب میں ایک حدیث اس سند سے موجود ہے۔
قال محمد حدثنا الشيخ ابو علی قال حدثنا محمود بن محمد المروزی قال حدثنا سهل بن العباس الخ۔
( دیکھیے مؤطا محمد مطبوع قدیمی کتب خانہ کراچی: 99)
اس سند میں امام محمدؒ کے شیخ ابو علی اور شیخ الشیخ محمود کا نام آیا ہے حالانکہ اس نام سے امام محمدؒ کے کوئی استاد نہیں تو مولانا لکھنویؒ نے فرمایا: لم أقف الی الآن علی تشخیصهما حتیٰ یعرف توثیقهما او تضعیفهما۔ (دیکھیے مؤطا محمد: صفحہ، 199 مطبوع قدیمی کتب خانہ کراچی حاشیہ: 1)
علامہ کوثری فرماتے ہیں کہ دراصل یہ حدیث مؤطا امام محمدؒ میں نہیں ہے بلکہ یہ حدیث ابوعلی صواف کے نسخہ کے حاشیہ میں لکھی ہوئی تھی اور بعض ناسخین نے اس کو متنِ کتاب میں شامل کیا ہے ابوعلی کا نام محمد بن احمد بن حسن صواف ہے اور یہ چوتھی صدی ہجری کے آدمی ہیں دارالکتب العلمیۃ مصر میں جو نسخہ موجود ہے اس میں یہ حدیث حاشیہ میں ہے۔
(دیکھیے بلوغ الامانی: صفحہ، 96)
اسی طرح باب صلوٰۃ القاعد کی آخری روایات کی سند یوں ہے: قال محمد حدثنا بشر حدثنا احمد اخبرنا اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق الخ۔
(دیکھیے مؤطا محمد: صفحہ، 17 مطبوع قدیمی کتب خانہ کراچی)
یہاں بھی وہی مسئلہ ہے کہ امام محمدؒ کے استاد کا نام "بشر" آیا ہے اور یہ کتب اسماءُ الرجال میں محفوظ نہیں ہے اس لیے مولانا عبدالحئی لکھنوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں: لم اعرف الآن تعینه وتعین شیخه احمد۔
(دیکھیے مؤطا محمد: صفحہ، 18مطبوع قدیمی کتب خانہ حاشیہ: 1)
علامہ کوثریؒ کہتے ہیں کہ سند کے شروع میں جو محمد ہے اس سے مراد امام محمدؒ بن حسن نہیں بلکہ یہ وہی ابوعلی محمد بن احمد بن حسن صواف ہے اور "بشر" ان کے استاذ ہیں تو بظاہر یہاں احمد اور اسرائیل کے درمیان میں لفظ محمد کاتب کی غلطی سے رہ گیا ہے چنانچہ مصر کی مذکورہ لائبریری کے نسخے میں یہ لفظ موجود ہے۔
(دیکھیے بلوغ الامانی: صفحہ، 66)