تعارف امام محمد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام محمد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 1 از 5

امام محمد رحمۃاللہ

نسب و مولد:

ابو عبداللہ محمد بن الحسن بن بن فرقد الشیبانی ہے بعض حضرات نے دادا کا نام فرقد کے بجائے واقد لکھا ہے جو کہ غلط ہے تمام تراجم میں فرقد ہی ہے۔ 

(بلوغ الامانی فی سيرة الامام محمد بن حسن الشيبانی: صفحہ، 4) 

شیبانی نسبت ہے شیبان بن ذبل بن ثعلبہ کی طرف جو کہ مشہور قبیلہ ہے۔

(دیکھیے الانساب: جلد، 3 صفحہ، 482) 

بعض حضرات نے کہا ہے کہ امام محمدؒ کی نسبت قبیلہ شیبان کی طرف سے اقامۃ ہے، لیکن اکثر محققین کا قول یہ ہے کہ یہ نسبت "ولاء" ہے۔ 

(دیکھیے بلوغ الامانی: صفحہ، 4) 

امام محمدؒ 132ھ میں واسط میں پیدا ہوئے بعض حضرات نے تاریخِ ولادت 135 بتائی ہے جو کہ صحیح نہیں۔ 

(وفیات الاعلان: جلد، 4 صفحہ، 184) 

ان کے آبائی وطن کے بارے میں بعض کا قول یہ ہے کہ فلسطین کے کسی گاؤں سے تعلق رکھتے تھے طبقاتِ کبریٰ میں ہے کہ ان کا اصل تعلق جزیرہ سے تھا اور امام محمدؒ کے والد شام کے لشکر کے ساتھ واسط پہنچے جہاں امام صاحبؒ کی ولادت ہوئی، خطیب نے تاریخِ بغداد میں لکھا ہے کہ اصل تعلق دمشق کے گاؤں حرستہ سے ہے۔

(الجواہر المضیۃ فی طبقات الحنفیہ: جلد، 2 صفحہ، 42) 

بعض حضرات نے ان اقوال کی یوں تطبیق کی ہے کہ اصل تعلق تو جزیرہ سے ہے لیکن چونکہ آپ کے والد شامی افواج میں تھے تو کبھی حرستہ اور کبھی فلسطین کے کسی گاؤں میں رہائش پذیر ہوئے یہ دونوں گاؤں شام کی سرزمین میں ہیں یہاں سے کوفہ منتقل ہوئے کسی کام سے جب واسطہ جانا ہوا تو وہاں امام صاحبؒ کی ولادت ہوئی اس کے بعد کوفہ واپسی آگئے اور یہی آپ کا مسکن رہا۔

(بلوغ الامانی: صفحہ، 4، 5) 

امام محمدؒ علم نحو کے مشہور اور مسلم عالم، فرّاء کے خالہ زاد بھائی تھے۔

(وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 185)

وفات:

امام محمدؒ ہارون الرشید کے حکم سے منصبِ قضاء سے بر طرف کیے جانے کے کچھ مدت بعد دوبارہ قاضی القضاۃ مقرر ہوئے، اسی زمانے میں ہارون الرشید کے ساتھ سفر کر کے "ری" پہنچے اور وہیں پر 187ھ میں انتقال ہوا بعض حضرات 189ھ کو تاریخِ وفات قرار دیتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اسی روز علمِ نحو کے مسلم امام کسائی کا انتقال ہوا بعض کہتے ہیں کہ ایک دن بعد انتقال ہوا ہارون الرشید کہا کرتا تھا دفنت الفقه والعریبة بالری۔

(دیکھیے وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ،  185 الانساب: جلد، 3  صفحہ، 383)

ابتداء تعلیم اور امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ سے شرف تلمذ:

امام محمدؒ کے زمانے میں کوفہ، علم حدیث، فقہ اور لغت کا گہوارہ بن چکا تھا، حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا وہاں پر قیام اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا کوفہ کو دارالخلافہ بنانا مزید اس کی علمی چمک میں اضافہ کر رہا تھا، امام محمدؒ قرآنِ کریم سیکھنے اور کچھ حصے حفظ کرنے کے بعد وہاں کی ادبی مجلسوں اور حلقہ ہائے درس میں شامل ہونے لگے اب 14 سال کی عمر کو پہنچے تو امام ابو حنیفہؒ کے پاس گئے انہوں نے امام صاحبؒ سے پوچھا آپ ایسے نابالغ لڑکے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جیسے عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد رات کو احتلام ہوجائے؟ کیا عشاء کی نماز لوٹائے گا؟ امام صاحبؒ نے فرمایا جی ہاں! امام محمدؒ نے مسجد کے ایک کونے میں جا کر عشاء کی نماز لوٹا دی امام صاحبؒ نے یہ دیکھ کر فرمایا ان ھذا الصبی یفلح ان شاءاللہ۔

اس واقعہ کے بعد اللہ نے فقہ کی محبت آپ کے دل میں ڈال دی، چنانچہ آپ اصولِ فقہ کے لیے امام ابوحنیفہؒ کی مجلس میں پہنچ گئے امام صاحبؒ نے فرمایا کہ پہلے قرآنِ کریم حفظ کر لو پھر سبق میں آ جانا سات دن کے بعد امام محمدؒ نے واپس آکر فرمایا کہ میں نے حفظِ قرآن مکمل کر لیا ہے پھر امام صاحبؒ سے کسی مسئلہ کے بارے میں پوچھا امام صاحبؒ نے فرمایا یہ سوال کسی سے سنا ہے یا خود تمہارے ذہن میں پیدا ہوا؟ فرمایا کسی سے نہیں سنا بلکہ میرے ذہن میں پیدا ہوا ہے امام صاحبؒ نے فرمایا کہ یہ تو بڑے لوگوں کا سوال ہے آپ پابندی کے ساتھ درسِ فقہ میں شریک ہوا کریں اس کے بعد امام محمدؒ چار سال متواتر امام صاحبؒ کے درس میں شریک ہوتے رہے اور مجلسِ فقہ کے تمام مسائل کے جوابات لکھ کر اسے مرتب کرتے رہے۔

( بلوغ الامانی: صفحہ، 5، 6)

علمی انہماک:

امام محمدؒ کا علمی شوق و ذوق بہت ہی عجیب تھا ہر وقت حصولِ علم میں منہمک رہتے تھے (بسا اوقات اتنے مستغرق ہو جاتے کہ کوئی سلام کرتا تو آپ اس کو دعا دیتے پھر دوبارہ بلند آواز سے سلام کیا جاتا تو آپ وہی دعا دہرا دیتے)

اس علمی ذوق اور انہماک کی وجہ سے جب امام یوسفؒ کے مشورے سے امام محمدؒ کو "رقہ" میں منصب قضاء پیش کیا گیا یحییٰ بن خالد بن برمک نے امام محمدؒ کو اس کے قبول کرنے پر مجبور کیا تو امام محمدؒ ،امام ابو یوسفؒ سے ناراض ہو گئے اور وفات تک ان سے کوئی بات نہیں کی بعض حضرات امام ابو یوسفؒ کے جنازہ میں شریک نہ ہونے کی بھی یہی وجہ بتاتے ہیں لیکن قرینِ قیاس یہ ہے کہ امام ابو یوسفؒ کی وفات کے وقت امام محمدؒ "رقہ" میں تھے اور جنازہ کے لیے بغداد پہنچنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔

(بلوغ الامانی: صفحہ، 36، 38)

امام محمد رحمۃاللہ بحیثیت فقیہ:

امام ابوحنیفہؒ کی زندگی میں امام محمدؒ ہر وقت ان کی مجلسِ درس میں شریک ہو کر کسبِ فیض کرتے رہے امام ابوحنیفہؒ کے انتقال کے بعد انہوں نے امام ابو یوسفؒ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا یہاں تک کہ فقہ میں امام کے درجہ پر فائز ہو گئے انہوں نے اپنے اساتذہ کے علوم کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے لیے وہ کار ہائے نمایاں سر انجام دیے کہ باقی مذاہب میں اس کی مثال نہیں ملتی آپ کی چھ مشہور کتابیں جن کو ظاہر الروایۃ کہا جاتا ہے فقہ حنفی کی بنیاد ہے اور یہ بات بھی آگے آئے گی کہ فقہ مالکی کی تدوین میں امام محمدؒ کہ علوم و تصانیف کا بڑا دخل ہے امام شافعیؒ نے شاگرد ہونے کی حیثیت سے امام محمدؒ کے تجربات اور علوم سے اتنا استفادہ کیا کہ درجہ اجتہاد کو پہنچ گئے اسی طرح امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا گیا من این لك ھذہ المسائل الدقیقة؟ قال من کتب محمد بن الحسن۔

صفحہ 1 از 5