تعارف امام محمد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام محمد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 2 از 5

یوں تمام فقہاء کے علومِ مدونہ کا سر چشمہ فیض امام محمدؒ اور ان کی تصانیف ہیں امام محمدؒ مسائلِ شرعیہ کے حل کے لیے کبھی اپنے علم و دانست پر اکتفاء نہ کرتے بلکہ اہلِ صناعت اور تاجروں کے پاس جا کر خود ان کے طریقِ کار کو دیکھتے پھر اپنے مشاہدات کو سامنے رکھ کر شرعی فیصلے فرمایا کرتے تھے اور یہی فقیہ کی شان ہوتی ہے کہ کسی بھی مسئلہ کی گہرائی تک پہنچے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرے۔

(بلوغ الامانی: صفحہ، 44) 

آپ اکثر راتوں کو جاگا کرتے کسی نے کہا آپ راتوں کو کیوں جاگتے ہیں؟ فرمایا: كيف انام وقد نامت عيون الناس تعويلا علينا وهم يقولون اذا وقع لنا امر رفعناه اليه فيكشفه لنا فاذا نمنا ففيه تضیع للدين۔

(بلوغ الامانی: صفحہ، 46، 45)

امام محمد رحمۃاللہ بحیثیت محدث:

امام محمدؒ علمِ حدیث کے لیے مختلف ملکوں اور شہروں میں گئے کوفہ میں امام ابوحنیفہؒ، سفیان ثوریؒ، مسعر بن کدامؒ، امام ابو یوسفؒ، عمر بن ذرؒ وغیرہم سے علمِ حدیث حاصل کیا۔

مدینہ میں امام دار الہجرۃ مالک بن انس، ابراہیم بن محمد، ضحاک بن عثمان، مکہ میں سفیان بن عینیہ، بصرہ میں سعید بن ابی عروبۃ، خراسان میں عبداللہ بن مبارک رحمہم اللہ وغیرہم سے سماعِ حدیث کیا اسی طرح شام، واسط، یمامہ وغیرہ بھی گئے اور وہاں کے شیوخ سے استفادہ کیا امام محمدؒ اپنے ہمعصر ساتھیوں سے بھی روایت حدیث کرتے ہیں اس بارے میں بعض دوسرے علماء کی طرح تکلف نہیں فرماتے۔ 

(بلوغ الامانی: صفحہ، 7، 8)

بعض حضرات نے ان کے اساتذہ کی فہرست میں عمرو بن دینار کا نام بھی لکھا ہے لیکن یہ صحیح نہیں اس لیے کہ عمرو بن دینار کی وفات 126ھ میں ہوئی ہے اور اس وقت امام محمدؒ کی عمر تقریباً تین سال کی تھی اور اس عمر میں سماعِ حدیث کا تصور مشکل ہے (دیکھیے الجواہر المضیۃ اور اس کا حاشیہ: جلد، 2 صفحہ، 42)

مہدی کے عہدِ خلافت میں جب امام مالکؒ کی کتاب "المؤطا" کی شہرت عام تو امام محمدؒ نے بھی مدینہ منورہ کا رخ کیا، وہاں امام مالکؒ کی خدمت میں تین سال متواتر رہ کر تقریباً سات سو احادیث خود امام مالکؒ کی زبانی سنیں اور مؤطا مرتب فرمائی۔

امام محمد رحمۃاللہ بحیثیت لغوی:

تمام محققین کا اس پر اتفاق ہے کہ امام محمدؒ علمِ لغت اور عربیت پر کامل دسترس رکھتے تھے لغت میں ان کا قول دلیل کا درجہ رکھتا ہے وہ خود فرماتے تھے کہ وراثت میں مجھے تیس ہزار درہم ملے میں نے چند ہزار درہم فقہ اور حدیث باقی پندرہ ہزار درہم شعر و لغت کے حصول میں خرچ کیے۔

(بلوغ الامانی: صفحہ، 6)

امام محمد رحمۃاللہ بحیثیت قاضی:

کہا جاتا ہے کہ جب امام یوسفؒ منصبِ قضاء پر فائض ہوگئے تو امام محمدؒ کو یہ بات ناگوار گزری کہ امام یوسفؒ نے اپنے استاذ یعنی امام اعظم ابوحنیفہؒ کے عمل کو نظر انداز کیا اور ان کے نقشِ قدم کو نہیں اپنایا امام ابوحنیفہؒ تمام تر اذیتیں برداشت کیں اور جامِ شہادت نوش فرمایا لیکن منصبِ قضاء کو قبول نہیں کیا امام ابو یوسفؒ کو جب امام محمدؒ کے اس طرزِ فکر کا پتہ چلا تو فرمایا: لا قبض اللہ روحه قبل ان يبتلی بالقضاء چنانچہ پہلے "رقہ" میں قاضی مقرر ہوئے اور اس وقت بھی بڑی حق گوئی اور عدل و انصاف کا مظاہرہ کرتے رہے 

ہارون الرشید نے یحییٰ بن عبداللہ بن حسن کو امان دی تھی لیکن چونکہ وہ "طالبی" تھا اس لیے اس کے امان کو کالعدم قرار دے کر ہارون اسے قتل کروانا چاہتا تھا چنانچہ اس نے امام محمدؒ اور حسن بن زیاد اور ابو البختری وہب بن وہب (جو امام قاضی ابو یوسفؒ کے بعد قاضی القضاۃ تھے) کو اپنے دربار میں بلا کر وہ "امان نامہ" ان کے سامنے پیش کیا امام محمدؒ نے "امان نام" پڑھ کر فرمایا یہ شرعی اور مضبوط امان ہے اسے توڑنے کی کوئی وجہ نہیں یہی کہا کہ یہ صحیح امان ہے اور تھوڑی نہیں جا سکتی پھر قاضی القضاۃ ابو البختری کو دیا گیا اس نے ایک نظر ڈال کر کہا: میں اس امان پر راضی نہیں ہوں یہ بدمعاش آدمی ہے جس نے مسلمانوں کے خون سے اپنا ہاتھ رنگین کیا ہوا ہے تو پھر اپنے جوتے سے چاقو نکالا اور امان نامہ کو پھاڑ ڈالا ہارون الرشید کو مخاطب کر کے کہا "اس کو قتل کرو اس کا خون میرے ذمہ ہے"

امام محمدؒ فرماتے ہیں سب حاضرینِ مجلس کو سخت حیرت ہوئی کہ ایک قاضی القضاۃ کس طرح ایک آدمی کا خون اپنے ذمہ لیتا ہے اور پھر اپنے جوتے میں چاقو چھپا کر گھومتا ہے اس کے بعد کیا ہوا؟ روایات مختلف ہیں بعض کا خیال ہے کہ ہارون الرشید نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ طویل مدت جیل کاٹنے کے بعد وہ مرگیا بعض کہتے ہیں کہ وہ قتل کر دیا گیا۔

اس واقعہ کے بعد امام محمدؒ ہارون الرشید کی نظر میں معتوب ہو گئے اور اس نے امام محمدؒ کو منصبِ قضاء سے بر طرف کر کے ان کے فتویٰ دینے پر پابندی لگا دی بالآخر ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ ام جعفر کی سفارش سے یہ پابندی ختم ہوئی اور امام محمدؒ ہارون الرشید کے مقربین میں سے ہو گئے یہاں تک کہ اس نے اپنے آپ کو قاضی القضاۃ کے منصب کے لیے منتخب کر لیا۔ 

(تفصیل کے لیے دیکھیے بلوغ الامانی: صفحہ، 40، 41)

امام محمد رحمۃاللہ کے تلامذہ:

امام محمدؒ کے تلامذہ کی فہرست طویل ہے، بعض حضرات یہ ہیں:

ابو سلیمان موسیٰ بن سلیمان جوزجانی، امام شافعیؒ ابو عبداللہ ابن ادریس اسد بن فرات قیروانی (مدون مذہب مالکی) ابو جعفر احمد بن محمد بن مہران نسوی جو مؤطا محمد کے راویوں میں سے ہیں، شعیب بن سلیمان کیسانی جو کتاب الکیسانیات کے راوی ہیں، علی بن صالح جرجانی جو کتاب الجرجانیات کے راوی ہیں۔

امام محمد رحمۃاللہ اور فقہ مالکی کی تدوین:

صفحہ 2 از 5