تعارف امام محمد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام محمد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 3 از 5

اسد بن فرات 176ھ میں قیروان سے مدینہ آ کر امام مالکؒ کے حلقہ درس میں شریک ہوئے وہ مختلف مسائل میں امام مالکؒ سے استفسار  کیا کرتے تھے اور امام مالکؒ بھی یہ سوچ کر جواب دیتے کہ بہت دور دراز کا سفر کر کے آیا ہے لہٰذا اس پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے لیکن امام مالکؒ کی یہ عادت تھی کہ صرف پیش آمدہ مسائل کا جواب دیا کرتے تھے، جب اسد بن فرات کو یقین ہو گیا کہ اس طرح سے علمی پیاس بھی باقی رہ جائے گی اور دیگر شیوخ کی ملاقات سے بھی محروم رہوں گا تو وہ امام مالکؒ کے حلقہ درس کو چھوڑ کر عراق آگئے امام ابو یوسفؒ، اسد بن عمرو بجلیؒ، امام محمد بن حسنؒ اور امام ابوحنیفہؒ رحمہم اللہ کی دوسرے تلامذہ سے فقہ حاصل کرنے لگے، البتہ زیادہ تر امام محمدؒ کے پاس جاتے رہتے ہیں، ایک مرتبہ انہوں نے امام محمدؒ سے کہا کہ میں مسافر ہوں (زیادہ دیر تک قیام نہیں کر سکتا) اور مسائل سے کافی نا آشنا ہوں طلبہ آپ کے پاس زیادہ ہوتے ہیں میں کیا کروں تاکہ آپ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ ممکن ہو سکے امام محمدؒ نے فرمایا  دن کو تو میں مصروف رہتا ہوں البتہ رات کا وقت آپ کے لیے خاص ہے آ کر اپنے سوالات بیان کریں اسد بن فرات کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہر رات کو میں امام محمدؒ کے پاس جاتا وہ ایک برتن میں پانی بھر کر لاتے اور سبق کے لیے تشریف رکھتے ہیں اگر کبھی مجھ پر نیند غالب آ جاتی تو میرے پر پانی کا چھڑکاؤ کرتے کچھ عرصہ کے بعد اسد بن فرات عراق سے چلے گئے اور امام محمدؒ سے سنے ہوئے تمام مسائل وہ امام مالکؒ کے خاص شاگرد ابنِ قاسم کے سامنے پیش کر کے امام مالکؒ کی رائے دریافت کی پھر "الاسدیہ" کے نام سے ان کو مرتب کیا بعد میں ابنِ قاسم نے سحنون کے ہاتھ کچھ اس میں ترمیم کر کے فقہ مالکی کی تدوین کی اس تفصیل سے معلوم ہوتا کہ فقہ مالکی کی تدوین دراصل انہی مسائل کی روشنی میں ہوئی ہے تو اسد بن فرات نے امام صاحبؒ سے سنے تھے۔

( بلوغ الامانی: صفحہ، 14، 18)

امام محمد رحمۃاللہ اور امام شافعی رحمۃاللہ کے تعلقات:

امام شافعیؒ شاگرد ہیں امام محمدؒ کے امام ابنِ تیمیہؒ نے منہاج السنۃ میں اس تلمذ کا انکار کیا ہے لیکن علامہ نووی رحمۃاللہ وغیرہ نے اس تلمذ کو تسلیم کیا ہے۔

(دیکھیے مقدمہ التعلیق الممجد: صفحہ، 30)

امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ سمعت من محمد و قربعیر یعنی ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر میں نے امام محمدؒ سے علم حاصل کیا۔

(الجواہر المضیۃ: صفحہ، 43)

یہ وہی مسائل ہیں جو صرف امام شافعیؒ نے امام محمدؒ سے سنے ہیں، باقی وہ مسائل جن کے سماع میں امام شافعیؒ کے ساتھ دوسرے تلامذہ بھی شریک تھے وہ ان کے علاوہ ہیں (اسی طرح ساٹھ دینار خرچ کر کے انہوں نے امام محمدؒ کی تصانیف نقل کرا کر اپنے لیے محفوظ کرا لی تھیں) 

(بلوغ الامانی: صفحہ، 20)

بھجوانے میں امام محمدؒ سے تاخیر ہو گئی امام شافعیؒ نے یہ لکھ کر بھیجا: 

قل للذی لم ترعی ن من رآہ مثلهحتىٰ كان من رآه قد رآی من قبلهالعلم ينهی اهله ان يمنعوه اهله لعله یبذله لاهله لعله۔

تو امام محمدؒ نے اسی وقت وہ کتاب ارسال کر لیں۔

(وفیات الاعیان: جلد، 4 صفحہ، 184)

امام شافعیؒ سے امام محمدؒ کی تعریف و توثیق کے بارے میں قابلِ قدر جملے منقول ہیں فرماتے ہیں: ما رایت رجلا سمینا افھم منہ ما رایت افصح منہ کان اذا تکلم خیل لک ان القرآن نزل بلغتہ کان یمیلا القلب والعین ما رایت اعلم بکتاب اللہ من محمد

(الجواہر المضیہ: صفحہ، 43)

امن الناس علی فی الفقہ محمد بن الحسن اعاننی اللہ برجلین بابن عینیۃ فی الحدیث وبمحمد فی الفقہ۔

تصانیف امام محمد رحمۃاللہ:

امام محمدؒ کی تصانیف بہت زیادہ ہیں بعض حضرات کا خیال ہے ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً 990 ہے کسی عالم نے اپنے مذہب پر اتنی کتابیں نہیں لکھیں جتنی امام محمدؒ نے فقہ حنفی میں لکھی ہیں 

(مقدمہ شرح الوقایہ: (لکھنؤی) صفحہ، 46)

ہم ذیل میں ان میں سے چند کا تذکرہ کریں گے۔ 

1: آپ کی سب سے بڑی تصنیف: "کتاب الاصل" ہے جو کہ "المبسوط" کے نام سے مشہور ہے کہا جاتا ہے کہ امام شافعیؒ نے مبسوط کو سامنے رکھ کر اس کی روشنی میں "کتاب الام" تصنیف فرمائی کسی اہلِ کتاب نے مبسوط کا مطالعہ کیا اور یہ کہہ کر مسلمان ہو گیا کہ ھذا کتاب محمد کم الاصغر فکیف کتاب محمد کم الاکبر، یعنی چھوٹے محمدؒ کی کتاب کہ یہ شان ہے تو بڑے محمدﷺ کی کتاب (قرآن) کے کیا کہنے۔

(کشف الظنون: جلد، 2 صفحہ، 1581)

2: الجامع الصغیر: امام محمدؒ مبسوط کی تصنیف سے فارغ ہوگئے تو امام ابو یوسفؒ نے آپ سے درخواست کی کہ امام اعظمؒ سے روایت شدہ ان تمام مسائل کو جو انہوں نے امام یوسفؒ سے سنے ہیں کتابی شکل میں جمع کریں چنانچہ آپ نے ایک مجموعہ "الجامع الصغیر" کے نام سے تیار کر کے قاضی امام یوسفؒ کی خدمت میں پیش کیا آپ نے دیکھ کر فرمایا: بہت بہتر ہے البتہ ابو عبداللہ نے تین مسائل میں غلطی کی ہے "امام محمدؒ" کو معلوم ہوا تو فرمایا: میں نے کوئی غلطی نہیں کی وہ شاید بھول گئے ہیں۔

3: الجامع الکبیر: یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے ،ابنِ شجاع کا قول ہے لم یؤلف فی السلام مثله فی الفقه اور صرف یہی نہیں، بلکہ عربیت کے لحاظ سے بھی اسی کتاب نے ائمہ لغت کو حیرت زدہ کر دیا اخشف اور ابوعلی فارسی نے اس کے ادبی پہلو کی بہت تعریف کی ہے۔

4: الزیادات: اس میں ان مسائل کا تذکرہ ہے جو جامع صغیرہ و جامع کبیر میں قیدِ قلم میں نہیں آئے۔

5: السیر الصغیر: یہ دونوں کتابیں بھی اپنے مخصوص انداز میں منفرد حیثیت رکھتی ہیں

ان کتابوں میں احکامِ جہاد، غنیمت، فئی ہے وغیرہ کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے ہارون الرشید نے سیر کبیر کی خصوصیات دیکھ کر اپنے دونوں بیٹوں کو یہ کتاب پڑھوائی۔

امام محمدؒ کی یہ وہ چھ کتابیں ہیں جو شہرہ آفاق ہیں اور ان کی روایت بھی مشہور یا متواتر طرق سے چلی آرہی ہے ،ان میں مذکورہ مسائل کو "ظاہر الروایۃ" کہا جاتا ہے ان کے علاوہ جو کتابیں بطریقِ آحاد مروی ہیں، وہ یہ ہیں: الرقیات، الکیسانیت، الجرحانیات، الهارونیات، الحج فی الاحتجاج علی اھل المدینه، اجتہاد الرأی، کتاب الاستسحسان، کتاب الخصال، الرد علی اھل المدینة، کتاب اصول الفقه۔

(بلوغ الامانی: صفحہ، 65، 66، 67)

صفحہ 3 از 5