تعارف امام محمد رحمۃاللہ علیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام محمد رحمۃاللہ علیہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 4 از 5

حدیث کے موضوع پر امام محمدؒ کی تصانیف ایک تو مؤطا ہے دوسری آثار السنن ہے جس میں وہ امام ابوحنیفہؒ سے روایت کرتے ہیں۔

مؤطا بروایت امام محمد رحمۃاللہ ایک تقابلی جائزہ عادات و خصوصیات:

پہلے کہا جا چکا ہے کہ امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ تین سال تک امام مالکؒ کی مجلس درس میں بیٹھ کر انہوں نے مؤطا کی روایات سنی ہیں اور پھر انہوں نے اس مجموعہ کو تیار کیا جسے عرف میں مؤطا امام محمد کہا جاتا ہے

البتہ مؤطا امام مالک بروایتِ یحییٰ اندلسی کو شہرت زیادہ حاصل ہوئی اور مطلقاً جب مؤطا کہا جاتا ہے تو اس سے وہی مؤطا بروایت یحییٰ مراد ہوتا ہے لیکن اس شہرت کے باوجود مؤطا بروایتِ امام محمد کئی وجوہ سے ممتاز ہے مولانا عبدالحی لکھنؤی نے اس پر مفصل بحث کی ہے ان وجوہ ترحیج میں سے بعض یہ ہیں۔

1: یحییٰ اندلسی نے مؤطا کے بعض حصے امام مالکؒ سے اور اکثر حصے امام مالکؒ کے دوسرے تلامذہ سے سنے ہیں اور امام محمدؒ نے پورا موطا امام مالکؒ سے سنا ہے اور سماع بلا واسطہ سماع بالواسطہ سے اولیٰ ہے۔

2: یحییٰ اندلسی امام مالکؒ کے پاس ان کے سنہ وفات میں حاضر ہوئے اور امام محمدؒ متواتر تین سال تک شریکِ درس رہے اور طویل الملازمۃ کی روایت اقوی ہے علی الملازمۃ کی روایت ہے۔

3: مؤطا یحییٰ میں مسائل فقیہہ اور اجتہاداتِ امام مالکؒ زیادہ ہیں بہت سارے تراجم میں تو بغیر کسی روایت یا اثر کے صرف امام مالکؒ کا اجتہاد ہی مذکور ہے اور یہ بات مؤطا امام محمد میں نہیں وہاں ہر ترجمہ کے تحت کوئی روایت ضرور ہوتی ہے اور احادیث غیر مخلوطہ بالرأی افضل ہیں مخلوطہ بالرأی سے

4: مؤطا یحییٰ صرف امام مالکؒ کے طریق سے مروی احادیث پر مشتمل ہے اور مؤطا محمد میں دوسرے شیوخ کی روایات بھی ہیں یہ فائدہ جلیلہ مؤطا یحییٰ میں نہیں ہے۔

5: مؤطا یحییٰ میں امام مالکؒ کے مذہب کے موافق احادیث ہیں اور بس اوقات وہ احادیث، حنفیہ کے یہاں کسی وجہ کے معمول بہا نہیں ہوتیں لیکن مؤطا امام محمد نے ان روایات غیر معمول بہا کے بعد حنفیہ کے یہاں معمول بہا روایات کا بھی تذکرہ ہے جو کہ حنفی حضرات کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔

( دیکھیے مقدمہ التعلیق الممجد: صفحہ، 34، 35)

مؤطا کی روایت میں امام محمدؒ کی عادت یہ ہے کہ ترجمۃ الباب کے بعد امام مالکؒ کی روایات لاتے ہیں چاہے مرفوع ہو یا موقوف عنوانات میں لفظِ کتاب یا باب استعمال کرتے ہیں لفظ فضل نہیں لکھتے وبه نأخذ کہہ کر مذہبِ حنفیہ کی نشاندہی کرتے ہیں اگر امام مالکؒ کی روایت حنفیہ کے مذہب کے مطابق نہ ہو تو اس پر گفتگو کر کے حنفیہ کی تائید کے لیے دوسرے مشایخ کی روایات لاتے ہیں تمام روایات میں لفظ اخبرنا ہی استعمال کرتے ہیں 

ابراہیم نخعیؒ کے مذہب کی بھی نشاندہی کرتے ہیں امام ابو یوسفؒ کہ مذہب کے بارے میں خاموش رہتے ہیں واجب کے مقابلہ میں لفظ ھذا حسن،جمیل مستحسن وغیرہ استعمال کرتے ہیں جو کہ سنتِ مؤکدہ و غیر مؤکدہ کو شامل ہے لفظ لا باس به کو کبھی نفسِ جواز بتانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، حالانکہ متاخرین کے یہاں اس کا استعمال مکروہ تنزیہی میں ہوتا ہے کبھی لفظ "ینبغی" کا استعمال متقدمین کی اصطلاح کے مطابق عام معنیٰ میں کرتے ہیں جو کہ واجب و سنت کو شامل ہے،لفظ "اثر" کا استعمال کبھی حدیث مرفوع و موقوف  کے لیے بھی کرتے ہیں بعض آثار کی سند بیان نہیں کرتے بلکہ "بلغنا" کہہ کر نقل کرتے ہیں اور محققین کے یہاں بلاغات محمد مسند ہے۔ 

(التعلیق الممجد: صفحہ، 39، 40)

تعداد روایات:

 مولانا عبدالحئی لکھنویؒ مؤطا امام محمدؒ کی تمام روایات کو باریک بینی سے گن کر فرماتے ہیں: مؤطا بروایت امام محمدؒ میں تمام احادیث مرفوع اور آثار موقوفہ گیارہ سو اسی ہیں ایک ہزار پانچ روایتیں امام مالکؒ کے طریق کے سے تیرہ روایتیں ابوحنیفہؒ اور چار روایتیں امام ابو یوسفؒ کے طریق سے اور باقی دوسرے حضرات سے مروی ہیں۔ 

(مقدمہ التعلیق الممجد: صفحہ، 39)

شروح و حواشی:

مؤطا بر روایت امام محمدؒ کی بہت کم شرحیں دستیاب ہیں، شرح المؤطا: دو جلدوں میں

علامہ ابراہیم المعروف بیری زادہ نے لکھی۔

مولا علی قاری ہروی مکی نے دو جلدوں میں لکھی اس شرح میں شارح سے تنقید رجال میں بہت زیادہ مسامحات واقع ہوئے ہیں۔ 

(المقدمۃ التعلیق الممجد: صفحہ، 5، 26)

حضرت مولانا عبدالحئی لکھنویؒ کا بھی ایک جامع حاشیہ التعلیق الممجد علی مؤطا محمد کے نام سے موجود ہے البتہ علامہ کوثری نے دو جگہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں سند کی بحث میں مولانا عبد الحئی رحمۃاللہ کو دقت پیش آئی ہے قراءۃ خلف الامام کے باب میں ایک حدیث اس سند سے موجود ہے۔

قال محمد حدثنا الشيخ ابو علی قال حدثنا محمود بن محمد المروزی قال حدثنا سهل بن العباس الخ۔

( دیکھیے مؤطا محمد مطبوع قدیمی کتب خانہ کراچی: 99)

اس سند میں امام محمدؒ کے شیخ ابو علی اور شیخ الشیخ محمود کا نام آیا ہے حالانکہ اس نام سے امام محمدؒ کے کوئی استاد نہیں تو مولانا لکھنویؒ نے فرمایا: لم أقف الی الآن علی تشخیصهما حتیٰ یعرف توثیقهما او تضعیفهما۔ (دیکھیے مؤطا محمد: صفحہ، 199 مطبوع قدیمی کتب خانہ کراچی حاشیہ: 1)

علامہ کوثری فرماتے ہیں کہ دراصل یہ حدیث مؤطا امام محمدؒ میں نہیں ہے بلکہ یہ حدیث ابوعلی صواف کے نسخہ کے حاشیہ میں لکھی ہوئی تھی اور بعض ناسخین نے اس کو متنِ کتاب میں شامل کیا ہے ابوعلی کا نام محمد بن احمد بن حسن صواف ہے اور یہ چوتھی صدی ہجری کے آدمی ہیں دارالکتب العلمیۃ مصر میں جو نسخہ موجود ہے اس میں یہ حدیث حاشیہ میں ہے۔

(دیکھیے بلوغ الامانی: صفحہ، 96)

اسی طرح باب صلوٰۃ القاعد کی آخری روایات کی سند یوں ہے: قال محمد حدثنا بشر حدثنا احمد اخبرنا اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق الخ۔

(دیکھیے مؤطا محمد: صفحہ، 17 مطبوع قدیمی کتب خانہ کراچی)

یہاں بھی وہی مسئلہ ہے کہ امام محمدؒ کے استاد کا نام "بشر" آیا ہے اور یہ کتب اسماءُ الرجال میں محفوظ نہیں ہے اس لیے مولانا عبدالحئی لکھنوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں: لم اعرف الآن تعینه وتعین شیخه احمد۔

(دیکھیے مؤطا محمد: صفحہ، 18مطبوع قدیمی کتب خانہ حاشیہ: 1)

صفحہ 4 از 5