Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہؓ کا امارتِ سیدنا امیر معاویہؓ کو فرعون کی حکومت سے تشبیہ دینا

  محمد ذوالقرنين

سیدہ عائشہؓ کا امارتِ سیدنا امیر معاویہؓ کو فرعون کی حکومت سے تشبیہ دینا

بعض شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جب سیدہ عائشہؓ کے سامنے سیدنا امیر معاویہؓ کا تذکرہ کیا گیا کہ وہ خلافت کے معاملے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تنازع کر رہے ہیں تو سیدہ عائشہؓ نے ان کی امارت کو فرعون کی حکومت سے تشبیہ دی وہ روایت کچھ یوں ہے۔

سند:

اخبرنا ابو القاسم الحسين بن محمد بن الحسن انا ابو القاسم بن ابى العلاء انا عبد الرحمٰن بن محمد بن ياسر انا على بن يعقوب بن ابى العقب حدثنى القاسم بن موسىٰ بن الحسن نا عبدة الصفار نا ابو داؤد نا ايوب بن جابر عن ابی اسحاق عن الاسود بن يزيد۔

متن: اسود بن یزید کہتے ہیں میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا کیا آپ کو تعجب نہیں ہوتا کہ طلقاء میں سے ایک شخص (مراد سیدنا امیر معاویہؓ) اصحابِ رسولﷺ سے خلافت کے بارے میں جھگڑا کر رہا ہے تو سیدہ عائشہؓ نے کہا اس میں تعجب والی کیا بات؟ یہ اللہ کی سلطنت ہے وہ نیک اور فاجر ہر ایک کو عطاء کرتا ہے فرعون نے بھی تو مصر پر چار سو سال حکومت کی تھی۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 145)

(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 3 صحفہ 143)۔

اسناد کا تعاقب: اس روایت کی سند میں تین علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی قاسم بن موسیٰ بن حسن مجہول الحال ہے امام ذہبیؒ نے اس کے ترجمہ میں اس پر کوئی جرح و تعدیل نقل نہیں کی۔

(تاریخ الاسلام للذہبی (عربی) جلد 23 صحفہ 97)

دوسری علت: اس روایت کا راوی ایوب بن جابر سخت ضعیف ہے۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں ہے ابنِِ مدینیؒ کہتے ہیں یہ احادیث ایجاد کرتا تھا امام ابو زرعہ رازیؒ کہتے ہیں یہ واہی الحدیث ہے امام نسائیؒ نے کہا ہے یہ ضعیف ہے۔

(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 1 صحفہ 385)۔

امام ذہبیؒ اس پر آخری حکم لگاتے ہوئے کہتے ہیں:

ایوب بن جابر الیمانی ضعیف ہے۔

(الکاشف للذہبی (عربی)جلد 1 صحفہ 261)۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

آٹھویں طبقہ کا ضعیف راوی ہے۔

(تقريب التہذيب (اردو) جلد 1 صحفه 95)۔

امام ابنِ جوزیؒ بھی اس کو الضعفاء میں شامل کر کے فرماتے ہیں۔

یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں ہے ابنِ مدینیؒ کہتے ہیں یہ احادیث وضع کرتا تھا ابو زرعہؒ کہتے ہیں یہ واہی الحدیث ہے اور امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے۔

(كتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 1 صحفه 130)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی بھی ضعیف ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

تیسری علت: اس روایت کی تیسری علت ابو اسحاق السبیعی کی تدلیس ہے یہ تیسرے طبقہ کا مدلس ہے اور اس کی روایت کے بارے میں ہم کلام کرچکے کہ درجہ سوم کا مدلس اگر سماع کی تصریح نہ کرئے تو اس کی معنن مطلقاً رد ہوتی ہے۔

(دیکھیں باب سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ پر لعنت کروانا پانچویں روایت کی دوسری سند کا تعاقب)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی باطل ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔

سیدہ عائشہؓ کی خواہش کہ میری عمر سیدنا امیر معاویہؓ کو لگ جائے:

اس روایت کے برعکس جو روایت صحیح سند سے موجود ہے اس کے مطابق تو سیدہ عائشہؓ تمنا کیا کرتی تھیں کہ میری عمر بھی سیدنا امیر معاویہؓ کو لگ جائے روایت کچھ یوں ہے۔

سند:

حدثنا ابو موسىٰ وهلال بن بشر قالا ثنا محمد بن خالد بن عثمة اخبرنی سليمان بن بلال اخبرنی علقم بن ابی علقمه عن امه عن عائشةؓ قالت۔

متن: سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے فتنے کے دور میں لوگوں کا جو معاملہ دیکھا اس میں ہمیشہ سے میری تمنا رہی کہ اللہ میری عمر بھی سیدنا معاویہؓ کو لگادے۔

(كتابُ الطبقات لابی عروبة (عربی) صحفہ 41)۔

اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدہ عائشہؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کی حکومت کو بُرا کہنا تو دور کی بات ہے سیدہ عائشہؓ کی تو یہ تمنا رہی کہ ان کی عمر بھی سیدنا امیر معاویہؓ کو لگ جائے۔