سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت گمراہی کی بیعت - ردِ…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت گمراہی کی بیعت

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 1 از 2

سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت گمراہی کی بیعت

اکثر شیعہ سیدنا جابر بن عبداللہؓ اور سیدہ ام سلمہؓ کی طرف منسوب دو روایات کو بیان کر کے کہتے ہیں کہ جب سیدنا امیر معاویہؓ نے بسر بن ابی ارطاۃ کو مدینہ بھیجاتا کہ وہ لوگوں سے بیعت لے تو سیدہ ام سلمہؓ اور سیدنا جابر بن عبداللہؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت کے بارے میں کہا کہ یہ گمراہی کی بیعت ہے۔

ان دو روایات کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

سیدہ ام سلمہؓ کی روایت:

حدثنی سعيد بن محمد الجرمی قال ثنا يعقوب بن ابراهيم قال ثنا أبی عن محمد بن اسحاق قال حدثنی ابونعيم وھب بن كيسان انه سمع جابر بن عبداللهؓ۔

متن: سیدنا جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں بسر بن ارطاۃ سیدنا امیر معاویہؓ کے زمانہ (دورِ خلافت) میں مدینہ آئے تو انہوں نے کہا جب تک سیدنا جابرؓ آکر میری بیعت نہ کریں گے میں بنو سلمہ کے کسی شخص کی بیعت نہیں لوں گا تو نبی کریمﷺ کی زوجہ سیدہ ام سلمہؓ جب آئیں اور مجھے کہا کہ ان کی بیعت کر لو میں نے اپنے بھتیجے عبداللہ کو بھی یہی کہا ہے اور میں جانتی ہوں کہ یہ گمراہی کی بیعت ہے۔

(التاریخ الاوسط للبخاری (عربی) جلد 1 صحفه 228)۔

اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی سعید بن محمد جرمی صدوق ہے مگر غالی شیعہ ہے۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں یہ ثقہ ہے تاہم شیعہ ہے ابنِ معینؒ کہتے ہیں یہ صدوق ہے۔

(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 3 صحفہ 225 226)۔

امام سمعانیؒ اس کے غالی شیعہ ہونے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ۔

سعید بن محمد بن سعید جرمی اہلِ کوفہ میں سے ہے یہ صدوق ہے لیکن غالی شیعہ ہے۔

(الانساب للسمعانی (عربی) جلد 2 صحفه 48)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی غالی شیعہ ہے اور ہم یہ بیان کر چکے کہ صدوق غالی شیعہ راوی کی وہ روایات جو اس کے مذہب کو تقویت دیں قبول نہیں کی جاتیں۔

دوسری علت: اس روایت کے راوی محمد بن اسحاق بن یسار یہ صدوق اور امام المغازی ہیں لیکن ان کی بعض روایات پر کلام کیا گیا ہے ان کا حافظہ بھی خراب ہوگیا تھا اور یہ قدریہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔

امام ذہبیؒ ان کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام ابو داؤدؒ کہتے ہیں یہ قدریہ فرقہ سے تعلق رکھتا تھا حمید بن حبیب کی روایت ہے کہ انہوں نے محمد بن اسحاق کو دیکھا کہ ان کو قدریہ فرقے کے نظریات کی وجہ سے کوڑے لگوائے گئے (امام ذھبیؒ کہتے ہیں) یہ صدوق ہے جن روایات کو بیان کرنے میں یہ منفرد ہے ان میں کچھ منکر روایات ہیں کیونکہ اس کے حافظہ میں خرابی تھی۔

(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 6 صحفہ 86 93)۔

امام ذہبیؒ ان پر آخری حکم لگاتے ہوئے کہتے ہیں:

محمد بن اسحاق سے عجیب و غریب روایات بھی منقول ہیں جو منکر ہیں اور ان کی روایت سے احتجاج کے بارے میں بھی اختلاف ہے (کہ ان کی روایت قبول کی جائے گی یا نہیں)۔

( الكاشف للذہبي (عربی) جلد 2 صحفه 156)۔

معلوم ہوا ہے کہ محمد بن اسحاق کی روایات پر کلام کیا گیا ہے کیونکہ ان سے منکر روایات منقول ہیں جن کو بیان کرنے میں یہ منفرد ہیں اور اس روایت کو بیان کرنے میں بھی یہ منفرد ہیں اس لئے محمد بن سعید جرمی کے غالی شیعہ ہونے اور محمد بن اسحاق کے تفرد کی وجہ سے یہ روایت باطل ہے اس سے احتجاج جائز نہیں اس لئے اس روایت کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ سیدہ ام سلمہؓ سیدہ امیر معاویہؓ کی بیعت کو گمراہی کی بیعت سمجھتی تھیں جائز نہیں.

سیدنا جابرؓ کی روایت: سیدنا جابرؓ سے ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت دو اسناد سے مروی ہے۔

پہلی سند:

اخبرنا ابوبكر الباطرقانی اخبرنا ابوعبدالله بن منده عن ابيه عبد الله عن ابوسعيد بن يونس حدثنا اسامه بن احمد بن اسامه التجيبی حدثنا احمد بن يحيىٰ بن الوزير حدثنا عبد الحميد بن الوليد حدثنی الہيثم بن عدى عن عبدالله بن عياش عن الشعبی۔

متن: شعبی کہتے ہیں سیدنا امیر معاویہؓ نے بسر بن ابی ارطاۃ کو ایک لشکر کے ساتھ شام سے روانہ کیا تو وہ چل پڑا یہاں تک کہ وہ مدینہ پہنچ گیا اُس وقت وہاں کے گورنر سیدنا ابو ایوب انصاریؓ تھے تو وہ سیدنا علیؓ کی طرف کوفہ بھاگ گئے پھر بسر بن ابی ارطاۃ منبر پر چڑھ گیا اور اور کہنے لگا اے دینار اے زندیق اے نجار میں نے اس مقام پر سخی شیخ یعنی سیدنا عثمانؓ سے عہد کیا تھا اے اہلِ مدینہ اگر میں نے امیر المؤمنین سے عہد نہ کیا ہوتا تو میں تمہارے ہر بالغ شخص کو قتل کر دیتا اہلِ مدینہ نے اس کے ہاتھ پر سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت کی اور اس نے بنو سلمہ کی طرف پیغام بھیجا کہ اللہ کی قسم میرے پاس تمہارے لئے کوئی امان نہیں اور نہ ہی تمہاری بیعت قبول ہے جب تک تم صحابی رسول سیدنا جابر بن عبداللہؓ کو میرے پاس نہ بھیجو تو سیدنا جابرؓ خفیہ طور پر سیدہ ام سلمہؓ کے پاس گئے اور ان کو کہا امی میں اپنے دین پر خدشہ محسوس کرتا ہوں کیونکہ یہ گمراہی کی بیعت ہے۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 10 صحفہ 152،153)

اسناد کا تعاقب: اس سند میں تین علتیں ہیں۔

پہلی علت:اس روایت کا راوی اسامہ بن احمد منکر ہے۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

اس سے ابو سعید بن یونس نے روایات نقل کی ہیں اور کہا ہے یہ معروف ہے لیکن یہ منکر ہے۔

(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 1 صحفه 246)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی منکر ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

دوسری علت: اس روایت کا راوی عبد الحمید بن ولید مجہول الحال ہے مؤرخ ابنِ یونس مصری نے اس کے ترجمہ میں اس پر کوئی الفاظ جرح و تعدیل نقل نہیں کیے۔

(تاریخ ابنِ یونس مصری (عربی) جلد 1 صحفہ 294 295)۔

تیسری علت: اس روایت کا راوی ہیثم بن عدی کذاب اور متروک الحدیث ہے اس لیے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں اس راوی کا ترجمہ گزر چکا ہے۔

(دیکھیں باب سیدنا امیر معاویہؓ کا مال کی خاطر سیدنا حکم بن عمروؓ کو قید کرنا تیسری سند کا تعاقب) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی موضوع ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔

دوسری سند:

فذكر عن زياد بن عبدالله البكائی عن قال۔

(تاریخِ طبری (عربی) جلد 5 صحفہ 139 140)۔

اسناد کا تعاقب: اس سند میں تین علتیں ہیں۔

صفحہ 1 از 2