سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت گمراہی کی بیعت - ردِ…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت گمراہی کی بیعت

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 2 از 2

پہلی علت: اس روایت کے راوی زیاد بن عبداللہ بکائی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے کہ سیرت کے بارے میں بیان کرئے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس کے علاوہ روایت بیان کرنے میں ضعیف ہے۔

امام ذھبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یحییٰ بن معین کہتے ہیں سیرت کے بارے میں بیان کرے تو کوئی حرج نہیں سیرت کے علاوہ روایات میں یہ قابلِ اعتماد نہیں ہے علی بن مدینیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے پھر اسے ترک کر دیا امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا امام بخاریؒ نے اس کی ایک روایت متابعت میں نقل کی ہے امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے ابنِ سعد کہتے ہیں محدثین کے نزدیک یہ ضعیف ہے۔

(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 3 صحفه 139)۔

معلوم ہوا کہ یہ راوی سیرت کے باب میں تو حُجت ہے لیکن دیگر روایات میں اس سے استدلال جائز نہیں۔

دوسری علت: طبری نے زیاد بن عبداللہ تک سند بیان نہیں کی اور ان دونوں نے ایک دوسرے کا زمانہ نہیں پایا زیاد بن عبداللہ 183 ہجری میں فوت ہوا جبکہ طبری 224 ہجری میں پیدا ہوا۔

امام ذہبیؒ زیاد کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

زیاد کا انتقال سنہ 183 ہجری میں ہوا۔

(میزانُ الاعتدال (اردو)، جلد 3، صحفہ 140)۔

اور طبری کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں۔

طبری سنہ 224 ہجری میں پیدا ہوا۔

(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 14 صحفہ 267)۔

اس لیے طبری سے زیاد تک سند نا معلوم و منقطع ہونے کی وجہ سے یہ روایت مردود ہے۔

تیسری علت: اس روایت کے راوی عوانہ بن حکم الکلبی نے بھی سیدنا امیر معاویہؓ کا زمانہ نہیں پایا اس لیے یہ روایت منقطع ہے عوانہ سنہ 147 ہجری میں فوت ہوا۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

محمد بن اسحاق الندیم کہتے ہیں کہ یہ سنہ 147 ہجری میں فوت ہوا۔

(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 7 صحفہ 201)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پوری سند ہی منقطع اور مردود ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔

پس ثابت ہوا کہ یہ دونوں روایات باطل ہیں اور سیدہ ام سلمہؓ اور سیدنا جابرؓ کی طرف ان الفاظ کی نسبت کرنا جائز نہیں ان روایات کے برعکس مصنف ابنِ ابی شیبہ کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ یہ گمراہی کی بیعت ہے ملاحظہ فرمائیں۔

سند:

حدثنا ابواسامه قال حدثنى الوليد بن كثير عن وهب بن كيسان قال سمعت جابرؓ۔

متن: سیدنا جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں میں (بیعت کے بارے میں مشورہ کرنے کے لئے) سیدہ ام سلمہؓ کے پاس گیا اور ان کو ساری بات بتائی تو انہوں نے فرمایا اے میرے بھتیجے جاؤ اور بیعت کر لو اور اپنے اور اپنی قوم کے خون کا تحفظ کرو کیونکہ میں نے بھی اپنے بھتیجے کو بیعت کا حکم دیا ہے۔

(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 9 روایت 31203)۔

اس روایت میں کہیں پر بھی یہ جملہ نہیں کہ سیدہ ام سلمہؓ یا سیدنا جابرؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت کے بارے میں یہ کہا ہو کہ ان کی بیعت گمراہی کی بیعت ہے اس کے برعکس باطل و موضوع روایات کو دلیل بنا کر صحابی رسولﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرنا خود گمراہی ہے۔


صفحہ 2 از 2