Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ناراض ہونا

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے غصّہ اور ناراض ہونا 

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے غصّہ اور ناراض ہونا اور نبی کریمﷺ‏ کا فرمان: کہ جس نے حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا باسند معتبر شیعہ کتب۔

روایت کی سند ملاحظہ کریں۔

حدثنا على بن احمد قال حدثنا أبو العباس احمد بن محمد بن يحيىٰ عن عمرو ابن أبی المقدام و زياد بن عبدالله قالا أتى رجل أبا عبد الله۔ (علل الشرائع: صفحہ، 185)

یہ روایت معتبر ہے۔(جلاء العیون)

سند کی تحقیق

علی بن احمد

شیخ صدوق نے اس کے ساتھ ترضی عليہ (رضی اللہ عنہ) کا استعمال کیا۔ (علل الشرائع: صفحہ، 185)

شیخ صدوق کا کسی راوی کے ساتھ ترضی عليہ (رضی الله عنہ) کا استعمال کرنا شیعہ محدثین کے نزدیک توثیق ہے۔

مامقانی ایک راوی کے ذیل میں کہتا ہے۔ وترضی الصدوق يكفی فی جعله حسناً یعنی کے صدوق کا اس کے ساتھ ترضی عليہ (رضی اللہ عنہ) کا استعمال کرنا اس کے حسن درجے کے لیے کافی ہے۔ (تنقیح المقال فی علم الرجال)

لہٰذا راوی کم از کم حسن درجے کا ہے۔

ابو العباس احمد بن محمد بن یحییٰ 

اس کے بارے میں شیعہ محدث علامہ باقر مجلسی کہتا ہے:

احمد بن محمد بن یحییٰ عطّار، مشائخ میں سے ہیں جو اجازتی ہیں۔ اصحاب نے ان کی حدیث کی صحت پر اتفاق کیا ہے۔ (رجال مجلسی)

عمرو بن ابی مقدام

اس کے بارے میں شیعہ محدث علامہ ابنِ داؤد الحلی کہتا ہے: وهو عندی ثقة یعنی یہ میرے نزدیک ثقہ ہے۔ (رجال ابنِ داؤد)