Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امام احمدؒ کے نزدیک سیدنا امیر معاویہؓ گمراہ ہیں

  محمد ذوالقرنين

امام احمدؒ کے نزدیک سیدنا امیر معاویہؓ گمراہ ہیں

بعض شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبلؒ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ کہا ہے کہ وہ گھریلو گدھے سے بھی زیادہ گمراہ ہیں (معاذ اللہ) اس پر شیعہ جو روایت پیش کرتے ہیں وہ ملاحظہ فرمائیں۔

سند:

اخبرنا عبد الملك بن أبی القاسم قال حدثنا محمد بن احمد بن بشر الحافظ قال حدثنا احمد بن الحسين الرازی قال حدثنا محمد بن مخلد قال سمعت ابا سعيد هشام بن منصور البخاری يقول سمعت احمد بن حنبلؒ يقول۔

متن: امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں جو سیدنا علیؓ کی خلافت کو نہ مانے وہ اپنے گھریلو گدھے سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔

(مناقبِ امام احمد لابنِ جوزی (عربی) صحفہ 220)۔

اس روایت کو دلیل بنا کر شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام احمدؒ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ بات کہی ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ اس روایت میں کہیں بھی سیدنا امیر معاویہؓ کا نام نہیں ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ جو سیدنا علیؓ کی خلافت کو نہ مانے اور ایسی کوئی روایت موجود نہیں جس میں سیدنا امیر معاویہؓ نے یہ فرمایا ہو کہ میں سیدنا علیؓ کو خلیفہ نہیں مانتا اس لئے اس قول کو سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں سمجھنا جہالت اور تعصب کے سوا کچھ نہیں۔

دوسری بات یہ کہ یہ روایت سند بھی صحیح نہیں اور یہ قول امام احمدؒ سے سند ثابت ہی نہیں ہے اس قول کی اسنادی حیثیت ملاحظہ فرمائیں۔

اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی محمد بن احمد بن بشر مجہول ہے اس کے ترجمہ میں امام ابنِ عساکرؒ نے اس کی کوئی تفصیل یا اس پر کوئی جرح و تعدیل نقل نہیں کی۔

(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 51 صحفہ 20)

دوسری علت: اس روایت کا مرکزی راوی ابو سعید هشام بن منصور البخاری مجہول الحال ہے امام خطیب بغدادیؒ نے اس پر بھی کوئی جرح و تعدیل نقل نہیں فرمائی۔

(تاریخِ بغداد (عربی) جلد 16 صحفہ 73)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں اور یہ قول امام احمدؒ سے ثابت ہی نہیں اس لئے اس قول سے کسی طرح کا استدلال جائز نہیں۔

سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں امام احمد بن حنبلؒ کی رائے:

سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں امام احمد بن حنبلؒ کی کیا رائے تھی وہ ملاحظہ فرمائیں۔

سند:

اخبرنا محمد بن ناصر قال انبانا الحسن بن احمد الفقيه قال اخبرنا محمد بن احمد حدثنا ابنِ اسلم قال اخبرنا احمد بن عبدالخالق قال حدثنا ابوبكر المروذی قال قيل لابی عبدالله احمد بن حنبلؒ۔

متن: امام مروذیؒ کہتے ہیں امام احمدؒ سے پوچھا گیا آپ جو کچھ سیدنا علیؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان ہوا اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو امام احمدؒ نے کہا میں ان کے بارے میں اچھی بات کے سوا کچھ نہیں کہتا پھر امام مروذیؒ کہتے ہیں امام احمدؒ کے سامنے اصحابِ رسولﷺ کا ذکر ہوا تو امام احمدؒ نے فرمایا سب پر اللہ کی رحمت ہو سیدنا امیر معاویہؓ پر اور سیدنا عمرو بن العاصؓ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ پر اور سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ ان سب پر اور اللہ نے ان کی صفت اپنی کتاب (قرآن) میں بیان کی ہے کہ ان کی علامت ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان سے ہے (سورۃ الفتح آیت 29)۔

(مناقبِ امام احمد لابنِ جوزی (عربی) صحفہ 221 220)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام احمدؒ سیدنا امیر معاویہؓ اور دیگر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں صرف ذکر خیر کرنے کے قائل تھے اور کسی کے بارے میں بھی کوئی غلط رائے نہیں رکھتے تھے۔