امام طحاوی رحمۃاللہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب*نسب و نسبت:*
ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامه بن سلمة بن عبد الملک الازدى الحجرى المصرى الطحاوی، ابنِ خلکان نے آپ کے جدِ ثانی سلمہ کو ذکر نہیں کیا ہے۔
(وفیات العیان: جلد، 1 صفحہ، 71)
بعض حضرات نے لکھا ہے کہ علامہ سمعانی نے مختلف مقامات میں امام طحاویؒ کا تذکرہ کیا ہے اور ہر جگہ جدِ اول کے نام میں اختلاف ہے، سلامت، سلام اور سلمۃ تینوں نام ملتے ہیں (ابو جعفر الطحاوی واثرہ فی الحدیث: صفحہ، 41، 42)
لیکن یہ نقل کی غلطی ہوگی اس لیے کہ جو نسخہ ہمارے پاس ہے اس میں اس طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔
*ازدی:*
یہ نسبت ہے ازد بن غوث کی طرف جسے ازدشنوءۃ کہا جاتا ہے، اسی طرح ازد بن عمران بن عامر کی طرف بھی نسبت ہے اور ایک نسبت ہے حجر بن عمران کی طرف، جسے ازدِ حجر کہا جاتا ہے امام طحاویؒ کی نسبت میں جو ازدی کہا جاتا ہے اس سے یہی ازدِ حجر مراد ہے۔
(الانساب: جلد، 1 صفحہ, 130)
حجرہ:
حاء کے فتحہ اور جیم کے سکون کے ساتھ، علامہ سمعانی لکھتے ہیں کہ تین قبائل ہیں جن کو حجری کہا جاتا ہے، حجر حمیر، حجر رعین اور حجر الازد، امام طحاویؒ کا تعلق آخر الذکر قبیلہ سے ہے۔
(الانساب: جلد، 2 صفحہ، 179)
*مصری:*
یہ مشہور ملک مصر کی طرف نسبت ہے جسے قدیم زمان میں بابلیون بھی کہا جاتا تھا، جو اس کے بانی مصر بن مصر ایم بن حام بن نوح کی طرف نسبت کی وجہ سے مصر کے نام سے مشہور ہے۔
(معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 137)
*طحاوی:*
طحا (طاء اور حا کے فتحہ کے ساتھ) مصر کے ایک گاؤں کا نام ہے کہا جاتا ہے کہ امام طحاویؒ طحا کے رہنے والے نہیں تھے بلکہ اس کے قریب طحطوط نامی گاؤں کے تھے لیکن ان کو طحطوطی کہلوانا پسند نہ تھا اس لئے طحا کی طرف نسبت کرتے ہیں۔
(معجم البلدان: جلد، 4 صفحہ، 22)
*ولادت و رحلت:*
امام طحاویؒ کی تاریخ ولادت میں دو مشہور قول ملتے ہیں جن کا باہمی فرق کافی زیادہ ہے، ابنِ خلکان نے تاریخ ولادت کے بارے میں 238ھ اور 229ھ کو نقل کیا ہے اور دوسرے قول (229 ھ) کو راجح قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ علامہ سمعانی سے مروی ہے
(وفیات الاعیان: جلد، 1 صفحہ، 72)
علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمۃاللہ نے بھی 229 ھ کے قول کو نقل کر کے 230ھ کو قیل کے ساتھ بیان کیا ہے (فوائد البھیۃ صفحہ 32 ) علامہ عینی نے بھی اس قول کو راجح قرار دیا ہے۔
(الحاوی فی سیرۃ االاما الطحاوی مطبوع مع معانی الآثار: جلد، 1 صفحہ، 4)
لیکن علامہ ذہبیذہبیؒ، ابن حجرحجرؒ، یاقوت حموی، شاہ عبدالعزیز رحمۃاللہ و دیگر نے 239 ھ کو نقل کیا ہے۔
(معجم البلدان: جلد، 4 صفحہ، 22 سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 28 بستان المحدثین: صفحہ، 228)
علامہ زاہد کوثری نے لکھا ہے کہ الجواہر المضية میں ابوسعید بن یونس کا بیان ہے قال الطحاوی ولدت سنة تسع وثلاثين ومائتین تو چونکہ یہ قول خود امام صاحبؒ سے مروی ہے اس لیے اس کو راجح کہا جائے گا۔
(الحاوی: صفحہ، 4)
لیکن یہاں ایک بات تو یہ ہے کہ ہمارے پاس الجواہر المضیہ کے موجودہ نسخہ میں عبارت یوں ہے: قال الطحاوی: ولدت سنة تسع وثلاثين و مائتین اور ابنِ عساکر نے ابنِ یونس ہی سے 239ھ کے قول کو نقل کیا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ بہت سارے متقدمین اور متاخرین محققین نے 239ھ کے قول کو بیان کیا ہے بعض حضرات صاحبُ الانساب کے حوالہ سے 239ھ کا قول بیان کرتے ہیں اور تیسری بات یہ ہے کہ الانساب کا جو نسخہ ہمارے پاس ہے اس میں دو جگہ طحاوی کی ولادت کا تذکرہ ہے اور ہر جگہ 239ھ ہی مذکور ہے۔
(الانساب مطبوع دار الجنان: جلد، 2 صفحہ، 179 جلد، 4 صفحہ، 53)
حضرت امام طحاویؒ کی وفات بروز جمعرات ذوالقعدہ ۳۲۱ھ کو مصر میں ہوئی تو پہلے قول 229ھ کے مطابق امام صاحبؒ کی عمر بیانوے سال ہوگی اس حساب سے لفظِ مصطفیٰ سے تاریخِ ولادت 229ھ اور محمد سے مدت عمر 92 اور محمد مصطفیٰ سے تاریخِ وفات 321ھ نکلتی ہے اور دوسرے قول کے مطابق امام طحاویؒ کی عمر بیاسی سال ہوگی۔
*امام طحاوی رحمۃاللہ کی صحاحِ ستہ کے مصنفین سے معاصرت اور بعض اساتذہ میں مشارکت:*
شیخ کوثری علامہ عینی رحمۃاللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ امام طحاویؒ کی تاریخِ ولادت و وفات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام طحاویؒ کی عمر امام بخاریؒ (متوفی 256ھ) کی وفات کے وقت 27 سال (دوسرے قول کے مطابق 17سال) امام مسلمؒ (متوفی 261 ھ) کی وفات کے وقت 32 سال (بنا بر قول ثانی 22 سال) بوقتِ انتقال ابو داؤد (متوفی 275ھ) 46 سال (دوسرے قول کے مطابق 36 سال) امام ترمذیؒ (متوفی 279ھ) کی وفات کے وقت 50 سال (40 سال) امام نسائیؒ رحمۃاللہ (متوفی 303ھ) کی وفات کے موقع پر 70 سال یا 60 سال) اور امام ابنِ ماجہؒ (متوفی 273ھ) کی رحلت آخرت کے وقت 44 سال (یا 34 سال) اور امام احمد بن حنبلؒ (متوفی 241ھ) کے انتقال کے وقت 12 سال (یا 2 سال) تھی۔
(الحاوی مطبوع مع معانی الآثار: صفحہ، 4)
امام طحاویؒ امام مسلمؒ، ابوداؤدؒ، نسائیؒ، اور ابن ماجہؒ کے ساتھ بعض مشایخ اور اساتذہ میں بھی شریک ہیں مثلاً ہارون بن سعید اجلیؒ، ربیع بن سلمانؒ، ابوموسیٰ یونس بن عبدالاعلیؒ وغیرہ۔
*اساتذہ و تلامذه:*
امام طحاویؒ نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اپنے ماموں مزنی سے استفادہ کیا ہے اور ان ہی کے واسطے سے مسندِ شافعی کی روایت بھی کرتے ہیں، علامہ کوثری کہتے ہیں کہ امام نے اپنے والد سے بھی سماع کیا ہے ان کے علاوہ امام طحاویؒ کے اساتذہ کی فہرست کافی طویل ہے جسے دیکھ کر اندازہ ہوگا کہ امام طحاویؒ نے مصر، یمن، بصرہ، کوفہ، حجاز، شام، خراسان اور دیگر دیارِ اسلامیہ کے علماء سے استفادہ کیا ہے اور حصولِ فقہ کے لیے دمشق گئے اور قاضی ابو خازم عبدالحمید سے خوب استفادہ کیا۔
(البدایہ والنہایہ اور بعض دوسری کتابوں میں دمشق کے قاضی کی کنیت ابو حازم حاء مہملہ کے ساتھ آئی ہے حافظ ابنِ حجرؒ کہتے ہیں یہ غلط ہے صحیح ابو خازم، خاء معجمہ کے ساتھ ہے۔
( البدایۃ والنہایہ : جلد، 1 صفحہ، 174، ولسان المیزان: جلد، 1 صفحہ، 275)
مصر میں علی بن ابی عمران اور بکار بن قتیبہ سے فقہ حاصل کیا، اسی طرح ایک جمِ غفیر نے امام طحاویؒ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا ہے جن میں ان کے صاحبزادے علی بن احمد، ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی، ابوسعید عبد الرحمٰن بن احمد مصری وغیرہ شامل ہیں (الحاوی: صفحہ، 5 ولسان المیزان: جلد، 1 صفحہ، 274
امام طحاوی رحمۃاللہ کا فقہی مسلک:
امام طحاویؒ کے ماموں ابوابراہیم اسماعیل بن یحییٰ مزنی امام شافعیؒ کے کبار تلامذہ میں سے تھے اور فقہ پر کامل دسترس رکھتے تھے اور یہ بات پہلے آچکی ہے کہ امام طحاویؒ نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اپنے ماموں شیخ مزنی سے استفادہ کیا ہے اور طبعی طور پر وہ پہلے فقہ شافعی کی طرف مائل بھی تھے لیکن بعد میں انہوں نے یہ مسلک چھوڑ دیا اور فقہ حنفی کی طرف آگئے اس کی وجہ کیا بنی؟ اس بارے میں بعض کہتے ہیں کہ امام طحاویؒ کے ماموں ایک دن ان پر غصہ ہوئے اور کہا: والله لا جاء منك شئی جس پر امام طحاویؒ کو رنج ہوا اور ابو عمران حنفی قاضی مصر کی مجلس میں جانے لگے اور حنفی مسلک کو اپنایا بعد میں جب مختصر کی تصنیف سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: رحم الله أبا إبراهيم لو كان حيا لكفر عن يمينه۔
بعض نے کہا کہ امام طحاویؒ حنفیہ کی کتابوں کا زیادہ مطالعہ کرتے تھے اس لیے ماموں کو غصہ آیا اور کہنے لگے: والله ما جاء منك شئی
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام طحاوی رحمۃاللہ نے جو لكفر عن يمينه فرمایا ہے یہ امام شافعیؒ کے مذہب کی بناء پر ہے، ورنہ حنیفہ کے نزدیک اس طرح کی قسم لغو یا غموس ہوتی ہے جس میں کفارہ نہیں آتا، علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے فعل مضارع (لایجیء) نقل کیا ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 11 صفحہ، 147)
تو اس صورت میں ہمارے یہاں بھی کفارہ واجب ہوگا۔
(الفوائد البہیہ فی تراجم الحنفیہ: صفحہ، 32 البتہ علامہ زاہد کوثری کی عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام مزنی کی رائے کفارہ کے بارے میں حنفیہ کی رائے کے مطابق ہے کہ یمینِ غموس میں کفارہ نہیں ہوتا، دیکھیے، الحاوی' صفحہ، 8)
لیکن اس روایت کی کوئی معتد بہ سند نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ امام مزنی خود بھی حنفیہ کی کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرتے تھے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ اس بنیاد پر امام طحاویؒ پر غصہ کریں؟
اس بارے میں ابوسلیمان بن زبر خود امام طحاویؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ میں پہلے امام شافعیؒ کے مسلک پر تھا کچھ عرصہ بعد احمد بن ابی عمران کی مجلس میں جانے لگا اور حنفیہ کے قول کو اپنایا (اور یہ مزنی کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے) اس طرح محمد بن احمد شروطی کا قول ہے کہ انہوں نے امام طحاویؒ سے پوچھا: لم خالفت مذهب خالك؟ واخترت مذهب أبی حنيفة؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں اپنے ماموں مزنی کو دیکھتا تھا کہ ہر وقت حنفیہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے ( متو میں نے بھی مطالعہ شروع کیا) اور حنفیہ کی طرف مائل ہو گیا، علامہ کوثری لکھتے ہیں: بظاہر یہ دونوں روایتیں زیادہ صحیح ہیں کہ براہِ راست خود امام طحاویؒ سے مروی ہیں اور دوسری روایات اشکال سے خالی نہیں ہیں (الحاوی: صفحہ، 8، 9)
*طبقات فقہاء حنفیہ میں امام طحاوی رحمۃاللہ کا مقام:*
علامہ شامی نے ابنِ کمال باشا کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام طحاویؒ کا شمار مجتہدین فی المسائل میں ہوتا ہے جیسے کہ علامہ کرخی، خصاف، حلوانی، سرخسی ، بزدوی وغیرہ ہیں، یعنی یہ حضرات اصول و فروع میں اپنے امام کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ اپنے امام کے اصول وقواعد کو سامنے رکھ کر ان مسائل کے احکام کا استنباط کرتے ہیں جن کے بارے میں صاحبِ مذہب سے کوئی روایت نہ ہو۔
(فتاویٰ شامی: جلد، 1 صفحہ، 57 مطبوع جامعہ رشیدیہ کوئٹہ)
لیکن علامہ عبد الحئی لکھنویؒ الفوائد البهية میں اس قول کو ذکر کر کے لکھتے ہیں: یہ فیصلہ محلِ نظر ہے، امام طحاویؒ کی کتابوں کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اصول و فروع کے کافی مسائل میں صاحبِ مذہب سے اختلاف کیا ہے، اس لیے وہ مجتہد منتسب الی ابی حنیفہ ہونگے یعنی وہ اصول و فروع میں کسی امام کی پیروی نہیں کرتے، البتہ اپنی نسبت کسی امام کی طرف اس لیے کرتے ہیں کہ اجتہاد میں ان کے طرز و طریقہ کو اپناتے ہیں اور اگر یہ فیصلہ تسلیم نہ ہو تو کم از کم امام طحاویؒ مجتهد فی المذہب ضرور ہیں جیسے کہ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ ہیں اور پھر انہوں نے اپنی تائید میں شاہ ولی اللہؒ کے فیصلے کو نقل کیا ہے۔
(الفوائد البہیۃ فی تراجم الحنفیہ: صفحہ، 31)
*امام طحاوی رحمۃاللہ بحیثیت مفسر:*
تفسیر قرآنِ کریم اور آیاتِ احکام کی تشریح ان علوم میں سے ہیں جن میں امام طحاویؒ کو کامل دسترس تھی اور اس علم میں ان کی تصنیفات بھی ہیں، چنانچہ احکامُ القرآن کے نام سے بیس اجزاء میں انہوں نے تفسیر لکھی تھی صاحبِ کشف الظنون نے قاضی عیاض کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ امام طحاویؒ کی ایک تصنیف نوادر القرآن ایک ہزار صفحات پر مشتمل تھی امام طحاویؒ کی تفسیر اگرچہ ہم تک نہیں پہنچ سکی لیکن معانی الآثار کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تفسیر میں امام طحاویؒ کا طریقہ ان کے معاصر مفسر ابنِ جریر طبری کی طرز تفسیر سے مشابہ ہے کہ اس میں اقوالِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین اور عرب کے استعمالات کو سامنے رکھ کر تفسیر کرتے ہیں۔
*امام طحاوی رحمۃاللہ اور علم قرات:*
علم قراءۃ میں بھی امام طحاویؒ نے اتنی مہارت حاصل کی کہ اپنا نام طبقات قراء میں درج کرا گئے، وہ موسیٰ بن عیسیٰ کی قراءت کی روایت کرتے ہیں اور عاصم ابن ابی النجود کی قراءة کو ترجیح دیتے تھے اگرچہ تمام قراءات اور ان کے راویوں سے خوب آگاہ تھے۔ (ابو جعفر الطحاوی واثرہ فی الحدیث: صفحہ، 113)
*امام طحاوی رحمۃاللہ اور علم لغت:*
امام طحاویؒ نے علم نحو و لغت محمود بن حسان سے حاصل کیا ہے اور اس فن میں بھی وہ درجہ کمال کو پہنچے چنانچہ معانی الآثار کے مطالعہ سے جابجا علمِ لغت میں ان کا کمال واضح ہوتا ہے۔
لتأطرنه على الحق طرا کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فوجدنا أهل اللغة يحكون فی ذلك عن الخليل بن أحمد أنه يقول: أطرت الشئ إذا ثنیته وعطفته وأطر كل شئ عطفه ووجدنا هم يحكون فی ذلك عن الأصمعی أنه قال: أطرت الشئ وأطرت: إذا أملته إليك ورددته إلى حاجتك فكان قول الرسول ولتأطرنه إلى تردونه إليه وتعطفونه عليه وتميلون إليه اسی طرح حدیث میں آتا ہے: لا يدخل الجنة ولد زنية تو یہاں یہ خیال آ سکتا ہے کہ زنا سے وجود میں آنے والے بچہ کا کیا قصور ہے کہ وہ جنت کا حقدار نہ ہو یہ تو وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى الخ:
(سورۃ الانعام آیت 164)
کے بظاہر خلاف ہے تو امام طحاویؒ فرماتے ہیں ( واللہ اعلم بمرادہ) جو آدمی کسی چیز کی مہارت اور ملابست اختیار کرتا ہے تو وہ اسی چیز کی طرف منسوب ہونے کا مستحق ہوتا ہے، مثلاً جن کا مطمح نظر دنیا ہے ان کو بنو الدنیا کہا جاتا ہے مسافر کو ابن السبیل کہتے ہیں تو اسی طرح ابن زنیہ کے معنیٰ ہوں گے جو زنا کا ارتکاب کرتا ہے اور زنا اس پر غالب ہوتا ہے۔
(ابو جعفر الطحاوی واثرہ فی الحدیث: صفحہ، 108، 109)
*امام طحاوی رحمۃاللہ ائمہ فن کی نظر میں:*
محد ثین، اہلِ تاریخ اور اسماءُ الرجال کے ماہرین و محققین نے ہمیشہ امام طحاویؒ کی وقیع الفاظ میں تعریف کی ہے ، چنانچہ علامہ سیوطیؒ کہتے ہیں: الإمام العلامة الحافظ صاحب التصانيف البديعة، وكان ثقة ثبتا فقيها لم يخلف بعده مثله۔
علامہ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں: هو أحد الثقات الأثبات والحفاظ الجهابذة علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں: امام طحاویؒ کی امانت اور ثقاہت پر سب علماء کا اجماع ہے علمِ حدیث عللِ حدیث اور ناسخ و مسنوخ میں ید طولی رکھتے تھے جن کے بعد ان کی خالی جگہ کوئی پر نہ کر سکا۔
علامہ کوثری یہاں لکھتے ہیں: کہ اگر صاحبِ انصاف ان کی اور ان کی معاصرین کی کتابوں کا بغور مطالعہ کرے تو اس فیصلے پر مجبور ہوگا کہ وہ قرآن وحدیث سے استنباط احکام اور فقہ میں سب معاصرین سے زیادہ مہارت رکھتے تھے۔
(الحاوی: صفحہ، 7)
*امام طحاوی رحمۃاللہ مخالفین کی عبارت میں*
امام طحاویؒ پر بعض اہلِ علم نے تنقید بھی کی ہے، ابوبکر بیہقی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر طحاویؒ کی کتاب کا مطالعہ کیا سو اس میں بہت ساری ضعیف حدیثیں ہیں جن کو اس نے اپنے مذہب کی تائید کے لیے صحیح قرار دیا ہے اور جو صحیح حدیثیں ان کے خلاف جاتی ہیں ان کی وہ تضعیف کرتے ہیں، حافظ عبد القادر قرشی کہتے ہیں کہ ہمارے استاذ ( قاضی علاء الدین) نے مجھے اس بارے میں تفتیش و تحقیق کا حکم دیا اور میں نے نظرِ دقیق و عمیق سے معانی الآثار اور اس کی اسناد کا مطالعہ کیا، پھر حافظ قرشی قسم کھا کر کہتے ہیں: واللہ! بیہقی کی بات کا کوئی اشارہ بھی مجھے اس کتاب میں نہیں ملا، پھر حافظ مشرقی کے استاذ نے بیقہی کی کتاب السنن الکبریٰ پر تحقیق کر کے ثابت کیا ہے کہ خود امام بیہقی رحمۃاللہ اپنے مذہب کی تائید کے لیے کسی راوی کی توثیق کرتے ہیں اور دوسرے ہی صفحہ میں اس آدمی کی تضعیف اس بناء پر کرتے ہیں کہ اس کی روایت ان کے خلاف جاتی ہے۔
(الجواہر المضیۃ: جلد، 2 صفحہ، 431، 432 حافظ عبد القادر قرشی نے معانی الآثار پر جو کام کیا ہے وہ الحاوی فی بیان آثار الطحاوی اور ان کے استاذ نے سننِ کبیر بیقہی پر جو تحقیق کا کام کیا ہے وہ الجوهر النقی فی الرد على سنن البيقہی کے نام سے مشہور ہے)
ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ اپنی کتاب المنہاج میں لکھتے ہیں کہ امام طحاویؒ اگرچہ عالم، فقیہ اور كثير الحدیث تھے، لیکن نقد احادیث میں اور اسناد کی صحت و سقم کی شناخت میں زیادہ نظر دقیق نہیں رکھتے تھے اور بسا اوقات قیاس کے ذریعے سے کسی حدیث کو راجح اور دوسرے کو مرجوح قرار دیتے تھے۔ (منہاج السنیۃ لابن تیمیہ: جلد، 4 صفحہ، 185، 195)
علامہ کوثری کہتے ہیں کہ اس الزام کی بنیاد یہ ہے کہ امام طحاویؒ نے حدیث رد الشمس لعلی کو صیح قرار دیا ہے جو کہ ابنِ تیمیہؒ کے نظریہ کے خلاف ہے اور یہ سوائے عناد کے اور کچھ نہیں اس لیے کہ بہت سارے محدثین نے اس کی تصحیح کی ہے، چاہے ابن تیمیہؒ اس پر راضی ہوں یا ناراض
(الحاوی فی سیرۃ الامام الطحاوی مطبوع مع معانی الآثار: صفحہ، 13)
*تصانیف:*
امام طحاوی رحمۃاللہ نے اپنی پایندہ تصنیف معانی الآثار کے علاوہ بھی بہت ساری ایسی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو کہ اہلِ علم و تحقیق کے لیے آبِ حیات سے کم نہیں، ذیل میں ان میں سے بعض کا تذکرہ ہوگا۔
1: مشکل الآثار: جو کہ مشکل الحدیث کے نام سے مشہور ہے، اس میں احادیث کے درمیان ظاہری تضاد کی نفی اور احادیث سے استخراج احکام کا بیان ہے، بعد میں ابوالولید ابنِ رشد نے اس کی تلخیص کی اور اس پر کچھ اعتراضات بھی کئے علامہ بدرالدین عینی کے استاذ قاضی جمال الدین یوسف بن موسیٰ نے اس تلخیص کی تلخیص کی ہے اور تمام اعتراضات کے جوابات بھی دیئے جو کہ المعتصر من المختصر کے نام سے مشہور ہے۔
2: اختلاف العلماء: یہ بھی ایک مفصل کتاب تھی جس کی تلخیص ابو بکر رازی نے کی ہے۔
3: احکام القرآن: قاضی عیاض لکھتے ہیں کہ إن للطحاوی ألف ورقة فی تفسیر القرآن جس سے آپ کی علم تفسیر میں مہارت کاملہ کا اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے۔
4: الشروط: کے نام سے امام طحاویؒ کی تین کتابیں مشہور ہیں۔
5: شروطِ کبیر
6 شروطِ اوسط
7- شروطِ صغیر
مختصر الطحاوی: یہ فقہ حنفی کی کتاب ہے، جس کی شرح امام ابوبکر رازی جصاص، شمس الائمہ سرخی اور دیگر نے کی ہے، علامہ ابنِ حجرؒ نے اس نام کی دو کتابوں کا تذکرہ کیا ہے مختصر صغیر و مختصر کبیر ۔
9: النوادر الفقہیہ
10: النوادر و الحکایات
11: حکم ارض مکۃ
12: قسم الفقئ والغنائم
13: النقض علی الکراسی
14: شرح جامع صغیر
15: شرح جامع کبیر
16: سننِ شافعی
17: کتاب المحاضر والسجلات وغیرہ۔
18: عقیدۃ الطحاوی: ایک مختصر مگر جامع و مانع کتاب ہے جس کی صحت پر تمام اہلِ علم متفق ہیں۔
مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃاللہ نے بروکلمان کی کتاب ادب عرب کی تاریخ کے حوالہ سے ایک اور تصنیف صحیح الآثار کے نام سے اضافہ کیا ہے لیکن یہ غلط ہے۔
در حقیقت یہ کتاب معانی الآثار ہی ہے جسے بروکلمان نے غلطی سے صحیح الآثار سمجھا ہے اسی طرح مولانا محمد یوسف صاحب نے شرح المعنی کا نام لیا ہے اور ثبوت میں حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ کا حوالہ دیا ہے کہ موصوف نے باب اذا صلى فی الثوب الواحد فليجعل على عاتقه میں تصریح کی ہے کہ طحاوی نے بھی شرح المعنیٰ میں اس موضوع پر ایک باب باندھا ہے لیکن دراصل فتح الباری میں لفظ معانی کا الف رہ گیا ہے یہ طباعت کی غلطی ہے جیسا کہ معانی الآثار سے ظاہر ہے، لہٰذا یہاں بھی شرح معانی الآثار صحیح ہے، شرح المعنیٰ غلط ہے۔
*معانی الآثار کا مختصر تعارف:*
امام طحاویؒ کو اللہ تعالیٰ نے علمِ حدیث کا جو ملکہ اور استعداد عطاء فرمائی تھی وہ بے مثال تھی ناسخ و منسوخ کا علم تطبیق بین الروایات اور ترجیح راحج کے باب میں وہ امام و مقتدی تھے، معانی الآثار جسے شرح معانی الآثار بھی کہا جاتا ہے اس بات پر شاہد عدل ہے، اس کے مقدمہ میں امام طحاویؒ فرماتے ہیں: سألنی بعض أصحابنا من أهل العلم أن أضع له كتاباً أذكر فيه الآثار الماثورة عن رسول اللهﷺ فی الأحكام الخ۔
اس پوری عبارت میں وہ کئی باتوں کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں:
1: ان کی کتاب صرف احادیث احکام پر مشتمل ہوگی۔
2: اس میں حدیث مرفوع، موقوف، آثارِ صحابہ وغیرہ سب کا تذکرہ ہوگا۔
فقہاء کے اختلافات اور ان کی مستبدلات کا تذکرہ ہوگا۔
کتاب اللہ، سنت، اجماع، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین کے آثار متواترہ کے ذریعہ سے ترجیح رائج کا اہتمام ہوگا۔
5: ناسخ و منسوخ کی تعیین کر کے احادیث کے ظاہری تضاد کو رفع کیا جائے گا بسا اوقات روایات میں کمی بیشی ہوتی ہے اور روایت بالمعنیٰ اور اختصار کے سبب بھی روایات میں اختلاف آجاتا ہے ، اس لیے جب تک اس باب سے متعلق تمام احادیث اور فقہائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین کے آراء سامنے نہ ہوں تو پورا اطمینان حاصل نہیں ہو سکے گا اس لیے امام طحاویؒ نے ہم عصر دوسرے اربابِ علم کی طرزِ تصنیف سے ہٹ کر اس بات کا التزام کیا کہ باب میں تمام روایات و آثار سامنے آجا ئیں۔
امام طحاویؒ معانی الآثار میں عموماً پہلے فریق مخالف کے مستدلات لاتے ہیں پھر اپنے نقطہ نظر کے موافق احادیث و آثار کو لاتے ہیں اور ان کی وجہ ترجیح بتاتے ہیں اور عمل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین سے اس کی تائید پیش کرتے ہیں اور آخر میں نظر سے بھی اس کی ترجیح ثابت کرتے ہیں اور ہر وقت بحث کے آخر میں یہ تصریح کرتے ہیں کہ جس رائے کو انہوں نے رائج قرار دیا ہے یہ امام ابوحنیفہؒ اور صاحبینؒ کا مذہب ہے اور اگر ان حضرات میں اختلاف ہو تو اس کو بھی ذکر کرتے ہیں۔
البتہ فریقِ مخالف کا نام نہیں لیتے صرف ذهب قوم إلى هذه الآثار وخالفهم فی ذلك آخرون، کہہ دیتے ہیں، آثارِ مختلفہ میں امام طحاویؒ کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ظاہری تعارض و اختلاف کو ختم کر دیں اور ایسی تعبیر اور مفہوم پیش کر دیں کہ دونوں اخبار پر عمل ممکن ہو سکے اگر جمع ممکن نظر نہ آئے تو اگر یہاں نسخ کا مسئلہ ہو تو وہ بیان کر کے تعارض کو ختم کر دیتے ہیں اگر یہ بھی نہ ہو تو وجوہ ترجیح سے کسی ایک کی ترجیح ثابت کرتے ہیں امام طحاویؒ حسبِ معمول معانی الآثار میں بھی وہ منفرد طریقہ ترجیح اپناتے ہیں جس کے وہ خود موجد ہیں اور ان سے پہلے کسی کی رسائی وہاں تک نہ ہو سکی وہ یہ کہ ترجیح روایات میں صرف راویوں کے جرح و تعدیل پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ احکامِ منصوصہ سے اپنے قواعدِ کلیہ کا استخراج و استنباط بھی کرتے ہیں جس کے تحت مختلف مسائل فرعیہ آسکتے ہوں، اس کے بعد اگر کسی راوی کی روایت سے معلوم شدہ حکم ان جزئیات کے خلاف ہو تو امام طحاویؒ اسے علت قادحہ شمار کرتے ہیں جس کو عرف طلباء میں نظرِ طحاوی کہا جاتا ہے اور یہ ترجیح بالرای نہیں کہلائے گی بلکہ جس اصل کلی میں مختلف جزئیات و نظائر آتے ہیں وہ متواتر کے حکم میں ہوتا ہے اور جو روایت اس کے خلاف ہو وہ شاذ شمار ہوگی اور اعتبار کے اس درجہ تک نہیں پہنچ سکے گی کہ قابلِ استدلالی ہو تو یہ الأخذ بأقوى الحجج کے قبیل میں سے ہے۔
(دیکھیے الحاوی: صفحہ، 11)
*شروح معانی الآثار:*
معانی الآثار پر تخریج احادیث، شرح روایت، رجال اسناد، تلخیص وغیرہ کے اعتبار سے ہر زمانہ میں کام ہوتا آ رہا ہے چنانچہ ہم یہاں اس پر ہونے والے کام کی کچھ تفصیل ذکر کرتے ہیں:
1: علامہ بدرالدین عینیؒ نیمعانی الاخبار فی رجال معانی الآثار کے نام سے اس کے رجال پر بحث کی ہے پھر مزید دو جامع شروح بھی لکھی ہیں۔
2: نخب الافکار فی شرح معانی الآثار
3: مبانی الاخبار فی شرح معانی الآثار
4: حافظ عبد القادر قرشی صاحب الجواہر المضیہ نے احادیث کی تخریج کر کے الحاوی فی تخریج احادیث الطحاوی کے نام سے کتاب لکھی ہے۔
5: حافظ ابو محمد نے بھی معانی الآثار کی شرح لکھی ہے۔
6: حافظ ابنِ عبدالبرؒ نے معانی الآثار کی تلخیص کی ہے۔
7: حافظ زیلعی صاحب نصب الرایہ نے بھی اس کی تلخیص کی ہے۔
8: علامہ قاسم قطلوبغا نے رجالِ طحاوی پر الایثار برجال معانی الآثار کے نام سے کتاب لکھی ہے۔
9: مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃاللہ نے امانی الاخبار کے نام سے شرح لکھی ہے لیکن آپ کے انتقال کی وجہ سے یہ شرح باب الوتر سے آگے نہیں جاسکی۔
(مولانا محمد عاشق الہٰی رحمۃاللہ بلند شہری متوفی 1422ھ نے بھی مجانی الاثمار کے نام سے شرح لکھی ہے اور تبہیج الراوی کے نام سے احادیث کی تخریج کی ہے، اسی طرح مولانا محمد ایوب مظاہری نے بھی احادیث کی تخریج اور رجال معانی الآثار پر مشتمل ایک حاشیہ لکھا ہے جو کہ مکتبہ حقانیہ ملتان سے معانی الآثار کے ساتھ چھپا ہے)