Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا علیؓ کا نماز میں سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے بددعا کرنا

  محمد ذوالقرنين

سیدنا علیؓ کا نماز میں سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے بددعا کرنا

سیدنا امیر معاویہؓ پر شیعہ ایک اور روایت کو بنیاد بنا کر طعن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے گروہ پر نماز میں قنوتِ نازلہ پڑھی یعنی ان کے لیے بددُعا کی کہ اے اللہ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے گروہ پر پکڑ کر۔

روایت کچھ یوں ہے۔

سند:

حدثنا ہشيم قال اخبرنا حصين قال حدثنا عبدالرحمٰن بن معقل قال۔

متن: عبدالرحمٰن بن معقل کہتے ہیں میں نے سیدنا علیؓ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی انہوں نے اس میں قنوت پڑھی اور قنوت میں یہ کہا اے اللہ سیدنا امیر معاویہؓ اور اس کے گروہ اور سیدنا عمرو بن العاصؓ اور اس کے گروہ اور ابو اعور سلمی اور سیدنا عبداللہ بن قیسؓ اور اس کے گروہ پر پکڑ کر۔

(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 2 روایت 7123)۔

اس روایت کو دلیل بنا کر شیعہ سیدنا امیر معاویہؓ پر طعن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں بددُعا کی۔

اس روایت کے بارے میں دو طرح کی رائے موجود ہے (اور ہماری رائے دوسری ہے)۔

پہلی رائے: اس روایت کے بارے میں بعض لوگوں کی رائے ہے کہ یہ روایت ہی شاذ ہے کیونکہ اُن کے نزدیک اس روایت کے دیگر تمام طرق میں جن لوگوں کے لئے سیدنا علیؓ نے بددُعا کی ان کے نام موجود نہیں صرف ہشیم کی روایت میں ہی یہ نام موجود ہیں۔

اس روایت کو سیدنا علیؓ سے چار لوگوں نے نقل کیا ہے۔

1۔ عبدالله بن معقل۔

2۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی۔

3۔ عبدالله بن حبیب۔

4۔ عبدالرحمٰن بن معقل۔

عبداللہ بن معقل کی روایت: عبداللہ بن معقل سے اس روایت کو 3 راویوں نے نقل کیا ہے۔

1۔ سلمہ بن کہیل:

عبد الرزاق عن يحيىٰ عن الثورى عن سلمة بن كہيل عن عبدالله بن معقل۔

(مصنف عبدالرزاق (اردو) جلد 2 روایت 4976)۔

2۔ حکم بن عتيبه:

حدثنا حميد بن مسعدة السامی قال حدثنا يزيد بن زريع قال حدثنا شعبه عن الحكم بن عتيبه عن عبد الله بن معقل۔

(تہذیب الاثار (عربی) جلد 2 صحفہ 359)۔

3:ابو حصین:

عبداللہ بن معقل سے ابوحسین نے اور ان سے اس روایت کو سفیان اور شعبہ نے نقل کیا

 ہے۔

'حدثنا ابنِ بشار قال حدثنا عبد الرحمٰن قال حدثنا سفيان عن أبی حصين عن عبدالله بن معقل۔

(تہذیب الاثار (عربی) جلد 2 صحفہ 360)۔

حدثنا ابنِ بشار قال حدثنا عبدالرحمٰن قال حدثنا شعبه عن أبی حصين عن عبدالله بن معقل۔

(تہذیب الاثار (عربی) جلد 2 صحفہ 360)۔

عبداللہ بن معقل کی ان تمام کی تمام روایات میں صرف اتنا ہے کہ سیدنا علیؓ نے فجر یا مغرب کی نماز میں قنوتِ نازلہ پڑھی اس روایت میں کہیں پر بھی کسی کا نام موجود نہیں کہ کس کے بارے میں پڑھی۔

عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی روایت:

سند:

حدثنا ابنِ حميد قال حدثنا ھارون عن عمرو عن ابن أبی ليلىٰ۔

متن: عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں سیدنا علیؓ نے فجر کی نماز میں قنوت (قنوتِ نازلہ) پڑھی۔

(تہذیب الاثار (عربی) جلد 2 صحفہ 360)۔

اس روایت میں بھی ان لوگوں کا نام مذکور نہیں جن پر قنوت نازلہ پڑھی گئی۔

عبداللہ بن حبیب کی روایت:
سند:

عبد الرزاق عن جعفر عن عطاء بن السائب عن عبدالله بن حبيب۔

متن: عبداللہ بن حبیب کہتے ہیں سیدنا علیؓ صبح کی نماز میں رکوع سے پہلے قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے۔

(مصنف عبدالرزاق (اردو) جلد 2 روایت 4974)۔

اس روایت میں بھی ان لوگوں کا نام مذکور نہیں۔

عبدالرحمٰن بن معقل کی روایت: عبدالرحمٰن بن معقل سے اس روایت کو 3 راویوں نے نقل کیا ہے۔

1: سلمہ بن کہیل:

حدثنا على بن الحسن قال ثنا عبدالله عن سفيان عن سلمة بن كہیل عن عبدالرحمٰن بن معقل

(الاوسط لابنِ المنذر (عربی) جلد 5 صحفہ 212)۔

سلمہ بن کہیل کی روایت میں بھی کسی کا نام موجود نہیں۔

2: عبید بن الحسن:

حدثنا ابن المثنىٰ قال حدثنا ابو داؤد قال حدثنا شعبه عن عبيد بن الحسن قال سمعت عبدالرحمٰن بن معقل۔

(تہذیب الاثار (عربی) جلد 2 صحفہ 360)۔

تہذیب الاثار میں بھی عبدالرحمٰن بن معقل کی عبید بن الحسن اور شعبہ کے حوالے سے بیان کردہ روایت میں بھی کسی کا نام موجود نہیں لیکن یعقوب فسوی نے جب اس روایت کو عبید اللہ بن معاذ کی سند سے نقل کیا تو اس میں سیدنا امیر معاویہؓ کے نام کی زیادت نقل کر دی ملاحظہ فرمائیں۔

سند:

حدثنا عبيدالله بن معاذ قال حدثنی ابی قال ثنا شعبه عن عبيد بن الحسن سمع عبدالرحمٰن بن معقل يقول

متن: عبدالرحمٰن بن معقل کہتے ہیں سیدنا علیؓ نے نماز میں رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی اور قنوت میں پانچ لوگوں پر بددُعا کی سیدنا امیر معاویہؓ بھی ہے۔ اور ابو اعور پر۔

(كتاب المعرفة والتاريخ للفسوی (عربی) جلد 3 صحفه 135)۔

لیکن یعقوب فسوی کی کتاب میں سیدنا امیر معاویہؓ اور ابو اعور کے نام کی زیادت درست نہیں کیونکہ امام بیہقیؒ نے بھی اس روایت کو عبید اللہ بن معاذ اور امام ذہبیؒ نے اس کے والد معاذ بن معاذ کی سند سے عبداللہ بن معقل سے نقل کیا ہے اور ان میں یہ زیادت موجود نہیں۔

امام بیہقیؒ نقل فرماتے ہیں:

سند:

اخبرنا ابو عبدالله الحافظ انبانا ابو عمرو بن مطر ثنا يحيىٰ بن محمد ثنا عبيدالله بن معاذ عن ابی ثنا شعبه عن عبيد بن الحسن سمع عبدالرحمٰن بن معقل يقول۔

متن: عبدالرحمٰن بن معقل کہتے ہیں سیدنا علیؓ نے مغرب کی نماز میں رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی اور قنوت میں پانچ لوگوں اور ان کے ساتھیوں پر بددعا کی۔

( سنن الکبریٰ بیہقی (عربی) جلد 2 روایت 3325)۔

امام ذہبیؒ نقل فرماتے ہیں:

سند:

معاذ بن معاذ نا شعبه عن عبيد بن الحسن عن عبدالله بن معقل قال۔

متن: عبداللہ بن معقل کہتے ہیں سیدنا علیؓ نے فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی اور قنوت میں پانچ لوگوں کے بارے میں بد دعا کی۔

(تنقيح التحقيق للذہبي (عربی) صحفہ 245 246)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبید بن الحسن کی عبداللہ بن معقل اور عبدالرحمٰن بن معقل سے بیان کردہ روایت میں بھی کسی کا نام موجود نہیں اور یعقوب فسوی کی بیان کردہ زیادت درست نہیں۔

3۔ حصین: حصین سے عبدالرحمٰن بن معقل کی روایت کو حصین کے تین شاگردوں نے نقل کیا ہے ملاحظہ فرمائیں۔

شعبه: حدثنا ابوبكره قال ثنا ابوداؤد عن شعبه قال اخبرنی حصين بن عبدالرحمٰن قال سمعت عبدالرحمٰن بن معقل۔

(شرح معانی الاثار (عربی) جلد 1 صحفه 252)۔

شریک بن عبد الله:

حدثنا شريك عن حصين عن عبدالرحمٰن بن معقل۔

(مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 2 روایت 7130)۔

حصین سے ان کے شاگرد شعبہ اور شریک نے جب اس روایت کو نقل کیا تو اس میں کسی کا نام نہیں آیا لیکن جب ان کے تیسرے شاگرد ہشیم نے اس روایت کو ان سے بیان کیا تو اس میں سیدنا امیر معاویہؓ اور دیگر کے نام ذکر کر دیے اس لئے ہشیم کی روایت ایک جماعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے شاذ ہے۔

ہشیم کے علاوہ یہ روایت علقمہ سے بھی مروی ہے:

سند:

وقال ابنِ المجالد عن أبيه عن ابراهيم عن علقمه والاسود۔

متن: علقمہ اور اسود کہتے ہیں نبی کریمﷺ نے کسی پر قنوتِ نازلہ نہیں پڑھی ماسوائے اس صورت میں کہ آپ کسی جنگ میں ہوتے تھے اس وقت آپ تمام نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے اسی طرح سیدنا ابوبکر صدیقؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ نے بھی اپنے انتقال تک کبھی قنوتِ نازلہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ سیدنا علیؓ نے بھی نہیں پڑھی لیکن جب انہوں نے اہلِ شام کے ساتھ جنگ کی تو وہ تمام نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے اسی طرح سیدنا امیر معاویہؓ بھی قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف بددُعا کرتے تھے۔

(مصنف عبدالرزاق (اردو) جلد 2 روایت 4953)۔

اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی اسماعیل بن مجالد بن سعید صدوق ہے مگر روایت میں غلطیاں کرتا ہے۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

آٹھویں طبقہ کا صدوق خطاء کار راوی ہے۔

(تقريب التہذيب (اردو) جلد 1 صحفه 78)۔

دوسری علت:

اسماعیل بن مجالد کا والد مجالد بن سعید ہمدانی ضعیف ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

اس راوی کا ترجمہ گزر چکا ہے۔

(دیکھیں باب سیدنا معاویہؓ کو میرے منبر پر دیکھو تو قتل کر دینا پہلی سند کا تعاقب)۔

اس لئے اس روایت سے استدلال جائز نہیں۔

جن کے نزدیک یشیم کی روایت شاذ ہے وہ ان روایات کے بارے میں کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے قنوتِ نازلہ خوارج وغیرہ کے بارے میں پڑھی۔

دوسری رائے: اس روایت کے بارے میں دوسری رائے (اور یہی ہماری رائے) ہے کہ یہ روایت صحیح ہے کیونکہ ہشیم کی روایت کی متابعت میں علقمہ سے صحیح سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے۔

سند:

حدثنا محمد بن احمد ثنا بشر بن موسیٰ ثنا المقرى ثنا ابو حنيفه عن حماد عن ابراهيم عن علقمه۔

متن: علقمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ نے کبھی قنوتِ نازلہ نہیں پڑھی اور سیدنا علیؓ نے بھی نہیں کی لیکن جب ان کی اہلِ شام سے جنگ ہوئی تو وہ سیدنا امیر معاویہؓ پر قنوتِ نازلہ کرتے تھے۔

(مسند امام ابوحنیفہ لابی نعیم (عربی) صحفه 83)۔

یہ روایت صحیح ہے اور سیدنا علیؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کے لیے قنوت کرنا ثابت ہے لیکن علقمہ کی دوسری روایت جس میں یہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ ؓ جب بھی سیدنا علیؓ پر قنوتِ نازلہ کرتے تھے وہ روایت صحیح نہیں جیسا کہ ہم پہلے ثابت کر چکے اس لئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا علیؓ دونوں ایک دوسرے پر قنوتِ نازلہ کرتے تھے درست نہیں۔

اس روایت کی بناء پر سیدنا امیر معاویہؓ پر طعن جائز نہیں:

سیدنا علیؓ نے حالت جنگ میں سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے بددُعا کی کہ اے اللہ سیدنا امیر معاویہؓ پر پکڑ کر لیکن یہ بددُعا کرنا ایک وقتی غصے اور تکلیف کی وجہ سے تھا جیسا کہ انسان غصے یا تکلیف میں کسی کے لئے بددُعا کر دیتا ہے اس لئے اس بات کو دلیل بنانا کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے بددُعا کی اور پھر اس سے سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا عمرو بن العاصؓ وغیرہ کی شان میں گستاخی شروع کر دینا حرام ہے کیونکہ یہ عمل صرف ایک وقتی غصے کی وجہ سے تھا اور اس بددُعا کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سیدنا علیؓ سیدنا امیر معاویہؓ کو برا سمجھتے تھے یا ان سے نفرت کرتے تھے اکثر ماں باپ بھی اپنی اولاد کو یا بھائی دوسرے بھائی کو یا کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو غصے میں ایسی بددُعا دے دیتا ہے تو جیسے اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں اس لئے بددُعا دی بلکہ اس سے پہنچنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے بددُعا دے دی ویسے ہی سیدنا علیؓ کا جنگ کی حالت میں سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے یہ بددُعا کرنا بھی اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ سیدنا علیؓ سیدنا امیر معاویہؓ سے نفرت کرتے تھے بلکہ سیدنا علیؓ تو ان کے بارے میں کہتے تھے وہ ہمارے بھائی ہیں اور یہ بات تو شیعہ کی اپنی کُتب میں موجود ہے۔

شیعہ ذاکر عبداللہ بن جعفر الحمیری لکھتا ہے؛

سیدنا جعفرؒ کہتے ہیں میں نے اپنے والد (سیدنا باقرؒ) سے سنا کہ سیدنا علیؓ اپنے مدِمقابل (سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں) میں سے کسی کو مشرک یا منافق نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ یوں کہتے تھے وہ ہمارے بھائی ہیں بس انہوں نے بغاوت کی۔

(قرب الاسناد (عربی) صحفه 94)۔

اور شیعہ ابنِ ابی الحدید لکھتا ہے کہ سیدنا علیؓ نے صفین سے واپسی پر سیدنا امیر معاویہؓ

کے بارے میں فرمایا۔

اے لوگو سیدنا امیر معاویہؓ کی حکومت کو بُرا نہ جانو جب وہ تم میں نہیں ہوں گے تو تم سروں کو گردنوں سے اس طرح الگ ہو کر گرتے دیکھو گے جیسے حنظل گرتا ہے۔

( شرح ابنِ ابی الحدید (عربی) جلد 16 صحفہ 26)۔

یہ روایت کُتبِ اہلِ سنت میں بھی موجود ہے تاریخِ مدینہ دمشق (عربی) جلد 59 صحفہ 152 151 پر امام ابنِ عساکرؒ نے 6 اسناد کے ساتھ یہ روایت نقل فرمائی ہے۔

اور بھی ایسی کئی روایات ہیں جن میں سیدنا علیؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں کی تعریف کی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں کو بُرا نہیں سمجھتے تھے اور نہ ہی ان سے نفرت کرتے تھے اور ہم یہ بھی بیان کرچکے کہ بندہ غصے اور تکلیف میں اپنے پیاروں اور عزیزوں کو بھی بددُعا دے دیتا ہے اور سیدنا علیؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے بددُعا کرنا بھی بلکل ایسا ہی تھا اور اگر سیدنا علیؓ کی بددُعا کا یہ مقصد ہوتا کہ وہ سیدنا امیر معاویہؓ سے نفرت کرتے تھے تو سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کبھی بھی سیدنا امیر معاویہؓ سے صلح کر کے ان کی بیعت نہ کرتے اور نہ ہی ان سے وظائف اور تحائف لیتے بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ جس شخص سے سیدنا علیؓ نفرت کرتے ہوں حسنین کریمینؓ جب اس شخص کی بیعت کرتے؟ اور حسنین کریمینؓ کا یہ عمل آج بھی شیعہ کے منہ پر طمانچہ ہے جو مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بنیاد بنا کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن شروع کر دیتے ہیں۔

اس لئے مصنف ابنِ ابی شیبہ کی روایت کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ سیدنا علیؓ سیدنا امیر معاویہؓ سے نفرت کرتے تھے اس لئے بددُعا کی اور پھر سیدنا امیر معاویہؓ پر تنقید شروع کر دینا حرام ہے۔