Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رستم کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وفد بھیجتے ہیں

  علی محمد الصلابی

رستم حیرہ سے اپنی فوج لے کر آگے بڑھا اور قادسیہ کے پل ’’عتیق‘‘ کے پاس مسلمانوں کی فوج کے سامنے پڑاؤ ڈالا، دونوں افواج کے درمیان نہر حائل تھی، فارسی فوج کے ساتھ تیس 30 ہاتھی تھے۔ جب رستم قادسیہ پہنچا تو اس نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ میرے پاس ایک آدمی بھیجو، ہم کچھ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت سعدؓ نے اس کے پاس حضرت ربعی بن عامرؓ کو اپنا قاصد بنا کر بھیجا۔ جس وقت حضرت ربعیؓ رستم کے پاس پہنچے وہ مرصع تخت زریں گاؤ تکیہ اور فرش دیبا پر بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت ربعیؓ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر وہاں پہنچے۔ انہوں نے اپنی تلوار چتھڑے میں لپیٹ لی تھی، نیزہ پٹیوں سے باندھ لیا تھا اور جب شاہی ریشمی فرش کے پاس پہنچے تو اس پر اپنا گھوڑا چڑھا دیا اور گھوڑے سے اتر کر دوگاؤ تکیہ میں اسے باندھ دیا، پھر گھوڑے کے پالان کو کندھے پر ڈال کر آگے بڑھے۔ درباریوں نے ہتھیار رکھوا لینا چاہا تو حضرت ربعیؓ نے کہا: اگر میں اپنی مرضی سے آیا ہوتا تو سب کچھ تمہارے حکم کے مطابق کرتا، لیکن تم لوگوں نے مجھے بلایا ہے، اگر میرا اس طرح آنا منظور ہے تو ٹھیک ورنہ واپس جاتا ہوں پھر اپنا نیزہ جس کی انی نیچے تھی فرش دیباسے ٹیکتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدموں سے آگے بڑھے، یہاں تک کہ جدھر سے گزرے پر تکلف فرش کٹ پھٹ کر بے کار ہوگئے اور رستم کے پاس پہنچ کر زمین پر بیٹھ گئے اور فرش پر اس طرح نیزہ مارا کہ وہ فرش کو پھاڑ کر زمین میں دھنس گیا اور کہا: ہم تمہارے شاہی فرش پر نہیں بیٹھیں گے۔ رستم نے پوچھا: تم یہاں کس لیے آئے ہو؟ حضرت ربعیؓ نے جواب دیا: یہاں ہم کو اللہ لایا ہے، اس نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ وہ جسے ہدایت دینا چاہے ہم اسے بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف، دنیا کی تنگیوں سے نکال کر کشادگی کی طرف اور ادیان باطلہ کے جور و ظلم سے اسلام کے عدل و انصاف کی طرف لائیں۔ اس نے اپنا دین دے کر ہمارے میں ایک رسول بھیجا کہ اسے ساری مخلوق تک پہنچائے۔ لہٰذا جو اس دین کو قبول کر لے گا ہم اس کی باتیں سنیں گے، اس کی حکومت اور زمین اسی کے حوالے کر کے واپس لوٹ جائیں گے اور جو انکار کرے گا اس سے اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک کہ اس پر غلبہ نہ پا لیں، یا شہادت پا کر جنت میں نہ چلے جائیں۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 106)

رستم نے کہا: ہم نے تمہاری بات سن لی کیا تم جنگ میں کچھ تاخیر کر سکتے ہو تاکہ ہم مزید غور کر لیں؟ حضرت ربعیؓ نے جواب دیا: ہاں ضرور! ہمارے رسول اللہﷺ نے ہمارے لیے سنت چھوڑی ہے کہ اپنے دشمن کو تین دن سے زیادہ مہلت نہ دیں، لہٰذا تین دن ہم انتظار کر سکتے ہیں۔ اپنے بارے میں اچھی طرح غور و فکر کر لو اور یاد رکھو کہ وقت گزر جانے کے بعد تین میں سے ایک اپنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، اسلام لے آؤ، ہم تم کو اور تمہاری حکومت کو چھوڑ کر واپس چلے جائیں گے، یا جزیہ دو، اسے قبول کر لیں گے اور تم سے جنگ نہ کریں گے۔ بلکہ وقت ضرورت تمہاری مدد بھی کریں گے، اگر یہ سب نامنظور ہو تو پھر چوتھے دن اعلان جنگ ہے۔ مگر یہ کہ تم اس مہلت کی مدت میں اچانک لڑائی چھیڑ دو۔ میں اپنے تمام ساتھیوں کا نمائندہ ہوں۔ رستم نے پوچھا: کیا تم ہی مسلمانوں کے سردار ہو؟ حضرت ربعیؓ نے جواب دیا: نہیں، بلکہ تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں ان میں ہر ایک دوسرے سے مربوط ہے، ان کا ایک ادنیٰ فرد جس بات پر معاہدہ کر لے گا ان کا سردار بھی اسے مانے گا۔ پھر حضرت ربعیؓ واپس لوٹ آئے اور رستم نے اپنے اقرباء و ساتھیوں سے مشورہ کیا اور کہا: کیا اس آدمی کی بات کی طرح کبھی تم نے کسی سے سنا تھا؟ ان مشیروں نے کہا اس نے تو آپ کی شان میں بڑی گستاخی کی ہے؟ رستم نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، میں اس کی بات، طرز گفتگو اور بے باکی پر حیرت مند ہوں، یقیناً عرب ظاہری لباس کو کوئی وقعت نہیں دیتے، وہ اپنے حسب و نسب کی حفاظت کرتے ہیں۔

جب دوسرا دن ہوا تو پھر اس نے حضرت سعدؓ کے پاس پیغام بھیجا کہ اس شخص کو بھیجو۔ اس مرتبہ حضرت سعدؓ نےحذیفہ بن محصن الغلفانیؓ (ابن اثیر کا بیان ہے کہ اس لفظ کو ابو عمر نے قاف، لام اور پھر عین یعنی القلعانی ضبط کیا ہے اور طبری نے غین، لام پھر فا کے ساتھ یعنی الغلفانی ضبط کیا ہے، دیکھئے الاصابۃ: جلد 2 صفحہ 39، 1651 مترجم) کو بھیجا۔ چنانچہ انہوں نے بھی رستم سے گفتگو کی اور بالکل حضرت ربعیؓ جیسی بے باکی وجواب دہی کا مظاہرہ کیا۔ دونوں کے یکساں طرز عمل پر ہمیں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دونوں نے ایک ہی سرچشمہ اسلام سے روحانیت کا جام پیا تھا۔ رستم نے ان سے کہا: کل جو آیا تھا آج وہی کیوں نہیں آیا؟ حضرت حذیفہؓ نے جواب دیا: امیر سختی اور خوشحالی دونوں حالتوں میں ہمارے درمیان عدل و انصاف کرتا ہے، آج میری باری ہے۔ رستم نے پوچھا: تاخیر کا وعدہ کب تک ہے؟ حضرت حذیفہؓ نے جواب دیا: گزشتہ کل سے تین دن تک، اور جب تیسرا دن ہوا تو رستم نے حضرت سعدؓ سے پھر نمائندہ طلب کیا، اس مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نمائندہ بنا کر بھیجے گئے۔ آپ وہاں پہنچے تو سیدھے رستم کے تخت پر اس کے ساتھ جا بیٹھے۔ تمام افسران و درباری یہ گستاخی دیکھ کر حضرت مغیرہؓ کی طرف بڑھے اور انہیں کھینچنے لگے۔ حضرت مغیرہؓ نے کہا: تمہارے گھٹیا پن کی خبریں میں پہلے ہی سنتا تھا، تم سے زیادہ بے وقوف کسی قوم کو نہیں دیکھا، ہم عربوں کی ایسی جماعت ہیں کہ اس کا بعض فرد بعض کو غلام نہیں بناتا، مگر یہ کہ کوئی اپنے ساتھی ہی سے جنگ چھیڑ دے۔ میں سوچتا تھا کہ جس طرح ہم آپس میں ایک دوسرے کے بھائی اور غم خوار ہوتے ہیں اسی طرح تم بھی ہو گے۔ میرے ساتھ تمہیں یہ بدسلوکی کرنے سے پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا کہ تم اپنے ہی بعض لوگوں کو اپنا رب مانتے ہو اور باہمی مساوات و ہمدردی کا سبق ہمیں منظور نہیں، سنو! کوئی ملک اونچ نیچ کی اس تفریق اور سطحی حلقوں پر باقی نہیں رہ سکتا۔ یہ سن کر تمام لوگوں نے کہا: واللہ عربی نے سچ کہا اور جاگیرداروں نے کہا: اس نے ہمیں ایسی بات سنا کر ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ تبھی تو ہمارے غلام اس کی طرف کھینچ کھینچ کر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے آبا ؤ اجداد کا برا کرے وہ لوگ ہمیشہ عرب مسلمانوں اور ان کے دین کو ذلیل سمجھتے تھے، پھر رستم نے اپنی فوج سے خطاب کیا، نہایت ذلت و حقارت آمیز لہجہ میں عربوں کا ذکر کیا اور اہل فارس کی شوکت و قوت کو خوب سراہا، پھر عربوں کی فاقہ مستی اور زمانہ جاہلیت میں ان کی بدحالی کا تذکرہ کیا۔

(الکامل: جلد 2 صفحہ 108)

حضرت مغیرہؓ نے جواب دیا: ہماری فاقہ مستی، تنگ زندگی اور باہمی لڑائی کے بارے میں تم نے جو کچھ کہا وہ بالکل صحیح ہے، ہمیں اس کا انکار نہیں ہے۔ دنیا کے حالات میں استقرار نہیں، تنگی کے بعد خوشحالی آتی ہے۔ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا اگر تم شکریہ ادا کرو تو اس کے مقابلے میں تمہاری شکر گزاری کم ہو گی۔ شکر گزاری کی قلت ہی نے تمہاری یہ حالت بنائی ہے۔ اللہ نے ہمارے درمیان رسول مبعوث کیا، پھر حضرت مغیرہ بن شعبہؓ اپنے ما قبل دونوں نمائندوں کی طرح اس سے ہم کلام ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ یا تو اسلام لے آؤ یا جزیہ ادا کرو، یا جنگ کے لیے تیار رہو۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 108)

حضرت مغیرہؓ کے چلے جانے کے بعد رستم نے اپنے فوجی افسروں اور مشیروں کے ساتھ ایک خصوصی مجلس کی اور کہا: تمہارے مقابلے میں ان کی کیا حیثیت ہے؟ کیا اس سے پہلے دونوں نمائندوں نے تمہارے سامنے دلیری نہیں دکھائی اور دلیل قائم نہیں کی؟ پھر یہ تیسرا آیا اور اس کا معاملہ بھی ان دونوں سے مختلف نہ رہا۔ سب ایک ہی راستے پر چلے اور ایک ہی بات کہی۔ اللہ کی قسم! یہ اپنی بات میں سچے ہوں یا جھوٹے لیکن ہیں مرد کہے جانے کے قابل۔ باخدا اگر یہ لوگ ادب اور رازداری میں اس حد کو پہنچے ہوئے ہیں کہ ان کے درمیان ایسا اتحاد قائم ہے کوئی قوم ان کے خلاف اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو گی اگر یہ اپنی بات میں سچے ہیں تو کوئی چیز ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یہ سننا تھا کہ فارسی فوج نے شور و ہنگامہ شروع کر دیا۔