سیدنا علیؓ اور سیدنا معاویہؓ کا ایک دوسرے پر لعنت کرنا
محمد ذوالقرنينسیدنا علیؓ اور سیدنا معاویہؓ کا ایک دوسرے پر لعنت کرنا
گزشتہ باب میں ہم نے بیان کیا تھا کہ سیدنا علیؓ سے صرف سیدنا امیر معاویہؓ کے لئے قنوتِ نازلہ میں یہ الفاظ ثابت ہیں کہ اے اللہ سیدنا امیر معاویہؓ پر پکڑ کر اور اس کی تفصیل بھی ہم بیان کر چکے کہ اس سے مراد یہ ہرگز نہیں تھی کہ وہ سیدنا امیر معاویہؓ سے نفرت کرتے تھے اور اس روایت کو دلیل بنا کر سیدنا معاویہؓ پر طعن کرنا بھی جائز نہیں۔
شیعہ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ سیدنا امیر معاویہؓ پر قنوت میں لعنت کرتے تھے اور پھر سیدنا امیر معاویہؓ نے بھی سیدنا علیؓ پر لعنت کرنا شروع کر دیا اس اعتراض پر شیعہ جو روایت پیش کرتے ہیں وہ ملاحظہ فرمائیں۔
سند:
قال ابو مخنف حدثنی ابو جناب الكلبی۔
متن: (ابو جناب کلبی نے ایک طویل روایت نقل کی ہے اور آخر پر کہتا ہے کہ) سیدنا علیؓ جب نماز پڑھتے تو اس میں قنوتِ نازلہ پڑھتے اور کہتے اللہ کی لعنت ہو سیدنا معاویہؓ پر عمرو پر ابو اعورسلمی پر حبیب پر عبد الرحمٰن بن خالد پر ضحاک بن قیس پر اور ولید پر جب سیدنا امیر معاویہؓ کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے بھی قنوتِ نازلہ میں یہ کہنا شروع کر دیا لعنت ہو سیدنا علیؓ پر سیدنا ابنِ عباسؓ پر اشتر پر سیدنا حسنؓ پر اور سیدنا حسینؓ پر۔
(تاریخِ طبری (عربی) جلد 5صحفہ 70 71)۔
یہ روایت ابنِ کثیر نے البدایہ والنہایہ (عربی) جلد 10 صحفہ 575 پر اور بلاذری نے انساب الاشراف (عربی) جلد 3 صحفہ 126 پر نقل کیا ہے ان کے علاوہ امام ابنِ اثیر امام ابوالفداء اور امام ابنِ خلدون نے بھی اس روایت کو اسی (ابومخنف کی) سند سے نقل کیا ہے۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا پہلا راوی ابو مخنف لوط بن یحییٰ شیعہ اور متروک الحدیث ہے اور اس کی روایت سے کسی صورت استدلال جائز نہیں اس کا ترجمہ گزر چکا ہے۔
(دیکھیں باب سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ پر لعنت کروانا تیسری سند کا تعاقب)۔
دوسری علت: اس روایت کا دوسرا راوی یحیٰی بن ابوحیہ ابو جناب کلبی یہ بھی سخت ضعیف ہے اس سے منکر روایات مروی ہیں اور اس پر متروک تک کی جرح کی گئی ہے اس لئے اس سے استدلال جائز نہیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
یحییٰ بن سعید القطانؒ کہتے ہیں میں اس چیز کو حلال قرار نہیں دیتا کہ اس سے روایت نقل کروں امام نسائیؒ اور امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے فلاس کہتے ہیں یہ متروک ہے۔
(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 7 صحفہ 176)۔
امام ذہبیؒ اس پر آخری حکم لگاتے ہوئے کہتے ہیں۔
امام نسائیؒ وغیرہ نے کہا ہے یہ قوی نہیں ہے۔
(الكاشف للذہبي (عربی) جلد 2 صحفه 364)۔
امام ابنِ جوزیؒ نے بھی اس کو الضعفاء والمتروکین میں شامل کیا اور فرماتے ہیں۔
ابو نعیم کہتے ہیں تدلیس کرتا ہے منکر روایات بیان کرتا ہے عمرو بن علی نے کہا ہے یہ متروک الحدیث ہے یحییٰ بن سعیدؒ عثمان بن سعیدؒ نسائیؒ اور دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے۔
(كتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 3 صحفه 193)۔
معلوم ہوا کہ ابو جناب کلبی ابھی سخت ضعیف و متروک راوی ہے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
اس سب سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے اس لئے یہ کہنا کہ سیدنا علیؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ نماز میں ایک دوسرے پر لعنت کرتے تھے کسی صورت جائز نہیں یہ روایت جس کتاب میں بھی ہے ابومخنف کی سند سے ہی منقول ہے اور ابومخنف کذاب اور متروک الحدیث ہے اس لئے اس روایت سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔