امام اعمشؒ کی سیدنا امیر معاویہؓ پر تنقید
محمد ذوالقرنينامام اعمشؒ کی سیدنا امیر معاویہؓ پر تنقید
شیعہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ کے قصاص سیدنا عثمانؓ کے مطالبہ کو جھوٹ اور بہانہ ثابت کرنے کے لئے امام اعمشؒ کی طرف منسوب ایک قول پیش کیا جاتا ہے کہ امام اعمشؒ نے قصاص سیدنا عثمانؓ کے مطالبہ کے بارے میں یہ کہا کہ یہ بس ایک ڈھونگ اور بہانہ تھا وہ روایت کچھ یوں ہے۔
سند:
وحدثنی عبدالله بن صالح العجلی عن عبيدالله بن موسىٰ قال۔
متن: عبیداللہ بن موسیٰ کہتا ہے کہ امام اعمشؒ کے پاس سیدنا امیر معاویہؓ کا ذکر کیا گیا تو (لوگوں نے) کہا وہ حلیم تھے تو امام اعمشؒ نے کہا وہ کیسے حلیم ہو گئے؟ انہوں نے سیدنا علیؓ سے جنگ کی اور اس شخص سے قصاص سیدنا عثمانؓ کا مطالبہ کیا جس نے انہیں قتل نہیں کیا تھا بھلا وہ اور قصاص سیدنا عثمانؓ؟ دوسرے لوگ ان سے زیادہ قصاصِ سیدنا عثمانؓ کے حقدار تھے۔
(انساب الاشراف (عربی) جلد 5 صحفه 137)۔
اسناد کا تعاقب: اس روایت میں دو علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی عبیداللہ بن موسیٰ کوفی اپنی ذات کے اعتبار سے ثقہ ہے لیکن یہ غالی شیعہ اور رافضی ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
اپنی ذات کے اعتبار سے ثقہ ہے لیکن یہ شیعہ تھا اور جل جانے والا شخص تھا (غالی شیعہ تھا) امام ابوداؤدؒ کہتے ہیں یہ شیعہ تھا اور جل جانے والا شخص تھا میمونی کہتے ہیں امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں عبیداللہ اختلاط کا شکار ہو جاتا تھا اس نے منکر روایات بیان کی ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نے امام احمد بن حنبلؒ سے اس سے روایات نقل کرنے کے بارے میں مشورہ کیا تو انہوں نے منع کر دیا۔
(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 7 صحفہ 176)۔
امام ذہبیؒ اس کے بارے میں آخری حکم لگاتے ہوئے فرماتے ہیں۔
ثقہ ہے بدعتی شیعہ ہے۔
( الكاشف للذہبي (عربی) جلد 1 صحفه 687)۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
امام احمدؒ کہتے ہیں یہ اختلاط کا شکار تھا اور اس سے منکر روایات منقول ہیں یعقوب فسوی کہتے ہیں یہ شیعہ تھا اور اگر کوئی کہے شیعہ تھا تو میں اس کا انکار نہیں کروں گا اور یہ منکر الحدیث تھا۔
(تہذیب التہذیب (عربی) جلد 4 صحفہ 351 350)۔
اس سب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی بدعتی شیعہ تھا اور اس سے منکر روایات منقول ہیں اور ہم یہ اصول بیان کر چکے ہیں کہ جب ایک ثقہ و صدوق بدعتی/رافضی شیعہ ایسی روایت بیان کرے جو اس کے مذہب کو تقویت دے تو وہ منکر ہوتی ہے اور اس کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری علت: عبیداللہ بن موسیٰ کی امام اعمشؒ سے کی گئی روایت منکر ہوتی ہے۔
جیسا کہ امام احمد بن حنبلؒ نے صراحت فرمائی ہے:
ابنِ ہانی نے امام احمدؒ سے عبیداللہ بن موسیٰ کے بارے میں پوچھا تو امام احمدؒ نے فرمایا جو روایات یہ اپنے مشائخ سے بیان کرئے وہ نہ لکھنا اور جو روایات امام اعمشؒ سے بیان کرئے وہ منکر ہوں گی وہ بھی نہ لکھنا۔
(مسائل احمد روایۃ ابنِ ہانی (عربی) جلد 2 صحفه 236)۔
(موسوعة اقوال الامام احمد فی رجال الحديث وعلله۔ (عربی) جلد 2 صحفہ 411)۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی منکر ہے کیونکہ اس میں بھی عبیداللہ بن موسیٰ امام اعمشؒ سے ہی روایت کر رہا ہے اور عبیداللہ خود شیعہ ہے اس لئے یہ روایت باطل ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔