Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

*مدینہ طیب کو غیر طیب سے جدا کرتا ہے۔ حضرت علی رض نے مدینہ چھوڑ کر کوفہ کو دار الخلافہ بنایا؟*

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

♦️ *سیّدنا علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ پر خوارج کی طرف سے پہلا اعتراض* ♦️ 

*مدینہ طیب کو غیر طیب سے جدا کرتا ہے۔ حضرت علی رض نے مدینہ چھوڑ کر کوفہ کو دار الخلافہ بنایا؟*

حدیث شریف میں ہے کہ مدینہ منورہ بھٹی کی مانند ہے۔ طیّب کو غیر طیّب سے جُدا کر دیتا ہے۔ یعنی غیر طیّب کو اپنے اندر رہنے نہیں دیتا۔ اس بناء پر جب ہم خلفائے ثلاثہ رضوان اللّٰه علیھم اجمعین کی پاکیزہ سیرت پر نظر کرتے ہیں تو ان کے دارالخلافہ کو مدینہ کے اندر پاتے ہیں۔ لیکن جب علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ خلیفہ بنتے ہیں تو مدینہ سے باہر کوفہ میں دارالخلافہ بناتے ہیں۔ کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ مدینہ نے ان کو اپنے اندر رہنے نہیں دیا۔؟

 ♦️ *جوابات اہلسنّت* ♦️

 جواب 1: 

سیّدنا علی المُرتضی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کا کوفے میں دارالسلطنت بنانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ وطنیت بھی بدل چُکے تھے۔ ظاہر ہے کہ وطن تو آپ کا بدستور مدینہ منورہ تھا لیکن دارالسلطنت کوفہ۔ اس سے مدینہ منورہ کو چھوڑ جانا لازم نہ آیا۔  پس سوال ہی نہ رہا۔

  جواب 2: 

سیّدنا عُثمان رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد آپ نے یہی مناسب سمجھا تھا کہ دارالسلطنت مدینہ سے باہر رہے، تا کہ اگر خدا نخواستہ دُشمن کی طرف سے کِسی وقت حملہ ہو جائے تو مدینہ کے در و دیوار مسلمانوں کے خون سے ملوث نہ ہونے پائیں۔

(ف) دیکھیئے خوارج کی کِتنی ستم ظریفی ہے کہ حق و باطل کے درمیان امتیاز نہیں کرتے اور خواہ مخواہ سیّدنا علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے دامنِ شرافت و متانت کو داغدار کیے چلے جاتے ہیں۔

  جواب 3:

مدینہ تو ہر وقت مدینہ ہے اور تھا۔ پس اگر خوارج کے زعم باطل کے مطابق ہوتا تو سیّدنا علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ عہدِ خلافت سے پہلے ہی مدینہ مقدّسہ چھوڑ جاتے مگر آپ کا  وفات رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سے لے کر عہدِ خلافت کے بعد تک مدینہ میں متوطن رہنا بتاتا ہے کہ خوارج کا یہ شبہ قطعاً بے اصل ہے اور ایمان داروں کے ایمان سلب کرنے کا ایک طریقہ ہے، اعاذنا اللّٰه منھا۔

 جواب 4: 

اگر مدینہ سے باہر رہنا ہی موجبِ شبہ ہے تو سیّدنا امیر معاویہ رضی اللّٰه تعالٰی عنہ کا شام میں مدۃ العمر رہنا، اسی طرح باقی صحابہ کرام رضی اللّٰهُ تعالٰی عنھم کا مدینہ سے باہر رہنا بھی ثابت ہے۔ تو پھر سب حضرات پر یہی فتویٰ لگانا پڑے گا۔ حالانکہ وہ سب کے سب آپ کے نزدیک بھی اس فتویٰ سے بری ہیں۔

ما ھو جوابکم فھو جوابنا۔