Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اذان سن کر رستم کی گھبراہٹ

  علی محمد الصلابی

رستم نے جب نجف میں پڑاؤ ڈالا تو مسلمانوں کے لشکر میں اپنا ایک جاسوس بھیجا وہ قادسیہ میں آ کر مسلمانوں میں اس طرح گھل مل گیا جیسے کہ انہی کا ایک فرد ہو، اس نے مسلمانوں کو دیکھا کہ ہر نماز کے وقت مسواک کرتے ہیں، پھر نماز پڑھتے ہیں اور اپنی اپنی جگہوں پر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ جاسوس لوٹ کر اپنی فوج میں گیا اور رستم کو مسلمانوں کی نقل و حرکت اور دیگر امور کے بارے میں خبر دی۔ رستم نے اس سے پوچھا: وہ کیا کھاتے ہیں؟ اس نے بتایا کہ میں نے ان میں مکمل رات گزاری، اللہ کی قسم! ان میں کسی کو کچھ کھاتے نہیں دیکھا، سوائے اس کے کہ شام کے وقت، سوتے وقت اور صبح کے وقت وہ لوگ لکڑیاں چباتے ہیں۔ چنانچہ رستم جب وہاں سے اور آگے بڑھ کر نہر عتیق (تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 358) کے درمیان پڑاؤ ڈال رہا تھا، اس نے حضرت سعدؓ کے مؤذن کو اذان کہتے سنا، اس نے سمجھا کہ شاید مسلم فوج جنگ کا بگل بجا رہی ہے۔ اس نے اپنی فوج میں اعلان کر دیا کہ گھوڑوں پر فوراً سوار ہو جاؤ، فوجی افسران نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: کیا تم اپنے دشمن کو نہیں دیکھتے ان میں جنگ کا بگل بج گیا ہے اور وہ تمہاری طرف نقل و حرکت شروع کر دی ہے۔ جاسوس نے یہ سن کر کہا: یہ جنگ کا بگل نہیں بلکہ انہیں نماز کے لیے اکٹھا کرنے والی آواز ہے۔ رستم نے جواب دیا: نہیں، میں نے صبح ایک آواز سنی، وہ عمر کی آواز تھی، جو کہ درندوں سے بات کر رہے تھے اور انہیں عقل سکھا رہے تھے۔

 (تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 358)

پھر فارسی فوج نے نہر پار کی اور جب اس پار پہنچے تو حضرت سعدؓ کے مؤذن نے ظہر کی نماز کے لیے اذان دی اور حضرت سعدؓ نے نماز پڑھائی اور رستم نے یہ دیکھ کر کہا: عمر نے میرا کلیجہ کھا لیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 358)