Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کو کلیجہ چبانے والی کا بیٹا کہنا

  محمد ذوالقرنين

سیدہ عائشہؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کو کلیجہ چبانے والی کا بیٹا کہنا

شیعہ اکثر یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ جب سیدنا امیر معاویہؓ نے حجر بن عدی کو پکڑ کر قتل کروایا تو سیدہ عائشہؓ کو ان پر غصہ آیا اور انہوں نے غصے میں سیدنا امیر معاویہؓ پر طعن کرتے ہوئے ان کو کلیجہ چبانے والی کا بیٹا کہا اس اعتراض پر پیش کی جانے والی روایت ملاحظہ فرمائیں۔

سند:

حدثنی ابو فراس الشامی عن هشام بن الكلبی عن ابيہ ان مسروقا قال۔

متن: مسروق کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہؓ نے حجر بن عدی کے قتل کے بارے میں فرمایا اگر سیدنا امیر معاویہؓ کو پتہ ہوتا کہ کوفہ والوں میں غیرت باقی ہے تو وہ کبھی حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کو قتل نہ کرتے لیکن کلیجہ چبانے والی کے بیٹے نے اب جان لیا ہے کہ لوگ اٹھ چکے ہیں۔

(انساب الاشراف (عربی)، جلد 5 ، صحفہ 272)۔

یہ روایت امام ابنِ عبدالبر نے بھی الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (عربی) جلد 2 صحفہ 388 پر مسروق کے حوالے سے بغیر سند کے نقل کی ہے یعنی اس کی یہی ایک ہی سند ہے جو انساب الاشراف میں ہے۔

اسناد کا تعاقب: اس روایت میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی ہشام بن محمد بن سائب کلبی شیعہ اور متروک الحدیث راوی ہے۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام احمدؒ کہتے ہیں میں یہ گمان نہیں کرتا کہ کسی نے اس کے حوالے سے حدیث روایت کی ہوگی (یعنی اس کی روایت کو قبول کیا ہو گا) امام دار قطنیؒ اور دیگر حضرات نے کہا ہے یہ متروک ہے امام ابنِ عساکرؒ کہتے ہیں یہ شیعہ ہے اور ثقہ نہیں ہے ( امام ذہبیؒ کہتے ہیں) ہشام کو ثقہ قرار نہیں دیا گیا۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 7 صحفہ 110 111)۔

امام ذہبیؒ اس کو المغنی میں شامل کر کے کہتے ہیں اس کو ترک کر دیا گیا۔

(المغنک فی الضعفاء (عربی) جلد 2 صحفہ 371)۔

امام ابنِ حبانؒ نے اس کو المجروحین میں شامل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے اور کہتے ہیں یہ غالی شیعہ تھا۔

(كتاب المجروحين من المحدثین (عربی) جلد 2 صحفہ 439)۔

امام ابنِ جوزیؒ بھی اس کو الضعفاء میں شامل کر کے فرماتے ہیں۔

امام احمدؒ کہتے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ کسی نے اس سے حدیث لی ہوگی (یعنی اس کی حدیث کو قبول کیا ہو گا اور امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے۔

(كتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 3 صحفہ 176)۔

ان تمام جروحات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہشام بن محمد سائب کلبی شیعہ اور متروک راوی ہے اور اس کی روایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری علت: ہشام کا والد محمد بن سائب کلبی بھی کذاب اور متروک الحدیث اور سبائی ہے۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام بخاریؒ کہتے ہیں انو نظر کلبی کو یحییٰ اور ابنِ مہدی نے متروک قرار دیا ہے یزید بن زریع کہتے ہیں کلبی سبائی تھا امام اعمشؒ کہتے ہیں سبائیوں سے بچ کر رہو کیونکہ لوگوں نے ان کا نام کذاب رکھا ہے ابنِ حبانؒ کہتے ہیں کلبی ان سبائیوں میں سے تھا جو یہ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ فوت نہیں ہوئے اور وہ واپس آئیں گے جو زجانی اور دیگر حضرات نے کہا ہے یہ کذاب ہے امام دار قطنیؒ اور ایک جماعت نے کہا ہے یہ متروک ہے ابنِ حبانؒ کہتے ہیں دین میں اس کا مسلک اور اس کی کذب بیانی اتنی نمایاں ہے کہ کچھ اور کہنے کی ضرورت ہی نہیں اس کا ذکر کتابوں میں کرنا جائز نہیں تو اس سے استدلال کیسے جائز ہوگا؟۔

(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 6 صحفہ 175 177)۔

امام ذہبیؒ اس کو المغنی میں شامل کر کے کہتے ہیں۔

اس کو ترک کر دیا گیا سلیمان تمیمی اور ابنِ معین وغیرہ نے کہا ہے یہ کذاب ہے۔

(المغنى فی الضعفاء (عربی) جلد 2 صحفہ 200)۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

چھٹے طبقہ کا مہتم بالکذب راوی ہے اور اس پر شیعت کا الزام لگایا گیا ہے۔

(تقريب التہذيب (اردو) جلد 2 صحفه 84)

امام بخاریؒ اس کو الضعفاء میں شامل کرکے کہتے ہیں۔

یحییٰ بن سعید اور ابنِ مہدی نے اس کو ترک کر دیا ابو صالح کہتے ہیں ہر وہ حدیث جو یہ تم کو میرے حوالے سے بیان کرئے وہ جھوٹ ہوگی۔

(كتاب الضعفاء اللبخاری (عربی) صحفه 99)۔

امام نسائیؒ بھی اس کو الضعفاء میں شامل کرکے فرماتے ہیں۔

محمد بن سائب متروک الحدیث ہے۔

(كتاب الضعفاء والمتروکين للنسائی (عربی) صحفه 211)۔

امام ابنِ جوزیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کرکے فرماتے ہیں۔

زائده لیث سلیمان تمیمی سعدی اور یحییٰ کہتے ہیں یہ کذاب ہے اور امام نسائیؒ علی بن جنید اور امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے۔

(كتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 3 صحفہ 62)۔

ان تمام جروحات سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد بن سائب کلبی کذاب اور متروک الحدیث راوی ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی موضوع ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔