Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اسلامی لشکر کا حوصلہ بلند کرنا

  علی محمد الصلابی

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ممتاز مسلم سرداروں اور افسروں کو معرکہ کے اول دن اپنے پاس بلایا اور کہا: جاؤ، آپ لوگ اپنی اپنی جگہ پر اپنی ذمہ داریاں نبھاؤ، عربوں میں تمہارا جو مقام و مرتبہ ہے اسے تم بخوبی جانتے ہو، تم عرب کے نامور شعراء، خطیب، دانشور، بہادر اور سردار ہو۔ فوج میں جاؤ انہیں سمجھاؤ اور جنگ پر ابھارو۔ چنانچہ وہ لوگ فوج میں گئے۔ 

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 359)

قیس بن ہبیرہ اسدی نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اے لوگو! اللہ کا شکریہ ادا کرو کہ اس نے تم کو ہدایت سے نوازا اور اسی راستے میں آزما رہا ہے، وہ تمہاری قوت کو بڑھا دے گا۔ اللہ کے احسانات کو یاد کرو، اپنے کردار و عمل سے اسی کی رضا مندی تلاش کرو، بے شک تمہارے آگے جنت ہے، یا مال غنیمت اور اس محل کے پیچھے کشادہ میدان، سنگلاخ زمین، پہاڑوں کے طویل سلسلے، بیابانوں اور جنگلات کے علاوہ کچھ نہیں ہے انہیں دشمن کے راہنما کبھی طے نہیں کر سکتے، اور غالب بن عبداللہ لیثی نے کہا: اے لوگو! اپنی اس آزمائشِ الہٰی پر اللہ کی تعریف کرو، اس سے مدد مانگو، وہ تمہاری قوت بڑھا دے گا، اس کو پکارو وہ تمہیں زندگی و قوت عطا فرمائے گا۔ اے معد کی جماعت! آج تم کیوں کمزور نظر آتے ہو جب کہ تم محفوظ ہو، یعنی گھوڑوں پر سوار ہو اور تمہارے ساتھ تمہارے وفادار ساتھی یعنی تلواریں ہیں؟ ذرا سوچو کل تمہیں لوگ کس طرح بزدلی کا طعنہ دیں گے۔ یہاں سے تمہارے کل کا آغاز ہو گا، تمہارے بعد کے لوگوں کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔ اور ابن ہذیل اسدی نے کہا: ’’اے معد کی جماعت! تلواروں کو اپنا قلعہ بنا لو، دشمن پر بپھرے ہوئے شیر کی طرح جھپٹو، چیتوں کی طرح ان کے وار خالی کر دو اور گرد و غبار کی زرہ پہن لو، اللہ پر بھروسا کرو، نگاہیں پست رکھو، جب تلواریں جواب دے جائیں تو ان پر تیر و سنان کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دو، کیونکہ جہاں تیروں کو بار مل جاتا ہے وہاں تلواروں کو نہیں ملتا۔‘‘

اور بسر بن ابی رہم جہنی نے کہا: ’’اللہ کی تعریف کرو، اپنی بات کو عمل سے سچ کر دکھاؤ، اس میں کوئی شک نہیں کہ تم اللہ کی عطا کردہ ہدایت پر اس کے شکر گزار ہو، اور اس کی و حدانیت کے معترف ہو، اس کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں، تم نے اس کی کبریائی کا اعتراف کیا ہے اور اس کے نبی و رسول پر ایمان لائے ہو، لہٰذا جب تمہاری جان نکلے تو اسلام ہی کی حالت میں نکلے، تمہاری نگاہوں میں دنیا سے زیادہ حقیر و ذلیل کوئی چیز نہ ہو، جو اسے ذلیل سمجھتا ہے وہ اسی کی طرف لپکتی ہے، لیکن تم اس کی طرف مائل نہ ہونا کہ وہ تم کو لے اڑے۔ اللہ کے دین کی مدد کرو وہ تمہاری مدد کرے گا۔‘‘

اور حضرت عاصم بن عمروؓ نے کہا: ’’اے عرب کے لوگو! تم عربوں کے سردار ہو اور عجمیوں کے سرداروں کے مقابلہ میں آئے ہو، تمہیں جنت کی آرزو ہے اور انہیں دنیا کی طلب، تمہاری آخرت طلبی کے مقابلہ میں وہ اپنی دنیا طلبی میں تم پر بازی نہ لے جائیں۔ دیکھو آج کوئی ایسی بات نہ ہونے پائے جس پر کل عربوں کو ندامت کی وجہ سے سر جھکانا پڑے۔‘‘

ربیع بن بلاد سعدی نے کہا: ’’اے عرب کے لوگو! دین اور دنیا دونوں کے لیے جنگ لڑو اور اللہ کا کلام سنو۔

وَسَارِعُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ۞ (سورۃ آل عمران: آیت 133)

ترجمہ: اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دوڑو اپنے رب کی جانب سے بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین (کے برابر) ہے، ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

اگر شیطان تمہیں دشمن کی بھاری فوج اور جنگ کی مشکلات کے حوالہ سے بہکاوے تو یاد کر لو کہ سابقہ زمانہ میں جو لوگ تمہاری فخریہ داستان سن چکے ہیں وہ تمہارے بارے میں کیا کہیں گے۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 359)

اور حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’اے لوگو! اللہ نے تمہیں اسلام کی ہدایت دی، اسی کلمہ پر تمہیں اکٹھا کیا، صبر کرنے میں راحت ہے، صبر کی عادت ڈالو اسی کے عادی بن جاؤ گے، جزع و واویلا کے خوگر نہ بنو کہ اسی کی تمہیں عادت پڑ جائے۔‘‘

بہر حال سب نے تقریباً اسی قسم کی باتیں کہیں، ایک دوسرے کو بھروسا دلایا اور اپنے اپنے قبائل کو مناسب طریقے سے عار دلائی، بالآخر سب نے اسلام کے لیے مر مٹنے کا عہد کیا اور پوری طرح برانگیختہ ہو گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 360)