حجر بن عدی کے قتل پر سیدنا امیر معاویہؓ پر اللہ کا غضب ناک ہونا
محمد ذوالقرنينحجر بن عدی کے قتل پر سیدنا امیر معاویہؓ پر اللہ کا غضب ناک ہونا
اکثر شیعہ ایک اور روایت بیان کرتے ہیں کہ حجر بن عدی کو قتل کرنے کی وجہ سے سیدہ عائشہؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا عذراء کے مقام پر کچھ لوگوں کو قتل کیا جائے گا جس وجہ سے اللہ غضب ناک ہوگا اور اس سے شیعہ استدلال کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ پر اللہ غضب ناک ہے اس روایت کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
یہ روایت دو اسناد سے مروی ہے جو کہ کچھ یوں ہیں۔
پہلی سند:
يعقوب بن سفيان حدثنا حرمله ثنا ابنِ وبب اخبرنی ابنِ لهيعة عن أبی الأسود قال دخلت معاويهؓ على عائشہؓ۔
متن: ابو الاسود کہتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدہ عائشہؓ کے پاس گئے تو سیدہ عائشہؓ نے پوچھا آپ کو کس بات نے اہلِ عذراء حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کے قتل پر ابھارا؟ تو سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا اے ام المؤمنین میں نے دیکھا کہ ان کو قتل کرنا امت کی اصلاح ہے اور ان کی بقاء امت میں فساد کا سبب ہے تو سیدہ عائشہؓ نے کہا میں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا عنقریب عذراء کے مقام پر کچھ لوگوں کو قتل کیا جائے گا جس وجہ سے اللہ اور اہلِ آسمان غضب ناک ہوں گے۔
(كتاب المعرفة والتاريخ للفسوی (عربی) جلد 3 صحفہ 416)۔
اس روایت کو امام ابنِ عساکر نے تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 12 صحفہ 226 پر اور امام بیہقیؒ نے دلائل النبوة (عربی) جلد 6 صحفہ 457 اور علامہ ابنِ کثیر نے البدایہ والنہایہ (عربی) جلد 9 صحفہ 226 پر اسی سند سے نقل کیا ہے۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں تین علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کا راوی عبداللہ بن لہیعہ ضعیف ہے اور غالی شیعہ تھا اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمے میں فرماتے ہیں:
امام یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ایک بار یحییٰ نے کہا یہ ضعیف ہے خواہ اس کی کتابیں جلنے سے پہلے کی بات ہو یا ان کے جل جانے کے بعد کی بات ہو امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے جوزجانی کہتے ہیں اس کی احادیث میں نور نہیں ہے اور مناسب نہیں کہ اس سے استدلال کیا جائے امام ابنِ حبانؒ کہتے ہیں یہ صالح تھا لیکن ضعیف رایوں کے حوالے سے تدلیس کرتا تھا اور اس کی روایات میں اختلاط پایا جاتا ہے ابنِ عدیؒ (اس کی ایک روایت کے بارے میں کہتے ہیں) شاید اس (روایت) میں خرابی ابنِ لہیعہ کی طرف سے ہے کیونکہ وہ غالی شیعہ تھا۔
(میزانُ الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفہ 169 177)۔
امام ذہبیؒ اس کے بارے میں المغنی میں فرماتے ہیں:
عبداللہ بن لہیعہ قاضی مصر ضعیف ہے۔
(المغنی فی الضعفاء (عربی) جلد 1 صحفہ 502)۔
امام بخاریؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے۔
(كتاب الضعفاء للبخاری (عربی) صحفه 63)۔
ان جروحات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔
دوسری علت: عبد اللہ بن لہیعہ ضعیف ہونے کے ساتھ مدلس بھی ہے اور اس روایت میں بھی تدلیس کر رہا ہے ابنِ لہيعة عن أبی الاسود اور یہ پانچویں طبقہ کا مدلس ہے۔
امام ابنِ حجرؒ نے اس کو مدلسین کے پانچویں طبقے میں شامل کیا ہے۔
( تعریف اہلِ التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس (عربی) صحفه 54)۔
اور پانچویں طبقے کے مدلس کی معنن کے بارے میں فرماتے ہیں۔
یہ ضعیف مدلسین ہیں جن کی حدیث مردود ہے خواہ سماع کی تصریح بھی کر دیں۔
(تعریف اہلِ التقديس بمراتب الموصوفين بالتدليس (عربی) صحفه 14)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابنِ لہیعہ کی معنن مردود ہے اور اس سے استدلال جائز نہیں۔
تیسری علت: یہ روایت منقطع ہے کیونکہ ابو اسود نظر بن عبد الجبار نے سیدہ عائشہؓ کا زمانہ نہیں پایا۔
ابو الاسود سنہ 145 ہجری میں پیدا ہوا جیسا کہ امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
ابو سعید بن یونس کہتے ہیں یہ ذی الحجہ سے پانچ دن پہلے سنہ 219 ہجری میں فوت ہوا اور ہارون قاضی نے اس کا جنازہ پڑھایا، اور یہ سنہ 145 ہجری میں پیدا ہوا تھا۔
(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 10 صحفه 568)۔
امام ابنِ حجرؒ اسی روایت کے بارے میں فرماتے ہیں اس کی سند منقطع ہے۔
(الاصابة في تمييز الصحابة (عربی) جلد 2 صحفہ 486)۔
اور علامہ ابنِ کثیرؒ بھی اس روایت کے بارے میں کہتے ہیں اس کی سند ضعیف منقطع ہے۔
(البدایہ والنہایہ (عربی) جلد 11 صحفہ 241)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت منقطع اور مردود ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔
دوسری سند:
حدثنی بكر بن ہيثم حدثنی عبدالله بن صالح عن ابنِ لہيعه عن خالد بن يزيد عن سعيد بن ابی بلال ان عائشةؓ قالت لمعاويہؓ۔
(انساب الاشراف (عربی) جلد 5 صحفه 274)۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 12 صحفہ 226 227)۔
اسناد کا تعاقب: اس سند میں چار علتیں ہیں۔
پہلی علت: اس روایت کے راوی عبداللہ بن صالح صدوق ہے مگر اس کا حافظہ خراب ہوگیا تھا تو یہ روایات میں غلطیاں کر جاتا تھا جس وجہ سے اس سے کچھ منکر روایات منقول ہیں۔
امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
اس نے بکثرت روایات نقل کی ہیں لیکن اس سے کچھ منکر روایات منقول ہیں امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں اس نے اپنی آخری عمر میں کچھ ایسی روایات نقل کی ہیں جنہیں محدثین نے منکر قرار دیا ہے ابنِ عدیؒ کہتے ہیں میرے نزدیک یہ مستقیم الحدیث ہے تاہم اس کی اسناد اور متن میں غلطیاں واقع ہوئی ہیں لیکن یہ غلطیاں اس نے جان بوجھ کر نہیں کیں۔
(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صحفہ 129 131)۔
امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں کہتے ہیں:
صدوق کثیر الغلط راوی ہے اور اس سے غفلت ہو جاتی تھی۔
(تقريب التہذيب (اردو) جلد 1 صحفه 457)۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی صدوق ہے پر اس کا حافظہ خراب ہوگیا تھا جس وجہ سے اس سے ایسی روایات منقول ہیں جو منکر ہیں۔
دوسری علت: اس روایت کا راوی عبداللہ بن لہیعہ ضعیف ہے اور اس کی روایت سے استدلال ممکن نہیں۔
اس کا ترجمہ اسی باب میں پہلی سند کے تعاقب میں گزر چکا ہے۔
تیسری علت: عبداللہ بن لہیعہ مدلس ہے اور پانچویں طبقہ کا مدلس ہے اور پانچویں طبقے کے مدلس کی معنن مردود ہوتی ہے اور اس روایت میں بھی یہ تدلیس کر رہا ہے ابنِ لہیعہ عن خالد بن یزید ۔
اس کی تدلیس کا بیان بھی اسی باب میں پہلی سند کے تعاقب میں گزر چکا ہے۔
چوتھی علت: یہ سند بھی منقطع ہے اس کے مرکزی راوی سعید بن ابوہلال نے بھی سیدہ عائشہؓ کا زمانہ نہیں پایا۔
سعید بن ابوہلال سنہ 70 ہجری میں پیدا ہوا امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔
یہ سنہ 70 ہجری میں پیدا ہوا اور سنہ 135 ہجری میں فوت ہوا۔
(سیر اعلام النُبلاء (عربی) جلد 6 صحفه 304)۔
اور سیدہ عائشہؓ کی وفات سنہ 57 ہجری اور ایک قول کے مطابق سنہ 58 ہجری میں ہوئی۔
جیسا کہ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں:
احمد بن حنبلؒ وغیرہ نے کہا ہے کہ سیدہ عائشہؓ کی وفات سنہ 57 ہجری میں ہوئی اور معمر بن مثنیٰ وغیرہ نے کہا ہے کہ ان کی وفات سنہ 58 ہجری میں ہوئی۔
(سیر اعلام النُبلاء ( عربی) جلد 2 صحفہ 192)۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی منقطع و مردود ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔