رستم اپنی فوج کے ایک حصہ کو حملہ کرنے کا حکم دیتا ہے
علی محمد الصلابیجب رستم نے دیکھا کہ جنگ کے ابتدائی دونوں مرحلوں یعنی مبارزت و مطاردت میں مسلمان غالب آ گئے ہیں تو انہیں اگلا موقع بالکل نہ دیا کہ مسلمان اپنے قائد کی ہدایت کے مطابق مبارزت و مطاردت پیچھے دھکیلنے میں مزید کامیاب ہو سکیں، بلکہ فوراً اپنے لشکر کے ایک فوجی حصے کو مسلمانوں کے ایک فوجی حصہ پر جس میں قبیلہ بجیلہ کے لوگ تھے عام حملہ کرنے کا حکم دے دیا، حملہ اتنا زبردست تھا کہ دیکھنے کے قابل، فارسی فوج نے اسلامی فوج کے ایک چھوٹے سے حصے کو شکست دینے کے لیے اپنی نصف عسکری قوت جھونک دی تھی۔ ان کا اتنا زبردست فوجی ہجوم اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ مبارزت و مطاردت میں شکست فاش پانے کے بعد اس جنگی نوعیت کو جڑ سے کاٹ دینے کی جان توڑ کوشش میں تھے۔ بہرحال انہوں نے اسلامی لشکر کے ایک حصے پر تیرہ 13 ہاتھیوں کے ساتھ زبردست حملہ کیا اور اپنی جنگی تنظیم کے مطابق پیادہ اور شہسواروں کی چار ہزار فوج پر ایک ہاتھی پیش پیش رکھا۔ وہ دیو پیکر ہاتھی اسلامی فوج کی صفوں میں گھس گئے اور انہیں منتشر کر دیا۔ اس حملے کاخاص نشانہ قبیلہ بجیلہ سے تعلق رکھنے والے فوجی تھے، حملہ خاصا خطرناک تھا تاہم قبیلہ کی پیدل فوج نے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔