سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدہ عائشہؓ کو شہید کروانا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کا سیدہ عائشہؓ کو شہید کروانا
شیعہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ پر ایک بے بنیاد اعتراض کیا جاتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدہ عائشہؓ کو شہید کروایا اس کے بارے میں شیعہ دو بے بنیاد اور بے حوالہ واقعات سناتے ہیں پہلا یہ کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے منبر پر کھڑے ہوکر لوگوں کو یزید کی بیعت کرنے کا کہا تو سیدہ عائشہؓ نے ان کو روکا تو سیدنا امیر معاویہؓ نے مروان کو کہہ کر ایک گڑھا کھدوا کر اس میں سیدہ عائشہؓ کو گروادیا جس میں گر کر وہ شہید ہو گئیں اور دوسرا واقعہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ سیدہ عائشہؓ سیدنا امیر معاویہؓ کی مخالفت کرتی تھیں ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہؓ نے مروان کو کہہ کر ایک گڑھا کھدوا کر اس میں تلواریں رکھ دیں پھر سیدہ عائشہؓ کو دعوت کے بہانے بلوا کر اس میں گروا دیا اور وہ شہید ہو گئیں۔
ان دونوں واقعات پر شیعہ اہلِ سنت کی کسی معتبر کتاب سے حوالہ پیش نہیں کر پاتے اور نہ ہی ان کے پاس ان واقعات کی کوئی سند ہے یہ جھوٹ شیعہ میں ہمیشہ سے چلا آرہا ہے جو انہوں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے اور انہوں نے اپنی کتب میں لکھا ہے۔
سیدہ عائشہؓ کے بارے میں واضح روایات موجود ہیں کہ وہ بیمار ہو کر فوت ہوئیں تھیں۔
جیسا کہ امام بخاریؒ نقل فرماتے ہیں:
ابنِ ابی ملیکہ کہتے ہیں سیدہ عائشہؓ کی وفات سے تھوڑی دیر پہلے جبکہ وہ نزع کی حالت میں تھیں سیدنا ابنِ عباسؓ نے ان کے پاس (عیادت کے لئے) آنے کی اجازت مانگی سیدہ عائشہؓ نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تعریف کرنے لگیں گئے (یعنی میری فضیلت بیان کرنا شروع کر دیں گے) کسی نے عرض کی وہ رسول اللہﷺ کے چچا زار ہیں تو انہوں نے سیدنا ابنِ عباسؓ بھی بہن کو اندر آنے کی اجازت دے دی سیدنا ابنِ عباسؓ نے اندر آکر ان سے پوچھا آپ کس حال میں ہیں؟ انہوں نے فرمایا اگر میں اللہ کے ہاں اچھی ہوں تو سب اچھا ہے سیدنا ابنِ عباسؓ نے فرمایا ان شاء اللہ آپ اچھی ہی رہیں گی آپ رسول اللہﷺ کی زوجہ ہیں آپ کے علاوہ رسول اللہﷺ نے کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں کیا اور آپؓ کی براءت آسمان سے نازل ہوئی (پھر وہ چلے گئے)۔
صحیح بخاری (اردو) جلد 4 روایت 4753)۔
اور امام حاکمؒ کی روایت میں واضح الفاظ ہیں کہ جب وہ بیمار ہوئیں۔
امام حاکمؒ نقل فرماتے ہیں:
ابنِ ابی ملیکہ کہتے ہیں جب سیدہ عائشہؓ بیمار ہوئیں تو سیدنا ابنِ عباسؓ ان کی عیادت کے لئے آئے (آگے یہی روایت)۔
(مستدرک الحاکم (اردو) جلد 5 روایت 6726)۔
ان روایات میں کہیں پر بھی اس بات کا ذکر نہیں کہ سیدہ عائشہؓ کو شہید کیا گیا یا وہ شیعہ کے بیان کردہ واقعات کے مطابق کسی گڑھے میں گری ہوں اور سیدنا ابنِ عباسؓ یا کسی اور نے پوچھا ہو کہ آپؓ کیسے گڑھے میں گریں کس نے گرایا وغیرہ اس ایک روایت سے ہی شیعہ کے جھوٹ کا پردہ فاش ہو جاتا ہے اور یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سیدہ عائشہؓ کی وفات ان کے گھر میں بیمار ہونے کی وجہ سے ہوئی۔
دیگر کئی کُتب میں بھی یہ روایات موجود ہیں کہ سیدہ عائشہؓ کی موت طبعی تھی اور ان کو جنتُ البقیع میں دفن کیا گیا اور کسی معتبر کتاب میں صحیح سند کے ساتھ یہ بات مذکور نہیں کہ سیدہ عائشہؓ کو شہید کیا گیا یہ صرف شیعہ کا پھیلایا ہوا جھوٹ ہے۔