سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بنو اسد کو بنو بجیلہ کی مدد کا حکم دیتے ہیں
علی محمد الصلابیالف: بجیلہ کے فوجی مجاہدین جس صبر آزما مرحلے سے گزر رہے تھے، حضرت سعد بن وقاصؓ اس کا عینی مشاہدہ کر رہے تھے، آپؓ نے بنو اسد کو پیغام بھیجا کہ ’’بجیلہ اور ان کے ساتھ لڑنے والی فوج کی طرف سے دفاع کرو اور دشمن کو بھگاؤ۔‘‘ چنانچہ یہ پیغام سنتے ہی طلیحہ بن خویلد، حمال بن مالک، غالب بن عبداللہ اور ربیل بن عمرو اپنے اپنے فوجی حصے کو لے کر آگے بڑھے، معرور بن سوید اور شقیق کا بیان ہے کہ: اللہ کی قسم! انہوں نے بڑا زبردست حملہ کیا، نیزہ بازی اور تلوار زنی کے حیرت انگیز جوہر دکھائے اور ہاتھیوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا، جب ہاتھی پیچھے ہٹ گئے تو فارسی فوج سے ایک بہادر آگے بڑھا اور طلیحہ کو دعوت مبارزت دی، طلیحہ نے دیکھتے ہی دیکھتے اسے قتل کر دیا۔ ادھر فارسی فوج نے جب دیکھا کہ بنو اسد کی طرف سے ہاتھیوں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے تو پوری توانائی کے ساتھ اسلامی لشکر پر عام حملہ کر دیا اور فوج کے بہادر کہے جانے والے دو سپہ سالار ، ذوالحاجب اور جالینوس مسلمانوں کی جمعیت توڑنے کے لیے آگے بڑھے۔ جب کہ اسلامی فوج ابھی تک اپنے امیر سعدؓ کی چوتھی تکبیر کی منتظر تھی۔ اب فارسی فوج کے شہ سوار اور فیل بان فوجی اپنے ہاتھیوں کے ساتھ بنو اسد پر اکٹھا حملہ کر چکے ہیں اور وہ لوگ دشمن کا جم کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ اتنے میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی چوتھی تکبیر کا نعرہ بلند ہوتا ہے اور اسلامی فوج بنو اسد کے دفاع میں دشمن کی حملہ آور فوج پر ٹوٹ پڑتی ہے گویا بنو اسد ہی پر جنگ کی چکی چل رہی ہے۔ فیل بانوں نے میمنہ اور میسرہ سے اسلامی فوج کے شہ سواروں پر حملہ کر دیا اور گھوڑے ان دیوپیکر ہاتھیوں کو دیکھ کر بدک گئے اور پیچھے ہٹنے لگے، جب کہ شہ سوار فوجی، پیدل فوج سے کہتے تھے کہ ہمارے گھوڑوں کو آگے ہانکو تاکہ ہاتھیوں کا جواب دیا جائے۔