سیدنا امیر معاویہؓ کا لوگوں کو ناحق مال کھانے کا حکم دینا
محمد ذوالقرنينسیدنا امیر معاویہؓ کا لوگوں کو ناحق مال کھانے کا حکم دینا
شیعہ کی طرف سے سیدنا امیر معاویہؓ پر ایک اور اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے اور ایک دوسرے کو ناحق قتل کرنے کی تلقین کرتے تھے اس پر شیعہ کی طرف سے پیش کی جانے والی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
امام مسلمؒ نقل فرماتے ہیں:
عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ کہتا ہے میں مسجد (حرام) میں داخل ہوا تو وہاں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے میں بھی ان کے پاس چلا گیا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے ایک طویل حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا) اور جو شخص ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہوئے دل کی گہرائی سے کسی امام کی بیعت کرے تو استطاعت کے ساتھ اس کی اطاعت کرئے پھر اگر دوسرا آجائے اور اس سے امامت چھیننا چاہے تو اس کی گردن اڑا دو (تو عبدالرحمٰن نے کہا) میں ان کے قریب ہوگیا اور کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے خود یہ بات نبی کریمﷺ سے سنی ہے تو عبد اللہؓ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کیا اور کہا میرے کانوں نے یہ بات سنی اور میرے دل نے یاد رکھی تو میں (عبدالرحمٰن) نے کہا یہ جو آپ کے چچازاد سیدنا معاویہؓ ہیں وہ تو ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں اور اللہ قرآن میں فرماتا ہے اے ایمان والو ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ سوائے اس کے کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو اور تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو بلاشبہ اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے (عبدالرحمٰن کہتا ہے) پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ ایک گھڑی خاموش ہوئے پھر فرمایا اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں ان کی نافرمانی کرو۔
( صحیح مسلم (اردو) جلد 3 حدیث4776)
اعتراض کا جواب: پہلی بات تو یہ کہ اس روایت کا مرکزی راوی عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ کوفی تھا اور اہلِ کوفہ کی اکثریت سیاسی طور پر سیدنا امیر معاویہؓ کے خلاف تھی اور اس روایت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عبدالرحمٰن بھی ان میں سے ہی ایک تھا۔
امام عجلیؒ اس کا کوفی ہونا بیان کرتے ہیں کہ:
عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ ثقہ کوفی تابعی ہے۔
(معرفة الثقات العجلی (عربی) جلد 2 صحفہ 81)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی کوفی ہے اور یقیناً سیدنا امیر معاویہؓ کا سیاسی مخالف ہے اور اس روایت میں اس کا یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ ہمیں ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے اور ایک دوسرے کو ناحق قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں اس سے عبدالرحمٰن کی مراد یہ ہرگز نہیں تھی کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے لوگوں کو ناحق قتل کرنے یا کسی کا مال ناحق طریقے سے کھانے کا حکم دیا تھا اور نہ ہی کسی صحیح روایت سے ایسی کوئی بات ثابت ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے کبھی کسی کو ایسا حکم دیا۔
بلکہ عبدالرحمٰن کا یہاں اعتقاد یہ تھا کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کے خلیفہ بننے کے بعد ان سے ناحق جنگ کی ہے اور اس جنگ میں جو لوگ قتل ہوئے وہ ناحق قتل ہوئے اور جنگ میں جو مال خرچ ہوا وہ بھی ناحق خرچ ہوا اور یہی معنی اس روایت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے خلافت کے بارے میں گفتگو کی کہ تب ہی عبدالرحمٰن نے ان سے قسم لی کہ کیا آپﷺ نے ایسا فرمایا تھا پھر سیدنا عبداللہؓ نے اقرار کیا تو عبدالرحمٰن نے یہ سب کہا تو اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ خلافت کی بات کے تناظر میں ہی یہ بات کر رہا تھا۔
اگر سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ یہ بات کر رہے ہوتے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ اور ایک دوسرے کو ناحق قتل مت کرو پھر اس پر عبدالرحمٰن یہ کہتا کہ سیدنا امیر معاویہؓ تو ہمیں یہ سب کرنے کا حکم دیتے ہیں تب عبدالرحمٰن کی بات کا مطلب یہ ہوتا جو شیعہ اس روایت سے سمجھتے ہیں۔
اور پھر اس کی بات پر سیدنا عبداللہ بن عمر و بن العاصؓ کا یہ کہنا کہ اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں ان کی نافرمانی کرو اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ عبدالرحمٰن کی بات کا یہی مقصد تھا جو ہم بیان کر چکے اور سیدنا امیر معاویہؓ لوگوں کو ناحق مال کھانے اور ناحق قتل کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے اگر وہ ایسا کرتے ہوتے تو سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ مطلقاً کہتے کہ ان کی اطاعت مت کرو اور ان کی مکمل خلاف ورزی کرو۔
آئمہ و محدثین نے بھی اس روایت کا یہی مفہوم بیان کیا ہے جو ہم بیان کر چکے جیسا کہ امام نوویؒ اس روایت کی شرح میں فرماتے ہیں۔
اس شخص (عبدالرحمٰن) نے جب سیدنا عبداللہ بن عمروؓ کی یہ بات سنی کہ جب کوئی ایک شخص خلیفہ بن جائے تو کسی دوسرے کا اس سے تنازع کرنا جائز نہیں تو اس (عبدالرحمٰن) کا یہ بات کہ سیدنا امیر معاویہؓ ناحق مال کھانے اور ناحق قتل کرنے کا کہتے ہیں) کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ یہ سمجھتا تھا یہ بات سیدنا امیر معاویہؓ کے سیدنا علیؓ سے تنازعہ کے بارے میں ہے کیونکہ سیدنا علیؓ کی بیعت پہلے ہوچکی تھی پھر سیدنا امیر معاویہؓ کا ان سے تنازع کرنا اور اس حالت میں انہوں نے جو اپنے لشکر پر کھانے پینے اور دوسری تیاریوں میں جو) مال خرچ کیا وہ ناحق مال تھا اور اس میں جو لوگ قتل ہو رہے ہیں وہ بھی ناحق قتل ہو رہے ہیں اور کوئی بھی اس لڑائی میں ملنے والے مال کا مستحق نہیں۔
( صحیح مسلم بشرح النووی (عربی) جلد 12 صحفه 234)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نوویؒ کے نزدیک بھی عبدالرحمٰن کی بات کا یہی مقصد تھا کہ وہ سیدنا امیر معاویہؓ کے جنگی حالت میں خرچ کردہ مال اور ناحق مال اور اس دوران قتل ہونے والے لوگوں کو ناحق قتل ہونا مانتا تھا نہ کہ اس کا یہ مطلب تھا کہ سیدنا امیر معاویہؓ کسی کا مال ناحق طریقے سے کھانے یا کسی کو ناحق قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
امام محمد بن خلفه وشتانی ابی المالکیؒ بھی اس حدیث کی شرح میں یہی فرماتے ہیں کہ۔
وہ شخص (عبدالرحمٰن) یہ سمجھتا تھا کہ سیدنا علیؓ کی بیعت کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ کا ان سے تنازع کرنا اور سیدنا علیؓ کے خلاف اپنے لشکر کی تیاری میں انہوں نے جو مال خرچ کیا وہ ناحق مال تھا اور اس میں جو لوگ قتل ہوئے وہ ناحق قتل ہوئے۔
(اکمال المال المعلم بشرح صحیح مسلم (عربی) جلد 5 صحفہ 190)۔
اور علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے بھی شرح مسلم میں اس روایت کے تحت بھی انہیں علامہ ابی مالکیؒ کا قول نقل کیا ہے کہ۔
سائل ( عبدالرحمٰن) کا اعتقاد یہ تھا کہ سیدنا امیر معاویہؓ جو مال اپنے لشکر پر خرچ کرتے ہیں وہ مال ناجائز ہے اور ان کے لشکر والے سیدنا علیؓ کے لشکر کو جو قتل کرتے ہیں وہ قتل بھی نا جائز ہے۔
(شرح صحیح مسلم (اردو) جلد 5 صحفه 805)۔
ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ کا یہ بات کرنے کا مقصد یہی تھا کہ جنگ صفین میں سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کے خلاف اپنے لشکر پر جو مال خرچ کیا وہ سب ناحق مال تھا اور جو لوگ اس جنگ میں قتل ہوئے وہ سب ناحق قتل ہوئے اور یہی بات اس روایت کی قرائن سے ثابت ہوتی ہے اس کے برعکس یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ لوگوں کو ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے اور ایک دوسرے کو ناحق قتل کرنے کا حکم دیتے تھے مے محض تعصب اور جہالت ہے۔
سیدنا علیؓ کے متعلق مال غصب کرنے کے الفاظ:
اسی طرح کی ایک روایت سیدنا علیؓ کے بارے میں بھی موجود ہے ملاحظہ فرمائیں۔
سند:
حدثنا ابوالعباس احمد بن ہارون الفقيه املاء حدثنا احمد بن محمد بن نصر حدثنا ابونعيم حدثنا ابان بن عبدالله البجلی حدثنی نعيم بن أبی هند حدثنی ربعی بن حراش قال۔
متن:
ربعی بن حراشؒ کہتے ہیں میں ایک مرتبہ سیدنا علیؓ کے پاس بیٹھا تھا تو ان کے پاس سیدنا طلحہؓ کا بیٹا آیا اور اس نے سیدنا علیؓ کو سلام کہا سیدنا علیؓ نے بھی اس کو مرحبا کہا، تو اس نے کہا اے امیر المؤمنینؓ آپ مجھے مرحبا کس طرح) کہہ رہے ہیں؟ حالانکہ آپ نے میرے والد کو قتل کیا اور میرا مال غصب کیا آپؓ نے فرمایا جہاں تک تمہارے مال کا تعلق ہے تو وہ بیت المال میں بالکل الگ رکھا ہوا ہے صبح جا کر وہاں سے اپنا مال لے لینا اور جہاں تک تمہارے والد کے قتل کا تعلق ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ تمہار والد اور میں ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے متعلق اللہ فرماتا ہے اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینہ تھا سب کھینچ لیا آپس میں بھائی بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے (سورۃ الحجر آیت 47) (مراد ہم سب جنت میں جائیں گے)۔
(مستدرک الحاکم (اردو) جلد 3 روایت 3348)۔
اس روایت کے مطابق جنگ جمل میں سیدنا علیؓ کے مقابل سیدنا طلحہؓ لڑ رہے تھے اور شہید ہوگئے تو ان کے بیٹے نے آکر سیدنا علیؓ سے شکایت کی کہ آپؓ نے میرے والد کو قتل کیا اور میرا مال غصب کیا تو سیدنا علیؓ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے تمہارا مال غصب نہیں کیا بلکہ فرمایا تمہارا مال بیت المال میں الگ پڑا ہوا ہے اور سیدنا طلحہؓ کے بارے میں بھی فرمایا کہ وہ جنت میں ہمارے ساتھ ہوں گے۔
اب جیسے اس روایت سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ سیدنا علیؓ مال غصب کیا کرتے تھے ویسے ہی عبدالرحمٰن کی روایت سے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ مال غصب کیا کرتے تھے یا لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے تھے۔
سیدنا امیر معاویہؓ بنی محتاجوں کے خیر خواہ:
سیدنا امیر معاویہؓ نے لوگوں کی ضروریات و حاجات کو پورا کرنے کے لئے آدمی مقرر کیا ہوا تھا جیسا کہ امام ترمذیؒ نقل فرماتے ہیں۔
سند:
حدثنا احمد بن منيع حدثنا اسماعيل بن ابرابيم حدثنی على بن الحكم حدثنی ابو الحسن قال قال عمرو بن مرة لمعاويةؓ۔
متن: سیدنا عمرو بن مرةؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے کہا میں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے جو حاکم حاجت مندوں محتاجوں اور مسکینوں کے لئے اپنے دروازے بند رکھتا ہے تو اللہ بھی اس کے لئے اپنے دروازے بند رکھتا ہے جب سیدنا معاویہؓ نے یہ سنا تو لوگوں کی حاجات (پوری کرنے) کے لئے ایک شخص مقرر کر دیا۔
(جامع ترمذی (عربی) حدیث 1332)۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کا مال ناحق کھانا تو دور کی بات ہے سیدنا امیر معاویہؓ نے تو لوگوں کی حاجات کو پورا کرنے کے لئے لوگ مقرر کر رکھے تھے جو محتاجوں اور مسکینوں کی مدد کرتے تھے۔
سیدنا امیر معاویہؓ حق کے مطابق فیصلہ کرنے والے:
سیدنا امیر معاویہؓ حق کے عین مطابق فیصلہ کرتے تھے جیسا کہ ابنِ عساکرؒ کی روایت ہے۔
سند:
انبانا ابوطابر الاصبہانی انا نصر بن احمد بن البطر قالا انا ابو الحسن محمد بن احمد بن رزقويه انا على بن محمد بن احمد المصرى نا بكر بن سهل انا عبدالله بن يوسف نا ليث عن بكير عن بسر بن سعيد أن سعد بن ابی وقاصؓ قال۔
متن: سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں میں نے سیدنا عثمانؓ کے بعد سیدنا معاویہؓ سے بڑھ کر حق کے مطابق فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔
(تاریخِ مدینہ دمشق لابنِ عساکر (عربی) جلد 59 صحفہ 160 1601)۔
اس روایت میں عشرہ مبشرہ میں سے ایک جلیل القدر صحابی رسولﷺ کی گواہی موجود ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ حق کے عین مطابق فیصلہ کرتے تھے اس کے برعکس یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ ناحق فیصلے کرتے تھے کسی صورت جائز نہیں۔
حسنین کریمینؓ نے ناجائز مال کھانے والی کی بیعت کی:
اگر پھر بھی کوئی شیعہ کہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ ناجائز طریقے سے مال کھاتے تھے اور لوگوں کو ناحق قتل کرواتے تھے تو پھر اس سے ہمارا سوال یہی ہے کہ کیا پھر سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ نے ایک ایسے شخص کی بیعت کی جو ناجائز مال کھاتا تھا اور لوگوں کو ناحق قتل کرواتا تھا ؟
ان کی بیعت کا ذکر مصنف ابنِ ابی شیبہ (اردو) جلد 9 روایت 31222 میں موجود ہے۔
شیعہ کتب میں بھی اس بیعت کا ذکر موجود ہے بلکہ شیعہ کتب میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ سیدنا حسنؓ کی وفات کے بعد شیعوں نے سیدنا حسینؓ کو سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت توڑنے کا کہا تو سیدنا حسینؓ نے بیعت توڑنے سے منع کر دیا۔
شیعہ ذاکر آیت اللہ شیخ مفید لکھتا ہے:
جب سیدنا حسنؓ فوت ہو گئے تو عراق کے شیعہ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سیدنا حسینؓ کو اپنی سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت توڑ دینے اور آپ کی بیعت کرنے کا (خط) لکھا تو سیدنا حسینؓ نے فرمایا میرے اور سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان ایک عہد و پیمان ہے (میرے لیے) مدت ختم ہونے سے پہلے اسے توڑنا جائز نہیں۔
(تذكرة اطہار (اردو) جلد 2 صحفہ 256)۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ دونوں نے سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت کی تھی اور شیعہ کتاب کے مطابق تو شیعوں نے سیدنا حسینؓ کو یہ بیعت توڑنے کا مشورہ دیا لیکن انہوں نے فرمایا کہ میرے لیے اس بیعت کو توڑنا جائز نہیں۔
اگر شیعہ سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ اعتراض کریں کہ وہ ناحق مال کھاتے تھے اور لوگوں کو ناحق قتل کرتے تھے تو کیا سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ نے ایک ایسے شخص کی بیعت کی جو ناحق مال کھاتا تھا؟۔
اور ایسے شخص کی بیعت کرنے کی وجہ سے سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ پر کیا حکم لگے گا؟ اس لئے یہ کہنا جائز ہی نہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ ناحق مال کھاتے تھے یا ناحق قتل کرواتے تھے سیدنا امیر معاویہؓ نے تو حاجت مندوں کی مدد کرنے کے لئے لوگ مقرر کر رکھے تھے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والے تھے جیسا کہ ہم بیان کرچکے اور اس روایت کی مکمل شرح بھی ہم بیان کر چکے ہیں اس لئے سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ اعتراض کرنا کہ وہ ناحق مال کھاتے تھے سیدنا حسنین کریمینؓ پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے۔